کردستان ریفرنڈم کے بعد ْ کیا عراق بٹ جائے گا؟

عراق کا تیل کی دولت سے مالا مال خطہ کردستان اب تقسیم کے دہانے پر ہے۔وہاں کے عوام ایک آزاد ریاست کردستان کے قیام کا مطالبہ کررہے ہیں اور اسی مقصد سے انہوں نے ابھی حال میں ایک ریفرنڈم کیا۔ اس ریفرنڈم کی عراق، ترکی، شام اور ایران مخالفت کررہے ہیں جبکہ اسرائیل اس کے حق میں ہے۔ایران ،شام اور ترکی کی طرف سے مخالفت کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں ملکوں میں کرد بڑی تعداد میں آباد ہیں اور عراقی کردیوں کے خود مختار ہوجانے کی صورت میں ان ملکوں کے کرد بھی انقلاب لاکر آزاد ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔جہاں تک اسرائیل کی بات ہے تو تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اسرائیل اور کرد یہ دونوں مل کر ایران کے اثر و رسوخ کے خلاف خطہ میںموثر کارروائی کر سکیں گے۔عراق کا اس کی مخالفت کرنا تو فطری بات ہے کیونکہ کوئی بھی ملک نہیں چاہتا کہ اس کا کوئی حصہ اس سے الگ ہوکر خود مختار بن جائے۔یہی وجہ ہے کہ عراقی وزیرِ نے اس ریفرینڈم کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔
کرد مشرقِ وسطی میں چوتھا بڑا نسلی گروہ ہے لیکن ان کی کبھی کوئی الگ ریاست نہیں رہی۔اب وہ ریفرنڈم کراکر اپنی الگ ریاست قائم کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ریفرنڈم کے بیلٹ میں پوچھا گیا تھا کہ ’کیا آپ چاہتے ہیں کہ کردستانی علاقے آزاد ہو جائیں ؟۔
بہر کیف ریفرنڈم ہوچکا ہے اوراس ریفرنڈم میں 33 لاکھ کرد اور غیر کردوں نے ووٹ ڈالا اور نتائج کے مطابق 92 فیصد نے آزادی کے حق میں فیصلہ دیا۔ ریفرنڈم میں ووٹ ڈالنے کی شرح 72.61 رہی جس میں 28 لاکھ 61 ہزار نے ’ہاں ‘جبکہ 2 لاکھ 24 ہزار نے ’نہ ‘ کے حق میں ووٹ ڈالا۔ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی اس اپیل کے برعکس جاری کیے گئے جس میں انھوں نے نتائج کو منسوخ کرنے پر زور دیا تھا۔انہوں نے کرد تنظیم کے آر جی کو دھمکی دی تھی کہ وہ تین دن کے اندر اندر ہوائی اڈوں کا کنٹرول ان کے حوالے کر دیں ورنہ ہوائی ناکہ بندی کے لیے تیار ہو جائیں۔
کرد رہنماؤں کا کہنا ہے کہ’ہاں کا ووٹ‘ سے انہیں عراقی حکومت اور دوسرے ہمسایہ ممالک سے علیحدگی پر بات چیت شروع کرنے کا مینڈیٹ ملا ہے۔ ٹیلی ویڑن پر خطاب میں کرد رہنما مسعود بارزانی نے وزیرِ اعظم عبادی پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کا دروازہ بند نہ کریں کیوں کہ مذاکرات ہی سے مسائل حل ہوں گے۔
اس ریفرنڈم کے بعد حالات انتہائی اشتعال انگیز بنے ہوئے ہیں۔عراق کی حکومت نے کرد خطے میںبین الاقوامی پروازوںکو معطل کرنے کے لئے کہا ہے۔ عراقی حکومت کے اس مطالبہ کے بعد لبنان مڈل ایسٹ ایئر لائزن نے اربیل کے لئے اپنی پروازوںکو بند کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ دوسری طرف کے آر جی کی وزارت ٹرانسپورٹ نے عرقی حکومت کے انتباہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کے ایئر پورٹ ہنوز کرد حکام کے پاس رہیں گے۔

 

 

 

 

 

ریفرنڈم کا فوری اثر نہیں پڑے گا
ایسا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس کی بنیاد پر عراق کا کوئی حصہ ملک سے علیحدہ ہوجائے۔ ریفرنڈم سے ’کیگزٹ‘ جیسا اثر نہیں پڑے گا جیسے برطانیہ میں حال ہی میں ہونے والا ریفرنڈم تھا جس کے نتیجے میں ’بریگزٹ‘ کا عمل شروع ہوا۔اب سوال یہ ہے کہ اگر فوری اثر نہیں پڑے گا تو اس وقت ریفرنڈم کیوں کرایا گیا۔دراصل ریفرینڈم کی ایک اور وجہ کردوں کے لیے تازہ مینڈیٹ حاصل کرنا ہے تاکہ آخر میں مذاکراتی عمل کے ذریعے عراق سے نکلنے اور اقوام متحدہ کی تسلیم کردہ ریاست کے حصول کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکے۔ ایسا اگلے پانچ سے 10 سالوں کے دوران ہو سکتا ہے۔کے آر آئی اس وقت سے خود مختار تھا جب 1991 میں جنگ خلیج کے دوران صدام حسین کی فورسز کو شمالی عراق کے چند علاقوں سے واپس بلایا گیا، کردوں نے اپنی پارلیمنٹ بنائی، وزارتیں اور مسلح افواج تشکیل دی۔ یہاں تک کہ انھوں نے سکہ بھی صدام حسین کے عراق سے مختلف استعمال کیا اور صدام کی تیل سے حاصل ہونے والے آمدنی سے 17فیصد اقوام متحدہ کے تحت کرائے جانے والے معاہدے کی رو سے حاصل کیا۔
2003 میں عراق پر امریکی حملے کی وجہ سے کرد عراق میں عارضی طور پر دوبارہ شامل ہوئے۔ ان وعدوں کے جواب میں کہ کے آر آئی (کردش ریجن آف عراق )نیم خود مختار علاقے کے طور پر کام کرئے گا، انھیں تیل سے حاصل ہونے والی وفاقی آمدنی سے فنڈز ملتے رہے اور بغداد کی وفاقی حکومت سے علیحدگی سمیت مذاکرات کے ذریعے سرحدوں کی حتمی تبدیلی کا عمل بھی شروع ہوا۔گزشتہ 14 سالوں میں کردوں نے ان علاقوں کو وسعت دی ہے جو ان کے زیر انتظام ہیں تاکہ کئی ایسے علاقوں کا احاطہ کیا جا سکے جہاں تیل کے ذخائر بڑی تعداد میں موجود ہیں اور جہاں غیر کردوں کی اکثریت رہائش پذیر ہے جیسے کہ صوبہ کرکوک وغیرہ۔
چونکہ کرد کی بڑی تعداد ایران،شام اور ترکی میں بھی آباد ہے ۔اس کا فطری اثر ہے کہ یہ دونوں اس ریفرنڈم کے سخت مخالف ہیں۔ اردگان نے بین الاقوامی مخالفت کے باوجود ریفرینڈم منعقد کروانے پر کردوں کی تنظیم کے آر جی کے سربراہ مسعود بارزانی پرغداری پر الزام عائد کیا اور کہا کہ ریفرینڈم کے بعد ان کی تعزیری کارروائیوں کے نتیجے میں عراقی کرد بھوکے رہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔علی اکبر ولایتی جوکہ ایران کی تشخیص مصلحت نظام کونسل کے اسٹریٹیجک ریسرچ سینٹر کے چیئرمین بھی ہیںکا کہنا ہے کہ ایران عراق کی باوقار قوم اور حکومت کردستان میں ریفرنڈم کے انعقاد کی مخالف ہیں اور وہ متحد عراق کی حمایتی ہے۔ان کی دھمکیوںکے جواب میں کردی رہنما مسعود بارزانی نے بس اتنا کہا ہے کہ ہمارے پاس استحکام یا سیکورٹی کبھی تھی کہاں کہ ہمیں اس کے نہ رہنے کی تشویش ہو۔ جو لوگ اس طرح کی باتیں کہہ رہے ہیں وہ ہمیں روکنے کے لیے بہانہ بنا رہے ہیں۔بہر حال اب دیکھتے ہیں اس ریفرنڈم کے بعد کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *