الہ آبادہائی کورٹ نے تلوارفیملی کوآروشی کے قتل سے بری الذمہ قراردیا

arushi-talwar
آروشی -ہیمراج قتل کیس میں الہ آبادہائی کورٹ نے ڈاکٹرراجیش اورنوپرتلوارکوبری کردیاہے۔تلوارجوڑے نے سی بی آئی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔26نومبر2013کوان کوسی بی آئی کورٹ نے عمرقیدکی سزاسنائی تھی۔تلوارجوڑے اس وقت غازی آبادکے ڈاسناجیل میں سزاکاٹ رہے ہیں۔
16-15مئی 2008کی درمیانی شب میں شہرکے مشہورڈینٹسٹ راجیش تلواراورنوپرتلوارکی بیٹی آروشی کی لاش نوئیڈاکے جلوایووہارمیں اپنے گھر بسترپرملی تھی۔ اس معاملے میں سب سے پہلے 45سال کے گھریلونوکرہیمراج پرگیا۔لیکن 17مئی کوہیمراج کی لاش تلوارکے اپارٹمنٹ سے برآمدہوئی۔19مئی کومعاملے کی جانچ شروع ہوئی اوراس میں دہلی پولیس بھی شامل ہوئی۔22مئی کوشروعاتی جانچ کے بعدمعاملہ آنرکلنگ کالگااورآروشی کے والد سے پوچھ تاچھ ہوئی۔
معاملہ سنگین لگااورپولس کایہ مانناتھاکہ راجیش تلوارنے آروشی اورنوکرہیمراج کوقابل اعتراض حالت میں دیکھااوروہ اپناآپاکھوبیٹھے تھے۔راجیش تلوارنے غصے میں اپنی بیٹی کا قتل کردیا،لیکن تلواردنپتی اوران کے دوستوں کی دلیل تھی کہ بناکسی ثبوت یافاریسک جانچ کے یوپی پولس انہیں کیوں قصوروارمان رہی ہے۔ان کا کہناتھاکہ پولیس اپنی ناکامی چھپانے کیلئے راجیش تلوارکوبلی کابکرابنارہی ہے۔16مئی 2008کوآروشی قتل کے ایک ہفتے بعدراجیش تلوارکویوپی پولس نے گرفتارکیا۔ضمانت ملنے پرپہلے 60دن تلوارکوجیل میں گزارناپڑا۔یوپی پولیس کی تحقیقاتی عمل پرسوال اٹھنے کے بعداس وقت کی سی ایم مایاوتی نے پورے معاملے کوسی بی آئی کوسونپ دیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *