معیشت مودی حکومت کی سب سے کمزور کڑی بن گئی

اسیت رنجن مشرا؍ گریش چندر پرساد
ترقی کی شرح میں اچھال لانے اور نئی نوکریاں پیدا کرنے کے وعدے کے ساتھ این ڈی اے 2014 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی۔ این ڈی اے نے بدعنوانی ، گھوٹالوں اور معیشت کی بد انتظامی کے الزامات میں گھری کانگریس قیادت والی یو پی اے سرکار کی جگہ لی۔ تین سال بعد ایک بار پھر معیشت نریندر مودی سرکار کی سب سے کمزور کڑی ثابت ہو رہی ہے۔
2017-18 کی جون سہ ماہی میں اقتصادی ترقی تین سال کے سب سے کم سطح 5.7 فیصد تک گر گئی۔ مالی صورت حال کو سنبھالنے میں کچے تیل کی قیمتوں میں بھاری گراوٹ نے سرکار کی کافی مدد کی،اس کے باوجود چالو کھاتے کا خسارہ (سی اے ڈی )اسی سہ ماہی میں پچھلے چار سال کی اعلیٰ سطح پر پہنچ گیا۔ یہ خسارہ مجموعی طور پر گھریلو پیداوار کا 2.4 فیصد رہا۔ حالانکہ جب این ڈی اے نے اقتدار سنبھالا تھا، تب سرمایہ کاری کی مانگ کمزور تھی، لیکن نوٹ بندی نے نجی کھپت (عام کھپت ) کو بھی متاثر کیا اور اس میں بھی کمی آئی۔ حال میں ایکسپورٹ میں تیزی آئی ہے لیکن ایکسپورٹ پہلے کی طرح اب اقتصادیات کا موڈریٹر نہیں رہا۔روپے کی بڑھتی قیمتوں نے ایکسپورٹرز کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ جی ایس ٹی (مال اور سروس ٹیکس ) پورے ملک کو ایک ٹیکس کے نظام میں جمع کرتی ہے۔ اس نظام کی پیچیدگی نے بھی اقتصادی بحران میں اضافہ کیا ہے۔ پچھلے دنوں اقتصادی خبریں اہمیت کے ساتھ سرخیوں میں تھیں۔ وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کہا کہ سرکار اقتصادی نظام میں سدھار لانے کے لئے حوصلہ افزا پیکج دینے پر غور کررہی ہے۔

 

 

 

 

 

 

غلطی کہاں ہوئی ؟
ہندوستان کے سابق اہم شماریات اور پچھلے 25سالوں سے سرکاری سروس میں رہے پرنو سین نے کہا کہ مسئلے کی شروعات گائوں کی ترقی میں بدلائو کی وجہ سے ہوئی، 2004-2012 کی مدت کے دوران اعلیٰ سطح پر رہی اور پورے اقتصادی ترقی کو بڑھاوا دیا۔ ان کا کہناتھاکہ زرعی پیداوار میں 3فیصد کے ریٹ سے اضافہ ہو رہا تھا جبکہ زرعی آمدنی میں 7.5 فیصد کے اوسط سے اضافہ کی شرح تھی۔ ملک کے سب سے غریب طبقے کی آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا، جس کی وجہ سے ترقی اور افراط زر دونوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔
مسئلہ 2013-14 میں شروع ہوا، جب چیزیں الٹنے لگیں۔ عالمی بازار میں خوردنی اشیاء کی قیمتوں میں گراوٹ آئی جبکہ ہندوستانی ریزرو بینک ( آر بی آئی ) نے اب بھی ایک ریسٹریکٹیو مونیٹری پالیسی اپنائے رکھا۔منتخب کردہ زرعی پیداوار کے کم سے کم ایم ایس پی کے اضافے میں ڈرامائی کمی آئی۔جو کہ پہلے کے اوسط 8فیصد سے گر کر صرف 3.5 فیصد فی سال رہ گئی ۔’مہاتما گاندھی راشٹریہ گرامن روزگار گارنٹی یوجنا ‘ ہر گائوں کے ہر گھر کے کم سے کم ایک ممبر کو 100 دنوں کے کام کی گارنٹی دیتا ہے۔ 2014کے بعد منریگا ڈیمانڈ آپریٹ ہونے کے بجائے ریسورس آپریٹیڈ اسکیم بن گئی۔
2014-15اور 2015-16 کے دو خشک سالی کے عرصے میں منریگا پر دھیان کم کر دینے کی وجہ سے دیہی ڈیمانڈ کی صورت حال میں اضافہ ہوا اور دیہی ترقی شرح کو نقصان ہوا۔ جب ترقی کی شرح گھٹ رہی تھی، اسی وقت نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے ڈھانچے بدلائو نے غیر منظم اور منظم سیکٹرس کو زبردست جھٹکا دیا۔
سرکار کے ذریعہ 9نومبر کو راتوں رات 86 فیصد ویلیو کی کرنسی واپس لینے کے فیصلے کی وجہ سے نقدی پر مبنی غیر منظم سیکٹر کے ادارے ٹھپ ہو گئے۔ غور طلب ہے کہ ہندوستان کی مجموعی گھریلو پیدوار کا 40فیصد حصہ انہی غیر منظم سیکٹروں سے آتا ہے۔ اس دوران خریداروں کے فقدان میں کسانوں نے اپنی پیداوار مجبوراً سڑکوں پر پھینک دیئے اور چھوٹے دکانداروں کو اپنے ملازموں کی تعداد میں کمی کرنی پڑی۔ جی ایس ٹی کے نفاذ نے سپلائی نیٹ ورک کو غیر مستحکم کردیا ۔ ڈیلروں نے اسٹاک کم کر دیئے اور کمپنیوں ے پیداوار گھٹا دیا۔ نتیجتاً جون سہ ماہی میںجی ڈی پی تین سال کی سب سے نچلی سطح 5.7 پر آگئی۔
جی ایس ٹی ریٹرن داخل کرنے کی تکنیکی خامیوں اور ایکسپورٹرز کے لئے اِن پُٹ ٹیکس کریڈٹ کی واپسی میں غیر معمولی تاخیر نے کاروبار کے جذبے کو چوٹ پہنچایا۔پرنو سین کا کہنا ہے کہ اگر اِن پُٹ ٹیکس کریڈٹ کی واپسی سے متعلق تشویشات کو جلد دور نہیں کیا گیا تو کمپنیوں کے ذریعہ ورکنگ کیپٹل کی مانگ میں بھاری اچھال آئے گاجسے بینک سنبھال نہیں پائیں گے۔ انہوں نے آگے کہا کہ فی الحال ہم ڈیمانڈ سائڈ کے مسئلے کا سامنا کررہے ہیں۔ اگر سپلائی کے مسئلے کو بھی اس میں جوڑ دیا جائے تو وہ اگلے دو سہ ماہیوں کے لئے ہماری جی ڈی پی کو نیچے لے آئے گا۔
حالانکہ مودی سرکار کو عوامی سیکٹر کے بینکوں کی بڑھتی این پی اے سمیت کئی موجودہ مسائل وراثت میں ملے تھے لیکن پرنو سین کے مطابق مسائل کے حل کو سمجھنے میں غلطی ہوئی اور نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے بحران کو اور بڑھا دیا۔
بینکوں کے کل قرض میں ورکنگ کیپٹل لون کا حصہ 2002 میں 76فیصد تھا جو کہ موجودہ وقت میں گھٹ کر 48فیصد رہ گیا ہے۔ ہائوسنگ اینڈ فکسڈ کیپٹل کے لئے لون، کل اُدھار کے 24فیصد سے بڑھ کر 52فیصد ہو گئے ہیں۔یہ سب دیوالیہ پن جیسے قانون کے سسٹم کے بغیر ہوا ہے۔ سین کا کہنا ہے کہ یہ قانون سات آٹھ سال پہلے ہی لاگو ہو جانا چاہئے تھا۔ انہوں بینکنگ نظام کی گڑ بڑی کے لئے یو پی اے سرکار کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔
سرکاری بینکوں کا این پی اے یا برا لون 31 مارچ 2017 تک 6.41 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔ یہ لون 31مارچ 2013 تک 1.56 ٹریلین ڈالر تھا۔ اس میں نو بحالی شدہ لون شامل نہیں ہے۔
پرنو سین نے کہا کہ جانوروں کے کارو بار پر پابندی نے دیہی معیشت کی صورت حال کو اور نقصان پہنچایا ہے۔ دیہات ہندوستان میں جانور بحران کے وقت میں بیمہ کی طرح ہوتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر آسانی سے بیچے جاسکتے ہیں۔ 2017-18 کی جون سہ ماہی میں جانوروں کی پرورش کی شرح میں کمی کا ایک سبب جانوروں کی فروختگی پر روک ہے۔ لہٰذا اس وجہ سے لون ڈیولپ بھی متاثر ہوتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

اب کیا کرنا چاہئے؟
ایسے وقت میں جب پرائیویٹ سرمایہ کاری کا فقدان ہے اور سرکاری لاگت ہی اقتصادی ترقی کی واحد محرک ہے تو اقتصادی گراوٹ کے مسئلے سے نمٹا ایک مشکل کام ہوگا۔ پرنو سین کہتے ہیں کہ یہاں مونیٹری پالیسی بنیادی سہولت کارگر نہیں ثابت ہوگی۔ کیونکہ بینک موجودہ نقطہ نظرسے لون کی صلاحیت میں بڑا اضافہ نہیں کریںگے۔ صرف مقررہ وقت اور جارحانہ مالیاتی تشہیر کے ساتھ ہی اقتصادیات کو موجودہ مندی کے دور سے باہر نکالا جاسکتاہے۔
اس بحران سے ابھرنے کا سین کا نسخہ ہے ،بڑا نہیں بلکہ چھوٹا سوچو اور ابھی سے شروعات کرو۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال بلیٹ ٹرین اور 8 لین کے ہائی وے کوبھول جانا چاہئے اور دیہی رہائش ، دیہی سڑکوں ،سینچائی اسکیموں جہاں جلد نتیجے حاصل کئے جاسکتے ہیں پر اپنا دھیان مرکوز کرناچاہئے ۔
سین کا کہناہے کہ بنیادی ڈھانچے پر خرچ کو بڑھاوا دینے کے لئے مالیاتی گھاٹے کو فی الحال 3.5 فیصد (سال 2017-18 کے بجٹ میں اس کے لئے 3.2فیصد کا پروویژن تھا)تک اور پھر اگلے 2 برسوں کے لئے 4فیصد تک گرنے دیا جاسکتا ہے۔ موجودہ اقتصادی بحران میں معیشت کے لئے ہومیوپیتھک علاج نہیں ،بلکہ اسٹے رائڈس کی ضرورت ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *