75برس کے ہوگئے بگ بی

امیتابھ بچن کا پیدائشی نام امیتابھ ہریونش شریواستو ہے اور یہ11 اکتوبر، 1942ء کو پیدا ہوئےہیں۔ انہیں شروعاتی مقبولیت 1970ءمیں ملی اور آج ان کا شمار بالی ووڈ کی تاریخ میں معروف ترین ہستیوں میں ہوتا ہے۔
اپنے اداکاری کے سفر کے دوران انہوں نے کئی بڑے ایوارڈ حاصل کئے جن میں تین نیشنل فلم ایوارڈ اور بارہ فلم فیئر ایوارڈ شامل ہیں۔ ان کے پاس سب سے زیادہ دفع بہترین اداکار نامزد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ اداکاری کے علاوہ بچن نے گلوکاری، پیش کار اور میزبانی بھی کرتے رہے ہیں۔ 1984سے 1987تک وہ بھارتی پارلیمان کے رکن بھی رہے۔
امیتابھ بچن کی شادی اداکارہ جیا بہادری سے ہوئی۔ ان کے دو بچے ہیں شوئیتا نندا اور ابھیشیک بچن۔ ابھیشیک بھی فلم اداکار ہیں اور بالی ووڈ اداکارہ ایشوریا رائے سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہیں۔

 

 

 

 

 

 

امیتابھ بچن کی ابتدائی زندگی
امیتابھ بچن الہٰ باد، اتر پردیش میں ایک ہندو کایستھ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد، ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن جانے مانے ہندی شاعر اور والدہ تیجی بچن فیصل آباد (حالیہ پاکستان میں) کے ایک سکھ گھرانے سے تھیں۔ بچن کا بچپن میں نام انقلاب تھا جو انقلاب زندہ باد کے نعرے سے متاثر ہو کر رکھا گیا تھا کیونکہ اس وقت ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد زوروں پر تھی، بعد میں ان کا نام بدل کر امیتابھ رکھا گیا جس کے معنی ہمیشہ رہنے والی روشنی کے ہیں۔
امیتابھ اپنے بھائیوںمیں بڑے ہیں، دوسرے کا نام اجیتابھ ہے۔ ان کی والدہ کو اسٹیج سے بہت لگاؤ تھا اور ان کو فلموں میں کام کرنے کی پیشکش بھی ہوئی مگر انہوں نے گھریلو ذمہ داری کو اداکاری پر فوقیت دی۔ امیتابھ کے اداکاری کے پیشہ کو اختیار کرنے میں ان کی والدہ کا بڑا ہاتھ ہے۔ امیتابھ کے والد کا 18 جنوری 2003 اور والدہ کا 21 دسمبر 2007ء میں انتقال ہوا۔
فلمی سفر
امیتابھ کی اداکاری کا سفر 1969میں فلم سات ہندوستانی سے ہوا، جس کے ہدایت کار خواجہ احمد عباس اور ساتھی اداکاروں میں اتپل دت، مدھو اور جلال آغا شامل تھے۔ فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی مگر بچن کو بہترین نوارد اداکار کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔اس کے بعد 1971میں فلم ’آنند‘ آئی جو کاروباری لحاظ سے کامیاب اور تنقید نگاروں میں بہت سراہی گئی۔ اس فلم میں بچن نے راجیش کھنا کے برابر ایک ڈاکٹر کا کردار ادا کیا اور اس کے لیے انہیں فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔ اسی سال پروانہ لگی، اس فلم میں انہوں نے نوین نشچل، یوگیتا بالی اور اوم پرکاش کے مخالف دیوانے عاشق کا کردار ادا کیا، ایسے منفی کردار میں امیتابھ کو کم ہی دیکھا گیا۔ اس کے بعد ان کی کئی فلمیں باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکیں جن میں 1971 میں لگنے والی فلم ریشماں اور شیرا بھی شامل ہے۔ اس دوران انہوں نے فلم گڈی میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا، اس فلم کے دیگر اداکاروں میں ان کی مستقبل کی شریکِ حیات جیا بہادری اور دھرمیندر شامل ہیں۔ اپنی بھاری آواز کی وجہ سے انہوں نے فلم باورچی کے ایک حصّہ کو بیان کیا۔ 1972میں انہوں نے سفر پر مبنی مزاحیہ سنسنی خیز فلم بمبئی ٹو گوا میں کام کیا، جس کی ہدایتکاری ایس۔ راماناتھن نے کی۔ فلم کے دیگر اداکاروں میں ارونا ایرانی، محمود، انور علی اور ناصر حسین شامل تھے۔
1973میں بچن ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہوگئے جب ہدایتکار پرکاش مہرا نے انہیں فلم زنجیر میں انسپیکٹر وجے کھنا کے کردار میں پیش کیا۔ اس فلم میں بچن کی اداکاری ان کے دیگر رومانوی کرداروں سے مختلف تھی اور یہاں سے بچن کو بالی ووڈ کے اینگری ینگ مین (Angry Young Man) کی پہچان ملی۔ اس فلم کے لئے ان کو فلم فیئر نیشنل ایوارڈ برائے بہترین اداکار ملا ۔ اسی سال امیتابھ اور جیا بہادری کی شادی بھی ہوئی اور وہ ایک ساتھ کئی فلموں میں آئے، زنجیر کے علاوہ ان دونوں کی ایک اور فلم ابھیمان شادی کے ایک مہینہ بعد پردے پر لگی۔ فلم نمک حرام میں امیتابھ وکرم کے کردار میں نظر آئے، ہدایتکار ہراکاش مکھرجی اور قلم کار بریش چیٹرجی کی لکھی اس فلم میں دوستی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ راجیش کھنّا اور ریکھا کے مدمقابل ان کے کردار کو بہت سراہا گیا اور اس کردار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین معاون اداکار سے نوازا گیا۔
1974میں بچن نے کنوارا باپ اور دوست میں مہمان اداکار کے طور پر کام کیا، جس کے بعد اس سال کا سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم روٹی کپڑا اور مکان میں انہوں نے معاون اداکار کا رول ادا کیا، فلم کی ہدایت کاری اور کہانی منوج کمار نے لکھی اور خود منوج کمار کے علاوہ ششی کپور اور زینت امان نے اداکاری کی۔ 6 دسمبر 1974ء کو فلم مجبور میں مرکزی کردار ادا کیا، مجبور کی کہانی ہالی وڈ کی فلم ZigZag سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی، اس فلم کو خاص پزیرائی نہیں ملی۔

 

 

 

 

 

امیتابھ 1970میں
1975ء میں انہوں نے مختلف موضوعات کی فلموں میں کام کیا جن میں مزاحیہ فلم چپکے چپکے، جرم کی داستان فرار اور رومانوی داستان ملی شامل ہیں۔ اسی سال ان کی دو اور فلمیں پردے پر لگیں جنہیں ہندی سنیما کی تاریخ میں اہم مقام حاصل ہوا۔ ان میں پہلی یش چوپڑا کی دیوار جس میں بچن نے ششی کپور، نیروپا رائے اور نیتو سنگھ کے مخالف کام کیا، اس فلم میں اپنے کام کے لئے وہ فلم فیئر برائے بہتریں معاون اداکار کے لئے نامزد ہوئے۔ دیوار 1975کے سال میں باکس آفس کی بہترین فلموں میں شمار ہوئی اور اس کو چوتھا درجہ ملا۔انڈیا ٹائمز موویز نے دیوار کا شمار بالی ووڈ کی پچیس دیکھنے لائق فلموں میں کیا۔ اس کے بعد 15 اگست 1975ء میں شعلے ریلیز ہوئی، جو اس وقت بھارت کی تاریخ میں سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی فلم بنی۔ اس فلم کی کل کمائی 60 ملین (افراطِ زر کے بعد) کے لگ بھگ تھی۔بچن نے اس فلم میں جے دیو کا کردار ادا کیا اور ان کے مخالف بالی ووڈفلم صنعت کے بڑے اداکاروں نے کام کیا۔ ان میں اداکار دھرمیندر، ہیما مالینی، سنجیو کمار، جیا بہادری اور امجد خان شامل تھے۔ 1999میں بی۔بی۔سی۔ انڈیا نے فلم شعلے کو صدی کی بہترین فلم قرار دی۔فلم دیوار کیطرح انڈیا ٹائمز موویز نے شعلے کو بالی ووڈ کی دیکھنے لائق پچیس فلموں کی فہرست میں شامل کیا۔ اسی سال پچاسویں سالانہ فلم فیئر ایوارڈز میں ججوں نے اسے فلم فیئر نصف صدی کی بہترین فلم کے خاص اعزاز سے نوازا۔
1982 میں فلم قلی کے دوران حادثہ
1982 میں فلم قلی کی فلم بندی کے دوران ایک لڑائی کا منظر کرتے ہوئے میز کا کونا لگنے سے امیتابھ شدید زخمی ہو گئے۔اس منظر میں امیتابھ کو میز پر گرنا تھا مگر اندازا کی غلطی سے میز کا کونا ان کے پیٹ میں لگا اور اس کے نتیجہ میں ان کی تلی پھٹ گئی اور کافی خون ضائع ہو گیا۔ ان کو فوراً ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ کئی مہینے زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے۔ اس دوران ان کے مداحوں نے مندروں میں دعائیں کیں اور چڑھاوے پیش کیئے، صحت بہتر ہونے کے بعد ان کے مداح ہزاروں کی تعداد میں ہسپتال کے باہر جمع ہوگئے۔بالاآخر کئی ماہ کے علاج کے بعد فلم دوبارہ شروع ہوئی اور 1983میں سنیما گھروں میں لگی اور امیتابھ کے حادثہ کی وجہ سے باکس آفس پر کامیاب ہوئی۔
شہرت کی بلندیوں پر واپسی: 2000 کے بعد
(2001ء)، کبھی خوشی کبھی غم (2001ء)، باغبان (2003ء) شامل ہیں۔ یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوا اور وہ مختلف کرداروں میں نظر آنے لگے جنہیں ناقدیں نے بہت سراہا۔ ان فلموں میں عکس (2001ء)، آنکھیں (2002ء)، خاکی (2004ء)، دیو (2004) اور بلیک (2005) شامل ہیں۔ اپنی بڑھتی شہرت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امیتابھ نے مختلف مصنوعات اور خدمات کو تظہیر کرنا شروع کردیا اور اشتہاروں میں بھی کام کرتے نظر آئے۔ فلم بنٹی اور ببلی (2005) میں وہ اپنے بیٹے ابگیشیک اور رانی مکھرجی کیساتھ نظر آئے، پھر سرکار (2005ء) اور کبھی الوداع نہ کہنا (2006ء) نے بھی باکس آفس پر اچھی کارکردگی دکھائی۔اس کے بعد 2006ء اور 2007ء کے شروع کی فلمیں بابل[27] (2006)، نشبد اور ایکلوویا (2007ء) کچھ اچھا کاروبار نہ کرسکیں اس کے باوجود ان سب فلموں میں امیتابھ کے اداکاری کو کافی پسند کیا گیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *