سیلاب کنٹرول و باندھ سیکورٹی میں لاپرواہی کیوں

اس سال ہندوستان میں باڑھ،سیلاب کا قہر آدھا درجن ریاستوں میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تقریباً ایک ہزار لوگ کی موت ہوچکی ہے۔حال ہی میںجولائی 2017 میں ہندوستان کے کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل یعنی کیگ نے پارلیمنٹ میںسیلاب اور باندھ سیکورٹی کے اوپر ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ باندھ سیکورٹی کو لے کر اور باڑھ کے تعلق سے کیسی لاپروہی ہے۔ پارلیمنٹ میں 21 جولائی کو یہ آڈٹ رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے سیلاب کی پیش گوئی کا نظام، پوسٹ فلڈ مینجمنٹ کے شعبے میں کمزور ہے۔ یہ رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ریاستوںکو دیا گیا سینٹرل فنڈ بہت کم تھا اور اس میںسیلاب مینجمنٹ کے پروجیکٹس میںتاخیر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
کیگ رپورٹ کے انکشافات
آڈٹ کے مطابق ملک کی15 ریاستوںمیںاگست 2016 تک سیلاب کا پہلے سے اندازہ لگانے کے لیے کوئی سسٹم نہیںتھا۔ اس میںراجستھان، ہماچل پردیش،کیرل اور منی پور جیسے سیلاب سے متاثرہ ریاستیں شامل ہیں۔ 11 ویںپنج سالہ منصوبہ (2007-2012) کے دوران 219 ٹیلی میٹری اسٹیشن، 310 بیس اسٹیشن اور 100 ایف ایف اے ایس قائم کرنے کا ہدف تھا۔ اس ہدف کے مقابلے میں صرف 56 ٹیلی میٹری اسٹیشن قائم کیے گئے۔ 2015 میںجھیلم پر صرف ایک ایف ایف ایس قائم کیا گیاتھا، وہ بھی ستمبر 2014 کے تباہ کن سیلاب کے بعد۔ صورت حال تب اور بھی زیادہ غیریقینی بن جاتی ہے جب زیادہ تر ٹیلی میٹری اسٹیشن نن فنکشنل ہیں۔ ملک بھر میںقائم 375 ٹیلی میٹری اسٹیشنوں میںسے 222 یعنی 59 فیصد کام نہیں کررہے ہیں۔رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ ہندوستان کے زیادہ تر باندھ میںایمرجنسی ایکشن پلان نہیں ہے۔ راجستھان کے 200 اور اوڈیشہ کے 199 باندھ میں سے کسی میںبھی ایمرجنسی پلان نہیںہے۔ گجرات اور مغربی بنگال کا بھی یہی حال ہے۔ اس کے علاوہ اگست 2010 میں لوک سبھا میں پیش کیے گئے ’دی ڈیم سیفٹی بل‘ جو معائنہ ، باندھوںکا رکھ رکھاؤ اور نگرانی یقینی بنانے کے لیے ہے، وہ ابھی تک لاگو نہیں کیا گیا۔ پارلیمنٹ کے پچھلے سیشن میں اس پر بحث ہونی تھی، لیکن نہیںہوئی۔
اس کے علاوہ ملک کی سب سے زیادہ سیلاب ممکنہ ریاستوں نے ابھی تک سیلاب کے لیے مخصوص علاقوں کی حدبندی نہیںکی ہے۔ 1981 میں راشٹریہ باڑھ آیوگ (آر بی اے) نے ریاستوں اور سنگھ کے زیر انتظام ریاستوں کے مخصوص باڑھ ممکنہ زون کی تصدیق کرنے کی سفارش کی تھی، آیوگ نے اسکیموں کو تیار کرنے اور سالانہ نقصان کو کم کرنے کے لیے ان کی پہچان کی تھی۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق جولائی 2016 تک، 17 ریاستوں اور رمرکز کے زیر انتظام ریاستوںمیںسے صرف آسام اور اترپردیش نے آر بی اے کی تشخیص کی توثیق کی تھی۔ ظاہر ہے کہ سیلاب کے انتظام کے لیے دولت کی کمی ایک اہم کڑی ہے۔

 

 

 

 

 

ندی جوڑو پر اسکیم
ہندوستان ایک زراعتی ملک ہے۔ آج بھی یہاں تقریباً 60فیصد آبادی روزی روٹی کے لیے زراعت پر انحصار کرتی ہے۔ سینچائی کے تمام وسائل کے ڈیو لپمنٹ کے باوجود ملک میںزراعت بہت حد تک مانسون کی بارش پر ہی منحصر ہے۔ اسی لیے مانسون کاانتظار کسان سے لے کر سرکار تک سب کو ہوتا ہے۔ لیکن مانسون کی پہیلی کو آج تک سلجھایا نہیںجاسکا ہے۔ ملک کا ایک حصہ جب خشک سالی کا شکار رہتا ہے تو وہیںدوسرا حصہ غرقاب رہتا ہے۔ ایک ہی علاقے میں کبھی اتنی بارش ہو جاتی ہے کہ سبھی چھوٹی بڑی ندیاں ابلنے لگتی ہیں۔ کبھی اتنی کم بارش ہوتی ہے کہ خشک سالی کی حالت پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سال بھی ملک کے الگ الگ حصوںمیںسیلاب نے خوفناک تباہی مچائی ہے۔ سیکڑوں لوگوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے ہیں۔ کروڑوں روپے کی جائیداد کا نقصان ہوا ہے۔ باڑھ کی روک تھام اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے باڑھ ممکنہ ندیوں کے کناروں پر پشتے بنائے گئے ہیں۔ بڑی ندیوںپر باندھ بناکر انھیں نہروں سے جوڑا گیا ہے۔ ندی جوڑو پریوجنا(ریور لنکنگ پروجیکٹ) بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ندی جوڑنے سے قبل کی کوشش
دراصل ملک کی بڑی ندیوں کو جوڑنے کی تجویز 150 سال پرانی ہے۔ سال 1858میںبرطانوی جنرل اور سینچائی انجینئر ہندوستان کی ندیوں کاویری، کرشنا اور گوداوری پر کاٹن کی نگرانی میں کئی سینچائی پروجیکٹ بنائے جاچکے تھے۔ گنگا اور گوداوری کو جوڑنے کا مقصد برطانیہ ہندوستان میں کالونی کے کام کو صحیح ڈھنگ سے چلانے کے لیے آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ تک جایا جاسکے۔
لیکن وسائل کے فقدان میںیہ پروجیکٹ شروع نہیںہوسکا۔ آزادی کے بعد 1970 کی دہائی میں سابق سینچائی وزیراور ڈیم ڈیزائنر ڈاکٹر کے ایل راؤ نے نیشنل واٹرگرڈ بنانے کی تجویز رکھی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ گنگا اور برہم پتر ندی کی گھاٹیوںمیںضرورت سے زیادہ پانی رہتا ہے اور ان کے جل گرہن علاقے میںہمیشہ باڑھ آتی رہتی ہے جبکہ وسط اور جنوبی ہند میںپانی کی کمی سے خشک سالی کی صورت بنی رہتی ہے۔ ان کی تجویز تھی کہ گنگا برہم پتر کے سر پلس پانی کو پانی کی کمی والے علاقوں میںموڑ دیا جائے۔
سال 1980 میں اس وقت کی آبی وسائل وزارت نے ایک رپورٹ جاری کی تھی،جس کے تحت آبی وسائل کے ڈیولپمنٹ کو ہمالیائی اور پیننسولر دو حصوں میںبانٹا گیا تھا۔ 1980 میں کانگریس اقتدر میںآئی اور اس نے اس پروجیکٹ کو ختم کردیا۔ سال 1982 میںنیشنل واٹر ڈیولپمنٹ ایجنسی (این ڈبلیو ڈی اے) کے تحت ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل کی گئی تھی۔اس کمیٹی کو تالابوں اور نہروں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ پیننسولر ندیوں کو جوڑنے کے امکانات کا پتہ لگانے کا کام دیا گیا تھا۔ این ڈبلیو ڈی اے نے 30 سال بعد 2013 میںاپنی رپورٹ پیش کی تھی لیکن اس پروجیکٹ پر ابھی اتک کام نہیںہوسکا ہے۔ بہرحال ایک طویل وقفے کے بعد سال 1999 میںاٹل بہاری واجپئی کی قیادت میں این ڈی اے کی سرکار نے ایک بار پھر ندی جوڑو پروگرام کو زمین پر اتارنے کی کوشش کی اور اس کے مطالعے کے لیے ایک ورکنگ گروپ کی تشکیل کی۔ اس وقت گروپ نے اس پروجیکٹ کو دو حصوں میںبانٹنے کی سفارش کی۔ پہلے حصے میںجنوبی ہند کی ندیاں شامل تھیں، جنھیںجوڑ کر 16 کڑیوںکی ایک گرڈ بنائی جانی تھی۔ہمالیائی حصے کے تحت گنگا، برہم پتر اور ان کی معاون ندیوں کے پانی کو اکٹھا کرکے کا منصوبہ بنایا گیا،جس کا استعمال سینچائی اور بجلی کے پروجیکٹوں کے لیے ہونا تھا لیکن 2004 میںسرکار بدلنے کے بعد یہ معاملہ پھر سے ٹھنڈا پڑ گیا۔
ندی جوڑنے کے منصوبے
آبی وسائل کے ذریعہ تیار نیشنل پرسپیکٹوپلاننگ (این پی پی ) کے تحت ، راشٹریہ جل وکاس ایجنسی (این ڈبلیو ڈی اے) نے پہلے ہی فیلڈ سروے اور مطالعے کی بنیاد پر پانی کے بیسن ٹرانسفر کے لیے ہمالیائی ندیوں کے تحت 14 لنک اور پیننسولر ندیوں کے تحت 16 لنک کی پہچان کی ہے۔ فی الحال پیننسولر فیکٹر کے تحت 14 لنکس اور ہمالیائی فیکٹر کی 2 لنک کی امکانی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔ ان سبھی پروجیکٹوں کی لاگت ساڑھے پانچ لاکھ کروڑ کااندازہ ہے۔ مرکزی آبی وسائل کی وزیر اوما بھارتی کا ماننا ہے کہ اگر ریاستوں نے ٹھیک سے تعاون کیا تو تیزی سے کام کرتے ہوئے اگلے سال سے 10 سال کے اندر یہ پروجیکٹ پورا کیا جاسکتا ہے۔ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس سے کئی علاقوں میںخشک سالی اور سیلاب کے مسئلے سے نجات ملے گی۔ اس کے علاوہ اس پروجیکٹ سے بڑی مقدار میںبجلی پیداوار کی بات بھی کہی جارہی ہے،جس سے ملک کی اقتصادی پیش رفت کا راستہ اور چوڑا ہوگا۔
پروجیکٹ پر اٹھنے والے سوالات
ظاہر ہے جن مقاصد کے مدنظر ملک کی ندی گھاٹیوںکو جوڑنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، اس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ بہرحال اگر یہ منصوبہ پہلے آگے نہیں بڑھا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے منصوبے کی تاریخ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے عمل کو لے کر کچھ اختلافات ضرور ہیں جس کی وجہ سے بار بار اس سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ پھر بھی یہ ضرور ہے کہ اس منصوبے سے اٹھنے والے سوالوں کا جواب ڈھونڈ کر ایمانداری سے باڑھ کنٹرول اور باندھ سیکورٹی کے لیے راستے تلاش کیے جائیں ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *