ایک شام ’خان ارمان خان الہ آبادی کے نام‘ مشاعرہ

khan-arman-khan
ادب گھر کی’’ایک شام خان ارمان خان کے نام ‘‘الہ آباد کے مشہور شاعر اور ادیب ‘خان ارمان خان’ کی یاد میں 9اکتوبرکو’بزم ارمان’ کے زیر اہتمام منعقد ہوئے مشاعرے کی صدارت مشہور شاعر ڈاکٹر ایم اے قدیر نے کیا، جس میں شہر و شہر کے باہر سے آئے شاعروں نے اپنی غزلوں اور نظموں کے ذریعے موجود سامعین کو داد تحسین کے لئے مجبور کیا، مشاعرے کی شروعات میں شاہد سفر نے ‘خان ارمان’ کی زندگی سے جڑے ہوئے تمام فلسفوں کا باریکی سے ذکر کیا، جس کے بعد جھارکھنڈ رانچی سے نکلنے والے “عالمی انوار۔اے۔تخلیق” شمارے کا رسم اجرا ڈاکٹر ایم اے قدیر صاحب کے ہاتھوں عمل میں آیا ، محمد سلیم علیگ ڈاریکٹر ادب سلسلہ پبلیکیشنز دہلی نے اس کے امتیازات وخصوصیات سے روبرو کرایا، اس کے بعد طنز و مزاح کے مشہور افسانہ نگار فضل حسنین نے ‘خان ارمان خان’ کی کہی گئی اردو شاعری کی باریکیوں سے روبرو کرایا، مشہور شاعر ڈاکٹر اسلم الہ آبادی نے “پھر یاد تمہاری یاد آئی، یادوں کے سہارے یاد آئی کے ذریعے انہیں یاد کیا، دہلی سے آئے نوجوان شاعر ابوذر نوید نیاپنا کلام کچھ یو ن پڑھا کہ ۔۔۔ “لگا کے کان کبھی دھڑکنے سنو تو صحیح، دھڑک رہا ہے میرا دل تمہارے سینے میں،” کے ذریعے موجود لوگوں واہ واہ کرنے پر مجبور کیا، جلال پھولپوری کے اس مصرے …”” تمام نیکیاں تمکو ملی زمانہ کی، برائی جتنی تھی وہ سب ہمارے سر آئیی”. تمام لوگوں کی طرف سے اس کی تعریف کی گئی، اسکے علاوہ رستم الہ آبادی، شیکیل غزپوری، گلریز الہ آبادی،
ا، روستم الہ آبادی، شیکیل غسلپوری، گلراز اللہ آبادی، ڈاکٹر مہش مینمیت، لوکیش شکلا، پرکاش سنگھ اشک، بختیار یوسف، سلیم انصاری، فرحان بنارسی، کاظم عابدی محترمہ شبلی ثنا، محرمہ صادمہ زیدی، سہیل اختر نے بھی اپنے کلام پیش کرتے ہوئے “خان ارمان خانان” کو یاد کیا۔نظامت اشرف خیا ل نے کی. ادب کے گھر کے بانی فرمود الہ آباد ی نے تمام مہمانوں، ادیبوں اور شاعروں کا استقبال کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *