ابن کنول اورسعیدعالم نے داغؔ کوزندہ کردیا،دلّی والے شری رام سینٹرمیں انہیں دیکھنے ٹوٹ پڑے

daag
23اکتوبرکی شام نئی دہلی کے صفدرہاشمی مارگ پرواقع شری رام سینٹرکانظارہ ہی الگ تھا۔دلّی والے جوق درجوق 19ویں صدی کے استادشاعرداغ دہلویؔ کودیکھنے آرہے تھے۔ایسالگ رہاتھاکہ داغ جوکہ 1856میں دہلی سے رامپورچلے گئے تھے ، کی 161برس بعدواقعی واپسی ہورہی تھی۔آڈیٹوریم اوپرنیچے پوری طرح بھراہواتھا۔تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔یہ سب اس بات کا مظاہرہ تھاکہ دلّی والے داغؔ کونہیں بھولے ہیں۔وہ ان کے دلوں میں اب بھی زندہ ہیں۔
موقع تھامعروف تھیئٹرگروپ پیّروٹ ٹروپ کے ذریعہ اہتمام کردہ ’بزم داغ‘ کا۔اس کا اصل کریڈٹ معروف افسانہ نگاراورصدرشعبہ ا ردو،دہلی یونیورسٹی پروفیسرابن کنول اورپیّروٹ ٹروپ کے سربراہ اورمشہورتھیٹرآرٹسٹ سعیدعالم کوجاتاہے۔بزم داغ کی اسکرپٹ ابن کنول کی تھی اوراسے رنگ بھراتھاسعیدعالم نے،جنہوں نے اپنی پوری ٹیم کے ساتھ داغؔ کوپھرسے منظرعام پرلادیا۔ابن کنول نے انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ سعیدعالم نے اپنی زبردست اداکاری کے ذریعہ داغؔ کوپھرسے زندہ کردیا۔
شری رام سینٹرکے آڈیٹوریم میں اسٹیج پرمحفل سجی تھی۔داغؔ کے کردارمیں سعیدعالم شرکاء کومحظوظ کررہے تھے ۔ایسامحسوس ہورہاتھاکہ داغؔ واقعی جلوہ افروزہیں۔عیاں رہے کہ داغؔ نواب خاندان میں پیداہوئے ،رامپورکے نواب خاندان میں شادی ہوئی مگراپنے آپ کوخاندانی نواب نہیں بلکہ ’خودساختہ نواب‘بڑے فخرسے کہتے تھے۔جب اسٹیج پرداغ ؔ نے کہاکہ وہ توغدرسے ایک برس قبل اپنے سسرال رامپورمنتقل ہونے کی وجہ سے بچ گئے اوروہاں انہیں قیام کیلئے اصطبل ملا ورنہ آخری مغل تاجداربہادرشاہ ظفرکے دونوں معصوم شہزادے جیساحشران کابھی ہوتاجن کے سروں کوقلم کرکے طشت میں سجاکربدنصیب باپ کوتحفتاً پیش کیاگیاتھا،سبھی لوگوں کی آنکھیں اشک بارہوگئیں۔
وہ منظربھی بہت ہی دردناک اورمبہوت کرنے والا تھاجب اخترجان نے داغؔ کی فرمائش پران کے استادذوقؔ کاکلام پڑھااورجیسے ہی ان مصروعوں پرپہنچی تو داغؔ نے اچانک ہچکی لیتے ہوئے داغ مفارقت دے دی اوردنیائے فانی سے رخصت ہوگئے:
daag1
لائی حیات آئے قضالے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
قابل مبارکبادہیں ابن کنول اورسعیدعالم جنہوں نے بھولے بسرے اس عظیم شاعرکودلّی والوں کے بیچ 161برس بعدپھرلاکھڑاکیا۔ضرورت ہے ایسی ہی جاندارمحفلوں کی باربارتاکہ شاندارماضی سے ہماراتعلق اورربط بنارہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *