تشنگی ‘‘ سے ’’موج سراب ‘‘ تک مینو بخشی کا تخلیقی سفر 

مینو بخشی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسپینش زبان کی پروفیسر ہیںلیکن شاعری ان کا شوق ہے۔ مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود شاعری میں لطیف جذبات کے اظہار کے لئے انہوں نے اردو جیسی خوبصورت اور دلکش زبان کا انتخاب کیا ہے۔ کلاسیکل موسیقی میں تربیت یافتہ مینو نے اردو کے سلیس مترنم الفاظ اپنی غزلوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ موسیقی کے سترنگی سروں میںباندھ کر ادب نواز ناظرین کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ دہلی ، لکھنو اور پٹنہ میںمنعقد معیاری مشاعروں میں شرکت کی ہے اور ملک و ملک سے باہر محفل موسیقی میںمینو نے اپنی مترنم آواز سے سامعین کو محظوظ کیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’ہائوس آف لارڈس ‘ میں بھی وہ اپنی شاعری اور غزل گائیکی پیش کرچکی ہیں۔ حال میں دہلی میں منعقد انٹر نیشنل آرٹ فیسٹول میں بھی ان کی پیشکش کو شائقین نے سراہا ہے۔ مینو لندن فلم فیسٹول کی چیئر پرسن ہیں۔
کلاسیکل موسیقی کی تعلیم کے بعد مینو نے گائیکی کی شروعات صوفیانہ کلام سے کی۔لفظوں نے جب دل کی راہ پکڑلی تو اندر چھپی  شاعرہ نے دستک دی اور اس طرح مینو بخشی کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’ تشنگی ‘‘ روپا پبلکیکشنز انڈیا نے شائع کیا۔ شاعری کے قدردانوں نے ان کی تخلیقی صلاحیت کی دل کھول کر تعریف کی۔ 2014 میں حسن آرا ٹرسٹ  نے امیر خسرو اعزاز اور بہار اردو اکادمی نے جمیل مظہری ایوارڈ سے نواز کر مینو کی شاعرانہ صلاحیت کا اعتراف کیا۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’ موج سراب ‘‘ بھی روپا پبلیکشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔
حکومت ہند کے لئے اسپینش ترجمان کا اہم کام بھی پروفیسر مینوبخشی بخوبی نبھاتی آرہی ہیں۔ وہ کئی زبانوں کے درمیان ایک مضبوط کڑی ہیں۔اس کی بہترین مثال اردو میں شاعری ، یونیورسٹی میں اسپینش، سماجی حلقوں میں ہندی اور انگریزی ہے۔ حال ہی میں انہیں اسپین اور اسپین کی ثقافت کو پروموٹ کرنے کی سمت میںاہم رول ادا کرنے کے لئے Order of Isabella la Catolica ایوراڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ اسپین کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے جو اسپین کے بادشاہ کے ہاتھوں کسی غیر اسپینش شخصیت کو دیا جاتاہے۔ شادی کے موقع پر گائے جانے والے روایتی پنجابی گیتوں کا البم مینو کی آواز میں بے حد مقبول ہے۔

 

 

 

 

 

گوناگوں صلاحیتوں کی مالک پروفیسر بخشی نے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کی مصروفیات کے باوجود سماجی ذمہ داریوں کوکبھی فراموش نہیں کیا۔ سماج کے پسماندہ طبقہ کو مضبوط و بااختیار بنانے کے لئے سرگرم غیر سرکاری تنظیم ’’سویرا ‘‘کی وہ فائونڈر ممبر ہیں۔ ’’ تشنگی ‘‘ سے لے کر ’’ موج سراب ‘‘ تک مینو بخشی کے تخلیقی سفر میں زبان و ادب کے اعتبار سے بے حد خوشنما رہا۔ ان کے دوسرے مجموعے کی غزلوں کا نائلہ دائود نے انگریزی میں بڑا خوبصورت ترجمہ کیا ہے۔ کہنا ہوگا کہ مینو بخشی نے پیچیدہ انسانی رشتوں اور لطیف جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے روحانی فضا بھی اپنی شاعری میں برقرار رکھا ہے۔  وہ مختلف موضوعات کی عکاسی کرتے ہو ئے اُردو غزل کی سدا بہار شان کو دلکش تازگی کے ساتھ پیش کرتی ہیں ۔ ان کی سریلی آواز، ان کی عمدہ تحریرکی کشش کو دوبالا کرتی ہے۔ شاعر ہ و گلوکارہ پروفیسر مینو بخشی کی تازہ ترین غزلوں کے مجموعہ ’’موجِ سراب ’’Wave of Illusion  ‘‘ کی تقریب رونمائی گزشتہ دنوں ایک حسین شام میں ایک بڑے جلسے میں منفرد انداز میں عمل میں آئی ۔ روپا پبلیکیشنز، انڈیا کی اس دلچسپ پیشکش کے موقع پر مہمانِ خصوصی معروف اداکارہ محترمہ شبانہ اعظمی نے کہا کہ’ ’اس نئی کتاب میں مینو بخشی نے محبت کے شاعرانہ اظہار کو  صوفیوں کی طرح برتاہے۔ان کے سیدھے اور سچے الفاظ، اردو کی خوشبو کو نئی نسل تک بخوبی پہنچاتے ہیں ‘‘۔  جانے مانے فلم ساز جناب مظفر علی نے کہا، ’’ وقت کے ساتھ، مینو کا کلام سنورتا ہی جا رہا ہے اور ان کی روحانی جستجو نئے آیام حاصل کر رہی ہے‘‘۔مینو کی شاعری پر اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے ’’چوتھی دنیا ‘‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ نے کہا کہ مینو کی شخصیت ہمہ گیر ہے ۔ ان کو کسی ایک صنف میں قید نہیں کیا جاسکتا ہے۔ان کا یہ شعری مجموعہ جمالیاتی طور پر پُرکشش اور اس کی مشمولات دل کو جھنجھوڑنے والی ہیں۔وہ اسپینش کی پروفیسر ہیں جنہیں اردو شاعری نہ تو وراثت میں ملی ہے، نہ ہی تعلیم کے ذریعہ۔ لیکن مینو بخشی کی شاعری میں اردو کی روح نظر آتی ہے۔ ان کی پہلی کتاب’’ تشنگی‘‘ کی طرح، ’’موج سراب ‘‘ بھی اس بات کی تشریح کرتا ہے کے اپنے تصورات کی گہرائی اور بیان کی روانی کے سبب مینو بخشی آج کے دور اردو غزل کی ایک اہم دستخط بن کے ابھری ہیں۔ انکی کامیابی اردو کے چاہنے والوں کے لئے مشعل راہ ہے،‘‘  قلم کار، ڈپلومیٹ اور سیاستداں پون ورما نے کہا۔ ’’ مینو بخشی کا230 صفحات پر مشتمل  یہ نیا مجموعہ ماڈرن ہندوستانی عورت کے فکر اور احساسات کی عکاسی بخوبی کرتا ہے۔ یہ کتاب غم ذات کو غم کائنات بناتی ہے، سماج اور شاعری کے درمیان نئے پل باندھتی ہے، ‘‘  اردو ایکی ویسٹ اور جشن بہار ٹرسٹ کی بانی محترمہ کامنا پرساد نے کہا کہ ’’اردو ہمیشہ سے دل کی زبان سمجھی جاتی ہے جس کی بنیاد امن و محبت کے اصولوں پر قائم ہے۔  بطور صنف، اُردو غزل صوفیوں اور درویشوں کے زیر سایہ پروان چڑھی ہے،  لہذا اس میں جذبۂ محبت بدرجۂ اتم اورگہرائی کے ساتھ موجود ہے‘‘ ۔  یہ شعری مجموعہ جمالیاتی طور پر دیدہ زیب ہے۔ اور اس کا عنوان ہمیںمتوجہ کرتا ہے ۔ آج کے دور کی ضرورتوں کے مد نظرکتاب کو  اردو اسکرپٹ نستعلیق کے علاوہ دیوناگری اور رومن میں بھی پیش کیا گیا ہے۔اشعار کا انگریزی ترجمہ محترمہ نائلہ داؤد نے کیا ہے۔کتاب کے پیش لفظ میں مینو بخشی فرماتی ہیں ،’’میں اُردو اور غزل دونوں سے محبت کرتی ہوںکیونکہ یہ مشترکہ طور پر محبت کی روشنی فضا میں بکھیر کر دل وروح کو منور کر دیتے ہیں۔‘‘ ادب کی اس صنف سے والہانہ محبت، اُن کی تحریروں اور موسیقی دونوں سے ظاہر ہے۔اس مجموعہ کلام مٰن مظفر علی کی تحریر کردہ نظم  ’مینو کی شاعری ‘ کا بہترین تعارف کراتا ہے۔مینو کے ہی مندرجہ ذیل اشعار ’’ چشمہ مخلوق ہے میزان رضائے مولا‘ ، چشمہ مخلوق میں خود کو نہ گرائے رکھنا ‘‘ سے وہ انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو کہ ان کے شایان شان ہے۔  کتاب پرگفتگو ختم ہونے کے بعد موسیقی اور رقص بھی پیش کیا گیا جسے بہت سراہا گیا۔ پروگرام کے اختتام پر مینو بخشی نے اپنی منتخب غزلیں پیش کیں۔اس موقع پرکتھک ڈانس کی ماہر محترمہ شوانی ورما  نے اپنے رقص کے ذریعہ کچھ اشعارپر بھاؤ پیش کئے ۔کچھ منتخب اشعارجو آپ کے رخسار سے منسوب غزل ہے: وہ اہل دل کے واسطے محبوب غزل ہےپڑتے ہی ان پہ میری نظر، دل یہ کہہ اٹھا: کیا خوب غزل،خوب غزل، خوب غزل ہےمیں کیوں نہ اسے چوموں،نگاہوں سے لگائوں: جو آپ نے بھیجا ہے وہ مکتوب ، غزل ہےاس بات کا عرفان ہے ہر اہل نظر کو: گلشن کے ہر اک پھول میں محجوب غزل ہےآتی ہے نظر یوں تو وہ مقبول خلائق: لیکن یہ حقیقت ہے کہ معتوب غزل ہےرکھئے تو قدم رکھئے ذرا سوچ سمجھ کر: اس کشتِ دل زار کی ہر دوب غزل ہےہیں غالبؔ دانا بھی فدا حسن پہ جس کے : وہ میر تقیؔ میر ؔ کی محبوب غزل ہے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *