ملک کے عوام کو ووٹر شپ چاہیے یا یونیورسل بیسک انکم؟

بھرت گاندھی
وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار میںآنے سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آتے ہی بیرونی ممالک سے پیسہ لائیںگے اور ملک کے سبھی شہریوں کے کھاتے میں 15 لاکھ روپے جمع کرائیںگے۔ اقتدار میںآتے ہی انھوںنے زیرو بیلنس پر ملک کے شہریوںسے کھاتہ کھولنے کو کہا۔ کروڑوں کی تعداد میں’جن دھن‘ کے نام سے لوگوں نے کھاتے کھولے بھی، اس امید میںکہ شاید ان کے کھاتے میں پیسہ آئے گا، لیکن تین سال تک پیسہ نہیںآیا۔ اتر پردیش کے گزشتہ انتخاب سے قبل نریندر مودی جی نے ایک بارپھر عوام کو بھروسہ دلایا کہ وہ 15 لاکھ تو جمع نہیں کریںگے لیکن ملک کے غریبوں کے کھاتے میں 15 سو روپے ہر مہینے پینشن جمع کرائیںگے۔ اس پیسے کو انھوں نے یوروپ کی ایک اصطلاح دی، جسے کہا جاتا ہے ’یونیورسل بیسک انکم‘یو بی آئی‘۔اتر پردیش کے انتخابات جیتنے کے بعد انھوںنے مکرتے ہوئے کہا ، ’ملک کے عوام کو پیسہ نہیں چاہیے کیونکہ عوام کو ملک سے پیار ہے۔ ‘
مودی کے وعدے کی شروعات
لیکن مین اسٹریم کی میڈیا کے ذریعہ لوگوں کو صحیح جانکاری نہیں پہنچائے جانے کے سبب ملک میںبہت سے لوگ نہیں جانتے ہیں کہ نریندر مودی کی بیسک انکم کا تصور ان لائنوں کے راقم کی ایک اسکیم، ووٹر شپ اسکیم سے پیدا ہوئی ہے۔ ورنہ گجرات کے وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے وہ جن دھن جیسی کوئی اسکیم اپنی ریاست میں لاگو کرتے۔ ان لائنوں کے مصنف 1998 سے لگاتار یہ آواز اٹھاتے رہے ہیں کہ غیر ممالک میں مشینوں کی محنت سے جو پیداوار ہورہی ہے اور اس پیداوار کے بدلے جو نوٹ چھپ رہے ہیں، اس میںووٹروں کو حصہ دیا جائے۔ تنخواہ اور پینشن کے ذریعہ سرکار چلانے والے لوگوں کو خزانے میں حصہ ملتا ہے تو ووٹ دے کر سرکار بنانے والوں کو بھی خزانے میںحصہ دیا جائے۔ ملک کے قدرتی وسائل پانی ، دھوپ، کوئلہ، لوہا، ریت، ابرک، سونا، چاندی، ہیراوغیرہ کے بدلے سرکار نوٹ چھاپتی ہے۔ اس طرح سے قدرتی وسائل اور قدرتی مصنوعات کے بدلے چھپے ہوئے نوٹ میں ملک کے ووٹروں کو حصہ دیا جائے۔
یہ بات 137 اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا میںاور راجیہ سبھا میںسن 2005-08 کے بیچ اٹھائی۔ سیکڑوں دیگر اراکین پارلیمنٹ اس تجویز کی حمایت میں تھے، جس میں کئی آج کل مودی سرکار میں وزیر ہیں اور کئی کچھ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ ہیں۔ ووٹر شپ کی تجویز پارلیمنٹ کی ایکسپرٹ کمیٹی نے منظور کرلی۔ اس وقت یہ مانگ کی گئی تھی کہ ملک کی اوسط آمدنی کی آدھی رقم بڑھ کر 5896 روپے ہوگئی ہے۔ ووٹر شپ اسکیم کو عمل میںلانے کے کیے کانگریس قیادت نے چپکے چپکے من بنایا، اسی لیے اس نے لوگوں کا بینک کھاتہ کھولنے کے لیے آدھار کارڈ اسکیم چلائی۔ سبسڈی نقد دینے کی اسکیم چلائی، جس کے تحت گیس سلنڈر رکھنے والوں کو آج ان کے کھاتے میںپیسہ مل رہا ہے۔ کسانوں کو فرٹیلائزر کے بدلے سیدھے زمین کے تناسب میںنقد دینے کی بھی ضرورت ہے۔ سرکار اس پر بھی کام کررہی ہے۔ لیکن کانگریس چپکے چپکے جو کام کررہی تھی، اسے ملک کے امراء سمجھ گئے اور انھیںمعلوم ہوگیا کہ ملک کے ووٹروں کا جو پیسہ ان کے پاس پہنچا ہے، کانگریس اسے وصول کرکے ووٹروں کے پاس پہنچا دے گی، اس لیے کانگریس کو اقتدار سے ہٹانا ضروری ہوگیا۔ انّا آندولن اسی سازش کے تحت رچا گیا تھا، جس میںسیکڑوں ٹی وی چینل پیسہ دے کر لگائے گئے۔
جب نریندر مودی نے اقتدار سنبھالا تو یہ لالچ ان کے دل میںبھی رہا کہ جس طرح کانگریس نے ملک میںووٹر شپ اسکیم لاگو کرنے کا من بنایا تھا، اسی طرح وہ بھی ووٹرشپ اسکیم کو لاگو کریں۔ انھوںنے اس کے لیے لوگوںکو بینک کھاتہ کھولنے کو کہا، جس کو’ جن دھن یوجنا‘ کہا گیا اور انھوں نے 15 سو روپے لوگوں کے بینک کھاتے میںبغیر کچھ کام کیے اور بغیر کسی امتحان کے دینے کا اعلان کیا۔ لیکن یہ کریڈٹ کہیں ووٹر شپ اسکیم کے خالق یعنی راقم الحروف (بھرت گاندھی) کو نہ مل جائے اور ان کے حامی اراکین پارلیمنٹ کو یہ کریڈٹ مل جائے، اس لیے انھوںنے اس کے لیے یوروپ سے درآمد کرکے ایک نیا نام رکھا، جس کو کہا گیا ’یونیورسل بیسک انکم‘ یو بی آئی۔

 

 

 

 

 

کون صحیح ووٹر شپ یا مودی جی؟
آج ملک کے لوگوں کے لیے یہ جاننا ضروری ہوگیا ہے کہ کون صحیح ہے، ووٹر شپ صحیح ہے یا نریندر مودی جی کی’ یونیورسل بیسک انکم‘۔ ان دونوںکا تقابلی مطالعہ ملک کے شہریوں کے سامنے رکھا جانا چاہیے۔ حقیقت میںیونیورسل بیسک انکم ویلفیئر اسٹیٹ اور سماجوادیوں کے ذریعہ عوام پر کیا گیا رحم ہے اور ان کو بھیک کی شکل میںایک ڈالر روز دینے کی تجویز ہے۔ لیکن ووٹر شپ سرکار کے ذریعہ عوام پر کیا گیا رحم نہیںہے، یہ جمہوریت کے اصولوںسے پیدا ہوا نظریہ ہے۔ یہ عوام کا حق ہے، جس میںوہ سرکار بنانے کی فیس لے سکتا ہے، مشینوں کی محنت میںحصہ لے سکتا ہے اور قدرتی وسائل میںنقد حصہ لے سکتا ہے۔
یونیورسل بیسک انکم ان تین باتوں میںسے صرف ایک بات کی وکالت کرتی ہے کہ قدرتی وسائل میں سب کا حصہ ہے۔ یونیورسل بیسک انکم یہ نہیں بتاتی ہے کہ ایک جمہوری ریاست میںووٹر ریاست کی شکل میں کمپنی کا اصل مالک او رشیئر ہولڈر ہوتا ہے، اس لیے کمپنی کے منافع میںجس طرح شیئر ہولڈروںکو حصہ ملتا ہے، اسی طرح ایک جمہوری اسٹیٹ کے مالکان کو یعنی ووٹروں کو ملک کی خوشحالی میںحصہ ملنا چاہیے۔ اگر ملک کی امیری بڑھے تو ہر ایک ووٹر کی امیری بڑھنی چاہیے اور ملک کی امیری گھٹے تو ہر ایک ووٹر کی امیری گھٹنی چاہیے۔ ووٹر شپ ملک کے ترقی سے ووٹرکا رشتہ جوڑتی ہے لیکن یونیورسل بیسک انکم ایسا نہیں کرتی۔ وہ صرف اتنا کرتی ہے کہ شہریوں کو کھانے پینے و جینے کے لیے کم از کم جتنے پیسے کی ضرورت ہے، وہ ان کے کھاتے میں بغیر کسی کام کے اور بغیر کسی امتحان کے بھیجا جائے۔ ووٹرشپ بھی یہی چاہتی ہے کہ بغیر کسی کام کے اور بغیر کسی محنت کے ووٹروں کے کھاتے میں ووٹر شپ کی رقم تقریباً 5896 روپے بھیجی جائے۔ کیونکہ یہ قدرتی املاک کا کرایہ ہے، یہ مشنیوں کے ذریعہ پیدا کئے گئے دھن دولت میںووٹروں کا حصہ ہے اور یہ سرکار بنانے کی فیس اور سرکار کی شکل کی بلڈنگ کا اس بلڈنگ کے مالک کو ملنے والا کرایہ ہے۔ جتنی منطقی ووٹر شپ ہے اتنی منطقی اور جمہوری یونیورسل بیسک انکم نہیںہے۔
یونیورسل بیسک انکم شہریوں کے سوابھیمان کو نہیں بڑھاتی ہے لیکن ووٹر شپ شہریوں کے سوابھیمان کو بھی بڑھاتی ہے۔ شہریوں میں یہ احساس کراتی ہے کہ یہ ملک ان کا اپنا ہے اور ان کی اپنی سرکار کا منافع ان کو مل رہا ہے۔ یہ ملک کے تئیںبہت اٹیچمنٹ پیدا کرتی ہے جو بیسک انکم نہیں کرتی۔ بیسک انکم کی رقم بھی اتنی چھوٹی ہے کہ اس سے انسان زندہ تو رہ سکتا ہے لیکن اتنی رقم سے وہ کچھ کر نہیں سکتا۔ بیسک انکم کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہ سب کو نہیں ملے گی۔ اس لیے بیسک انکم پروگرام کے اہل اور نا اہل کرنے کا حق انتظامیہ کو ہوگا اور انتظامیہ بیسک انکم کا سرٹیفکٹ صرف اسی کو دے گا، جس سے رشوت پائے گا۔

 

 

 

 

 

یونیورسل ہے ووٹر شپ
اس طرح ضرورت مند آدمی رشوت دینے میںناکام ہو جائے گا اور بیسک انکم کی رقم ان لوگوں کے کھاتے میںچلی جائے گی جن کو وہ ملنی نہیں چاہیے۔ ووٹر شپ حقیقت میںیونیورسل ہے، حقیقت میںبیسک ہے او رحقیقت میںانکم ہے کیونکہ یہ ہر ووٹرکو دی جانی ہے۔ اس میںامیر و غریب کا فرق نہیں کرنا ہے۔ اس میں انتظامیہ کے رشوت لینے کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے اور ضرورت مند تک یہ رقم پہنچ سکتی ہے۔ ووٹر شپ اسکیم لاگو کرنے میں کوئی بدعنوانی نہیںہوسکتی لیکن یونیورسل بیسک انکم اسکیم لاگو کرنے میں بدعنوانی نہیں روکی جاسکتی۔
برازیل سرکار نے یہ غلطی کی ہے۔ ا س نے ڈیموگرینٹ کے نام سے ووٹرشپ اسکیم کو 2003 میں لاگو کیالیکن آج اس اسکیم میں بھاری بدعنوانی ہے۔ اسی لیے میں نے (راقم الحروف) پارلیمنٹ میں جو تجویز رکھی تھی ، اس میںکہا گیا تھا کہ انکم ٹیکس دینے والوں کو اس اسکیم سے بھلے ہی الگ رکھا جائے باقی دیگر کسی کو الگ نہیں رکھا جانا چاہیے۔ اگر ووٹر شپ اسکیم لاگو ہو جائے تو ملک کا ہر بچہ پڑھے گا، ہر لڑکی پڑھے گی، چاہے وہ امیر کی ہو یا غریب کی۔ جب لڑکیاں اعلیٰ تعلیم لیں گی تو شادی کے بعد زیادہ بچہ پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گی۔ اس سے آبادی کا دھماکہ خیز مادہ رک جائے گا۔ آج جو بے روزگار لوگ کوئی کام نہیںکررہے ہیں، ان کا ہاتھ بند ہوگیا ہے اور دماغ بھی بجھتا جارہا ہے، ووٹرشپ ملتے ہی ان کے دماغ فعال ہوجائیںگے اور ہاتھ کا کام بھلے ہی نہ ملے لیکن دماغ کام کرنے لگے گا اور آج کے کروڑوں بے روزگار لوگ پروڈکشن کرنے لگیں گے۔ بزرگوں کو جب پیسہ ملے گا تو ان کا ہر بچہ چاہے گا کہ ان کے والدین ان کے اپنے گھر میں رہیں۔ عزت و وقار کے ساتھ جینے والے لوگ وقار و عزت کے ساتھ ہی اپنے گھر میںسانس لیں گے۔
اس تجویز کے فائدے؟
ووٹر شپ ملے گی تو اقتصادی عدم مساوات میںخود ہی تسلسل ہوجائے گا۔ اب کھرب پتیوں کے پاس اتنا پیسہ نہیں بچے گا کہ وہ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، ممبر پارلیمنٹ اور ایم ایل اے کی منڈی چلائیں۔ ان کی خرید و فروخت کریں اور کسی سرکار کو گرانے کا اور کٹھ پتلی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ بنانے کا ٹھیکہ لے پائیں۔
اس تجویز کے سیکڑوں فائدے ہیں، جن کو دیکھ کر ماہر آئین ڈاکٹر سبھاش کشیپ اور ماہر معاشیات ڈاکٹر بھرت جھن جھن والا نے راجیہ سبھا سکریٹریٹ میں ووٹر شپ کے حق میں اپنا بیان پیش کیا اور وزارت خزانہ کے آئی اے ایس افسروں کی مخالفت کو ناکام کردیا۔ نتیجتاً ووٹر شپ کی تجویز راجیہ سبھا سکریٹریٹ میں 2 دسمبر 2011 کو منظور ہوگئی لیکن 12سال گزرنے کے بعد بھی سرکار نے ووٹر شپ کے لیے کوئی قانون نہیںبنایا۔ نہ تو کانگریس نے بنایا، نہ ہی مودی سرکار نے۔ حقیقت میں 2019 کا الیکشن ووٹر شپ کے مدعے پر لڑا جانا چاہیے اور سبھی پارٹیوں کو اپنی رائے کھل کر ظاہر کرنی چاہیے کہ وہ ملک کے شہریوں کو ووٹر شپ کا حق دیں گی یا یونیورسل بیسک انکم کا جھنجھنا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *