فرض شناس پولیس افسروں میں بے اطمینانی رشوت پر پرموشن ؟

ہائی کورٹ سے لگی روک کے باوجود ریاستی سرکار نے چور دروازے سے فر مان نکالا اور اپنے چہیتے پولیس ملازمین کو آؤٹ آف ٹرن ترقی دے دی۔یہ تعداد ایک دو نہیں پوری990 ہے۔ حکومت کے اس فرمان کو سرکاری نوٹیفکیشن کے بطور گزٹ میںشائع نہیں کیا گیا۔ اسے گپ چپ طریقے سے لاگو کردیا گیا۔ مطلب سادھنے کے بعد سرکار نے اس غیر آئینی فرمان کو دبا دیا۔ ایساکرکے یوپی سرکار نے پورے پولیس انتظامیہ کو تو جھانسہ دیا ہی، عدالت سے بھی سنگین فریب کیا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر یوپی پولیس میں آؤٹ آف ٹرن پرموشن پر روک لاگو ہے۔ اس وقت کی سماجوادی سرکار کے گھپلے گھوٹالوں کی طویل فہرست میں شمار یہ ایک ایسی مجرمانہ حرکت ہے، جس کے سازشی پہلو کو پہلی بار ’’چوتھی دنیا‘‘ اجاگر کررہا ہے۔ اس پر سرکار اور عدالت کے ذریعہ نوٹس لیا جانا ضروری ہے، اگر اسے وہ اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھیں ۔ بڑی تعداد میںپولیس ملازمین اور فسروںسے ہوئی بات چیت کے بعد یہ صاف ہوا کہ سرکاری رویہ سے ریاست کی پولیس تنظیم میںشدید بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔ پولیس طبقہ، سیاسی، ذات برادری اور سرمایہ کے طور پر کئی خیموں یں بٹ چکا ہے۔ اس کا اثر قانونی نظام پر دکھائی دے رہا ہے اور آنے والے دنوں کی خراب حالت کا اشارہ دے رہا ہے۔
بی ایس پی کی بدعنوانی کو بیچ کر ایس پی اقتدار میںآئی تھی،لیکن اقتدار ملتے ہی بی ایس پی کی ساری غلط باتیں بھول گئی۔ وہ بی ایس پی کے احسان کا بدلہ تھا کیونکہ مایاوتی نے ملائم کے دور کی بدعنوانی کو طاق پر رکھ دیا تھا۔ اسی طرح ایس پی کی بدعنوانی کو بھنا کر بی جے پی اقتدار میںآئی لیکن سرکار میںآتے ہی وہ سپائی بدعنوانی سے بھائی چارہ دکھانے لگی۔ بی جے پی کس احسان کا ایس پی کو فائدہ دے رہی ہے؟ دراصل بدعنوانی کے مسئلے پر ساری سیاسی پارٹیوں میںباہمی سمجھدری ہے۔ اسی لیے جسے اقتدار ملتا ہے،وہ بے خوفی کے ساتھ کھاتا ہے۔ ایک دوسرے کی مخالفت کرکے عام شہریوں کو بے وقوف بنانا اور اقتدار حاصل کر کے ایک دوسرے کا پاپ بھول جانا سیاسی چلن بن گیا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعلیٰ بنے آدھا سال سے اوپر ہوگیا لیکن ا س درمیان ایس پی سرکار کے گھوٹالوں میںسے کوئی بھی ایک معاملہ ٹھوس قانونی شکل نہیں لے پایا۔ صرف ایک دو جانچوں کا اعلان ہوا۔ سماجوادی پارٹی کے اکھلیش دور حکومت میں گومتی ریور فرنٹ گھوٹالہ ایکسپریس ہائی وے گھوٹالہ ،سائبر سٹی گھوٹالہ، پولیس بھرتی گھوٹالہ، یش بھارتی ایوارڈ گھوٹالہ، کمیشنوں کے صدور او رکمشنروں کے انتخاب کا گھوٹالہ، ذات پات گھوٹالہ، پی سی ایس انتخاب گھوٹالہ، جنیشور مشر پارک تعمیر گھوٹالہ، کانکنی گھوٹالہ، ایمبولینس گھوٹالہ ، یادو سنگھ سنرکشن گھوٹالہ، کسانوں کے گنا بقایا کے بھگتان کا گھوٹالہ، توانائی گھوٹالہ جیسے تمام گھوٹالے ہوئے ، جن پر سخت کارروائی کا نعرہ اور یقین دہانی کراتے ہوئے بی جے پی اقتدار تک آئی، لیکن اقتدار ملتے ہی اسے ایس پی کے گھوٹالے یاد نہیں رہے۔ پھر پانچ سال اسی طرح گزر جائیں گے۔
اکھلیش کے زمانے میں نایاب گھوٹالہ
اکھلیش یادو کی مدت کار میں ایک نایاب گھپلہ ہوا تھا، جس کی طرف ’چوتھی دنیا‘ آپ کا دھیان دلا رہا ہے۔ اکھلیش سرکار میں پولیس پرموشن کا گھوٹالہ بڑے ہی شاطرانہ انداز میں انجام دیا گیا تھا۔ ایس پی سرکار کی اس حرکت سے پوری یوپی پولیس سیاست اور ذات پات کے خیموں میں بٹ گئی ہے۔ جو فرض کی ادائیگی کرنے والے پولیس والے ہیں، وہ اقلیت میں ہیں اور خود کو یتیم سمجھ رہے ہیں۔ پانچ سال کی مدت کار میں سماجوادی پارٹی نے یوپی پولیس میںذات پات پر مبنی بھرتیاں کرکے ، خیمے بازیاں کرکے، سیاسی تعصب اوررشوت ستانی سے ترقی اور تعیناتیاں دے کرپولیس تنظیم کو اتنا کمزور کردیا ہے کہ اس کا اثر لاء اینڈ آرڈر پر صاف صاف دکھائی دے رہا ہے۔جانبدار سرکار کی وجہ سے پولیس کا اخلاق- حوصلہ اتنا گرچکا ہے کہ جرائم کے واقعات میںبھی پولیس کو ایس پی اور غیر ایس پی، سرمایہ – خوشحالی اور سرمایہ- بدحالی کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ اسی فرق پر پولیس کارروائی چلتی ہے۔
باڈی گارڈ کا خاص گروپ بناکر اس میںشامل پولیس ملازمین کو اناپ شناب طریقے سے آؤٹ آف ٹرن ترقی دینے میں سماجوادی پارٹی کی سرکاروں کو مہارت حاصل ہے۔ پولیس ملازمین کو ترقی دینے کے ایس پی سرکار کے بیجا طور طریقوں کو دیکھتے ہوئے ہی الہ آباد ہائی کورٹ نے اس پر روک لگادی تھی۔ ہائی کورٹ کے حکم پر ریاستی سرکار کو اس پابندی کے بارے میںباقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑا تھا لیکن قانون کو ٹھینگے پر رکھنے والی سماجوادی سرکار کے چیف اکھلیش یادو ، ملائم سنگھ کے زمانے کے 32 باڈی گار ڈوں اور اپنے زمانے کے 42 باڈی گارڈوں کو مریادہ لانگھ کر ترقی دینے پر آمادہ تھے۔ اقتداری گلیارے کے ذرائع بتاتے ہیںکہ چیف منسٹر سکریٹریٹ کی پرنسپل سکریٹری انیتا سنگھ اور داخلہ محکمہ کے سکریٹری منی پرساد مشر نے مل کر ایسی تکڑم بنی کہ اکھلیش اور ملائم کے چہیتے باڈی گارڈوں کو آؤٹ آف ٹرن ترقی دینے کے لیے کل 990 پولیس ملازمین کی فہرست تیار کی، جن میںکانسٹبل سے لے کر داروغہ اور انسپکٹر تک شامل تھے۔ اکھلیش سرکار نے ان سب کو ان کی تقرری کی تاریخ سے ترقی دے دی اور انھیں باقاعدہ کیڈر سطح پر قائم کردیا۔ آؤٹ آف ٹرن پرموشن (او او ٹی پی) عمل کے تحت پولیس ملازمین کو ملنے والی ترقی کیڈر اور ایڈہاک ہوتی ہے۔ لیکن اکھلیش سرکار نے قاعدے قانون کی حدیںپار کردیں۔ 23 جولائی 2015 کو جاری فرمان کے ذریعہ سرکار نے نہ صرف ہائی کورٹ کی پابندی لانگھی، بلکہ پولیس افسروں – ملازمین کے سروس مینوئل کو بھی طاق پر رکھ دیا۔ اس سرکاری فرمان کا کوئی گزٹ – نوٹیفکیشن بھی نہیںکیا گیا۔ تقریباً ایک سال بعد ہی 11 جولائی 2016 کو حکومت نے پھر ایک ریلیزجاری کرکے 94 انسپکٹروں کو ترقی دے کر ڈی ایس پی بنائے جانے کی منادی کردی۔ یہ ریلیز بھی سرکاری گزٹ میںشائع نہیںکی گئی۔ اکھلیش سرکار کے ان احکامات کو داخلہ محکمہ کے افسرپوری طرح سیاست بتاتے ہیں کیونکہ تب ریاست میںاسمبلی انتخابات کی تیاریاں زور شور سے شروع ہوگئی تھیں اور ایس پی سرکار پوری پولیس تنظیم کو سپائی کلیور دے کر طاقتور بنانے کی کوشش میںلگی تھی۔ اسی لیے چن چن کر ایس پی حامی پولیس ملازمین کو ترقی دی جارہی تھی اور انھیںاہم مقامات پر تعینات کیا جارہا تھا۔

 

 

 

 

 

پروموشن کی ہوڑ
چن چن کر ترقی دینے کی تمام مثالیں سامنے ہیں۔ رویندر کمار سنگھ، نیاز احمد ، پرمیندر سنگھ، بھرت سنگھ، جگدیش یادو، سدانند سنگھ، اشوک کمار ورما جیسے کئی نام ہیں، جنھیںایس پی سرکار کی مہربانی سے انسپکٹر سے ڈی ایس پی بنایا گیا۔ جگدیش یادو 1990 میںیو پی پولیس میںسپاہی کے عہدے پر بھرتی ہوئے تھے۔ ان کی پہلی پوسٹنگ فیض آباد کے روناہی تھانے میںہوئی تھی۔ چیف منسٹر سیکورٹی گروپ میںشامل ہوجانے کے سبب ان کی ترقی کا سفر اتنی تیزی سے ہو پایا۔اسی طرح اموسی ایئر پورٹ پر تعینات رہے داروغہ سدانند سنگھ ملائم اور امر سنگھ کے پیر چھوتے چھوتے ڈی ایس پی بن گئے۔ آؤٹ آف ٹرن ترقی کے لیے ایس پی کی طرف سے لکھا جانے والا سائٹیشن ضروری ہوتا ہے۔ مسئلہ یہ کھڑا ہوا کہ کوئی ایس پی سائٹیشن لکھنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ آخر کار گونڈہ کے اس وقت کے ایس پی کے سائٹیشن پر انھیں ڈی ایس پی بنایا گیا۔ اسی طرح اس وقت کے طاقتور ایس پی نیتا امر سنگھ کے سیکورٹی گارڈ رہے چمن سنگھ چاوڑا کو بھی ڈی ایس پی کے عہدے پر ترقی ملی۔ چاوڑا کے لیے لکھے گئے سائٹیشن کو پولیس محکمے میںچٹکلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ان کے سائٹیشن میںلکھا گیا کہ ’ادمیہ ساہس او رشوریہ کا پردرشن کرتے ہوئے انھوںنے فلم اداکارہ جیہ پردا کو سیکورٹی دی۔‘ امر سنگھ کے باڈی گارڈ کو جیہ پردا کی حفاظت کے لیے آؤٹ آف ٹرن ترقی دی گئی،یہ چٹکلہ ہی تو ہے۔ اسی طرح اشوک کمار ورما کو سپائی ہونے اور ملائم اکھلیش ، دونوں کی مدت کار میںوزیر اعلیٰ کی پرنسپل سکریٹری رہیں انیتا سنگھ کا قریبی ہونے کے سبب ترقی ملی۔ ترقی کے معاملے میں اشوک کمار ورما کی اضافی سرگرمی بھی پولیس محکمے میں بحث کا موضوع ہے۔
اس وقت کے وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے اپنے والد ملائم سنگھ کے ساتھ ساتھ بعد میںان کے بھی خاص باڈی گارڈ رہے شیو کمار یادوکو پرموٹ کرنے کے لیے اخلاق و قانون کی کریز سے ہٹ کر بیٹنگ کی۔ انھوںنے داخلہ محکمہ کے ذریعہ ایک حکم نامہ جاری کراکر 15 مارچ 2013 کو شیو کمار یادو کو ایڈیشنل ایس پی کے عہدے پر ترقی دے دی تھی۔ ملائم نے اپنی پہلی مدت کار میںشیو کمار کو داروغہ سے انسپکٹر بنا دیا تھا۔ ملائم کی دوسری مدت کار میںشیو کمار ڈی ایس پی بنائے گئے اور اکھلیش نے اپنی مدت کار میں انھیںاے ایس پی بنا دیا۔ آؤٹ آف ٹرن پرموشن کے بیجا استعمال کے ذریعہ 15 سال کے کریئر میں اتنا بھاری اچھال پولیس تنظیم میں بحث اور نقل دونوں کا موضوع ہے۔ اس کا سیدھا اثر پولیس کے کام اور عزم پر پڑ رہا ہے۔
ترقی کے آرڈر غیر قانونی
داخلہ محکمے کے ہی ایک افسر کہتے ہیںکہ 990 پولیس ملازمین کو ترقی دینے اور اس میں سے 94 انسپکٹروں کو ڈی ایس پی بنائے جانے کے لیے جاری کیا گیا حکم پوری طرح غیر قانونی ہے۔ اس حکم سے پولیس محکمے کے سبھی ملازمین کی سینئرٹی کی ترتیب گڈمڈ ہوگئی ہے۔ سینئر جونیئر ہوگئے اور جونیئر اپنے سینئر کے ماتھے پر بیٹھ گیا۔ پولیس کے کام کاج اور ڈسپلن پر اس کا بہت برا اثر پڑ رہا ہے۔ جن پولیس ملازمین اور افسروں کو اس فرمان کے ذریعہ پرموشن ملا، وہ اب پولیس تنظیم میںایس پی کے ایجنٹ کی طرح کام کررہے ہیں۔ مذکورہ افسرنے بتایا کہ ریاستی سرکار نے منمانے طریقے سے انسپکٹروں کی سینئرٹی کی ترتیب بنائی اور سپریم کورٹ کے 9 مئی 2002 کے فیصلے کو بھی طاق پر رکھ دیا۔ سینئر ٹی کی ترتیب اور 23 جولائی 2015 کو جاری ترقی کے احکامات ،دونوں ہی یوپی پولیس سب انسپکٹر اور انسپکٹر (شہری پولیس) سر وس رول 2015 کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ انسپکٹروں کی ترقی کے حکم میں ریاستی سرکار نے بڑے شاطرانہ انداز سے انسپکٹروں کی بھرتی کے سال کا کالم غائب کردیا اور اس کی آڑ لے کر منمانے طریقے سے انسپکٹروں کے نام بھر دیے۔ اس سے سینئرٹی کی ترتیب گڈمڈ ہوگئی۔ کسی میںٹریننگ کا سال، بیچ نمبر اور پرموشن کا سال درج ہے، تو کئی میںپروموشن کا سال ہی غائب کردیاگیا ہے۔ سروس رول کے پروویژن کو درکنار کرکے سینئرٹی لسٹ میں بیک لاگ والے 119 نام بھی ٹھونس دیے گئے۔ داخلہ محکمے کی افسر نے کہا کہ سرکار کی یہ ساری حرکتیں غیر قانونی ہیں اور ہائی کورٹ سے خارج ہونے لائق ہیں، اسی لیے اس معاملے کو طویل عرصہ تک لٹکائے رکھنے کی کوشش چل رہی ہے تاکہ سرکار کی اس غلط حرکت کی مخالفت کرنے والے سارے پولیس افسر رٹائر ہوجائیں اور ان کی قانونی لڑائی کسی نتیجہ تک نہیں پہنچ پائے۔
قابل ذکر ہے کہ آؤٹ آف ٹرن پرموشن سے انسپکٹروں کو ڈی ایس پی بنائے جانے کے فیصلے پر بھی ہائی کورٹ کی بھویںتنی ہوئی ہیں۔ کمل سنگھ یادو کی عرضی پر سنوائی کے سلسلے میںہائی کورٹ نے ریاستی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ہائی کورٹ ریاستی سرکار کے اس حکومت کے فرمان پر اپنی رضامندی کی مہر لگا چکا ہے، جس میں آؤٹ آف ٹرن پرموشن دینے کے ضابطے کو ختم کیے جانے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔ اس سے قبل سال 2014 میںہائی کورٹ نے آؤٹ آف ٹرن پرموشن کے عمل کو غیر قانونی اور غیر واجب قرار دیا تھا۔ اترپردیش پولیس میں ہیڈ کانسٹبل کے عہدے پر ترقی پائے ساڑے آٹھ ہزار سے زیادہ کانسٹبلوں کے خلاف بھی ہائی کورٹ میںعرضی زیر التوا ہے۔ الزام ہے کہ سرکار نے پولیس بھرتی کے رول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اہلیت او رسینئرٹی کو طاق پر رکھ کر جونیئروں کو پرموشن دے دیا ۔ سینئر کانسٹبلوںکو پرموشن سے محروم کردیا گیا۔ پرموشن کے لیے 12 ہزار 492 کانسٹبل اہلیت کے فہرست میں شامل تھے ۔ سینئرٹی کی بنیاد پر ان میںسے ہی ہیڈ کانسٹبل بنایا جانا تھا لیکن منمانے طریقے سے ترقی دے دی گئی۔

دلال کے ذریعہ رشوت
آپ کو تھوڑا فلیش بیک میں لیتے چلیں۔ کچھ ہی عرصہ قبل اونچی پہنچ والے ایک دلال نے رشوت لے کر پولیس والوںکو ترقی دینے کے لیڈروں – نوکر شاہوں کے گورکھ دھندے کا پردہ فاش کیا تھا۔ دلال نے کچھ بڑے نیتا اور بڑے نوکر شاہوں کا نام لیا تھا۔ لیکن نیتا کا نام دباد یا گیا۔ حالانکہ رشوت لے کر ترقی دلانے والے اس ایس پی لیڈر کے بارے میںپولیس کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں ، پکڑے جانے سے قبل تب وہ دلال نہیں، بلکہ ایس پی لیڈر شیلندر اگروال کے طور پر جانا جاتا تھا اور اقتدار کے اعلیٰ گلیارے تک اس کی سیدھی پہنچ تھی۔ موٹی رقم لے کر پولیس ملازمین کو ترقی دینے کے دھندے میںاس دلال نے کروڑوں روپے کمائے تو آپ سمجھ سکتے ہیںکہ ایس پی لیڈر اور نوکر شاہوں نے کتنی رقم اینٹھی ہوگی۔ اس میں دو پولیس ڈائریکٹر جنرل اے سی شرما اور اے ایل بنرجی کا نام آیا لیکن دوسرے نام دب گئے۔ داروغاؤں کو انسپکٹر کے عہدے پر ترقی ملی۔ ترقی کے دھندے میں شیلندر اگروال ہی بچولیا رہتا تھا۔ صرف شیلندر کے ذریعہ ہی ریاست کے قریب 40 داروغاؤ ں کو پرموشن دے کر انسپکٹر بنایا گیا تھا۔ جن دارو غاؤں کی ترقی کی فائلیں مختلف جانچوں کے سبب رکی پڑی تھیں،وہ فائلیں بھی رشوت کے دم پر چل پڑیں اور داروغاؤں کو پرموشن مل گیا۔ 40 داروغاؤں کی ترقی میںکروڑوں کا لین دین ہوا اور نیتا سے لے کر افسر تک کو حصہ ملا۔ اس دھندے کے نیٹ ورک میںکئی آئی پی ایس اور آئی اے ایس افسر شریک تھے لیکن ان کے نام دب گئے اور شیلندر کو جیل میںٹھونس دیا گیا۔
پولیس ملازمین کے روٹین پرو موشن پر کبھی توجہ نہیںدی گئی
اپنے چاپلوسوں اور حامیوں کو آؤٹ آف ٹرن پرموشن کی آپا دھاپی مچانے والے سپائی حکمرانوں نے پولیس ملازمین کے سالانہ روٹین پرموشن پر کبھی توجہ نہیں دی ، اس طرف بی ایس پی سرکار نے بھی کبھی دھیان نہیںدیا۔ آپ حیرت کریں گے کہ 1980-81اور 1982-83بیچ کے سب انسپکٹروں کی سالانہ ترقی کے لیے آج تک صرف تین بار ڈی پی سی ہوئی۔ گزشتہ 37 سال میں سب انسپکٹروں (داروغاؤں) کے پرموشن کے لیے محض تین بار ڈپارٹمنٹل پرموشن کمیٹی (ڈی پی سی) کی میٹنگ کا ہونا،سرکاروںکی شدید لاقانونیت کی سند ہے ۔ 1982 بیچ کے سب انسپکٹروں کے روٹین پرموشن کے لے پندرہ سال بعد 1997 میںڈی پی سی ہوئی۔ ان کے آٹھ سال بعد سال 2005 میںڈی پی سی کی میٹنگ بیٹھی اور پھرآٹھ سال بعد سال 2013 میں ڈی پی سی ہوئی۔ اقتدار کی اعلیٰ سیٹوں پر بیٹھے نیتا ترقی کی دکھان کھولے بیٹھے رہے اور رشوت لے کر ترقیاںبیچتے رہے۔المیہ یہ ہے کہ 80-81اور 81-82 بیچ کے سب انسپکٹروں، انسپکٹروں کو سال 2007 اور 2008 سے ایڈیشنل ایس پی کی تنخواہ مل رہی ہے لیکن سرکار نے ان کا روٹین پروموشن نہیںہونے دیا۔ روٹین پرموشن سے محروم ایسے افسروں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہے۔

 

 

 

 

 

 

پولیس کا حوصلہ مضبوط کرنے سے رکے گا جرم
ایس پی اور بی ایس پی دونوں نے ہی یوپی پولیس کو اپنے اپنے سیاسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔ اس میںایس پی زیادہ تیز نکلی، جس نے بھرتیاں کرکے اور ترقیاں دے کر پولیس میںاپنی قطار کھڑی کی۔ بی ایس پنے بھی ایسا کیا، لیکن کم کیا۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات سے قبل پولیس میںسیاسی جانبداری بھرنے کے ارادے سے ایس پی نے سارے پولیس ملازمین کو ان کے ہوم ڈسٹرکٹ کے نزدیک کے ضلع میں تعینات کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ایس پی نے سرکار بنتے ہی یہ وعدہ پورا بھی کیا لیکن بدایوں ریپ کیس کی وجہ سے اس ضابطے کو معطل کرنا پڑا۔ اس سے پولیس میں ناراضگی بھی پھیلی۔ خیر اس سال اسمبلی انتخابات کے درمیان بی ایس پی لیڈر مایاوتی نے وہی وعدہ دہرایا اور کہا کہ بی ایس پی کی سرکار بنی تو پولیس ملازمین کو ان کے ہوم ڈسٹرکٹ میںتعیناتی ملے گی۔اس کے علاوہ مایاوتی نے تیوہاروں پر ڈیوٹی کرنے والے پولیس ملازمین کے لیے الگ سے نقد بھگتان کا انتظام لاگو کرنے کی بات بھی کہی تھی۔ دوسری طرف بی جے پی پولیس سیاست کے خلاف بول رہی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے تو یو پی پولیس کے تھانوں کو ایس پی کا دفتر تک کہہ دیا تھا۔ مودی نے یہ بھی کہا تھاکہ اس میںپولیس والوں کی غلطی نہیں، بلکہ اقتدار کا دباؤ ہے۔اب ریاست میں بی جے پی کی سرکار ہے۔ ریاست کے پولیس ملازمین کے ساتھ ہوئی حکومت کی ناانصافیوں کو دور کرنے اور ا ن کی سہولتوں کا خیال کرنے کی کوئی فکر اس سرکار میںبھی نہیںدکھائی دے رہی ہے۔ اترپردیش کے کمزور لاء اینڈ آرڈر کو لے کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تشویش واجب تو ہے لیکن پولیس کا حوصلہ مضبوط کیے بغیر لاء اینڈ آرڈر مضبوط تھوڑے ہی ہوسکتا ہے۔
اسپیشل الاؤنس دینے کے منصوبے پر گہن
آؤٹ آف ٹرن پرموشن پر پابندی لگانے کے بعد اترپردیش کے جانباز پولیس ملازمین کو اسپیشل الاؤنس دے کر ایوارڈ دینے کا منصوبہ بنا تھا لیکن سرکار کے متنازع فرمان سے یو پی پولیس کے اس خصوصی منصوبے پر گہن لگ گیا ۔ منصوبہ یہ تھا کہ جرأت و دلیری دکھانے والے جانباز پولیس ملازمین کو ایک ہزار روپے ماہانہ کا اسپیشل الاؤنس سروس کی مدت تک دیا جاتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی ہر سال دس پولیس ملازمین کو خصوصی اعزاز کے لیے چن کر انھیںوزیر اعلیٰ کے سائٹیشن سے نوازنے کا منصوبہ تھا۔ قابل ستائش کام کرنے والے 25 پولیس ملازمین میں سے ہر ایک کو 25 ہزار کا انعام دیے جانے کا بھی منصوبہ بنا تھا۔ لیکن سارے منصوبے پرموشن کے متنازع فرمان کے سبب شیڈو ایریا میںچلے گئے۔
باکس:
جانباز رہ گئے چاپلوس پاگئے آؤٹ آف ٹرن ترقی
آؤٹ آف ٹرن ترقی پانے کی طے شرط تھی جرأت، بہادری اور فرائض کی ادائیگی۔ خونخوار مجرموں سے نمٹنے یا خود کی جان خطرے میںڈال کر عام لوگوں کی خدمت کرنے والے پولیس ملازمین کو آؤٹ آف ٹرن ترقی دینے کا پروویژن کیا گیا تھا۔ لیکن ایس پی سرکار نے اسے دھندہ بنا دیا۔ جرأت، بہادری اور فرائض کی ادائیگی کے بجائے رشوت خوری، چاپلوسی، موقع پرستی اور شخصیت پرستی نے اس کی جگہ لے لی۔ ایسے تمام جانباز پولیس افسران اور ملازمین آؤٹ آف پرموشن سے محروم کر دیے گئے، جنھوںنے مثالی بہادری اور طاقت کا مظاہرہ کیا لیکن وہ بدعنوان، چاپلوس اور شخصیت کی پوجا کرنے والے نہیںتھے۔ ایسے جانباز پولیس ملازمین کی فہرست بھی ’چوتھی دنیا‘ کے پاس ہے لیکن ان کے نام ہم شائع نہیںکررہے ہیں کیونکہ دھندے باز نیتا نوکر شاہ ان کا جینا حرام کردیں گے۔
جب ڈی جی پی نے لوٹادی تھی حکومت کی تجویز
اترپردیش کے پولیس ڈائریکٹر جنرل رہے اے کے جین نے وزیرا علیٰ اکھلیش یادو کے باڈی گارڈوں کی ٹولی کے42 پولیس ملازمین کو آؤٹ آف ٹرن پرموشن دینے کی حکومت کی تجویزکو مینوئل کا حوالہ دے کر واپس لوٹا دیا تھا۔ایس پی سرکار کے اس وقت کے وزیر اور قانون ساز کونسل کے لیڈر احمد حسن نے بھی ڈی جی پی کو الگ سے خط لکھ کر آؤٹ آف ٹرن پرموشن کی بنیاد پر 42 ملازمین کی سینئرٹی کی ترتیب کا تعین کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ اس وقت کے پولیس ڈائریکٹر جنرل نے داخلہ محکمے کے پرنسپل سکریٹری کو باقاعدہ خط (نمبر ڈی جی ۔ چار ۔ 119 (11) 2014تاریخ: 22 مئی 2015) لکھ کر بتایا تھا کہ آؤٹ آف ٹرن پرموشن کیڈر کے عہدے کی خالی جگہ پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ س پروموشن کو قاعدے کے مطابق ایکس کیڈر مانا جائے گا اور سینئرٹی تعین میںاس کا فائدہ نہیںملے گا۔جین نے ضابطوں کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو سرکاری طور پر یہ بھی جانکاری دی تھی کہ آؤٹ آف ٹرن پرموشن دیے جانے کے باوجود متعلقہ پولیس ملازم کی سینئرٹی کی ترتیب ا س کے اصل عہدے سے ہی متعین ہوتی ہے اور اس کا روٹین پرموشن بھی اسی اصل عہدے کے مطابق ہوتا ہے ، نہ کہ آؤٹ آف ٹرن پرموشن والے عہدے سے۔ ڈی جی پی نے کہا تھا کہ آؤٹ آف ٹرن پرموشن کو بنیاد بنا کرسینئرٹی کی ترتیب تعین کرنے کی حکومت کی کئی کوششیں ہائی کورٹ کی ہدایت پر پہلے بھی خارج کی جا چکی ہیں، لہٰذا ہائی کورٹ کی ہدایت اور تعین کیے گئے پروویژن کی روشنی میںہی پولیس ملازمین کی سینئرٹی کا تعین کیا جانا مناسب ہوگا۔ پولیس ڈائریکٹر جنرل اے کے جین کے اس خط سے اکھلیش سرکار سکتہ میںآگئی۔ سرکار کو یہ احساس ہو گیا کہ اس مسئلے میںسرکار نے کوئی حرکت کی تو ڈی جی پی کا قانونی ڈنڈا اس کوشش کو آگے نہیںبڑھنے دے گا،لہٰذا اکھلیش سرکار نے جین کے جانے تک کا انتظار کرنا ہی بہتر سمجھا۔ 30 جون 2015 کو اے کے جین کے رٹائر ہوتے ہی سرکار پھر سے حرکت میں آگئی۔ چور دروازے سے راستہ تلاش کیا جانے لگا اور جین کورٹائر ہوئے ایک ماہ بھی نہیںہوا تھا کہ 23 جولائی 2015 کو 990 پولیس ملازمین کے آؤ ٹ آف ٹرن پرموشن اور ون ٹائم سینئرٹی تعین کا غیر قانونی فرمان جاری کردیا گیا۔ پھر تقریباً سال بھر بعد 11 جولائی 2016 کو اکھلیش سرکار نے 94 انسپکٹروں کو ترقی دے کر ڈی ایس پی بنائے جانے کی ریلیز جاری کردی۔ سرکار کی ان حرکتوں سے سرکار کا جذبہ واضح ہوگیا۔ اکھلیش یادو نے اپنے بیجا حکم کو بغیر کسی رکاوٹ کے لاگو کرانے کے لیے اے کے جین کے جانے کے بعد متنازع جگ موہن یادو کو ڈی جی پی بنایا۔ جگ موہن یادو ایک جولائی 2015 کو ڈی جی پی بنے اور 23ن جولائی 2015 کو حکومت کا متنازع حکم جاری ہوگیا۔
سب ایک دوسرے کا پاپ دھونے اور چھپانے میں لگے ہیں
جیسا اوپر کہا کہ بدعنوانی کے مسئلے پر ساری سیاسی پارٹیوں کے بیچ سمجھ داری ہے۔ جو اقتدار میںآتا ہے، وہ کھاتا ہے اور پہلے کھا کر جاچکے کو بچاتا ہے۔ بی ایس پی جب اقتدار میںآئی تھی تب لوگوںکو لگا تھا کہ مایاوتی تو ملائم کو کسی بھی حال میںنہیں چھوڑیںگی۔ ایس پی کی مخالفت کی تلخی نے ہی 2007 کے اسمبلی انتخابات میںبی ایس پی کو اقتدار کی کرسی تک پہنچایا تھا ۔ بی ایس پی نے جو یقین دہانی کرائی تھی، اس کے مطابق کارروائی کی امید تھی لیکن مایاوتی نے ان امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔ ملائم کے دور کے تاریخی اناج گھوٹالے کا آخر کار ستیہ ناس ہی ہوگیا۔ حالانکہ مایاوتی نے 35 ہزار کروڑ کے اناج گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ کی سفارش کی تھی لیکن اس کی لیپا پوتی کا بھی انھوںنے راستہ بنادیا۔ ملائم کے اناج گھوٹالے کو 2 جی اسکیم سے بڑا گھوٹالہ بتایا گیا تھا لیکن نتیجہ کچھ بھی نہیںنکلا۔ اسی طرح ملائم کے دور میں ’راجیو گاندھی گرامین ودیتی کرن‘ گھوٹالہ ہوا تھا۔ مایاوتی اقتدار میں آئیں تو تقریباً ڈیڑھ سو کروڑ کے اس بجلی گھوٹالے کو دباکر بیٹھ گئیں۔ ملائم کے دور حکومت میںہوئے پولیس بھرتی گھوٹالے کی بھی جانچ اور کارروائی کی تمام رسموں کا مایاوتی نے ڈرامہ کھیلا لیکن ملائم کے دور حکومت کا مشہور پولیس بھرتی گھوٹالہ بھی ڈھاک کے تین پات ہی ثابت ہوا۔
سال 2012 میں جب سماجوادی پارٹی کی سرکار آئی تب وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے بسپائی احسانوں کو یاد رکھا اور بوا کے تمام گھوٹالوں پر پانی پھیر دیا۔ الیکشن سے قبل ایس پی لیڈر مایاوتی کے تمام گھوٹالوں کو عوام کے درمیان بیچتے رہے لیکن اقتدار میں آئے تو خود کو بیچ ڈالنا کریڈٹیبل سمجھا۔ مایاوتی کا اسمارک گھوٹالہ، پتھر گھوٹالہ، پانچ ہزار کروڑسے بھی زیادہ کا بجلی گھوٹالہ، تاج گلیارا گھوٹالہ، جے پی گروپ کو ہزاروںکروڑ کا بیجا فائدہ پہنچانے کا معاملہ، سب کا سب اکھلیش سرکار نے ہضم کرلیا۔
آج بی جے پی کی سرکار آئی تو اس نے سماجوادی پارٹی کے تمام گھوٹالوں کے ساتھ ہی پانچ سال کاٹنے کی پریکٹس شروع کردی ہے۔ ملائم کے دور کاپولیس بھرتی گھوٹالہ اجاگر کرنے والے پولیس افسر سلکھان سنگھ کو ڈی جی پی بنا کر بھی بی جے پی انھیں پنگو بنائے ہوئے ہے۔ سال 2007 سے قبل ملائم سنگھ کے دور حکومت میںجو کانسٹبل بھرتی گھوٹالہ ہوا تھا، اس کے تار سیدھے سیدھے شیو پال یادو سے جڑے ہوئے تھے۔ رشوت لے کر ذات خاص کے امیدواروںکو پولیس کی نوکری دیے جانے کی شکایتوں کا انبار لگ گیا تھا۔ 2007 میںاقتدار میں آئی بی ایس پی سرکار کی سربراہ مایاوتی نے جانچ کرانے اور ہڑکمپ مچانے کے باوجود پولیس بھرتی گھوٹالے کو قانونی انجام تک نہیں پہنچنے دیا۔ بی جے پی کی بھی گھپلے گھوٹالوں کی پرانی فائلیں کھولنے میںکو ئی دلچسپی نہیںہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *