الوداع سیمانچل گاندھی تسلیم الدین تاریخ کا ایک باب بند ہوگیا

تسلیم الدین کے گزر جانے کے بعد اب شاید ہی کوئی لیڈر بچا ہے جو لالو پرساد اور نتیش کمار جیسے بہار کے سینئر لیڈروں کو ’تم‘ کہہ کر مخاطب کرتا ہو۔ 74سال کی اپنی زندگی میںانھوںنے کم و بیش 40سال اسمبلی اور پارلیمنٹ میں گزارے۔ تسلیم الدین 1969 میں پہلی بار بہار اسمبلی پہنچے۔ اس سے پہلے بطور سرپنچ انھوں نے اپنے سیاسی سفر کی شروعات کی تھی۔ سماجوادی کارکن کی حیثیت سے اپنی پہچان بنانے والے تسلیم الدین نے کانگریس، جنتا پارٹی، لوک دل اور جنتا دل سے ہوتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) تک کا سفر طے کیا۔ کچھ دنوں تک لالو پرساد سے نارض رہے تسلیم الدین نے ملائم سنگھ کا بھی دامن تھاما۔ لیکن جب لالو پرساد کو تسلیم الدین کی طاقت کا اندازہ ہوا تو انھوں نے پھر سے انھیں آر جے ڈی میں عزت و احترام کے ساتھ واپس لیا۔ ابھی جب انھوںنے آخری سانس لی تب بھی وہ آر جے ڈی کے رکن پالیمنٹ کے طور پر ارریہ کی نمائندگی کر رہے تھے۔
سیاسی سرگرمیاں
وہ آٹھ بار رکن اسمبلی اور پانچ بار رکن پارلیمنٹ بنے۔ اپنی پوری سیاسی زندگی میں تسلیم الدین 1971 اور 2009 کے پارلیمانی انتخابات کو چھوڑ کر ایک بھی الیکشن نہیں ہارے۔ بہار سرکار میں کابینہ وزیر بننے کے علاوہ انھوں نے مرکز میں وزیر مملکت برائے داخلہ اور وزیر مملکت برائے زراعت کی بھی ذمہ داری سنبھالی۔ 1989 میںوی پی سنگھ کے زمانے میں وہ پورنیہ سیٹ سے رکن پارلیمنٹ بنے۔ ایک سال بعد 1990 میں جب لالو پرساد وزیر اعلیٰ بنے تو بہار کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی ان کا رسوخ بڑھا۔ایسے میں 1991 کے پارلیمانی انتخاب میں تسلیم الدین کا ٹکٹ کٹ گیا اور ان کی جگہ سید شہاب الدین کو ٹکٹ ملا۔ شہاب الدین جیتے بھی۔ تسلیم الدین نے اسے لالو پرساد کے چیلنج کے طور پر لیا اور یہی وجہ بھی تھی کہ 1995 کے اسمبلی انتخاب میں پورے سیمانچل سے جنتا دل کا صفایا ہوگیا۔ اس وقت لالو پرساد کو تسلیم الدین کی طاقت کا اندازہ ہوا اور لالو نے عزت و احترام کے تسلیم الدین کو واپس اپنی پارٹی میں جگہ دی۔ اس کے بعد 1996 کے پارلیمانی انتخاب میںلالو پرساد نے انھیں کشن گنج سے ٹکٹ دیا۔ تسلیم الدین نہ صرف جیتے بلکہ ایچ ڈی دیوی گوڑا کی سرکار میں وزیر مملکت برائے داخلہ بھی بنے۔

 

 

 

 

 

سبھوں کی قابل قبول عوامی نمائندگی
1971 میں بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد وہاںسے اصل بہار ی بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کی نقل مکانی سیمانچل میں ہی ہوئی۔ لاکھوںکی تعداد میں ہندوستان آئے بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو ایک خاص مدت کے اندر ہندوستان کی شہریت دینے کی چھوٹ ملی تھی۔ اس وقت لاکھوں لوگوںکو شہریت دلانے میںتسلیم الدین نے اہم کردار نبھایا تھا۔ 1980 کی دہائی سے پہلے تک تسلیم الدین نے ہندوستان میں آبسے لوگوںکی شہریت کے لیے جو جدوجہد کی، اسی کا نتیجہ تھا کہ پورے سیمانچل میںان کی مقبولیت بڑھتی چلی گئی۔ اس دوران ان پر فرقہ پرستی کے الزام بھی لگے لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ زمینی سطح پر کام کرنے میںتسلیم الدین نے ہندو مسلمانوں کے بیچ امتیاز نہیںکیا۔ یہی وجہ ہے کہ پورنیہ،کشن گنج اور ارریہ لوک سبھا کی مختلف اسمبلی سیٹوںسے چنے جانے میں انھیں ہندو ووٹروں کی خوب حمایت ملی۔ 19ستمبر کو جب ان کے جنازے کی نماز ہوئی تو اس میںڈیڑھ لاکھ سے زیادہ لوگوںکی شرکت میں ہندوؤں کی بھاری بھیڑ نے ثابت کیا کہ وہ ہندوؤں میں بھی کافی مقبول تھے۔
سیاسی گلیارے میںایک طبقہ ایسا بھی ہے، جو تسلیم الدین کو دبنگ اور منہ پھٹ لیڈر کہتا رہا ہے۔ ان کے اوپر مار پیٹ، لوٹ اور اغوا جیسی وارداتوںکے الزام بھی لگے لیکن زندگی میں کبھی بھی تسلیم الدین چارشیٹید نہیں ہوئے۔ صحافیوں کے بیچ بھی یہ بحث عام ہے کہ تسلیم الدین باتوں کی شروعات گالیوں سے ہی کرتے تھے لیکن اسے ان کے انداز کے طور پر بھی جانا جاتا رہا۔ تسلیم الدین کم ہی پڑھے لکھے تھے لیکن اہل دانش کا احترام کرنے میںکبھی پیچھے نہیںرہے۔ ان کے جنازے میںشرکت کرکے لوٹے آر جے ڈی کے ایم ایل اے اور سابق وزیر عبد الغفور انھیںیاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تسلیم الدین صاحب کو میں 1981 سے جانتا ہوں۔ ان کی خاصیت یہ تھی کہ وہ لمپٹوں سے بات کرتے وقت سختی سے پیش آتے تھے لیکن دانشور لوگوں کی عزت کیسے کی جاتی ہے،یہ میں نے ان ہی سے سیکھا ہے۔
تسلیم الدین کے بعد کون؟
تسلیم الدین کی شخصیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے جنازے میں دو سے ڈھائی لاکھ لوگ جو کہ ہر کمیونٹی سے تعلق رکھتے تھے، موجود تھے۔ سیمانچل میںایسا نظارہ اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیا۔ ہر ایک سیاسی پارٹی کی اس میںنمائندگی تھی۔ یہاںتک کہ بی جے پی کے سید شاہنواز حسین بھی حاضر تھے۔صدر جمہوریہ ،وزیر اعظم اور سونیا گاندھی سبھی نے ان کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کیا۔
ان کی موت کو لالو پرساد نے نجی نقصان بتایا اور ان کے آخری دیدار کے لیے ان کے آبائی وطن پہنچے۔ وہیں دوسری طرف وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے بلا تاخیر اعلان کیا کہ سرکاری اعزاز کے کے ان کی آخری رسم کرائی جائے۔ دراصل یہ تسلیم الدین کی سیاسی وراثت ہی ہے کہ آج دو قطبوں پر بیٹھے لالو اور نتیش دونوں کے لیے تسلیم الدین اہمیت رکھتے ہیں۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ تسلیم الدین آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ تھے لیکن ان کے بیٹے سرفراز عالم جے ڈی یو کے رکن اسمبلی ہیں۔ یعنی سیاست تو سیاست، پارٹی کی سطح پر بھی دونوں لیڈروں کے لیے تسلیم الدین خاندان اہمیت رکھتا ہے۔
ایسے میں ارریہ لوک سبھا کے آئندہ ضمنی انتخاب میںدونوںلیڈر تسلیم الدین کی سیاسی وراثت کو ہتھیانے ،بچانے اور بنائے رکھنے کی لڑائی لڑیںگے۔ نتیش کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنے ایم ایل اے اور تسلیم الدین کے بیٹے سرفراز احمد کو ارریہ کے ضمنی انتخاب میں جے ڈی یو کی حمایت کرنے کے لیے راضی کریں لیکن اس پر شک ہے کہ سرفراز نتیش کی باتوںمیں آئیں گے۔ ا س کے دو اہم ا سباب ہیں۔ پہلا تو یہ کہ نتیش کمار نے سرفراز عالم کو 2016 کے شروعاتی مہینوںمیںپارٹی سے معطل کردیا تھا۔ وجہ تھی، سرفراز پر چلتی ٹرین میںایک عورت کے ساتھ بد سلوکی کا الزام۔ اپنی پارٹی کے ذریعہ اٹھائے گئے اس قدم سے وہ الگ تھلگ پڑ گئے تھے ۔ حالانکہ سرفراز نے ا س الزام کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ جس ٹرین کا یہ واقعہ بتایا جارہا ہے، اس میں وہ سوار ہی نہیںہوئے تھے۔ ایسے میںیہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سرفراز نے ان باتوںکو ابھی تک یاد رکھا ہے؟

 

 

 

 

 

اس معاملے میں سرفراز کے سامنے دوسرا پہلو بھی کافی اہم ہوگا۔ 2015 میں جب یہ رکن اسمبلی بنے تھے، تو اس وقت لالو اور نتیش کی پارٹی نے مل کر الیکشن لڑا تھا۔ سرفراز جے ڈی یو کے ٹکٹ پر لڑے تھے لیکن انھیں آر جے ڈی کی حمایت حاصل تھی۔ لیکن اب جے ڈی یو ، بی جے پی کے ساتھ آچکی ہے اور سیاسی حالات پوری طرح سے بدل چکے ہیں۔ آر جے ڈی کی کوشش ہوگی کہ وہ سرفراز عالم کو اپنے والد کی روایتی سیٹ سے الیکشن لڑنے کے لیے راضی کریں۔ لالو انھیں یہ سمجھانے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ جے ڈی یو نے انھیںمعطل کرکے بحران کے دنوں میں اکیلا چھوڑ دیا تھا، لہٰذا انھیںآر جے ڈی کی روایتی سیٹ پر ہی الیکشن لڑنا چاہیے۔ سرفراز کو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آر جے ڈی کے ٹکٹ سے الیکشن لڑنے پر انھیں والد کی موت سے پیدا ہوئی ہمدردی کے ووٹ بھی ملیں گے۔ دوسری طرف جے ڈی یو کی بات کریں تو ہوسکتا ے کہ وہ اس معاملے میںبہت ماتھا پچی نہ کرے کیونکہ اس سیٹ پر بی جے پی اپنی دعویداری ٹھوک سکتی ہے۔
اس کے پیچھے کی وجہ یہ ہے کہ ارریہ سیٹ پر 2014 میں بی جے پی کا امیدوار دوسرے مقام پر تھا۔ تسلیم الدین نے بطور آر جے ڈی امیدوار چار لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے بی جے پی کے پردیپ کمار سنگھ کو ہرایا تھا۔ تب جے ڈی یو نے اکیلے الیکشن لڑا تھا اور اس کا امیدوار تیسرے نمبر پر رہا تھا۔ چونکہ جے ڈی یو اب این ڈی اے کا حصہ ہے، اس لیے جے ڈی یو اور بی جے پی میںسے کوئی ایک ہی اس سیٹ پر ہونے والے ضمنی انتخاب میںلڑ سکتا ہے۔
2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد این ڈی اے کے لیے یہ طاقت کے مظاہرے کا موقع ہوگا۔ بی جے پی یہ ثابت کرنے کے لیے جی جان لگا سکتی ہے کہ جے ڈی یو کے ساتھ آجانے کے بعد بہار میںاس کی طاقت بڑھی ہے۔ یہ سیٹ جیت کر بی جے پی اپنی سطح پر یہ بھی پیغام دینے کی کوشش کرے گی کہ 2015 کے اسمبلی انتخاب میںکراری ہار کے بعد اس نے بہار میںاپنی طاقت بڑھائی ہے۔ادھر لالو پرساد 27 جولائی والی ریلی کے بعد سے ہی تال ٹھوکتے رہے ہیں کہ نتیش کمار کے بی جے پی میںمل جانے کے بعد آر جے ڈی طاقتور بن کر ابھرا ہے۔ ظاہر ہے ، وہ بھی یہ سیٹ جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگائیں گے۔ کل ملاکر کہا جاسکتا ہے کہ بہار کی مختلف پارٹیوں کے قدآور لیڈروں کے لیے ارریہ کا ضمنی انتخاب لٹمس ٹیسٹ ہوگا۔
جوکی ہاٹ میں1969 سے ہی رہا ہے تسلیم الدین کے خاندان کا دبدبہ
ارریہ لوک سبھا سیٹ میں چھ اسمبلی حلقے آتے ہیں۔ ان میں جوکی ہاٹ، سکٹی، فاربس گنج، رانی گنج، نرپت گنج اور ارریہ شامل ہیں۔ غور طلب ہے کہ تسلیم الدین ارریہ لوک سبھا کی نمائندگی کررہے تھے، وہیںاس لوک سبھا کے تحت آنے والے جوکی ہاٹ کی قیادت ان کے بیٹے سرفراز کرتے رہے ہیں۔ اس طرح ارریہ میں باپ بیٹے کا دبدبہ رہا ہے۔ 1969سے اب تک جوکی ہاٹ اسمبلی حلقہ میںہوئے کل 13 اسمبلی انتخابات میںسے 9 بار الیکشن جیتے جبکہ سرفراز چار بار یہاںسے ایم ایل اے رہے ہیں۔ اس طرح جوکی ہاٹ روایتی طور پر تسلیم الدین خاندان کی سیٹ رہی ہے۔ سرفراز نے پہلی بار یہاںسے 1996 کے ضمنی انتخاب میںجنتا دل سے تب جیت حاصل کی تھی، جب تسلیم الدین لوک سبھا کے لیے چن لیے گئے تھے۔ ا سکے بعد دوسری بار 2000 میںراشٹریہ جنتادل کے ٹکٹ پر پھر یہاںسے الیکشن جیتے۔لیکن 2005 میں بطور امیدوار وہ جے ڈی یو کے امیدوار منظر عالم سے الیکشن ہار گئے۔ لیکن 2010 میںجے ڈی یو امیدوار کے طور پر انھوں نے پھر سے اپنی اس روایتی سیٹ پر جیت حاصل کی، جسے 2015 میںبھی برقرار رکھا۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *