یمن، سعودی عرب کے لئے دلدل بنتا جارہا ہے

ریاض اب بھی اس سوچ میں پڑا ہے کہ عسکری حوالے سے نہ سہی کم ازکم سیاسی حوالے سے ہی یمن ایشو پر کچھ کامیابی حاصل ہو جائے یا کم ازکم دن بدن آکٹوپس کی طرح لپٹتے اس مسئلے سے کچھ اس طرح جان چھڑ ائی جائے کہ دنیا کے سامنے فاتح ثابت نہ ہوں تو کم ازکم شکست خوردہ تو نہ کہلائیں۔ یہ خلاصہ ہے ان خبروں اور تبصروں کا جو مسلسل عربی زبان کے اہم اخبارات اورعالمی میڈیا کے ایک حصے کی زینت بنتے چلے آرہے ہیں۔
یمن پر سعودی حملہ
مارچ 2015میں سعودی عرب کے موجودہ ولی عہد اور اس وقت وزیر دفاع محمد بن سلمان نے سیاسی عدم استحکام اور معاشی طور پر انتہائی بدحال ملک یمن پر چڑھائی کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ بن سلمان کی جانب سے اس وقت یمن پر چڑھائی کے بارے انتہائی اطمینان اور یقین کے ساتھ کہا گیا تھا کہ یہ عمل ’’فوری اور سرجیکل‘‘ ہو گا۔ ناتجربہ کار جذباتی شہزادے کو اس وقت بڑے بڑوں نے سمجھانے کی کوشش کی تھی کہ یمن ایک دلدل ہے یہاں جو بھی گھسنے کی کوشش کرتا ہے اسے نہ صرف واپسی کا راستہ نہیں ملتا بلکہ وہ اس طرح پھنستا چلا جاتا ہے جیسے کوئی چیز آکٹوپس کے پنچوں میں پھنستی ہے، جس قدر بچاو کی کوشش کرتا ہے آکٹوپس کے حصار میں مزید پھنستا چلا جاتا ہے۔
اس وقت مصرجیسا ملک مضبوط فوجی طاقت کے باوجود عملی طور پراس پورے عمل سے دامن بچاتا رہا، مصر یقینا اس وقت کو نہیں بھولا تھا کہ جب اسے ماضی میں یمن سے اپنے فوجیوں کی لاشیں اٹھانے تک کا موقع نہیں ملا تھا اور فرار ہونا پڑا تھا۔ ناتجربہ کار اور گھمنڈ میں مبتلا شہزادے کو اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ یمن پر چڑھائی کا نتیجہ عوامی انتفاضہ کی شکل میں نکل سکتا ہے جہاں مرد تو مرد خواتین بھی اس جارحیت کے آگے مقابلے کے لئے مردوں کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہوسکتیں ہیں۔
یمن میں بنیادی طور پر چار اہم قوتیں موجود ہیں جن میں سب سے مضبوط ترین سیاسی انتظامی اور عسکری قوت انصار اللہ پارٹی کی ہے کہ جس میں یمن کے انتہائی اہم اور موثر قبائل شامل ہیں جن میں نمایاں طور پر حوثی قبیلہ ہے جس کے افراد انتہائی پڑھے لکھے، ملکی نظم ونسق چلانے کی مہارت کے ساتھ ساتھ عسکری حوالے سے بھی انتہائی مضبوط قوت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ 1962 میں یمن میں بادشاہی نظام کے خاتمے کے بعد حوثی قبائل نے تیزی کے ساتھ زندگی کے مختلف شعبوں میں انتہائی آرگنائز انداز سے خود کو منوایا ہے۔ ایک طرف جہاں اس قبیلے میں خود اندرونی طور پر زبردست قسم کی مرکزیت پائی جاتی ہے تو دوسری جانب یہ قبیلہ دوسرے قبائل اور مکاتب فکر کے لئے بھی کھلی گنجائش رکھتا ہے۔ ماضی میں حوثی قبیلے کے ساتھ تسلسل کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور زیادتیوں نے اس قبیلے کوایسے تجربات سے گزارا ہے کہ وہ ہرقسم کے دبائو کا سامنا کرنے کی صلاحیت رکھنے کے ساتھ ساتھ مدمقابل کی چالوں اور ہتھکنڈوں کا بروقت تدارک بھی کرسکتے ہیں۔ بنیادی طور پر حوثی قبیلہ کے افراد تمام قبائل میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہونے کے سبب جمہوریت اور مشترکہ عمل پر یقین رکھتے ہیں ۔وہ یمن میں ایک شفاف جمہوریت کی ہمیشہ سے خواہش کرتے آئے ہیں۔
دوسری قوت یمن کے سابق ڈکٹیٹر علی عبداللہ صالح ہیں کہ جن کا پس منظر فوج سے تعلق رکھتا ہے اور 1962 کے انقلاب میں اس کے کردار نے اسے شہرت دی اور یوں1990 سے لے کر 2011 تک اس نے یمن پر حکمرانی کی۔ علی عبداللہ صالح اور ان کی پارٹی پاپولر کانفرنس کو عرب عوامی تحریک کی لہر سے متاثرہ یمنی عوامی احتجاجی تحریک کے سبب اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ہمسائیہ ملک سعودی عرب جو کہ عرب دنیا میں ڈکٹیٹروں اور بادشاہوں کیخلاف اٹھنے والی عوامی تحریکوں سے پہلے سے ہی سخت ہراساں تھا اور وہ قطعی طور پر نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہمسائے میں کم ازکم کسی قسم کی تبدیلی واقع ہو، لہٰذا شروع میں اس نے علی صالح کی مدد کرنے کی کوشش کی لیکن عوامی مقبولیت کے فقدان اور زمینی حقائق کے بدلنے سے سعودی عرب کو اس کوشش کا کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا۔ اس کے بعد سعودی عرب کی کوشش تھی کہ یمن کی عبوری حکومت کے دورانئے کو ہی طول دے اور عبوری صدر منصور ہادی کو ہی مستقل قانونی صدر بنائے رکھے لیکن عوامی احتجاج کے بعد منصور ہادی کو اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب جانا پڑا اور یہیں سے سعودی عرب کی یمن پر چڑھائی کا آغاز ہوا۔

 

 

 

 

انصار اللہ -علی صالح اتحاد
صدر منصورہادی کی عبوری حکومت کی بحالی کے نام پر سعودی عسکری حملوں کو یمن کی اکثریت نے جارحیت سے تعبیر کیا اور یہ وہ نکتہ تھا کہ جہاں بہت سی سیاسی جماعتوں اور پارٹیوں نے باہمی رسہ کشی کو ترک کر کے اس جارحیت کے مقابلے کے لئے خود کو تیار کیا۔ یوں انصار اللہ اور سابق صدر علی صالح کے درمیان بھی اتحاد وجود میں آیا۔ اگرچہ علی صالح اور انصاراللہ کے درمیان موجود اس اتحاد کے بارے میں بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر فطری اتحاد ہے کہ جس کی بنیاد صرف اور صرف بیرونی جارحیت کے سبب پیدا ہونے والی صورتحال ہے۔
واضح رہے کہ علی صالح کا بیٹا احمد صالح گزشتہ کئی سالوں سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہے جبکہ بعض ذرائع ان کی نظر بندی کے بارے میں خبریں نشر کرتے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ متحدہ عرب امارات یہ امید رکھتا ہے کہ وہ علی صالح کو ان کے بیٹے احمد کے توسط سے اس بات پر مجبور کرے گا کہ انصار اللہ سے اتحاد ختم کر دے اور اس کے ایجنڈے پر عمل کرے۔ دوسری جانب یمن پر چڑھائی نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں بڑھتی نزدیکیوں میں بھی مزید اضافہ کر دیا جو عرب ممالک میں عوامی تحریکوں کے خلاف مشترکہ حکمت عملی کے لئے جدوجہد کی صورت میں پہلے سے قائم ہو چکی تھیں۔
یمن کی تیسری بڑی قوت اخوان المسلون کی اصلاح پارٹی ہے۔ اصلاح پارٹی بھی قدرے آرگنائزڈ اور نسبتاً عوامی پذایرائی رکھنے والی پارٹی ہے کہ جس نے 2011 میں یمنی عوامی تحریک میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ اصلاح پارٹی کے اخوانی نظریے (دینی سیاسی سوچ) نے اسے بھی سعودی عرب اور متحدہ امارات کے مد مقابل لاکر کھڑا کر دیا ہے. عرب تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اصلاح پارٹی باوجود اس کے کہ انصار اللہ کے ساتھ سیاسی و سماجی مقابلے کی ایک حد تک صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس کے اخوانی بیک گراونڈ کے سبب بادشاہی نظام پر چلنے والے سعودی عرب اور امارات اسے اپنا پہلا دشمن سمجھتے ہیں جیسا کہ مصر میں وہ اخوانی حکومت کو بالکل بھی برداشت نہ کر سکے۔
چوتھی بڑی قوت جنوبی یمن والے (جنوبیوں) کی ہے۔ در حقیقت جنوبی یمن کی علیحدگی پسند تحریک ہے جو 1990 میں شمالی اور جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے وجود میں آئی ہے، جن کا مرکزی حکومت پر ہمیشہ یہ اعتراض رہا ہے کہ وہ جنوبی یمن کے حوالے سے امتیازی رویہ رکھتی ہے۔ اس تحریک میں کچھ قبائل اور سابق فوجی افراد کی موجودگی، نیز جنوبی یمن میں شدت پسند اور دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی، جیسے القاعدہ اور انصار شریعت نے اسے کافی اہمیت دی ہے۔
عرب تجزیہ کاروں کے مطابق متحدہ عرب امارات کے یمن میں مخصوص اور کنفیوز کر دینے والے ایجنڈوں نے اس تحریک کی عوامی پذیرائی کو انتہائی کم کر دیا ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں اس تحریک سے وابستہ شخصیات اور اس کے عسکری ونگ کو کبھی اماراتی ایجنڈوں پر عمل کرتے دیکھا گیا ہے تو کبھی مخالفت کرتے۔ یوں عملی طور پر یہ تحریک اور اس سے وابستہ عوام شدید کنفیوژن کا شکار ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات جنوبی یمن میں ہر اس جماعت اور گروہ کا پیچھا کر رہا ہے جو مذہبی سیاسی نظریے کا حامل ہو۔ ایک طرف جہاں امارات پر یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ جنوبی یمن کی اس تحریک کی حمایت کر رہا ہے تاکہ یمن کے پھر سے دو حصے ہوں، وہیں پر عملی طور پر یہ بھی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ اب تک کوئی بھی ایسا قابل عمل ایجنڈہ سامنے نہیں آیا کہ جس سے یمن کی تقسیم واضح ہو۔
اگرچہ اس کنفیوڑن نے یمن کے جنوبی حصے میں بدترین قسم کی بے چینی پھیلائی ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے قبائل اب بھی جنوبی یمن کی علاحدگی کو پسند نہیں کرتے اور نہ ہی یمن کے دیگر حصے اس قسم کیعلاحدگی کو برداشت کریں گے۔ عرب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت یمن کی مضبوط قوت انصار اللہ ہی ہے کہ جس نے علی صالح کی پاپولر پارٹی کے ساتھ اتحاد بنانے کے بعد مزید مضبوطی حاصل کر لی ہے۔
تجربہ ناکام رہا
سعودی عرب کی یمن پر چڑھائی کا ایک اہم مقصد انصاراللہ کی قوت کوختم کرنا تھا لیکن اب قریب ڈھائی سال بعد ہر گزرتا دن سعودی عرب کو یقین دلا رہا ہے کہ اس کا فوری سرجیکل آپریشن نہ صرف بری طرح ناکام ہوا بلکہ وہ یمن کے آکٹوپس کی گرفت میں اس بری طرح پھنس چکا ہے کہ اس کے سامنے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ وہ صرف اپنی جان چھڑانے کی کوشش کرے۔ عرب میڈیا میں نشر ہونے والی لیکس کے مطابق مسند شاہی پر براجمان ہونے کے خواب دیکھنے والا جوان شہزادہ بن سلمان اب یمن جنگ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ خواہ اس کے لئے اسے یمن کی شرائط کو ہی کیوں نہ ماننا پڑے۔ بن سلمان اچھی طرح جان چکا ہے کہ یمن جنگ کو مزید طول دینے کا نتیجہ اندرونی مسائل کو بڑھاوا دینا ہے، پہلے سے ہی یمن پر چڑھائی کے فیصلے سے نالاں خاندان کے بڑے بن سلمان کی ولی عہدی سے سخت چراغ پا ہیں جبکہ قطر کے ساتھ جاری کشیدگی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔
عالمی سطح پر یمن کی تباہ حال صورتحال اور پھیلتے وبائی امراض کے سبب سعودی عرب پر دباو بڑھتا جا رہا ہے اور اب حال ہی میں امریکہ میں تعینات اماراتی سفیر کی لیک ہونے والی ای میلز نے بن سلمان کو یہ سمجھنے پر مجبور کر دیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اس کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے کہ اس نے یمن میں سویلین کے قتل عام کی تمام تر ذمہ داری سعودی عرب پر ڈالی دی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *