بند ہوسکتی ہے سرحد پار کی تجارت بند ہوسکتی ہے سرحد پار کی تجارت 

ستمبر 2008میں، یعنی ٹھیک 9سال قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران اُس وقت کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور پاکستانی صدر آصف زرداری کے درمیان نیو یارک میں ایک خوشگوار ماحول میں ہوئی ملاقات اور بات چیت کے بعد جاری کئے مشترکہ اعلامیہ میں دونوں ملکوں کے سربراہوں نے منقسم کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تجارتی روابط شروع کرنے کا ایک خوشگوار اعلان کیا تھا۔دونوں ملکوں کے اس اعلان نے دونوں خطوں یعنی وادی کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں خوشی کی لہر دوڑ ا دی تھی۔کیونکہ تب لگا تھا کہ اب کچھ ایسا ہونے والا ہے، جس کا کشمیریوں کو پچھلی 7 دہائیوں سے انتظار ہے۔ 1947ء سے پہلے یعنی جب بر صغیر پر انگریزوں کا قبضہ تھا، کشمیر میں سلام آباد ۔ چکوٹھی اور جموں میں پونچھ ۔ راولا کوٹ شاہرائیں ہی وہ راستے تھے ، جن سے اس ریاست کے لوگ اپنا مال متحدہ ہندوستان اور وسط ایشیائی بازاروں تک پہنچاتے تھے، اُس زمانے میں راولپنڈی اس خطے کی سب سے بڑی تجارتی منڈی تھی۔کشمیری تاجر گھوڑوں اور گدھوں پر مال لاد کر راولپنڈپہنچاتے تھے ۔ پھر ہندوستان آزاد ہوا۔ کشمیر کے بیچوں بیچ ’’لائن آف کنٹرول ‘‘ نام کی ایک لکیر کھنچ گئی اور یہ ریاست دو حصوں میں بٹ گئی اور یہ شاہرائیں آمد و رفت کے لئے بند کردی گئیں۔ کنٹرول لائن کے اُس پار پاکستانی فوج اور اِس پار ہندوستانی فوج نے چوکیاں بنائیں۔ راستے بند ہوگئے۔ تجارت رُک گئی اور اس ساتھ ساتھ سینکڑوں خاندان جدا ہوگئے۔ اِدھر کے ہزاروں لوگ اُدھر پھنس گئے اور اُدھر کے ہزاروں لوگ اِدھر پھنس گئے۔یہ کشمیریوں کے لئے اتنا بڑا نفسیاتی صدمہ تھا کہ اس سے وہ آج 70سال بعد بھی باہر نہیں آپاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ22ستمبر 2008کو نیو یارک میں وزیر اعظم منموہن سنگھ اور آصف زرداری کے مشترکہ اعلامیہ نے کشمیر کے دونوں خطوں میں خوشی کی لہر دوڑائی تھی۔صرف ایک مہینے میں وادی کشمیر میں سلام آباد ۔ چکھوٹی اور جموں صوبے میں پونچھ رائولا کوٹ شاہراہ تجارت کے لئے کھول دی گئی ۔ دونوں اطراف سے مال بردار گاڑیوں کے قافلے سات دہائیوں کے بعد پہلی بار 21اکتوبر 2008کو روانہ ہوئے۔ طے یہ پایا گیا کہ آر پار کی یہ تجارت ’’بارٹر نظام ‘‘ کے تحت ہوگی۔

 

 

 

 

 

 

یعنی پیسوں کو کوئی لین دین نہیں ہوگا۔ بلکہ اشیاء کے بدلے اشیاء کا کاروبار ہوگا۔دراصل مسئلہ یہ تھا صرف بھارت یا صرف پاکستان کی کرنسی استعمال نہیں کی جاسکتی تھی اور ڈالر کو اس تجارت کے لئے  ریفرنس پوائنٹ بنانے کا مطلب اسے بین الاقوامی تجارت کا درجہ دینا تھا، جو کہ کشمیر میں قابل قبول نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ کشمیریوں نے کبھی لائن آف کنٹرول کو تسلیم ہی نہیں کیا ہے۔بہر حال 21مختلف اشیاء کی فہرست تجارت کے لئے منظور کی گئی ۔ طے ہوا کہ جموں کشمیر سے قالین ،  وال ہینگنگ، پیپر ماشی سے بنی چیزیں، شال ، اخروٹ کی لکڑی سے بنی اشیائ، ڈرائی فروٹ،کشمیری مصالحہ جات، دالیں، زعفران وغیرہ کنٹرول لائن کے اُس پار بھیجی جائیں گی اور وہاں سے اسکے بدلے چاول، لہسن، پیاز مصالحے، خشک پھل اور پشاوری چپل وغیر یہاں لایا جائے گا۔ ابتدائی چند برسوں میں یہ تجارت خوب پھل پھول گئی ۔ تجارت کے لئے ہفتے میں چار دن مختص رکھے گئے۔ ہر دن لگ بھگ30مال بردار ٹرکیں کنٹرول لائن کے اُس پار چلی جاتی تھیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں وہاں سے بھی مال بردار ٹرکیں یہاں آجاتی تھیں۔ لیکن پھر اچانک جیسے اس سارے عمل کو کسی کی نظر لگ گئی ۔ آر پار تجارت کئی کنٹروسیز کا شکار ہوگئی ۔ آر پار تجارت شروع ہوجانے کے چار سال بعد اگست 2012میں بھارتی حکام نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے آنے والے ایک مال بردار ٹرک میں سے 10کروڑ روپے مالیت کے ہیروین برآمد ہوئے ہیں۔ اسکے 2سال بعد جنوری 2014میں اُس پار سے آئے ایک ٹرک میں سے 100کروڑ روپے مالیت کے منشیات بر آمد ہوئی ۔ ایک سال بعد فروری 2015میں حکام نے کہا کہ ایک اور ٹرک سے 12کلو برائون شوگر برآمد کیا گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد حکام نے کہا کہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے یہاں داخل ہونے والے ایک مال بردار ٹرک میں سے 300کروڑ روپے مالیت کے ہیروین برآمد ہوئے ہیں۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس سال مارچ میں حکام نے ایک اُس پار سے آئے ایک ٹرک سے اسلحہ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔ لیکن اس سب کے باوجود آر پار تجارت جاری رہی۔حکومت نے سمگلنگ وغیر ہ کو روکنے کے لئے اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی  تاکہ کچھ لوگوں کی غلط کاریوں کے نتیجے میں آر پار تجارت کو نقصان نہ پہنچے۔ اس سال 29جوالائی کو پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی ) کے یوم تاسیس پرمنعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر اور ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آر پار تجارت کا بھر پور انداز میں دفاع کرتے ہوئے کہا ، سمگلنگ تو واگہہ بارڈر سے بھی ہوتی ہے۔ لیکن کیا اس کی وجہ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان تجارت اور لوگوں کی آمد و رفت رک جاتی ہے؟انہوں نے کہا کہ کشمیر میں آر پار تجارت کو شفاف رکھنے کے لئے فل باڈی سکینرز نصب کئے جائیں گے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ معاملہ اتنا آسان نہیں رہا۔ قومی تحقیقاتی ایجنسی یعنی  این آئی اے یہ عندیہ دے رہی ہے کہ آر پار تجارت ’’حوالہ فنڈنگ‘‘ سے جڑی ہوئی ہے۔این آئی اے نے اس سال جولائی میں مرکزی سرکار کو ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے جموں کشمیر میں کنٹرول لائن کے آر پار جاری تجارت کو فی الحال بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔اپنی رپورٹ میں این آئی اے نے کہا ہے کہ اب تک جموں کشمیر میں اس آر پار تجارت میں 2770کروڑ روپے کا فراڈ لین دین ہوا ہے۔این آئی اے نے تاجروں کا ریکارڈ ضبط کیا ہے۔

 

 

 

 

 

چالیس تاجروں کو پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا گیا ہے ۔ان میں سے 15تاجروں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں اور باریک بینی سے تلاشیاں لی گئی ہیں۔صاف ظاہر ہے کہ آر پار تجارت کے حوالے سے اب معاملہ بہت سنگین بن چکا ہے۔ اس تجارت سے جڑے تاجروں کا الزام ہے کہ انہیں خواہ مخواہ تنگ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال سے آر پار تجارت کرنے والے سمیع اللہ کہتے ہیں،’’ ہمیں این آئی اے کی تحقیق پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ تاجروں کو پوچھ تاچھ کے لئے دلی اور لکھنو نہ بلایا جائے۔ این آئی اے جب کسی تاجر کو دلی یا لکھنو کے ہیڈ کوارٹرز پر طلب کرتی ہے تو نہ اسے بلکہ اسے افراد خانہ کو شدید پریشانیاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ ‘‘ سمیع اللہ نے ’’چوتھی دُنیا ‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ معاملہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی نوٹس میں بھی لایا ہے۔ انہوں نے کہا،’’ حال ہی میں جب راج ناتھ جی یہاں آئے تھے ، تو ہم ایک وفد کی صور ت میں ان سے ملنے گئے اور یہ مسئلہ ان کی نوٹس میں لایا۔ وزیر داخلہ نے تو اس وقت یقین دہانی کرائی تھی ۔لیکن اس کے باوجود تاجروں کو پوچھ تاچھ کے لئے دلی طلب کرنے کا سلسلہ بند نہیں ہوا۔‘‘ایک اور تاجر نے اُن کا نام مخفی رکھنے کی گزارش کرتے ہوئے کہا،’’ ہم اس بات پر حیران ہیں کہ 9سال بعد اس تجارت پر طرح طرح کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ ہم تاجر ہیں ، دہشت گرد نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے پوچھا،’’ اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ کچھ لوگ اس تجارت کی آڑ میں کوئی غلط کام کررہے ہیں ، تو پھر وہ درجن بھر سیکورٹی ایجنسیاں کیا کررہی ہیں، جن کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تجارت کے معاملات کی دیکھ ریکھ کریں۔ پانچ پانچ ایجنسیوں کی کلیرنس کے بعد ہی کسی شخص کو آر پار تجارت میں شامل ہوجانے کی اجازت دی جاتی ہے۔‘‘ تاجروں میں ایک عام تاثر ہے کہ در اصل جموں کشمیر میں کنٹرول لائن کے آر پار کی اس تجارت کے بارے میں پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان اختلافات کی وجہ سے تاجروں کو بلی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ ایک فاروق احمد وانی نامی ایک تاجر نے ’’چوتھی دُنیا‘‘ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا،’’ سچ بات تو یہ ہے کہ یہ لڑائی پی ڈی پی اور بی جے پی کی ہے۔ بی جے پی نہیں چاہتی کہ کنٹرول لائن کے آر پار جاری تجارت قائم رہے ۔ اسی لئے این آئی کے ذریعے اسے بدنام کیا جارہا ہے۔ اگر سچ مچ اس تجارت کے ذرایعے کوئی حوالہ فنڈنگ ہوتی تو این آئی اے اس کیس میں اب تک مجرموں کی نشاندہی کرچکی ہوتی۔ ثبوت اور شواہد سامنے لائے گئے ہوتے اور گرفتاریاں ہوئی ہوتیں اور سب سے اہم یہ عدالت میں چارج شیٹ داخل کردیا گیا ہوتا۔ این آئی اے پچھلے کئی مہینوں سے تحقیقات کے نام پر بس تاجروں کو ہراساں کررہی ہے۔ یہ کیسی تحقیقات ہے ، جو کبھی ختم ہی نہیں ہورہی ہے۔ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ ہر دس دن بعد تحقیقات کے نام پر چھاپے مارنا اور ریکارڈ ضبط کرنے سے کیا ہوگا۔ کوئی ثبوت اور شواہد ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے اور عدالت کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔‘‘ تاجروں کی یہ تلخ کلامی اپنی جگہ ۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ آر پار تجارت کو پہلے کی طرح شدو مد سے جاری رکھنے کے لئے ضرور ی ہے کہ این آئی اے اور حکومت پہلے تاجروں کو کلین چٹ دے ۔شاید یہ تب ہی ممکن ہو پائے گا جب مخلوط سرکار کی دونوں اکائیاں یعنی پی ڈی پی اور بی جے پی دونوں آر پار تجارت کو قائم رکھنے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *