مشاورت کشمیر کے لیے نئے مذاکرات کار کی نامزدگی پر حیران

navaid-hamid
ایک ایسے وقت جبکہ مرکزکے ذریعہ کشمیرایشوپرنئے مذاکرات کاچہارسوخیرمقدم کیاجارہاہے،کشمیرکے ایشوپرگہری نظررکھنے والے سابق راء چیف اے ایس دولات اوردہلی کی جامع مسجدکے شاہی امام سیداحمدبخاری نے اس فیصلے کوسراہاہے اورجموں وکشمیرمیں حریت کے رہنماؤں سیدعلی شاہ گیلانی ،میرواعظ عمرفاروق اوریٰسین ملک کسی ردعمل سے بچ رہے ہیں، ماہرامورکشمیراورآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامدنے ریاست جموں و کشمیر میں امن کی بحالی کے لیے حکومت کی نئی پہل پرحیرانگی کا اظہار کیاہے۔انہوں نے نئے مذاکرات کار کے انتخاب پر بھی حیرانگی کا اظہار کیا اور اس بات کے خدشہ کا اظہار کیا ہے کہ نئے مذاکرات کار دنیشور شرما ، سابق آئی بی سربراہ کی سابقہ ادوارمیں سیکوریٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں سے وابستگی اس مذاکراتی عمل کو اثر انداز کیے بغیر نہیں رہے گی۔
صدر مشاورت نے اس بات پر زور دیا کہ اگر سرکار سنجیدگی کے ساتھ کشمیر کے تمام طبقات کے ساتھ گفتگو کرنا چاہتی ہے تو مذاکرات کی تعداد تین افراد تک بڑھائی جانی چاہئے اور باقی دو افراد بھارتیہ سول سو سائٹی یا سابق سیاست دانوں میں سے ہونی چاہئے۔مذاکرات کی کامیابی اس بات پر بھی منحصر ہے کہ علیحدگی پسند قائدین کی فوری رہائی ہو اور مختلف موقع پر پکڑے گئے ان تمام نوجوانوں کی رہائی بھی ہوجن کی مختلف مظاہروں کے درمیان گرفتاری عمل میں آئی ہے اور ایسے تمام طلباء4 و نوجوانوں کے خلاف مقدمات فوری طور سے واپس لئے جائیں جن کے خلاف پتھر بازی کے مبینہ مقدمات قائم ہیں تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔
صدر مشاورت نے اس بات کا بھی مطالبہ کیا کہ ملک کی سول سوسائٹی کے تمام ان ذمہ داران جو کشمیر میں امن و امان کی کو ششوں میں مختلف مواقع پر کوشاں رہے ہیں ان سے بھی نئے مذاکرات کا ر کو رابطہ قائم کرنا چاہئے۔صدر مشاورت کا ماننا ہے کہ اچھا ہوتا اگر سنجیدگی کے ساتھ سابقہ دور میں رہے مذاکرات کاروں کی رپورٹوں کو سامنے رکھ کر سرکار کوئی ٹھوس پالیسی بناتی کیونکہ پچھلے چند برسوں میں ریاست میں امن و امان کی صورتحال ابتر ہوئی ہے اور ریاستی عوام کی ناراضگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
عیاں رہے کہ کئی برسوں قبل نویدحامدنے پارلیمنٹ انیکسسی میں کشمیرایشوپرایک کانفرنس کی تھی۔یہ کئی بارکشمیرجاچکے ہیں ا وروہاں کے مختلف لیڈروں کے ربط میں رہتے ہیں۔نیزکشمیرپرپروگرام کراتے رہتے ہیں۔انہوں نے اس ایشولیبیاکے سابق حکمراں معمرقذافی مرحوم کی خواہش پرایک لائحہ عمل بھی تیار کیاتھا جس میں کچھ قابل عمل پہلوؤں کا لحاظ رکھاگیاتھا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *