معیشت پیچیدہ چیز ہے ،سیاست آسان

ملک کی اقتصادی صورت حال تشویشناک ہے۔اس کے دو، تین بنیادی وجوہات ہیں۔ ان میں سے ایک تو سب کو معلوم ہوگیا ہے کہ لوگوں کو نئی نوکریاں نہیں مل رہی ہیں بلکہ لگی ہوئی نوکریاں چھوٹ رہی ہیں۔بڑے بڑے بینک جیسے یس بینک، ایچ ڈی ایف سی بینک نے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو ہٹا دیاہے۔ شہری علاقوں میں گھبراہٹ کا ایک ماحول پیدا ہوگیا ہے۔ گائوں کی بات تو الگ ہے۔اگر یہی حالات ہو جائیں ملک میں کہ لگی لگائی نوکریاں لوگوں کی چھوٹتی رہیں ،جسے ڈس امپلائمنٹ کہتے ہیں تو یہ تشویش کا موضوع ہے۔
پچھلے دنوں بی جے پی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا نے ایک روزنامہ میں ایک مضمون لکھا۔ اس میں انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ جی ڈی پی 6 سہ ماہیوں سے لگاتار گر رہی ہے اور اقتصادی صورت حال اتنی تشویشناک ہو گئی ہے کہ معیشت کے ٹھپ ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔انہوں نے ڈیمونٹائزیشن اور جی ایس ٹی ، دونوں کے نفاذ کی حکمت اور طریقے پر سوال اٹھایا ۔سینئر لیڈر اور اٹل جی کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ارون شوری نے حملہ کر دیا کہ یہ سرکار جس ڈھنگ سے چل رہی ہے ،وہ طریقہ ہی صحیح نہیں ہے۔ فیصلہ لینے کے جو طریقے ہوتے ہیں، اجتماعی طور پر اور ایکسپرٹ سے صلاح لینا، اس پورے طریقے کو یہ سرکار بائی پاس کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک لفظ استعمال کیا کہ یہ الہام کی سرکار ہے۔ انہیں اوپر سے الہام ہو جاتا ہے۔ اس سرکار کو اوپر سے بھگوان نے یہ بتا دیا کہ یہ کرنا چاہئے اور اگلے دن وہ وہی کام کردیتے ہیں، بغیر کسی اعدادو شمار کے، تکنیک کے۔ سنگین الزام ہے یہ۔ دن کے بارہ بجے ہیں۔ اس پر ہم بحث کرسکتے ہیں کہ 12بجے چائے کا وقت ہے یا ناشتے کا یا کھانے کا لیکن اس پر تو بحث نہیں ہوسکتی کہ دن کے بارہ بجے ہیں۔گروتھ ریٹ جو ہے، وہ ہے۔ آر بی آئی کہتا ہے کہ ڈیمونٹائزیشن کا 99فیصد پیسہ گیا اور ہم نے چینج بھی کرلیا۔یہ حقیقت تو ثابت ہے ،اس میں کسی اور رائے کا سوال نہیں ہے۔

 

 

 

 

ایسے ہی جی ڈی پی کا فیگر ہے۔ ابھی وزیر اعظم نے اپنے حامیوں کے درمیان بہت سارے جواب دیئے۔ کیا جواب دیا؟پہلے ایک بات جو میں سمجھتا ہوں ،وہ یہ کہ وزیر اعظم سمجھ گئے ہیں کہ جمہوریت پٹری سے اتر گئی ہے، اس کو واپس پٹری پر لانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مایوسی کا ماحول پیدا کررہے ہیں اور اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو انہیں نیند اچھی نہیں آئے گی۔یہ تو ٹھیک ہے۔یہ تو سیاسی جملہ ہے۔ وزیر اعظم کے منہ سے زیب نہیں دیتا۔ ان کا حملہ یشونت سنہا اور ارون شوری پر تھا لیکن انہوں نے دو باتیں کہیں۔ایک یہ کہ انہوں نے قبول کیا کہ جی ڈی پی گری ہے، لیکن پہلی بار نہیں گری ہے، پچھلی سرکار میں بھی تین سہ ماہی میں گری تھی۔مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کانگریس اب ہم لوگوں کا معیار ہو گیا ہے؟کانگریس میں گری تو اب بھی گرنی چاہئے۔ہم تو یہ سوچتے ہیں کہ آپ اقتدار میں یہ بول کر آئے ہیں کہ کانگریس نے دس سال بد انتظامی کی، ہم اچھی حکمرانی کریں گے۔اب آپ اسی بات پر اطمینان کررہے ہیں کہ کانگریس کے وقت میں3 بار گری تو ہمارے وقت میں 6 بار گری۔یہ کوئی جواب نہیں ہے۔وزیر اعظم شاید سمجھے نہیں کہ الجھ گئی بات۔دوسرا یہ کہ انہوں نے یہ قبول کیا کہ جی ایس ٹی میں جو چھوٹے کاروباری کو دشواری ہو رہی ہے ، اسے ہم دیکھنے کو تیار ہیں۔ پہلی بار انہوں نے قبول کیا ہے جس سے مجھے بہت تسلی ملی ہے۔ انہوں نے یہ کہا ہے کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ سب علم ہمارے ہی پاس ہے۔ ہر ریاست کی الگ الگ سرکاریں ہیں، الگ الگ پارٹیاں ہیں، مل کر بات کریں گے اور کوئی حل نکالیں گے ۔یہ جمہوریت کا دستور ہے۔
جمہوریت میں انتخاب ہوتا ہے۔272چاہئے تھا،بی جے پی کو، 282 مل گئی۔ بی جے پی کو یہ اطمینان ہوا کہ کانگریس کمزور ہو گئی لیکن کانگریس کے کمزور ہونے سے آپ طاقتور نہیں ہو گئے اور طاقتیں آئی گئی ہوتی ہیں۔یہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہے کہ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں طاقتور ہو جائیں۔اس سے سینٹرل گورنمنٹ مضبوط نہیں ہوتی۔ لیکن ان کا ماننا یہی ہے۔

 

 

 

نریندر مودی ہمیشہ کہتے ہیں کہ کانگریس مکت بھارت کر دوں گا۔ خود کا ریکارڈ بھی دیکھئے۔ 2014 کے جو انتخابات ہوئے ،وہ فری اینڈ فیئر انتخابات تھے ۔ وہ انتخابات کانگریس کے دور حکومت میں ہوئے تھے۔ بی جے پی چن کر آ گئی۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ان کے راج (بی جے پی ) میں جتنے انتخابات ہوئے ہیں، کہیں یہ نہیں جیتے۔مہاراشٹر میں اکثریت نہیں ملی، بہار میں نہیں ملی، ہریانہ میں ایک ایم ایل اے زیادہ ہے۔ یو پی اور اتراکھنڈ میں کامیابی ملی ، اس پر سوالیہ نشان لوگ لگا رہے ہیں۔
مان لیجئے کہ وہ صحیح ہیں ۔یو پی میں جیت گئے ۔اترا کھنڈ میں کیا کیا؟کانگریس مکت بھارت کی جگہ کانگریس یوکت بی جے پی بنا دیا۔ سارے کانگریسیوں کو لے لیا۔ ان کا لیبل چینج ہو گیا۔ وہی لوگ راج کر رہے ہیں۔ کل تک وہ بدعنوان تھے، ترقی کے خلاف تھے، آج وہ سادھو ہو گئے۔یہی اگر بی جے پی کا پیٹرن ہے تو یہ آئین کے لئے تو ٹھیک نہیں ہے۔ جب اروند کجریوال دہلی کے وزیر اعلیٰ بنے تو بی جے پی کو بہت جھنجلاہٹ ہوئی۔ ان کی ناک کے نیچے صرف تین ایم ایل اے کا آنا، شرم کی بات تھی لیکن انہوں نے کیا کیا؟ ایک پولیس کمشنر تھا دہلی میں، ایک چھوٹا سا آفیسر بسئی۔ بی جے پی نے بسئی کو چڑھا دیا کہ وزیر اعلیٰ کجریوال کے خلاف بات کرو۔ کیا ایک پولیس کمشنر ایک وزیر اعلیٰ سے لڑے گا؟ اگر کمشنر کوکچھ دشواری ہے تو وزارت داخلہ سے شکایت کرے۔ وہ پبلک پریس میں کہتاہے کہ میں چیف منسٹر سے ڈیبیٹ کرنے کے لئے تیار ہوں۔ اسی گرائونڈ پر اس کمشنر کو برخاست کر دینا چاہئے تھا۔ اگر پرانی سرکار ہوتی، اندرا گاندھی کی سرکار ہوتی،یہ کبھی برداشت نہیں کرتی۔ کون ہمارے خلاف ہے یہ ہم دیکھیں گے لیکن نوکر شاہی کا کام ہے اپنا کام کرنا۔

 

 

 

 

 

 

تین سال میں آئین میں جو غلطیاں اس سرکار نے پیدا کی ہے، کل مجھے وزیر اعظم کے بیان کو سن کر امید ہوئی ہے کہ وہ شاید ان سب کو ٹھیک کریںگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی سب علم ہمارے پاس نہیں ہے اور کوئی ہم سے متفق نہیں ہے تو ہمارا دشمن نہیں ہے۔ان کا ماننا ہے کہ ان کے خلاف جو بولتا ہے ،وہ کانگریسی ہے۔ راہل گاندھی کا نام پپو رکھا ہوا ہے۔میں بول رہا ہوں ۔ارے بھائی میں جنتا دل کا ہوں۔ ہم مرارجی دیسائی ،چرن سنگھ، وشو ناتھ پرتاپ سنگھ ، چندر شیکھر ، کی میراث لے کر بیٹھے ہیں۔ہم کانگریس میں کبھی نہیں تھے۔ تو یہ جو ہے کہ آپ ہمارے ساتھ نہیں ہیں تو کانگریسی ہیں تو آپ نے ملک کو دو حصوں میں بانٹ دیا۔یہ کام پبلک کو ہرگز برداشت نہیں ہے۔ خطرہ آپ سمجھ نہیں رہے ہیں۔آپ کے جانے کے بعد بھی ملک رہے گا، سب کا رہے گا۔ میں نہیں کہتا ہوں کہ جی ایس ٹی آپ نے غلط منشا سے نافذ کیا ہوگا لیکن لوگ پریشان ہیں۔ اسے سدھارنے کا موقع ہے آپ کے پاس ۔ اس لئے میں کہتا ہوں کہ وزیر اعظم کو شاید پہلی بار محسوس ہوا کہ ملک اس طرح نہیں چلتا۔ انہوں نے اچھی بات کہی کہ سبھی ریاستوں سے بات کریں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جی ایس ٹی کا تھریس ہولڈ، 20لاکھ سے بڑھا کر 2کروڑ روپے کر دینا چاہئے۔ 2 کروڑ سے کم والے کو اس کے دائرے سے باہر نکالئے۔ اس کو پرانے سسٹم سے چلنے دیجئے۔ ایسا نہیں کریں گے تو اس کے دو خطرے ہیں۔ ایک بزنس گرے گا ،دوسرا کیش ٹرانزیکشن میں بزنس شروع ہونے لگے گا۔ چھوٹا آدمی کیا کرے گا؟بھوکا تو نہیں مرے گا۔معیشت بہت پیچیدہ چیز ہے، سیاست آسان ہے۔ جملہ بازی آسان ہے۔ ہم لوگ سیاست کرتے آئے ہیں۔کوئی کچھ بولے گا۔جواب دے دیں گے۔ جواب دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ ایک کلو گیہوں تو میرے بھاشن سے دو کلو نہیں ہو جائے گا۔وہ ایک کلو ہی رہے گا۔ بھاشن دینے سے جی ڈی پی نہیں بڑھے گا۔ کارگر قدم اٹھانے پڑیںگے۔ روزگار دینا پڑے گا۔روزگار نہیں ملے گا تو جرائم بڑھیں گے۔ ایک بہت پرانی بات کہہ رہاہوں۔ممبئی میں ایک بار ٹیکسٹائل ملیں بند ہو گئیں تو ممبئی میں جرائم کا اوسط بڑھ گیا۔کیوں؟ٹیکسٹائل میں ہزاروں لاکھوں کو روزگار ملا تھا۔ بے روزگارہوگئے تو کیا کریں گے؟کتنی پولیس ہے آپ کے پاس اسے روکنے کے لئے ؟افراتفری جب پھیلتی ہے تو سرکاریں چلی جاتی ہیں۔ پولیس بھی کچھ نہیں کر پاتی۔ یہ تو مسئلہ معیشت کا ہے۔
یوپی کے وزیر اعلیٰ ہیں یوگی آدتیہ ناتھ۔ بہت بڑی ریاست ہے۔ کام اتنا ہے کہ آپ کو ایک منٹ کی فرصت نہیں ملے گی۔پھر بھی آپ کیرل جارہے ہیں۔ کیا کرنے جارہے ہیں؟اگر آپ کو ہندوتو کو فروغ دینا ہے تو وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑدیجئے ۔دورہ کیجئے پورے ہندوستان کا اور ہندوتوا کا سر اونچا کیجئے اور مسلمان کو دبائیے۔یہ یو پی کا وزیر اعلیٰ ہو کر آپ کیا کررہے ہیں؟امیت شاہ وہاں جارہے ہیں۔ وہ پارٹی صدر ہیں۔ ان کا یہ کام ہے ۔وہ اپنی پارٹی کا فُٹ پرنٹ بڑھانا چاہتے ہیں۔ آپ اپنی حد کو سمجھئے۔ دنیا میں عقلمند آدمی وہ ہوتا ہے جسے اپنی حد کا علم ہو۔ مجھے افسوس ہے یہ کہنے میں کہ بی جے پی کے جو سینئر لوگ ہیں،ان کو اپنی حدوں کا علم نہیں ہے۔ اس لئے مجھے تب خوشی ہوئی جب وزیر اعظم نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے ہیںکہ سب علم ہمارے پاس ہے۔یہی بات وہ اپنے معاونوں، کابینی وزیروں، چیف منسٹروں کو بھی سمجھا دیں۔ مجھے پکا یقین ہے کہ سال بھر میں حالات سدھر سکتے ہیں۔ میں کاروباری طبقہ کے بہت حق میںنہیں ہوں۔ میںنہیں سمجھتا کہ وہ ملک کے مسائل کا حل کر سکتے ہیں لیکن جو بزنس چلتے ہیں ، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانی طبقہ کے، ان کے بغیر ملک کی ترقی نہیں ہو سکتی۔ چھوٹے کاروباریوں کو بھی آپ نے لائن میں کھڑا کردیا۔ اس سے ملک کا بھلا نہیں ہوگا۔ جلد سے جلد بہتر قدم اٹھائیے، لوگوں کو ساتھ میں لے کر چلئے۔میں نہیں سمجھتا ہوں کہ ارون شوری یا یشونت سنہا کے بیانوں سے کوئی مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جو مسائل ہیں، ان سے یہ بیان پیداہوئے ہیں۔ مسائل ہٹا دیجئے۔ اپنے آپ ان کے بیان کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ مسائل رہیں گے تو آج ایک یشونت سنہا ،ایک ارون شوری ہیں، کل کو دس اور آئیں گے۔ آپ کی پارٹی میں لوگوں کی ہمت نہیں ہے آپ کے خلاف بولنے کی۔ آپ نے دہشت کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ جمہوریت میں یہ کب تک چلے گا۔ جتنی جلد مسائل کو سمیٹئے، جمہوریت کو پٹری پر لائیے ،اتنا اچھا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *