بودھ گیا کا مجوزہ میڈیکل کالج کہاں گیا بہار کا ڈریم پروجیکٹ؟

سنیل سوربھ
بہار سے جھارکھنڈ کے الگ ہو جانے سے سرکاری آمدنی میں کافی کمی ہو گئی ۔ باقی بچے بہار میں بالو اور شراب ہی آمدنی کے بنیادی ذرائع تھے۔ بعد میں نتیش کمار کی مہا گٹھ بندھن کی سرکار نے شراب پر بھی ریاست میں پوری طرح پابندی لگا دی۔ اب لے دے کر بنیادی طور سے آمدنی کے ذرائع مختلف ٹیکسوں کے علاوہ بالو کانکنی ہی ہے۔ فیکٹریاں بھی نہیں لگ رہی ہیں جس سے لوگوں کو روزی روزگار ملے۔ایسے میں جب کوئی اچھے منصوبے کی تجویز آتی ہے تو وہ قابل استقبال ہے لیکن بہار کے سرکاری ملازموں اور افسروں کی منفی سوچ سے لوگ بہار میں کچھ کر نہیں پاتے ہیں۔
بہار میں وسائل،سیکورٹی اور بجلی کی گارنٹی نہیں ملنے کی وجہ سے ملک کا کوئی صنعتکار یہاں سرمایہکاری نہیں کرنا چاہتاہے۔ ایسی صورت میں کوئی آدمی یا ادارہ سینکڑوں کروڑ کا سرمایہ لگانا چاہتا ہے اور تجویز دیتا ہے تو یہ بہار کے لئے بڑی بات ہے لیکن بہار کے سرکاری ملازموں اور افسروں کی منفی سوچ سے پریشان ہو کر بہار میں سرمایہ کاری کی چاہت رکھنے والے لوگ اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔

 

 

 

 

ایک ایسے ہی بڑے پروجیکٹ کی تجویز بہار کے بودھ گیا میں تھی جو کہ مگدھ یونیورسٹی کے افسروں کی منفی سوچ کی وجہ سے کھٹائی میں پڑگئی ہے۔ ملک کے بڑے ہیرا کاروباری اور مشہور گاندھی وادی اور بودھ گیا میں گزشتہ 35 برسوں سے غریبوں کا مفت آنکھ کا آپریشن کیمپ لگانے والے مہیش بھائی بھنسالی نے بودھ گیا فائونڈیشن کے تحت 155کروڑ کی لاگت سے اسپتال اور میڈیکل کالج کی تجویز مگدھ یونیورسٹی کو دیا تھا۔ تقریباً 25 ایکڑ زمین پر میڈیکل کالج اور اسپتال تعمیر کے لئے دسمبر 2015 میں مگدھ یونیورسٹی انتظامیہ کے تحت دی گئی تھی کہ مگدھ یونیورسٹی اپنے احاطے یا پھر آس پاس میں 25ایکڑ زمین لیز پر بھی فراہم کراتا ہے تو دو مرحلوں میں میڈکل کالج اور اسپتال کے پروجیکٹ کو پورا کر لیاجائے گا۔ اس پروجیکٹ کا ڈی پی آر بنا کر ریاستی سرکار اور اس وقت کے وی سی رام ناتھ کووند کو بھیجا گیا۔ تب وی سی نے اسے بہار کے لئے ڈریم پروجیکٹ کہا تھا۔
بودھ گیا فائونڈیشن کی تجویز کو اس وقت وی سی ڈاکٹر ایم اشتیاق نے بہار سرکار کے اعلیٰ تعلیمی محکمہ کو بھیجتے ہوئے اسی پی پی پی موڑ پرآپریٹ کرنے کی اجازت مانگی تھی لیکن اس وقت وی سی کے دور کار ختم ہونے کے بعد اس اسکیم کو کھٹائی میں ڈال دیا گیا ۔ فائونڈیشن کی طرف سے یونیورسٹی کے موجودہ وی سی پروفیسر قمر احسن کو بھی اس تجویز کا ڈی پی آر کچھ مہینے پہلے سونپا گیا ہے۔ حالانکہ بودھ گیا فائونڈیشن کو یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ میں 10ستمبر 2016 کو رکھا گیا تھا۔ تب سنڈیکیٹ کے ممبروں کی تجویز کے تجزیہ کے لئے وقت مانگا تھا اور اگلی میٹنگ میں اس تجویز کو قائم کرنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ تب تک اس وقت کے وی سی کے ذاتی فیصلے پر راج بھون کے ذریعہ روک لگا دی گئی۔ نو منتخب وی سی کو دی گئی تجویز پر یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر نلین کمار شاستری نے کہا کہ تجویز کے تجزیہ کے بعد ہی کچھ بھی کہنا ممکن ہوگا۔ ویسے معاملہ یونیورسٹی کی زمین کو لیز پر دینے کا ہے، اس میں وی سی اور ریاستی سرکار کی سطح سے ہدایات ملنے کے بعد ہی آخری فیصلہ لیا جائے گا۔
بودھ گیا فائوڈیشن کے ذریعہ مجوزہ میڈیکل کالج میں اناٹامی، فیزیولوجی، بایو کمسٹری، پتھالوجی، مائیکرو بایو لاجی، فارنسک میڈیسن وغیرہ موضوعات کی پڑھائی ہوگی۔ پہلے مرحلے میں پانچ سالہ ایم بی بی ایس کورس کے تحت 150طلباء کی نامزدگی کی تجویز ہے۔ وہیں نرسنگ کالج میں 60طلباء کی نامزدگی ہوگی۔ مقامی طلباء کو اس میں ترجیح دیا جانا بھی شامل ہے۔

 

 

 

 

 

فائونڈیشن کی مذکورہ اہم اسکیم کے عملدرآمد ہونے سے یقینی طور سے بہار و جھارکھنڈ کے لوگوں کو فائدہ ملے گا۔ اسپتال میں کیسر سمیت دیگر مریضوں کے علاج کا انتظام ہوگا۔ ضرورت مندوں کے لئے مفت علاج کی تجویز ہے۔ بہار جھارکھنڈ کے سرحدی علاقے میں ایسے اعلیٰ انتظام کا اسپتال اور میڈکل کالج کی کمی ہے۔
بودھ گیا فائونڈیشن کے ذریعہ تیار تجویز میں 300بیڈ کے اسپتال کے ساتھ ساتھ میڈیکل کالج ،آئی ٹی آئی،،رین واٹر ہاروسٹنگ پلانٹ کے قیام کے علاوہ یونیورسٹی کمپلکس میں ہائی اسکول اور ہیلتھ سینٹر کا قیام بھی شامل ہے۔ مذکورہ پورے نظم و نسق کا اہتمام چیریٹبل ٹرسٹ یا سوسائٹی کے تحت کیا جانا ہے۔ فائونڈیشن نے ٹرسٹ یا سوسائٹی میں بھنسالی ٹرسٹ آرٹی فائونڈیشن اور مگدھ یونیورسٹی کو شامل کیا ہے لیکن اس پروجیکٹ سے پہلے بھی کئی اچھی تجویزیں یونیورسٹی کی خالی پڑی زمین پر تعمیر کے لئے آئی تھی جس میں انٹرنیشنل کنونشن سینٹر اہم تجویز تھی۔ اس اسکیم کو بھی یونیورسٹی کی منفی سوچ کی وجہ سے عملدرآمد نہیں کیا جاسکا۔ ملک کا میجر مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ آئی آئی ایم بودھ گیا کے آنے پر بھی یونیورسٹی کے لوگوں کو اعتراض تھا لیکن بہار سرکار کے سخت رخ کی وجہ سے یونیورسٹی کے ملازمین کچھ نہیں کر سکے اور آئی آئی ایم بودھ گیا آگیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *