5سال بعد فلم ’بھومی‘ سے واپسی نئے سنجے دت کا سب کو انتظار

ایک ایسے وقت میں جب 1993کے ممبئی بلاسٹ معاملے میں ابھی حال میں دوسرے ٹرائل کی سزائیں سنائی گئی ہیں، بالی ووڈ کے معروف اداکارسنجے دت کی اسی معاملے میں جیل سے قید کی سزا پوری کرنے کے بعد نئی فلم ”بھومی“ کے ذریعے بالی ووڈمیں واپسی ہورہی ہے۔سنجے دت کو گزشتہ سال جیل سے رہائی ملی تھی جس کے بعد وہ فلم نگری میں واپسی کےلئے کافی تگ ودو کررہے تھے۔اومنگ کمار کی ہدایت کاری میں بننے والی ”بھومی“کی کہانی بیٹی اور باپ کے پر خلوص رشتے کے گرد گھومتی ہے جس میں سنجے دت اداکارہ ادتیہ رائے حیدری کے ساتھ مرکزی کردار میں نظر آئیں  گے جبکہ دیگر کاسٹ میں سدھانت گپتا اور سنی لیون شامل ہیں۔ یہ فلم 22ستمبر کو سنیما گھروں میں ریلیز کی گئی۔
سنجے دت پانچ سال کے بعد فلموں میں واپسی کر رہے ہیں غیر قانونی طور اسلحہ رکھنے کے جرم میں قید کی سزا کاٹنے کے بعد فلم ’بھومی‘ سے اداکار سنجے دت کی بالی ووڈ میں واپسی ہو رہی ہے۔عدالت نے اس جرم میں سنجے کو 6سال قید کی سزا دی تھی لیکن یہ عرصہ مکمل ہونے سے پہلے ہی انھیں رہا کر دیا گيا تھا۔ جیل سے واپس آنے کے بعد انہوں نے دوبارہ فلموں میں کام شروع کیا اور اب پانچ سال کے بعد ان کی فلم منظر عالم پر آنے کی تیاری میں ہے۔
ڈائیریکٹر امنگ کمار کی اس فلم کی پرموشن کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سنجے دت نے خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا ‘ریپ جیسے جرم کے لیے جلد سے جلد انصاف ہونا بہت ضروری ہے۔ ایسے کیسز کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر کارروائی ہونی چاہیے۔دلی میں جنسی زیادتی کے واقعے ‘نربھیا واقعے کو یاد کرتے ہوئے سنجے دت کہتے ہیں ‘اس سے بڑا اور برا کیس میں نے نہیں سنا تھا۔ میں 10 دن تک سویا نہیں تھا۔ میرے حساب سے نربھیا کو انصاف بھی نہیں ملا، چونکہ مجرم ایک نابالغ تھا تو پھر اس میں پوری طرح سے انصاف کہاں سے ہوا؟
جیل سے رہائی کے بعد ان کی پہلی فلم ’بھومی‘ ہے جس میں خواتین کے مسائل کو اجاگر کیا گيا ہے۔سنجے دت کا کہنا تھا کہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ انڈین سماج میں ایک طرف تو درگا، کالی اور لکشمی جیسی دیویوں کی پوجا کی جاتی ہے اور دوسری طرف خواتین کے ساتھ زیادتیوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔سنجے دت ملک کی تمام بیٹیوں کو اس بات کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کی فرما برداری کریں اور وقت پر گھر واپس جایا کریں۔ انہوں نے کہا کہ گھر کے یہ اصول بیٹے اور بیٹی دونوں پر ہی نافذ ہونے چاہیں۔وہ کہتے ہیںکہ ‘بچے ہمیشہ بچے ہی رہتے ہیں، بھلے ہی وہ 60 سال کا کیوں نہ ہو جائیں۔ بچوں کو دوست بنانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ چل ساتھ میں دارو اور سگریٹ پیتے ہیں۔ یہ سب ہماری تہذیب سے کا حصہ نہیں ہے۔ ہمارے یہاں فلمیں بھی اسی انداز کی بنتی ہیں۔ مدر انڈیا، باہو بلی، بھومی اور دنگل جیسی فلمیں ہندوستانی تہذیب و ثقافت پر مبنی ہیں اور اس وجہ سے وہ ہٹ ہیں۔
سنجے دت نے کہا کہ وہ خواتین کو بااختیار بنانے میں یقین رکھتے ہیں اور ملک کی تمام بیٹیوں کو اس بات کا مشورہ دیتے ہیں کہ وہ والدین کی فرمانبرداری کریں اور وقت پر گھر واپس آئیں ، فرمانبرداری پر بات نکلی تو انہوں نے اپنے ماضی کا ایک قصہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والد سے محبت کرتے ہیں لیکن ہمیشہ انہوں نے اپنے والد کو دکھ پہنچایا جب میں نے پہلی بار چھپ کر باتھ روم میں سگریٹ پی تھی تو اچانک میرے والد سنیل دت آگئے تھے اور سگریٹ پینے پر انہوں نے میری جوتے سے پٹائی کی تھی۔
واضح رہے کہ ڈائریکٹر اومنگ کمار کی فلم ’’بھومی‘‘ میں سنجے دت بالکل مختلف اور جذباتی والد کے روپ میں نظر آئیں گے جب کہ اداکارہ آدیتی راؤحیدری نے فلم میں ان کی بیٹی کا کردار نبھایا ہے۔ سنجے دت نے کہا کہ انہوں نے اپنے والد کو بہت تکلیف دی ہے اس لیے وہ نہیں چاہتے کہ ان کا بیٹا ان پر جائے۔ سنجے دت کا شمار فلم نگری کے صف اول کے اداکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے کئی سپر ہٹ فلمیں دی ہیں ، ان کا کیرئیر متعدد بار زوال پذیر ہوا ہے اور یہی نہیں ان کی ذاتی زندگی میں بھی نشیب و فراز آئے ہیں۔سنجے دت 42 ماہ قید کی سزا کاٹ کر گزشتہ سال فروری کے آخر میں جیل سے باہر آئے تاہم اب بھی وہ اس تجربے کو فراموش نہیں کرسکے ہیں۔

 

 

 

 

 

سنجے ایک صاف و شفاف آدمی
ہندوستان ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان کی بالی ووڈ میں کم بیک فلم ’بھومی‘ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے اداکار شرد کیلکار کے مطابق سنجے دت اپنی زندگی کے مشکل زمانے کے بارے میں بات کرتے ہوئے گھبراتے نہیں۔ انہوں نے بتایا ‘ سنجے دت کچھ بھی نہیں چھپاتے، انہیں متعدد مشکلات کا سامنا ہوا مگر وہ ماضی کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں اور آگے بڑھنا چاہتے ہیں جس کے دوران وہ ماضی کو یاد نہیں رکھنا چاہتے۔ جب شرد نے سنجے دت سے جیل کے اندر گزارے دنوں کے حوالے سے پوچھا تو سنجو بابا جواب میں بتاتے ‘ یار اب اتنا دیکھ لیا ہے کہ فرق نہیں پڑتا۔ ایک دفعہ سنجے دت سے پوچھا گیا کہ جیل کے اندر انہیں چکن ملتا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا ‘ ہاں سال میں دو بار، بس اتنا ہی ملتا تھا اور مجھے 35 روپے روزانہ مزدوری کے ملتے تھے، جس میں سے بچت کرکے میں زیادہ چکن لے سکتا تھا۔
گزشتہ سال ایک ایونٹ کے دوران سنجے دت نے کہا تھا ‘ ایک بار جب آپ امید چھوڑ دیتے ہیں تو زندگی آسان ہوجاتی ہے اور آپ بچ نکلتے ہیں۔ جیل میں کچھ نہیں ہوتا ماسوائے امید کے، مگر جب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے کوئی امید نہیں چاہئے، تو سلاخوں کے پیچھے کا سفر آسان اور بہت تیزی سے کٹ گیا۔ سنجے دت مزید بتاتے ہیں ‘ میں نے جیل میں رامائن، بھگوت گیتا، بائبل، قرآن شریف اور گورو گرنتھ صاحب پڑھی، اب میں بیٹھ کر کسی بھی مولانا یا پنڈٹ سے بات کرسکتا ہوں اور دلائل دے سکتا ہوں۔ میرے گھر میں چھوٹا سا مندر ہے، مگر خدا تو آپ کے دل میں ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیل جاتے وقت ان کا وزن 110 کلو تھا تو انہوں نے وہاں اضافی وزن کو کم کرنے کا فیصلہ کیا ‘ میں نے احاطے میں ٹریننگ شروع کی، پانی کی بھاری بوتلیں اٹھائیں۔ اپنے ناخنوں کو دیوار پر مارنے کی عادت بنائی جس سے میری ہتھیلیاں زخمی اور سوج گئیں مگر میں روزانہ یہ کرتا رہا، کیونکہ میں درد سے گزرنا چاہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ آزادی ایک نعمت ہے جس کا کسی کو احساس نہیں ہوتا لیکن جب یہ چھینی جاتی ہےتو پھر احساس ہوتا ہے۔سنجے دت نے ممبئی بم دھماکوں سے متعلق کہا کہ وہ اس صورتحال پر کسی کو الزام نہیں دے سکتے، یہ بہت خطرناک بات ہے کہ کسی کو کہیں کہ وہ دہشت گرد حملے میں ملوث ہے انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جیلیں مجرم بنانے کی یونیورسٹیاں بن گئی ہیں۔ فلمی دنیا میں واپسی سے متعلق انہوں نے کہا کہ جیل سے واپسی کے بعد پہلی بار سیٹ پر کیمرے کے سامنے گیا تو خود پر قابو نہیں رکھ سکا تھا جس پر ڈائریکٹر سے اکیلے رہنے کے لیے 10 منٹ کا وقت مانگا تھا اور والدین کے بارے میں سوچتا رہا۔ اداکار نے کہا کہ انہوں نے والد کو بہت تکلیف دی ہے اس لیے نہیں چاہتے کہ ان کا بیٹا بھی ان پر جائے۔ جیل میں بچوں کے خیال سے متعلق سوال پر سنجے دت کا کہنا تھا کہ جب جیل گیا تو بچے چھوٹے تھے اور ان کو اتنا علم نہیں تھا یہی وجہ تھی کہ اہلیہ کو چاہتے ہوئے بھی بچوں کو ملاقات کے لیے لانے سے منع کردیا تھا کیوں کہ نہیں چاہتا تھا کہ میرے بچے مجھے قیدی والے لباس میں دیکھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بچے بڑے ہوئے تو اپنی ماں سے پوچھنا شروع کردیا تھا کہ پاپا کہاں ہیں جس پر ان سے جھوٹ بولنا پڑتا تھا کہ شوٹنگ میں مصروف ہیں جب کہ جیل میں فون کی سہولت ملنے پر جب گھر فون کرتا تو بچوں سے بہانے کرتا تھا کہ شوٹنگ کرتے ہوئے پہاڑوں سے اتر کر آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی زندگی پر بننے والی فلم میں اچھائی ہی نہیں برائیاں بھی سامنے آئیں گی اور انہوں نے راج کمار ہیرانی سے بھی سب دکھانے کا کہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *