200سالہ یوم پیدائش پر سرسید کی خدمات کا اعتراف ؟

تاریخ گواہ ہے کہ 17اکتوبر 1817 کو دہلی میںمیر محمد متقی اور عزیز النساء کے جس بچے نے جنم لیا تھا، آج وہ برصغیر میں مسلم تعلیم کا نشان مانا جاتاہے۔اس بچے کا نام سید احمد رکھا گیا تھامگر وہ بڑا ہوکر سرسید کہلایا۔ اپنی علمی و تحقیقی اور تعلیمی خدمات کی بناء پر سر سید نے بر صغیر میں جو مقام حاصل کیا، وہ شاید کسی کو بھی میسر نہیں ہے۔ اس کی جھلک مختلف شعبہ حیات میں دیکھی جاسکتی ہے۔
سرسید کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو کہ مغل کورٹ سے جڑا ہوا تھا۔ سرسید نے اسی کورٹ کے اندر قرآن اور سائنسز کی تعلیم لی اور پھر ایڈین برگ یونیورسٹی سے قانون پڑھا۔1838 میں 21برس کی عمر میں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی سروس جو ائن کرلی اور 1867 میں اسمال کائو زیز کورٹ میں جج کے عہدے تک پہنچ گئے اور پھر وہیں سے 1876 میں ریٹائر ہوئے۔ اسی دوران ملازمت کرتے ہوئے انہوں نے 1859 میں مرادآباد میں گلشن اسکول ، 1863 میں غازی پور میں وکٹوریا اسکول، 1864 میں مسلمانوں کے لئے سائنٹفک سوسائٹی اور 1875 میں علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم مسلمانان ہند ‘ قائم کیا۔ 1876 میں ایسٹ اندیا کمپنی سے سبکدوشی کے بعد یہ علی گڑھ میں قائم مدرسۃ العلوم مسلمانان ہند کی ترقی کی کوشش میں یکسو ہوگئے اور پھر ایک برس بعد 1877 میں یہ تعلیم گاہ محمڈن اینگلو اورینٹل کالج ( ایم اے او کالج ) کی شکل میں نمودار ہوا۔ اس تعلیم گاہ کے قیام کی خاطر سرسید نے ایک کمیٹی بنائی اور مالی معاونت کی عمومی اپیل کی۔ اس وقت کے وائسرائے اور گورنر جنرل آف انڈیا لارڈ نارتھ بروکس نے اس فنڈ میں 10 ہزار روپے اور نارتھ ویسٹرن پروونس کے لیفٹیننٹ گورنر نے بھی ایک ہزار روپے کا چندہ دیا۔

 

 

 

 

 

قابل ذکر ہے کہ مارچ 1874 تک اس تعلیمی ادارہ کے لئے ایک لاکھ 53ہزار 492 روپے اور 8آنے جمع ہوگئے تھے۔ ابتدا میں یہ ایم اے او کالج کلکتہ یونیورسٹی سے ملحق ہوا مگر بعد میں 1885میں الٰہ آباد یونیورسٹی کا حصہ بنا گیا۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ 1877میں کالج کی عمارت کا سنگ بنیاد لارڈ لیٹن نے رکھا تھا۔27مارچ 1898 کو سرسید کے انتقال کے تقریباً دو برس بعد اسے یونیورسٹی بنانے کی کوشش شروع ہوئی جس کینتیجے میں 1920 میں یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گیا۔
یہ بات بھی اہم ہے کہ ابتدا میں 30برس تک علی گڑھ کے اس تعلیمی ادارہ میں بچیوں کی تعلیم کا کوئی نظم نہیں تھاکیونکہ سرسید بچیوں کی مخلوط تعلیم کے حق میں نہیں تھے۔مگر اپنے ہم عصر رفقاء کے شدید اصرار پر زندگی کے آخری دنوں میں الگ تعلیم کے لئے اپنی رضامندی کا اظہار کردیا ۔تبھی تو آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کے تحت 1896 سے بچیوں کی تعلیم کے لئے باضابطہ تحریک شروع ہوئی اور پھر 19اکتوبر 1906 کو بچیوں کا ایک علاحدہ اسکول وجود میں لایا گیا۔ یہ اسکول 1929 میں انٹرمیڈیٹ کالج بنا اور 1930 میں اسے یونیورسٹی کے کانسٹی ٹو اینٹ کالج میں تبدیل کردیا گیا اور پھر یہ ویمنس کالج کہلایا۔بچیوں کی تعلیم کا گریجویشن سطح پر ابھی جو نظم ہے ،وہ یونیورسٹی کا حصہ ہوتے ہوئے بھی ابھی تک علاحدہ ہے۔ یعنی کمسن بچیوں کی تعلیم و تربیت سب کچھ مخلوط نہیں ہے۔ البتہ بچیاں گریجویشن کے بعد تعلیم اور تکنیکی و میڈیکل تعلیم کے لئے بچوں کے ساتھ پڑھتی ہیں۔ بچیوں کی اے ایم یو میں تعلیم کا سہرا شیخ عبداللہ عرف ’’پاپا میاں ‘‘ کے سرجاتا ہے جنہوں نے اپنی انتھک محنت سے یہاں بچیوں کی تعلیم کی داغ بیل ڈالی۔یہی وجہ ہے کہ اسکول ، کالج اور ہاسٹل سبھی پاپا میاں کے نام سے موسوم ہیں اور ہر ایک میں عبداللہ لفظ جڑا ہوا ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاپا میاں کی شکل میں سرسید کوایک ایسا شخص مل گیاتھاجس نے سر سید کی تعلیم گاہ میں بڑے احتیاط اور تدبر سے بچیوں کی تعلیم کی ضرورت کو پورا کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ آج اے ایم یو بچوں اور بچیوں دونوں کی تعلیم کی ضرورت کو بخوبی پورا کررہا ہے۔
سرسید کا یہ تعلیمی ادارہ جو 1875 میں اسکول بن کرابھرا اور دو برس بعد کالج بنتا ہوا 1920 میں 45 برس بعد یونیورسٹی کی شکل اختیار کرگیا ، مسلمانوں کی امنگوں اور توقعات کی تکمیل ہی نہیں بلکہ ان کے تعلیمی امپاورمنٹ کا بہترین مستقل ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 2005 میں الٰہ آباد ہائی کورٹ نے اے ایم یو ایکٹ کے پرویژنز کو رد کردیا اور فیصلہ سنایا کہ اے ایم یو ایک اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور پھر 2016 میں مرکزی حکومت نے عدالت سے کہا کہ یہ اس فیصلہ کے خلاف اپیل نہیں کرے گا تو مسلمانوں میں زبردست بے چینی پیدا ہوگئی۔یہ معاملہ ہنوز عدالت میں ہے اور مسلمانوں میں مستقل بے چینی پائی جارہی ہے ۔اس بے چینی کی وجہ یہ ہے کہ الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ سے قبل اے ایم یو میں اقلیتی کمیونٹی کے طلباء و طالبات کو داخلہ میں 50 فیصد سیٹ مختص تھی مگر فیصلہ کے بعد اسٹے دے دیاگیا اور اقلیتوں کے 50 فیصد داخلہ کے حق کو فائنل فیصلہ آنے تک روک دیا گیا ۔

 

 

 

 

 

ظاہر سی بات ہے کہ ان اقدامات سے سر سید نے 142 برس قبل مسلمانوں میں تعلیم کے فروغ کا اس تعلیمی ادارہ کے ذریعے جو خواب دیکھا تھا اور جو ایک لمبے عرصے تک شرمندہ تعبیر ہوتا رہا، وہ اچانک چکنا چور ہوگیا۔ جو دلیل اقلیتی حیثیت کو ختم کرنے کی دی گئی ،وہ صرف یہی تھی کہ 1920 میں جب یہ یونیورسٹی قائم ہوئی تو وہ اس وقت کے پارلیمنٹ کے قانون سے قائم ہوئی، لہٰذا اس کی تاسیس میں اقلیت کا ہاتھ نہیں ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اس یونیورسٹی کا 1875 میں سرسید کے ذریعے قیام مدرسۃ العلوم مسلمانان ہند سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس طرح جب اس تعلق کو ہی کالعدم قرار دیا جائے گا تو یہ بھی ظاہر ہے کہ اے ایم یو کا سرسید سے بھی تعلق خود بخود ختم ہو جائے گا۔کیونکہ سرسید تو 1898 میں وفات پاگئے تھے اور اے ایم یو 1920 میں پارلیمنٹ کے قانون سے بنا۔
سرسید نے مسلمانوں کے تعلیمی امپاورمنٹ کے لئے جو زبردست خدمات انجام دی ہیں، اس کا تقاضہ ہے کہ اے ایم یو سے سرسید کا قانو نی رشتہ برقرار رہے اور اس تعلیمی ادارہ کا مقصد وجود بھی قائم رہے۔ عدالت کا جو بھی فائنل فیصلہ جب آتا ہے، وہ اپنی جگہ ہے مگر جو بھی حکومت مرکز میں ہو، اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اے ایم یو کی حیثیت و نوعیت کی اس نزاکت کو محسوس کرے کیونکہ اس سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا تعلیمی امپاورمنٹ سیدھا جڑا ہو اہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب یہ تعلیمی امپاورمنٹ ہوگا تبھی مسلمانوں میں وہ تعلیمی پسماندگی دور ہوسکے گی جس کی جانب سچر کمیٹی رپورٹ نے 2006 میں واضح طور پر نشاندہی کی ہے۔
اگر اس جانب برسر اقتدار گروپ توجہ دیتا ہے تو سرسید کے 200ویں یوم پیدائش کے موقع پر یہ انہیں بہترین خراج عقیدت ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا سرسید کو یہ خراج عقیدت پیش کرنے کو ہم تیار ہیں؟

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *