یشونت سنہا کی تشویشات جائز ہیں

یہ ہمارے دور کے باپ و بیٹے کی دوسری کہانی ہے۔یشونت سنہا نے اپنی سیٹ اپنے بیٹے جینت سنہا کو یہ مان کر دی کہ جینت سنہا ان کے رہتے ہوئے سیاست میں مستحکم ہوجائیںاور وہ ہزاری باغ سے لوک سبھا میں آ جائیں۔ یشونت سنہا لگاتار ہزاری باغ جاتے رہے،وہاں کے لوگوں سے ان کا رابطہ رہا۔جھارکھنڈ کی سیاست میں انہیں بہت بڑا لیڈر مانا جاتا ہے۔حالانکہ وہ قومی سطح کے اس سے بڑے لیڈر ہیں۔ یشونت سنہا کی اہمیت کے مطابق ان کے بیٹے جینت سنہا لوک سبھا میں آئے اور وزیر اعظم مودی نے انہیں اپنی کابینہ میں وزارت مالیات کے وزیر مملکت کے طور پر حلف دلوایا۔ گزشتہ کابینہ کی توسیع میں انہیں شہری ہوا بازی کا وزیر مملکت بنایا گیا۔
یشونت سنہا چندر شیکھر جی کے سب سے بھروسہ مند لوگوں میں سے ایک رہے۔ اگر وہ اور کمل مرارکا نہیں ہوتے تو شاید جنتا دل کی تشکیل نہیں ہوپاتی ۔انہی دونوں کی دور اندیشی کی وجہ سے جنتا دل بنا اور اس میں چندر شیکھر جی کی جنتا پارٹی کا انضمام ہوا۔ یشونت سنہا کو چندر شیکھر جی نے اپنی وزارت عظمیٰ کے دور میں وزیر خزانہ کی ذمہ داری سونپی، یشونت سنہا نے بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ وزارت خزانہ کی ذمہ داری سنبھالی۔ یشونت سنہا کے زمانے میں ہی بیلنس آف پیمنٹ کی خراب ہوتی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہم نے اپنا سونا گروی رکھ کر ملک کی ساکھ بچائی۔ اس فیصلے کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس نے بہت شور مچایا لیکن یشونت سنہا کی صلاح پر چندر شیکھر جی نے یہ سخت فیصلہ لیا اور اس فیصلے سے ملک کی ساکھ بچائی اور مالی پوزیشن کو سنبھالنے میںبھی بہت بڑی شراکت داری کی۔حالانکہ یشونت سنہا جب وزیر خزانہ تھے، تب ملک کے اوپر بہت بڑا اقتصادی بوجھ پڑا تھا۔ اسی وقت عراق جنگ شروع ہو گئی تھی اور ہم اس جنگ کے بالواسطہ نتائج کو بری طرح جھیل رہے تھے۔
یشونت سنہا ہمیشہ سے سیاست کے ایسے طالب علم رہے ہیں، جو ملک کے سوالوں کے اوپر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتے۔وہ جب بی جے پی میں شامل ہوئے تو چندر شیکھر جی سے بات کر کے شامل ہوئے۔ یشونت سنہا کو اٹل بہاری باجپئی نے بھی اپنی کابینہ میں وزیر خزانہ کی ذمہ داری سونپی تھی۔ یشونت سنہا نے وزارت خزانہ کی ذمہ داری بخوبی نبھائی اور اٹل جی کے سب سے خاص بھروسہ مندوںلوگوں میں شامل ہو گئے۔ حالانکہ ان کاسنگھ یا بی جے پی کا کوئی بیک گرائونڈ نہیں تھا، اٹل جی نے ان کے کام کو جانچا، ان کے کام کو سراہا اور ان کی محنت کا ایوارڈ انہیں اپنا سب سے نزدیکی لوگوں میں سے ایک بنا کر دیا۔ اڈوانی جی بھی یشونت سنہا کی سوچ اور محنت کے طریقوں سے متاثر ہوکر ان کے مداحوں میں شامل ہو گئے تھے۔
یشونت سنہا ان دنوں ملک کی اقتصادی صورت حال کو لے کر بہت ہی پریشان ہیں۔ انہوں نے عوامی طور پر اور ذاتی طور پر بھی کئی بار ہندوستانی سرکار کی موجودہ اقتصادی نظام کو سدھارنے کے لئے کئی سجھائو دیئے لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ یشونت سنہا سرکار کی گرتی ہوئی اقتصادی صورت حال اور اس سے ہونے والے منفی نتائج کو لے کر اتنے زیادہ پریشان ہو گئے ہیں کہ انہیں ایک اخبار میں مضمون لکھ کر کئی ساری چیزیں نشان زد کرنی پڑی۔ شاید اس کے پیچھے وجہ یہ تھی کہ بی جے پی کے جو سیاسی لوگ ہیں، چاہے وہ لال کرشن اڈوانی ہوں، مرلی منوہر جوشی ہوں، بی جے پی کے منتخب کئے ہوئے ارکان پارلیمنٹ ہوں یا راجیہ سبھا کے ممبران ہوں،ان میں سے کسی کا رابطہ وزیر اعظم کے ساتھ نہیں ہے۔اس لئے ان کا کوئی سجھائو وزیر اعظم کے پاس نہیں پہنچتا ہے اور نہ ہی اس ملک کی حالت کی جانکاری پہنچتی ہے۔ شاید یشونت سنہا نے اسی صورت حال سے پریشان ہوکر اخبار میں مضمون لکھا۔ ان کے مضمون کے وہ نکات، جسے انہوں نے نشان زد کیا ہے، نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو لے کر غلط فیصلے، جی ڈی پی کا گروتھ ریٹ تشویشناک طریقے سے گرنا، وزیر خزانہ کے ذریعہ کوئی بھی صحیح فیصلہ نہ لینا اور ان فیصلوں کو سخت بنانا ہیں، جنہوں نے ملک کی مالی حالت کو بگاڑا ہے۔ اسے ملک کے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ انہوں نے طنز بھی کسا کہ ارون جیٹلی سپر مین جیسے ہو گئے ہیں، جنہیں وزیر اعظم نے چار چار محکمہ دیئے، جبکہ انہوں نے کہا کہ وزارت خزانہ کا اکیلا کام 24گھنٹے سے زیادہ کا کام ہے۔اگر کوئی سوئے نہ، تو بھی اتنا بڑا ملک،اتنا بڑا چیلنج، ڈیولپمنٹ کا چیلنج،نوکریوں کا چیلنج ،ان سب کے راستے نکالنے کے لئے جس آدمی کے اوپر ذمہ داری ہے، وہ ہر وازرت کا جزوی وزیر بنا ہوا ہے اور اپنی تشویشات وزیر اعظم کے سامنے صحیح ڈھنگ سے نہیں رکھ رہا ہے۔ شاید ان کے لکھنے کا یہ طریقہ ارون جیٹلی سے صحیح جواب حاصل کرنے کا طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔کیا یشونت سنہا کی تشویشات غلط ہیں؟

 

 

 

 

 

تشویش فطری ہے
یشونت سنہا کی معیشت کو لے کر اور مودی سرکار کو لے کر کوئی غلط فکر نہیں ہے،کیونکہ ان سارے سوالوں کو ہم اپنے آس پاس وقوع پذیر ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ ارون جیٹلی کبھی بھی مالی معاملوں کے جانکار نہیں رہے۔ وہ اچھے وکیل رہے لیکن وہ مالی معاملوں کے ماہر کبھی نہیں رہے۔ ارون جیٹلی کے مالی معاملوں کا ماہر نہ ہونے کی وجہ سے ہی ملک کی معیشت کا یہ حال ہے۔شاید اسی لئے وزارت خزانہ میں ایک کل وقتی وزیر خزانہ رہے، اس کی ضرورت ملک کو محسوس ہو رہی ہے، سیاسی پارٹیوں کو بھی محسوس ہورہی ہے، شاید بی جے پی کو بھی محسوس ہورہی ہے۔ میری بی جے پی کے دوستوں سے ملاقات ہوتی ہے، چاہے وہ سنگھ سے جڑے ہوں یا پارٹی سے جڑے ہوں یا لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ممبر ہوں، سبھی کا کہنا ہے کہ ارون جیٹلی بہت اچھے آدمی ہیں۔ وزیراعظم کے سب سے بھروسہ مند لوگوں میں ہیں،تو اچھا ہوتا کہ وہ سبھی وزارتیں چھوڑ کر بغیر وزارت کے وزیر رہیں اور تمام وزارتوں کی رپورٹ وزیر اعظم کو منطقی ڈھنگ سے سمجھائیں۔ شاید یہ ان کا سب سے بڑا رول ہو سکتا ہے۔ ارون جیٹلی کے وزیر دفاع رہتے ملک کو تب نقصان ہوتا، جب ملک کی کسی کے ساتھ جنگ ہوتی۔ کمپنی امور کے وزیر ہونے سے نقصان تب ہوتا جب ارون جیٹلی کمپنیوں کو نظر انداز کرتے ۔ جیٹلی جی کا سب سے محبوب موضوع ہندوستان کی کمپنیاں ہیں،کارپوریٹ ورلڈ ہے، جس کے وہ بہت ڈارلنگ یا بلو آئڈ بوائے رہے ہیں لیکن وزارت خزانہ کو تو ارون جیٹلی کے لاعلمی سے اور ملک کو وزیر اعظم کے اس فیصلے سے بہت نقصان ہوا ہے۔ شاید یہی یشونت سنہا کی فکرہے۔
یشونت سنہا کی تشویشات کا جواب سرکار کے وزیروں نے ویسے ہی دینا شروع کیا، جیسے وہ راہل گاندھی کا جواب ان کے بیرون ملک میں دیئے بھاشنوں کے اوپر دیتے رہے۔ 19وزرائ، 24گھنٹے راہل گاندھی کے اوپر حملہ آور رہے۔ یشونت سنہا کے اوپر پیوش گوئل اور راجناتھ سنگھ سب سے پہلے حملہ آور ہوئے۔جب سرکار نے دیکھا یا شاید وزیر اعظم نے دیکھا کہ ان کا اثر ملک کے اوپر نہیںپڑرہا ہے تو انہوں نے یشونت سنہا کے بیٹے جینت سنہا کو ان کا جواب دینے کے لئے کھڑا کیا اور ان کا جواب کیا تھا کہ اب پرانے طریقوں سے معیشت کی پالیسی کو نہیں ناپا جاسکتا ۔اب نئے طریقوں سے معیشت کی پالیسی کو ناپنا چاہئے۔ شاید جینت سنہا یا سرکار ہی اس زبان کو سمجھ رہی ہو اور تو کوئی اس زبان کو سمجھا نہیں لیکن اتنا ضرور سمجھ میں آیا کہ اقتدار اتنی ہرجائی ہوتی ہے کہ جسے پانے کے لئے، جس میں بنے رہنے کے لئے آدمی اپنے رشتے بھی بھول جاتا ہے۔ چاہے وہ باپ و بیٹے کا رشتہ ہی کیوں نہ ہو۔
جینت سنہا اس وقت شہری ہوابازی کے وزیر ہیں۔انہیں جواب دینے کی کیا ضرورت تھی لیکن انہوں نے جواب اس لئے دیا کیونکہ شاید ان سے کہا گیا اور جس نے یہ فیصلہ کیا، اس نے بیوقوفی کا فیصلہ کیا۔ یشونت سنہا کے سوالوں کا جواب وزیر خزانہ ارون جیٹلی کو دینا چاہئے تھا اور اگر وزیر خزانہ نہیںدیتے تو وزیر خزانہ برائے مملکت دیتے لیکن جن یشونت سنہا کو کشمیر میں کی گئی ان کی کوششوں کے جواب میں ان کی تعریف کرنے کی جگہ وزیر اعظم ملنے کا موقع بھی نہ دیں، ایسے آدمی کے سوالوں کا جواب شاید ارون جیٹلی کے ذریعہ دلوانا سرکار کو لگا کہ وہ پھنسنے کی بات ہو سکتی ہے۔ اسی لئے یشونت سنہا کا جواب جینت سنہا سے دلوایا گیا۔

 

 

 

 

 

یشونت سنہا کے پرستاروں کا دائرہ بڑھا ہے۔ پارٹی میں ان کے حق میں چھوٹی موٹی لہر پھیل گئی۔ شتروگھن سنہا نے سب سے پہلے منہ کھول کر انہیں ایک اچھے اور بڑے لیڈر کی شکل میں یاد کیا اور ان کی حمایت کی۔ میری جانکاری کے حساب سے مرلی منوہر جوشی اور لال کرشن اڈوانی بھی یشونت سنہا کے الزامات سے متفق ہیں اور کوئی بڑی چیز نہیں ہے کہ پارلیمنٹ کے اگلے سیشن میں جب سارے ممبران دہلی میں ہوں گے تب یشونت سنہا کے ذریعہ اٹھائے گئے سوالوں کے اوپر سنجیدہ بات چیت ہوگی اور بی جے پی کے اندر سے خود کوئی نئی بات نکل کر سامنے آئے گی۔ حالانکہ سرکار کرے گی نہیں، لیکن ہم سرکار سے توقع کرتے ہیں کہ سوال چاہے اخباروں کے ذریعہ اٹھائے گئے ہوں، ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعہ اٹھائے گئے ہوں، سیاسی لوگوں کے ذریعہ اٹھائے گئے ہوں یا ان کی پارٹی کے سب سے ذمہ دار لوگوں کے ذریعہ اٹھائے گئے ہوں، جن میںیشونت سنہا ایک ہیں، ان کے جواب دینے میں حرج کیا ہے؟۔
اگر آپ اپنا نظریہ رکھتے ہیں تو اسے ہی تو صحت مند سیاست کہتے ہیں۔ صحت مند جمہوریت کے لئے صحت مند سیاست لازمی ہے۔ لیکن اگر آپ اسے اندیکھی کریں، اسے کمتر سطح تک لے جائیں ،یہ بتائیں کہ آپ کے لئے کسی بھی سوال کا جواب دینا کوئی ضروری نہیں ہے تو یہ پھر جمہوریت تو نہیں ہوتی۔اسے آپ تانا شاہی جیسی صورت حال سے تجزیہ کر سکتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ملک ابھی تانا شاہی قبول کرنے کے حق میں ہے۔ سوشل میڈیا کو چھوڑ دیجئے، کیونکہ سوشل میڈیا پر کافی بڑی تعداد میں دھوکہ باز بیٹھے ہیں اور چاپلوسوں اوردھوکہ بازوں سے ملک نہیں چلتا ۔ملک چلتا ہے ذمہ داری سے اور یہاںہم پھر وزیراعظم نریندر مودی سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ وزارت خزانہ کا کام اپنے ہاتھ میں لیں۔ ملک کے ایسے سارے اقتصادی ماہرین سے ، جو نہ لیفٹسٹ ہوں،نہ سنگھ سے جڑے ہوئے ہوں لیکن جو ملک سے جڑے ہوئے ہوں ،انہیں بیٹھاکر ملک کی اقتصادی صورت حال کو سدھارنے کے بارے میں غور وفکر کریں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اگر وزیر اعظم اس کام کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہیں تو اس کا حل بھی نکلے گا اور ہم مندی کے دور میںجس تیزی سے پھسل رہے ہیں ،ہمارا وہ پھسلائو کم ہوگا یا رکے گا۔ کیا وزیر اعظم سچ مچ ملک کے تئیں اپنے اس کردار کو نبھائیں گے، جس میں مالی حالت کی گراوٹ کا توڑ نکالنے میںوہ اپنا وقت یا اپنے وقت کی قربانی دے سکیں۔ یہ وقت کی مانگ ہے، اس لئے وزیر اعظم سے یہ گزارش ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *