مرحوم ہاشم انصاری اورآنجہانی بھاسکر داس کا قابل تقلید ظرف

کسی اصولی اختلاف کے باوجود دوستی اور باہمی تعلقات برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس کی بہترین مثال کہیں اور نہیں بلکہ اجودھیا کے پجاری مہنت بھاسکر داس اور ہاشم انصاری میںملتی ہے۔ یہ دونوں اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ 89 سالہ مہنت بھاسکر داس ابھی حال میں16 ستمبر2017 کو چل بسے جبکہ 96 سالہ ہاشم انصاری 20 جولائی 2016 کو داغ مفارقت دے چکے ہیں۔ یہ دونوں اشخاص اس لحاظ سے واقعی مثالی تھے کہ 68 سالہ اجودھیا ایشو پر دونوں کی رائے ایک دوسرے کے قطعی برعکس تھی۔ ایک کا دعویٰ تھاکہ متنازعہ جگہ رام جنم بھومی ہے تو دوسرے کی نظر میںیہ وقف کی جائیداد پربنی مسجد یعنی بابری مسجد تھی۔ حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ ہندوستان کے فی الوقت سب سے بڑے متنازعہ ایشو پر قطعی مختلف رائے رکھنے کے بعد بھی وہ اپنے باہمی تعلقات اور معاملات میںنارمل تھے۔
عیاں رہے کہ ان دونوں کو جس ایشو پر اختلاف تھا، وہ بابری مسجد- رام جنم بھومی کا تنازعہ تھا ۔ تنازعہ ملکیت کو لے کر ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ اس تنازع کی شروعات 68 برس قبل اس وقت ہوئی جب 22-23 دسمبر 1949 کی آدھی رات کو بابری مسجد میںرام للّا کی مورتیوں کے رکھے جانے یا ’پرکٹ‘ہوجانے کے بعد یہ معاملہ مقامی تھانے میںچوکیدار کے ذریعہ ایف آئی آر کی بنیاد پر عدالت گیا۔ ان دنوں فیض آباد ضلع کانگریس کے صدر آنجہانی سوامی اکشے برہمچاری نے اس معاملے کو قانونی چارہ جوئی کی طرف لے جانے میں نہایت ہی اہم رول ادا کیا۔ بعد میں عدالت میں اس ضمن میںدو خاص فریقین بنے۔ قابل ذکر ہے کہ مہنت بھاسکر داس 1959 میںرام جنم بھومی کا دعویٰ کرتے ہوئے چیف لیٹی گینٹ بنے جبکہ ہاشم انصاری 1961 میں6 دیگر افراد کے ساتھ سنی وقف بورڈ کے ذریعہ دائر کیے گئے مقدمہ میں خاص لیٹی گینٹس بن کر سامنے آئے۔
قابل ذکر ہے کہ دسمبر 1949 میںبابری مسجد کے اندر رام للّا کی مورتیوں کے رکھنے جانے کے بعد جو فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ اس دوران جن افراد کواً گرفتار کیا گیا تھا، ان میںیہ بھی شامل تھے۔ پھر بعد میں بابری مسجد میںاذان دینے کے جرم میں انھیں دو برس کی قید کی سزا بھی کاٹنی پڑی۔ خاص لیٹی گینٹس میں ان کو کیوںمنتخب کیا گیا، اس پر اپنی مشہور کتاب’پارٹریٹس فرام اجودھیا‘ میںمحترمہ شاردا دوبے رقم طراز ہیںکہ ’’ان کے بارے میںتاثر یہ بنا کہ یہ ایماندار اور نیک شخص ہیں کیونکہ یہ نہ تو بڑی دولت کے پیچھے بھاگتے ہیں اور نہ ہی اونچا عوامی چہرہ رکھتے ہیں۔ اس کام کے عوض انھیں صرف ہمدردانہ الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے، صرف سموسہ اور چائے سے کام چل جاتا ہے اور یہ اسے فرض عین سمجھ کر ہر سماعت میں عدالت میںپابندی سے حاضر ہوتے ہیں۔‘‘

 

 

 

 

 

اس پورے معاملے میں ان کی سادگی اور ایمانداری نیز یکسوئی نے انھیں اپنے حامیوں ہی نہیںبلکہ مخالفین میں بھی مقبول بنا دیا تھا۔ ان کی رام جنم بھومی نیاس کے سربراہ مہنت پرم ہنس رام چندرداس سے قربت اجودھیا کے کمپوزٹ کلچر کی مثال گردانی جاتی تھی۔ محترمہ شاردا نے اپنی مذکورہ کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ ’’یہ دونوں جائیداد کے تنازعہ پر قانونی مخالفین تھے مگر یہ دونوں دوست بھی تھے اور اکثر ایک ہی تانگے یا گاڑی سے عدالت جاتے تھے۔ جہاں یہ ایک دوسرے کے موقف کے خلاف بولتے تھے۔‘‘ یہ سلسلہ مہنت بھاسکر داس کے ساتھ بھی برقرار رہا۔ آنجہانی مہنت بھاسکر داس بھی مرحوم ہاشم انصاری سے بہت تعلق رکھتے تھے اور محبت بھی کرتے تھے۔ ہاشم انصاری کی ایک برس قبل موت پر ان کے گھر جاکر سب سے پہلے تعزیت کرنے والوں میںیہ بھی شامل تھے۔
ہاشم انصاری میں نظم و ضبط اور اصول و ضابطہ کا اتنا لحاظ تھا کہ جب بابری مسجد انہدام سے پہلے 1991 کے اواخر میں راقم الحروف ان سے ان کے گھر پر مل کر بابری مسجد کا جائزہ لینے جانے لگا تو انھوںنے آواز د ے کر پکارااور کہا کہ ’’سرکشا گارڈسے پوچھ کر اندر جائیے گا۔‘‘
مہنت بھاسکر داس و دیگر اور ہاشم انصاری کی یہ دوستی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب کچھ مشتعل ہندوتو کارکنان نے ہاشم انصاری کے گھر پر حملہ کرنا چاہا تو ان کے ہندو پڑوسیوں نے انھیںتحفظ فراہم کیا۔ یہ دونوںشخصیات بابری مسجد- رام جنم بھومی تنازعہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کے لیے سیاست دانوں کو ذمہ دار مانتی تھیں۔ ان دونوں کا پورا بھروسہ عدلیہ پر تھا۔ تبھی تو یہ دونوں لیٹی گیٹس کے طور پر پورے انہماک سے پوری زندگی لگے رہے۔
مہنت بھاسکر داس کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ 1959 میںنرموہی اکھاڑے کے اس وقت کے مہنت رگھو ناتھ داس نے جب رام جنم بھومی کا دعویٰ کرتے ہوئے مقدمہ کیا تو اس وقت مہنت بھاسکر داس وہیں احاطے میںرام چبوترا کے انچارج تھے۔ لہٰذا وہ بھی اس مقدمہ میںشامل ہوگئے اور پلین ٹیف بن گئے۔ پھر جب 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اس معاملے میںفیصلہ سنایا تو مہنت بھاسکر داس نے ملکیت کے دعویٰ کی عرضی سپریم کورٹ میں دائر کردی۔ یہ مقدمہ ہنوز جاری ہے۔ جس طرح ہاشم انصاری کی موت کے بعد ان کے بیٹے اقبال انصاری گزشتہ برس ان کی جگہ بابری مسجد معاملے میں لیٹی گینٹ بنے، ٹھیک اسی طرح بھاسکر داس کے انتقال کے بعد ان کے شاگرد عزیز مہنت رام داس کے رام جنم بھومی معاملے میں لیٹی گینٹ بننے کی بات چل رہی ہے۔
المختصر مہنت بھاسکر داس اور ہاشم انصاری کی مثالی دوستی سے یہی سبق ملتا ہے کہ کسی بھی ایشو پر اصولی اختلاف رکھنے کے باوجود باہمی تعلقات ہی نہیں بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ یہ دونوںشخصیات یہ سبق دے کر دنیا سے رخصت ہوگئی ہیں۔ اب ان کے ماننے والوں اور عقیدت مندوںکی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس عظیم مثال کی پیروی کریں اور آج جب عدم رواداری اور عدم تحمل بڑھ رہے ہیں، انھیں روکنے میں اہم کردار اداکریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *