ملک کے حالات مثبت نہیں ہیں

ہندوستان ایک زرعی ملک ہے اور اگلے کئی سال تک زرعی ملک ہی رہے گا۔ ایک پالیسی ، جو پچھلی سرکار نے شروع کی تھی اور یہ سرکار بھی آگے بڑھانا چاہتی ہے، وہ یہ ہے کہ 80 کروڑ لوگوںکودیہی علاقوں سے شہری علاقوں میں لانے کی بات کی جارہی ہے۔ میںسمجھتا ہوںکہ یہ بہت ہی زیادہ امنگی منصوبہ ہے اور اتنی جلدی اس پر عمل نہیں ہو پائے گا۔ کسانوں کی جو حالت ہے، وزیر اعظم کہتے ہیںکہ چھ سال میں کسانوں کی آمدنی وہ دوگنی کردیںگے۔ ان کے وزیر زراعت بھی یہی کہتے ہیں۔ کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے کے دو طریقے ہیں۔ پہلا، ان کی پیدا واری دوگنی ہو جائے جبکہ یہ ہو ہی نہیںسکتی۔ جتنی زمین ہے،اس میں دس بیس فیصد اضافہ ہوسکتا ہے، دوگنی تو نہیںہوسکتی ۔ دوسرا ہے، منیمم سپورٹ پرائس۔ ا س میںآپ اضافہ کریں۔ سابقہ سرکار بڑھاتی تھی 70،80 یا 100 روپے۔ یہ بڑھاتے ہیں 20،30 یا 40 روپے۔ اس سے بھی کچھ نہیں ہونا ہے۔ آج ہم لوگ دیکھ رہے ہیں، خبریں اخبار میںآتی ہیں کہ کسان نے خود کشی کرلی اور ریاستی سرکاروں نے قرض معاف کردیا۔ لیکن جب تک ہم لوگ بنیادی مسائل کا حل نہیںڈھونڈیںگے، اس سے کچھ نہیںہونے ولا ہے۔ یہ اس وقت کی باتیں ہیں اور اس میں بھی المیہ ہے۔
کچھ دنوں پہلے دیکھا کہ اترپردیش میں ایک کسان کو ایک پیسے کا قرض معاف کرنے کا سرٹیفکٹ دیا گیا، یہ مذاق ہے۔ کسان پریشان ہیں، غریب ہیں، بہت دباؤ میں ہیں، ان کے ساتھ بھدا مذاق کرنا ملک کے مفاد میںنہیںہے۔ کسان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ سب سے پہلے تو کسان کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے پاس جو اناج ہوتا ہے، اس کے ذخیرے کے لیے جگہ چاہیے۔ ٹرانسپورٹ چاہیے، تاکہ اناج منڈی تک پہنچ سکے، منڈی میں اس کو صحیح دام ملنا چاہیے۔ سرکار کے پاس کوئی اس طرح کا اپریٹس نہیں ہے۔ کوئی اس طرح کا طریقہ نہیںہے، جس سے یہ باتیںیقینی بنائی جا سکیں۔ اور کہیںبھی چلے جائیے، مہاراشٹر میں راجو شیٹی ہیں، یوپی میںدوسری کسان تنظیمیں ہیں ، سب پریشان ہیں۔ ان کی آواز سرکار تک نہیںپہنچ پاتی ہے۔ صنعتی گھرانے کے پاس تو فکّی ، ایسوچیم اور چیمبر آف کامرس ہیں، جو دباؤ بنا لیتے ہیں لیکن ا گر ملک کا طویل مدتی مسقتبل ٹھیک رکھنا ہے تو دیہی علاقے ٹھیک ہونے چاہئیں۔
نوجوان طبقے کو نوکری ملنی چاہیے۔ زمین محدود ہے۔ ایک خاندان میں جیسے ہی نسل بڑھتی ہے، زمین بٹ جاتی ہے۔ تو ضروری یہ ہے کہ زراعت سے جڑی صنعتیں ، چھوٹی صنعتیں بڑھیں تاکہ لوگ نوکری پاسکیں۔ وزیر اعظم بیان دیتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ نوکری مانگنے کی جگہ آپ لوگوںکو نوکری دیں۔ یعنی نوکری تلاش کرنے والے جاب سیکر کی جگہ لوگ جاب گیور یعنی نوکری دینے والے بنیں۔ یہ جملہ ہی ہوسکتا ہے۔ جو آدمی خود نوکری ڈھونڈ رہا ہے، آج سوچ رہا ہے کہ وہ کوئی اکائی کھول کر نوکری دے گا۔ بہت اچھی سوچ ہے، کریے۔ اس کے لیے تو کچھ ہے ہی نہیں۔ ایک مدرا بینک بنا تھا۔ ایک دو سال پہلے بجٹ میں اناؤنس کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں ہوا، کیونکہ ریزرو بینک نے نہیں کرنے دیا۔ یہ بہت پیچیدہ ملک ہے۔ وہ حل یہاںکام نہیںکریں گے جو یوروپ یا امریکہ میںکرتے ہیں۔ امریکہ کی کل آبادی کتنی ہے، یہاںسے ایک چوتھائی بھی نہیںہے۔ پورے یوروپ کی آبادی کتنی ہے، ہندوستان جتنی بھی نہیںہے۔ ایک کام آپ کو بہت شدت سے کرنا پڑے گا۔ ایک ہی ملک ہے دنیا میں، جس سے ہم لوگ موازنہ کرسکتے ہیں، وہ ہے چین۔ اس سے موازنہ اس لیے رک جاتا ہے کیونکہ وہاںڈیموکریسی نہیں ہے، جمہوریت نہیں ہے۔ وہ آزاد ہے ، وہ کچھ بھی کرسکتاہے۔ ہم لوگوںکے یہاںجمہوریت ہے،ہماری حدود ہیں، اچھی بات ہے۔ یہاںپریس کی بھی آزادی ہے۔ عدالت بھی ہے۔ یہ سب ٹھیک ہے لیکن جو بھی سرکار پاور میں آتی ہے،اسے یہ سمجھنا چاہیے کہ جمہوریت میںآپ کو لوگوں نے پانچ سال دیے ہیں۔ پانچ سال میں آپ وہ ہر چیز نہیںبدل سکتے ہیں جو 70 سال سے ہوتی آئی ہیں۔

 

 

 

 

 

بدقسمتی سے اس سرکار کا رویہ یہ ہے کہ 70 سال تک گڑبڑیاں ہوئی ہیں، یہ پانچ سال میں ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ 70 سال سے گڑبڑیاں نہیں ہوئی ہیں۔ ٹھیک ہے آپ کانگریس پارٹی کے خلاف ہیں، ا س لیے پروپیگنڈہ کرتے ہیں، اس سے مجھے کوئی شکایت نہیں ہے۔ لیکن اٹل بہاری سرکار چھ سال تھی، آپ ان کو کانگریس کے رنگ میں نہیں رنگ سکتے ۔ جو آئین میں، ڈھانچے میں فٹ ہوگا، وہ تو آپ لاگو کرسکتے ہیں۔ آج سماجی رواداری خراب ہورہی ہے۔ ہندو مسلمان کا جھگڑا، گایوں پر جھگڑا، جو صورت حال بن رہی ہے، وہ بہت ٹھیک نہیں ہے۔ سرکار کو صنعت کاری چاہیے، تو ایسا کرنا ہی پڑے گا کیونکہ اگر آپ کو جدید ملک بنا نا ہے اورلوگوں کو نوکریاں دینی ہیں تو میں نہیں کہتا کہ خالی زراعت سے ایسا ہوگا۔ صنعتیںکھولیے، صنعتیں کھل رہی ہیں، ہم لوگ اگر آج منگلیان بنا سکتے ہیں یا سیٹیلائٹ بنا سکتے ہیں یا میزائل بنا سکتے ہیں، تو یہ پانچ سال میںہوگیا کیا؟ یہ ہو رہا ہے، تو وہ میںنہیںکہتا۔ لیکن جب تک آپ فوری طور پر مسائل کو حل نہیں کریںگے، لوگوں میںغصہ بڑھتا جائے گا۔ الیکشن میں کیا ہوتا ہے، کیا نہیںہوتا ہے، اس سے مجھے کوئی مطلب نہیں ہے۔ ملک تو ہے، ہر پانچ سال میں ملک نئے سرے سے تو شروع نہیں ہوسکتا۔ ملک جیسے چلتا ہے، آگے بھی چلے گا۔
جو پالیسی پہلے سے چل رہی ہے، اس کو آپ اور کتنا چینج کرسکتے ہیں ۔ یہ تو خود اس سرکار نے دیکھ لیا۔ جب پاور میںآئے تو انھوںنے کہا کہ منریگا ہٹا دیںگے۔ہم آدھار ہٹادیںگے اور وہی پالیسی ان کی خاص پالیسی ہوگئی کیونکہ وہ پالیسیاں منطقی تھیں، ملک کے فائدے کے لیے تھیں،ملک کے مفاد کے لیے تھیں۔ ٹھیک ہے، اچھی پالیسی ہے تو کریے لیکن عدلیہ کو سمجھ کے کریے۔ آج آدھار کارڈ ہے۔ پہلے آپ نے کہا تھا، جن کو سبسڈی چاہیے، ان کے پاس آدھار کارڈ ہونا چاہیے تاکہ سبسڈی سیدھے ان کے کھاتے میں چلی جائے اور بچولیے اس میںکوئی فائدہ نہ اٹھائیں۔ بہت اچھی بات ہے۔ میرے جیسا شخص ، میںنے کہا کہ مجھے کبھی کوئی سبسڈی نہیں چاہیے۔میں آدھار کارڈ نہیں لوںگا۔ مشکل ہوگئی۔ میرا بینک والا کہتا ہے کہ آپ آدھار کارڈ دیجئے، نہیںتو میںآپ کا بینک اکاؤنٹ بند کردوںگا۔ دوسرا آدمی بولتاہے ، کیسے بھائی، مجھے کسی سے کچھ چاہئے ہی نہیں۔ انکم ٹیکس والا کہتا ہے کہ آدھار کارڈ نہیںدیںگے تو میںآپ کی ریٹرن نہیں لوںگا۔ جب پین کارڈ ہے، جو انکم ٹیکس کا خود کارڈ ہے، تو پھر ایسا کیوں؟ کنفیوژن بہت زیادہ ہے، ضرورت ہے آدمی متوازن طریقے سے اپنا دماغ لگائے اور ایسی پالیسی بنائے جو عام جنتا کے بھی سمجھ میںآتی ہو۔ صرف پالیسی ہی نہیں، اس کی دلیل بھی سمجھ میںآنی چاہئے۔سپریم کورٹ نے پرائیویسی کا ججمنٹ دیا،جسے سمجھنا مشکل ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے نجی معاملوں میںمداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ تو کوئی بھی سمجھتا ہے۔ گاؤںکا آدمی بھی سمجھتا ہے۔ شہر کا بھی سمجھتا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس کو ایک عملی جامہ پہنا دیا کہ اب قانون بھی یہ ہوگا۔ اب آدھار کا فیصلہ اسی کسوٹی پر ہونا ہے تو کم سے کم جب تک آدھار کا فیصلہ سپریم کورٹ نہ دے دے،تب تک پریشان کرنا بند کریے۔

 

 

 

 

 

جو اونچی سطح کے لوگ ہیں، ان کو بینک روز ایس ایم ایس بھیج رہا ہے۔ سب کچھ دیکھتے ہوئے ملک کے حالات مثبت نہیںہیں۔چھوٹی چھوٹی چیزیں ہورہی ہیں، بکھرتے ہوئے ہورہی ہیں۔ گاؤں میں پولیس کا نظام تو وہی ہے، جو اتنے سال سے ہے۔ افسروں کا نظام تو وہی ہے۔ ایک دن میں تو کچھ بدلتا نہیں ہے۔ تو جو چھوٹا آدمی ہے، جس کی رسائی نہیں ہے، وہ پس رہا ہے، خواہ وہ کسان ، مزدور بے روزگار یا پھر بے زمین ہو۔ ضرورت ہے کہ گروپ آف منسٹر بنادیں پرائم منسٹر یا گروپ آف سکریٹری بنا دیں، جو ایسی پالیسیاں وضع کریں جو لوگوں کی سمجھ میںبھی آجائیں، آسان بھی ہوں اور لوگوںکو کم از کم خود کشی کی راہ پر یا بالکل مایوس ہونے کی طرف تو نہ لے جائیں۔ آج جاب ہے نہیں، سب کو دکھائی دے رہا ہے۔بلکہ بڑی بڑی کمپنیاں انفوسس،کئی بینک ہزاروں لوگوں کو نوکریوںسے ہٹا رہے ہیں۔ نئی نوکریاں کرئیٹ کرنا الگ بات ہے۔ یہ ڈس امپلائمنٹ ہے، اَن امپلائمنٹ نہیں ہے۔ لگی ہوئی نوکری چھوٹ رہی ہے۔ اس سے ملک کی صورت حال بگڑے گی اور اگلے پانچ سال میںمیںسمجھتا ہوں کہ اگر فوری طور پر قدم نہیں اٹھائے گئے تو ہم لوگ بہت مشکل میںآجائیںگے۔ سوچتا ہوں کہ یہ بات وزیر اعظم پہنچے گی اور وہ کچھ مثبت قدم اٹھائیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *