گجرات اسمبلی انتخابات کس کا عروج ، کس کا زوال؟

سریش ترویدی
گجرات اسمبلیکا ہونے والاانتخاب کئی سیاسی پارٹیوں کی ناک کاسوال بناہواہے۔ان انتخات میں جہاں بی جے پی کی ہارسیدھے مودی کی ہارمانی جارہی ہے،وہیں کانگریس کی فتح کوراہل گاندھی کے ازسرنوعروجکے طورپردیکھاجارہاہے۔عام آدمی پارٹی کیلئے یہ ڈوبتے تنکے کاسہارابن سکتاہے، توپارٹیداروں کے نوجوان لیڈرہاردک پٹیل کی سمٹتی ساکھ کے لئے یہ انتخاب نئی زندگی بن سکتا ہے۔اسلئے تقریباً سبھی پارٹیاں پچھلے دوسالوں نئی سیاسی زمین تلاش رہے پاٹیداروں کومنانے میں لگ گئے ہیں۔
دراصل ،گجرات کے تقریباً ڈیڑھ کروڑپاٹیداررائے دہندگان کسی بھی پارٹی کی سیاسی بازی پلٹنے میں اہل مانے جاتے ہیں۔ڈیڑھ دہائی سے گجرات میں بی جے پیکی جیت کی ریڑھ سمجھے جانے والے یہ پاٹیدارفی الحال اس سے بری طرح ناراض ہیں۔ان کی ناراضگی کی دووجہیں ہیں۔پاٹیدارنوکریوں اورتعلیمی اداروں میں اپنے لئے دس فیصدریزرویشن کی مانگ کررہے ہیں۔ پٹیلوں میں عدم اطمینان کی بلبلاہٹ اس سے بھی ہے کہ پارٹیداریہ محسوس کررہے ہیں کہ اب وہ بی جے پی میں دھیرے دھیرے حاشئے پردھکیلے جارہے ہیں۔آنندیبین کوہٹائے جانے کے بعدنتن پٹیل کووزیراعلیٰ نہ بنانے کے پیچھے کے کھیل کوبھی وہ سوچی سمجھی سیاسی سازش مانتے ہیں۔اس لئے وزیراعظم نریندرمودی اورامیت شاہ کے لگاتارگجرات دورے اورپاٹیداروں کومنانے کی ہرممکن کوشش کے باوجود ان کے تیورابھی بھی نرم نہیں ہوئے ہیں۔
گجرات میں پاٹیداروں کی ناراضگی کی آگ بی جے پی کی پونچھ میں لگ گئی ہے۔اس سے بی جے پی کے چھترپوں کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔اس لئے پاٹیداروں کے آندولن کی دھارکوکندکرنے کے ارادے سے وجے روپانی کی سرکارنے حال میں ایک نیاپاساپھینکاہے۔وزیراعلیٰ نے اندولن کاری پاٹیداروں سے بات چیت کیلئے تین رکن کابینہ سمیتی تشکیل کیا۔سمیتی میں نائب وزیراعلیٰ نتن پٹیل کے علاوہ کابینی وزیرچمن سپاریااورریاستی وزیرنانوبھائی بنانی شامل تھے۔اس سمیتی نے پاٹیدارامانت اندولن اوردوسرے طاقتورجماعت’سردارپٹیل گروپ سبھا‘ تنظیموں کے نمائندوں سے 26ستمبرکولمبی بات چیت کی۔بات چیت میں ہاردک پٹیل اورایس پی جی کے قدآورلیڈرلال جی بھائی پٹیل بھی شامل ہوئے ، لیکن نتیجہ ٹھن ٹھن گوپال ہی رہا۔پاٹیداروں کے یووانیتاہاردک پٹیل نے میٹنگ کے بعدصاف کہاکہ سرکارکے ساتھ بات چیت بے نتیجہ رہی۔لیکن اس مسئلے پرپہلی باربیک فٹ پرآئی گجرات سرکارنے آناً فاناً میں تین فیصلو ںکا اعلان کردیا۔
بہرحال سرکارنے اعلان کیاہے کہ 25اگست 2015کوجی این ڈی سی میدان پرہوئی پاٹیداروں کی تاریخی ریلی کے دوران پاٹیداروں کے خلاف درج ہوئے سبھی مقدمے سرکارواپس لے لیگی۔ساتھ ہی سرکارآندولن کے دوران مارے گئے لوگوں کے اہل خانہ کونوکری اورمالی مددبھی مہیاکرائے گی۔معلوم ہوکہ پاٹیدار-آندولن کے دوران 13لوگوں کی جان گئی تھی۔گجرات سرکارنے دوکمیشنوں کی تشکیل کی بھی منظوری دے دی ہے۔اس میں ایک کمیشن ریزرویشن کے دائرے میں نہ آنے والے سبھی طبقوں کے بہبودکیلئے ضروری اقدامات پراپنامشورہ دے گا۔یہ ’غیرمحفوظ جاتی کمیشن‘اس کی سماجی اقتصادی حیثیت کا جائزہ ہوگا، جوفی الحال زراعت ،تعلیم اورروزگارکے شعبہ میں فائدہ حاصل نہیں کررہے ہیں۔
دوسراکمیشن دوسال قبل پاٹیدارآندولن کے دوران ہوئی پولیس زیادتیوں کی جانچ کرے گا۔اس کمیشن کی قیادت میں ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کریں گے۔ان فیصلوں سے صاف ہے کہ سرکارجیسے -تیسے گجرات میں پاٹیداروں کے غصے کی آنچ کوجلد سے جلد ٹھنڈاکرناچاہتی ہے۔

 

 

 

 

دراصل پاٹیداروں کے بی جے پی مخالف تیوروں کوبھانپ کرکانگریس نے بھی پٹیلوں کورجھانے کی کوشش تیزکردی ہے۔شایداسی منشاسے راہل نے اپنے تین روزہ گجرات دورے کی شروعات تودواریکادھش مندرمیں پوجا-ارچناسے کی، لیکن ان کی نظریں پوری یاتراکے دوران پاٹیدارکمیونٹی کی ہلچلوں پرٹکی رہی۔اس لئے انہوں نے جہاں پاجکورٹ کے مشہورکھوڈل دھام مندرمیں ماتھاٹیکا،وہیں اونجھاکے امیاماتامندرمیں آرتی کی، یہی نہیں وہ چوٹیلامیں چامنڈاماتاکے درشن کرنے بھی گئے۔یہ تینوں مندرگجرات میں پاٹیداروں کی آستھاکے سب سے بڑے مرکزمانے جاتے ہیں۔امیاماتاکڈواپٹیلوں کی آرادھیہ دیوی ہیں۔ہاردک پٹیل اسی کڈواپٹیل کمیونٹی سے آتے ہیں۔اسی طرح کھوڈی یارماتاپاٹیداروں کے دوسرے بڑے دھڑے لیواپٹیلوں کی ایسٹ دیوی ہیں۔پورے مہاراشٹرمیں لیواپٹیلوں کا ہی بول بالا ہے، جبکہ کڈواپٹیل اہم طورسے شمال گجرات میں کثیرتعداد میں ہیں۔راہل نے پورے گجرات دورے میں جہاں مودی پرجم کرحملہ بولا، وہیں پاٹیداروں کوخوش کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی۔گجرات پردیش کانگریس کے جنرل سکریٹری ہیمانگ کاسودا نے قبول کیاہے کہ ہم نے راہل گاندھی سے کھیڈی یارماتاکے درشن کرکے انتخابی مہم شروع کرنے کا درخواست کیاتھا۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ گزرے کچھ سالوں میں کانگریس لگ بھگ سبھی اہم پاٹیدارنیتاپارٹی سے کناراکرچکے ہیں۔پارٹی سے توبہ کرنے والوں میں سابق نائب وزیراعلیٰ وٹٹھل رداڑیاں نرہری امین وغیرہ شامل ہیں۔وہ تباتے ہیں کہ کانگریس میں پاٹیداروں کونظراندازمادھوسنگھ سولنکی کے وزیراعلیٰ کے وقت میں شروع ہوئی تھی۔تب کانگریس نے KHAMیعنی علاقائی ہریجن ، آد یواسی ،مسلم اتحاد بنایاتھا۔اس دورمیں نظراندازکئے جانے سے متاثر پاٹیداردھیرے دھیرے بی جے پی میں شامل ہوگئے۔پچھلے تین انتخابات میں پوری مضبوطی اوردم خم سے بھاجپاکے ساتھ کھڑے رہے،تب بھی وہ بی جے پی اورمودی کے پالے میں ڈٹے رہے،جب پاٹیداروں کے بزرگ نیتاکیشوبھائی پٹیل نے بی جے پی کے خلاف ’شنکھناد‘ کردیااوراسے توہین اورسالمیت سے جوڑا۔لیکن اس بار حالات کسی کے لئے بھی اتنے آسان نہیں ہیں۔پاٹیداربی جے پی سے بفرے ہیں، پروہ اس باراپنے عزت کی لڑائی لڑنے کے موڈ میں ہیں۔اس لئے راہل گاندھی کے گجرات دورے کا ہاردک پٹیل نے اپنے میان میں استقبال توکیا لیکن کانگریس لیڈروں کی مان منوہارکے بعدبھی وہ ان کی استقبال کیلئے نہیں گئے۔ یوں توگجرات انتخابات کی تاثیرکومحسوس کرنے کیلئے وہاں کے سماجی تانے بانے کوبھی سمجھناضروری ہے۔پردیش کی 182اسمبلی سیٹوں میں سے 70پرپاٹیداروں کا زبردست اثرہے۔ان میں سے زیادہ ترسیٹیں سوراشٹراورشمال گجرات میں ہیں۔لیوااورکڈواپٹیلوں کے علاوہ پاٹیداروں کاایک طبقہ گوجرپٹیلوں کا بھی ہے۔سرکارپٹیل اسی گوجرکمیونٹی سے تھے۔چونکہ لیوااورکڈواپٹیلوں کا ایک بڑاطبقہ بھاجپاسے دوری بناچکا ہے، شایداسلئے بھاجپااب سردارپٹیل اورگوجرپٹیلوں کے سہارے پاٹیداروں کے بیچ نئے سرے سے اپنی پیٹھ بنانے کی پہل کررہی ہے۔بی جے پی صدرامیت شاہ کا سردارپٹیل کے جنم بھومی کرمسد سے اپنی’گجرات گورو-یاترا‘ شروع کرناپارٹی کی اسی مہم کا حصہ ماناجارہاہے۔
گجرات کی لڑائی سیاسی سے زیادہ سماجی ہوتی جارہی ہے۔وہاں کا پوراسماج ’دوج اورآدوج ‘ذاتوں کے دوخیموں میںتقسیم ہوگیاہے۔ دوج ذاتیوں میں برہمن ، ٹھاکر بنیاجہاں بھاجپاکے حمایت میں ہیں، وہیں ادوج -جاٹ ،مراٹھا، پاٹیداراوردلت طبقو ں نے اس کے خلاف مورچہ کھول دیاہے۔اس لئے گجرات میں ہاردک پٹیل ، الپیش ٹھاکراورجگنیش میوانی جیسے نوجوان نیتاوہاں بی جے پی کی آنکھ کی کرکری بن گئے ہیں۔الپیش ٹھاکرپسماندہ برادریوں کے اورجگنیش دلتوں کے یوواقیادت کے طورپرابھررہے ہیں۔گجرات میں پچھڑوں کی حصے داری کل آبادی 60فیصد ہے جبکہ دلت صرف7فیصدہیں۔ریاست کی 66فیصدسیٹوں پرپچھڑی ذاتیوں کے رائے دہندگان کا اچھاخاصا اثرہے۔بی جے پی اس سماجی سائنس کوبخوبی سمجھ رہی ہے اس لئے چوتھی باراقتدارمیں واپسی کی امیدمیں بھاجپاوہاں پاٹیداروں کی ناراضگی کے چلتے پچھڑاکارڈ چلانے کا بھی داؤ کھیل سکتی ہے۔
اس سب کے بیچ عام آدمی پارٹی بھی گجرات میں پاٹیداروں کے بیچ اپنی رسائی بنانے کی کوشش میں لگ گئی ہے۔ پچھلے دنوں کیجریوال اورہاردک پٹیل کے بیچ ہوئی ملاقات کے بعدسیاست تیزہوگئی ہے۔حالانکہ جلد ہی یہ تصویرصاف ہوگئی کہ آپ وہاں ’اکلاچلو‘ کاراگ ہی الاپے گی ۔دوسری جانب کانگریس کے لیڈردعویٰ کررہے ہیں کہ پاٹیداروں کے بیچ اسٹاربن چکے ہاردک پٹیل سے ان کی بات چیت آخری مقام پرہے۔صرف سیٹوں کے تقسیم کولیکرکچھ پیچ پھنساہے، جسے جلدہی سلجھالیاجائے گا۔ بی جے پی کاسردردیہ بھی ہے کہ وزیراعظم اورامیت شاہ کے تابڑتوڑگجرات دورے کے باوجودوہاں پاٹیداروں اورسرکارکے بیچ جمی برف پگھل نہیں رہی ہے۔اس بیچ وزیراعظم بلٹ ٹرین ،سردارسروورباندھ سے لیکرآئی آئی ٹی کیمپس کے’ لوکاپرن‘ تک کاپاساوہاں پھینک دیاہے۔اس کے بعدبھی امیت شاہ کے دورے کے درمیان پاٹیداروں کاان کے خلاف نعرے بازی ،دھرنامظاہرہکم سے کم بھاجپاکی نیندحرام کئے ہوئے ہے۔پاٹیدارخودکوبھوان رام کا ونش مانتے ہیں ۔ان میں لیواپٹیل اپنے کو’لو‘کا توکڈواپٹیل ’کوش‘ کا جانشین بتاتے ہیں۔ظاہرہے اس بارگجرات میں رام نام کے سہارے اقتدارمیں آئی بی جے پی کا رام کے ماننے والوں سے ہی دلچسپ مقابلہ ہونے کی امیدہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *