گاندھی میوزیم بابائے قوم کے آدرشوں سے دور کیوں؟

آج باپو کی روح موتیہاری کے چمپارن ستیہ گرہ اسمارک کو دیکھ کر کراہ اٹھتی ہوگی کیونکہ اسمارک میںوہی سب کچھ ہوتا ہے، جس سے باپو دور رہنے کی تعلیم دیتے تھے۔ انتظام، رکھ رکھاؤ، سلوک، ضابطوں پر عمل ، سب کچھ باپو کی سوچ کے برعکس۔
مہاتما گاندھی دور اندیش تھے۔ زمانے سے آگے کی سوچ کر اپنی رائے رکھتے تھے۔ ان کی باتیںآج بھی اتنی ہی ریلیونٹ ہیں جتنی سو سال پہلے تھیں۔ اسی لیے انھوںنے بڑے بڑے اسمارک کی جگہوںپر ہی یادگار مقام بنانے کی بات کہی تھی۔ کستوربا گاندھی کے انتقال کے بعد کچھ پیروکاروں نے’با‘ کی یاد میں اسمارک بنانے کی تجویز رکھی۔ اس کے لیے بڑی بڑی بلڈنگوں اور زمین کی ضرورت بتائی گئی۔ اس پر باپو نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اسمرتی استھل‘ تو چھوٹی جگہ میں جھونپڑی میں بھی ہوسکتا ہے۔ ضروری یہ ہے کہ آپ اپنے ہدف کے تئیںچوکنا رہیں اور قاعدے ، اخلاقیات پر عمل کرتے ہوئے خدمت کے جذبہ سے کام کریں۔ شاید ان کی نظر سو سال آگے دیکھ رہی تھی۔ انھیںجس بات کا خدشہ رہا ہوگا، آج وہی میوزیم میںثابت ہوتا نظر آرہا ہے۔
چمپارن صدی تقریبات
چمپارن ستیہ گرہ صدی سال کے موقع پر پورے ملک میںتقریبات کا انعقاد ہورہا ہے۔ 17 اپریل 1917 کو انگریز نیلہوںکے مظالم سے پریشاں کسانوں کی حالت دیکھنے مہاتما گاندھی چمپارن آئے تھے۔انگریز نیلہی کوٹھی سے پریشان جسولی پٹی کے کسان لومراج سنگھ کے یہاں جانے کے سلسلے میںگاندھی جی کو چندرہیوں میں آگے جانے سے انگریز حکومت نے روک دیا۔ گاندھی جی دوبارہ موتیہاری لوٹ آئے۔ ان پر مقدمہ چلا۔انگریز کلکٹر نے ضلع چھوڑ کر چلے جانے کا حکم دیا اور گاندھی جی نے بڑی عاجزی سے حکم کو ٹھکرادیا۔ کہا کہ میںجس کام سے آیا ہوں، ابھی پورا نہیںہوا ہے۔ کسانوںکو اس حالت میںچھوڑ کر جانا مناسب نہیںہے۔ اس لیے میںضلع چھوڑ کر نہیںجاؤں گا اور قانون پر عمل نہ کرنے کے لیے سزا کے لیے تیار ہوں۔اوریہی ستیہ گرہ کی شروعات تھی ۔ چمپارن ستیہ گرہ کو آزادی کی لڑائی کی پہلی سیڑھی مانا جاتا ہے۔
چمپارن کو گاندھی جی کی کرم بھومی کہا جاتا ہے۔ چمپارن میں آکر ہی گاندھی جی کا سچائی کا انٹرویوہوا تھا اور وہ کرم چند گاندھی سے مہاتما گاندھی بن گئے۔ فطری طور پر چمپارن گاندھی اور گاندھی واد کے لیے ایک اہم اور وندنیہ استھل ہے۔ باپو کی یاد میںمشرقی چمپارن کے ضلع ہیڈ کوارٹر موتیہاری شہر کے وسط میں ستیہ گرہ استمبھ ہے۔ گاندھی میوزیم کے احاطے میںقائم ستیہ گرہ استمبھ گاندھی وادیوں کے لیے شکتی استھل اور کشف ہے۔ سیکڑوںکی تعداد میںملک اور بیرون ملک کے گاندھی بھکت ،گاندھی درشن سے جڑ ے لوگ اور گاندھی جی کے ستیہ اور عدم تشد کو قریب سے جاننے کی للک رکھنے والے یہاںآتے ہیں اور ایک نئی طاقت محسوس کرتے ہیں۔
موتیہار ی کے اس زمانے کے ایس ڈی او کی عدالت میںجس ’ڈاک‘ میں کھڑے ہوکر مہاتما گاندھی نے اپنے خلاف ہوئے ضلع چھوڑنے کے مقدمے پر تاریخی بیان دیا تھا، اسی جگہ پر چمپارن ستیہ گرہ استمبھ کی تعمیر کرائی گئی۔ 10 جون 1972 کو اس دور کے گورنر دیوکانت بروا نے گاندھی اسمارک استمبھ کا سنگ بنیاد رکھا۔ 49 فٹ لمبے اسمارک کا ڈیزائن جانے مانے آرکیٹیکچر نندلال بوس نے کیا تھا۔ شروع میںیہ کھلے میںتھا۔ اس کے رکھ رکھاؤ کے لیے کمیٹی بنائی گئی۔ اس دور کے وزیر اعلیٰ کیدار پانڈے کمیٹی کے سربراہ اور رکن اسمبلی ناگیشور دت پاٹھک سکریٹری بنے۔ اسمارک کے ڈیولپمنٹ کے لیے کوشش ہوتی رہی۔ کیدار پانڈے کے بعد کون کون صدر،سکریٹری، بنے،ان عہدیداروں کی کوئی فہرست بھی آج اسمارک میںدستیاب نہیںہے۔

 

 

 

 

کیسے بدلی روایت؟
حالانکہ بعد کے دنوں میں ضلع کے کلکٹر پدین صدر ہونے لگے جبکہ گاندھی اسمارک میںرامیشور تیواری ، پروفیسر جناردن پرساد، چندربھوشن پانڈے جیسے سینئر صحافیوں کے علاوہ جے رام پرساد ایڈووکیٹ بھی سکریٹری رہ چکے ہیں۔ حال میںسابق وزیر و کانگریس لیڈر برج کشور سنگھ سکریٹری ہیں۔ گاندھی اسمارک کھلے میںتھا۔ لگاتار میوزیم کا ڈیولپمنٹ ہورہا تھا۔ اس کے بعد سینئر صحافی چندربھوشن پانڈے گاندھی میوزیم کے سکریٹری بنے۔ اسی دوران گاندھی میوزیم کی شاندار عمارت اور چہار دیواری بن کر تیار ہوئی۔ جس کا افتتاح بہار کے گورنر اے آر قدوائی نے 6 دسمبر 1999 کو کیا ۔ گاندھی اور گاندھی واد سے جڑی سیکڑوں کتابوں اور گاندھی درشن پر بنی فلموںکی نمائش کے لیے ٹی وی،وی سی آر سے تیار لائبریری بنوائی گئی۔ پورے اسمارک میںساؤنڈ سسٹم لگایاگیا۔ جہاںصبح سویرے گاندھی جی کے بھجنوں کی آواز ماحول میںستیہ، اہنسا اور محبت کا پیغام دیتی تھی۔ روشنی سے چکاچوندھ اسمارک کسی کو بھی اپنی طرف کھینچنے کی طاقت رکھتا تھا۔
2003 میںگاندھی اسمارک اور میوزیم کمیٹی کے نام سے ادارہ کو ٹرسٹ ایکٹ میں رجسٹرڈ کرایا گیا اور اسے چلاتے ہوئے دستورالعمل بناکر اس کی منظوری عام جلسہ میں کرائی گئی۔ اسی دوران سکریٹری شری پانڈے کی پہل پرہندوستان کے وزیر خارجہ گاندھی وادی شیام نندن مشر کی تحریک سے صنعت کار دھیرو بھائی امبانی نے مہاتما گاندھی کی کاٹھیاواڑ بھیس میںایک قدآدم مورتی نذر کی۔تب اس کی لاگت 25 لاکھ روپے تھی۔ اس مورتی کی نقاب کشائی26 فروری 2006 کو گاندھی جی کے پوتے اور اس وقت کے گورنر گوپال کرشن گاندھی نے کی۔ حسن کاری کے تحت فوارہ اور گارڈن لائٹ لگائی گئی۔ میوزیم کے لیے داخلہ کی فیس کے طور پر بڑوں کے لیے 3 روپے اور گیارہ سال سے چھوٹے بچوں کے لیے 2 روپے رکھے گئے۔
اسی دوران اس وقت کے ڈی ایم دیپک کمار نے گاندھی میوزیم میں مین روڈ کی طرف 24دکانوں کی تعمیر کرائی تاکہ اس کی آمدنی سے میوزیم کا رکھ رکھاؤ صحیح طریقے سے ہوسکے۔ حالانکہ ان دکانوں کے سبب گاندھی میوزیم کا باہر سے دکھائی دینا بند ہوگیا۔ ضلع انتظامیہ کے ذریعہ سیکورٹی کے لیے اپنی سطح سے دو ہوم گارڈ جوان کا ڈیپوٹیشن کیا گیا۔ وہیں ضلع پریشد نے ایک اور نگرپالیکا نے ایک کلرک کا ڈیپوٹیشن کیا۔ اس کے علاوہ میوزیم نے 3 ملازمین کی تقرری کی، جنھیں برائے نام 500 روپے تنخواہ جی جانے لگی۔
عام بات یہ ہے کہ جب ادارے بڑے ہونے لگتے ہیں تو سب کی نگاہیں اس پر ہوجاتی ہیں۔ گاندھی میوزیم سے متعلق ہونا اپنے آپ میںبہت بڑی ساکھ کا موضوع مانا جاتا ہے۔ اسی بیچ اس دور کے ڈی ایم اور کمیٹی کے صدر ایس شیو کمار نے سکریٹری چندر بھوشن پانڈے کو لیٹر نمبر 1534 مؤرخہ 3 جولائی 2002 کے ذریعہ ہٹاکر ایڈووکیٹ جے رام کشواہا کو ایک سال کے لیے سکریٹری نامزد کیا۔ لیکن دوبارہ اسی لیٹر کو ترمیم کرتے ہوئے 7 اکتوبر 2003 کو کام کرنے میں قاصر ہونے کا الزام لگاتے ہوئے جے رام کشواہا کو بھی ہٹادیا گیا۔ تعجب یہ ہے کہ پھر اس لیٹر نمبر1534 میںتیسری بار ترمیم کرتے ہوئے اس وقت کے ضلع مجسٹریٹ ایس شیو کمار نے کانگریس لیڈر سابق وزیر برج کشور سنگھ کو ایک سال کے لیے سکریٹری نامزد کردیا۔ اس کے بعد سے صورت حال جوںکی توںبنی ہوئی ہے۔ گزشتہ 14 سال سے شری سنگھ سکریٹری ہیں جبکہ ان کی نامزدگی محض ایک سال کے لیے ہوئی تھی۔ تب کے ممبرا ن میںبھی کئی لوگ بھگوان کو پیارے ہوچکے ہیں اور جو بچے ہیں، وہ صرف خاص مواقع پر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ 14 سال سے گاندھی اسمارک کمیٹی غیر آئینی طور پر چل رہی ہے جبکہ اس کمیٹی کے صدر ضلع عہدیدار ہیں۔
ونووا بھاوے کے رفیق اور مشہور گاندھی وادی شری نارائن منی نے صدر جمہوریہ اور بہار کے گورنر کو میمورنڈم بھیج کر گاندھی اسمارک کمیٹی موتیہاری کو دوبارہ تشکیل کرنے کی مانگ کی ہے۔ انھوںنے کہاہے کہ کمیٹی میںگاندھی کے آدرشوں پر عمل کرنے والے لوگوں کو نامزد کیا جائے۔

 

 

 

 

کوئی قابل ذکر کام نہیں
اس دوران اسمارک کے ڈیولپمنٹ اور فروغ کے لیے ایسا کوئی کام نہیںہوپایا ہے جو زمین پر دکھائی دے۔البتہ گاندھی اسمارک میںلگایا گیا فوارہ خراب ہے۔ آڈیو سسٹم بند ہوگیا۔ آدمی کی کمی سے لائبریری میںتالا لٹکا ہوا ہے۔ گاندھی اور گاندھی درشن پر فلموں کی نمائش کے لیے لگایا گیا ٹی وی دھول چاٹ رہا ہے۔ گلاب کی واٹیکا کی جگہ اب بڑی بڑی گھاس اور آوارہ جنگلی پودے اگ آئے ہیں۔ اسمارک کا مین گیٹ پانی جمع ہونے کے سبب بند رہتا ہے۔ اسمارک کے احاطہ کے پیچھے چھوٹے دروازے کا گیٹ بدمعاشوں نے توڑ دیا ہے۔ستیہ گرہ استمبھ پر لگی ٹائلس کئی جگہ پر ٹوٹی پڑی ہیں۔ گاندھی جی کی مورتی والا چبوترہ ایک طرف دھنس گیا ہے۔ بھلے ہی یہ صورت حال گاندھی وادیوں کے لیے درد کا موضوع ہو لیکن غیر سماجی عناصر کے لیے اور پریمی جوڑوں کے لیے یہ سب سے محفوظ جگہ بن گئی ہے۔ وہیںکچھ لوگوںکے لیے منمانی کی جگہ بنی ہوئی ہے۔
کردار کا سبق پڑھانے والے گاندھی جی کے اس مقام پر کردار کی گراوٹ کی انتہا دیکھی جاسکتی ہے۔یہ بھی ایک بڑی وجہ ہے کہ صبح شام گاندھی اسمارک میں خاندان کے ساتھ آنے والے مقامی لوگ یہاںآنے سے کتراتے ہیں۔ اکثر پریمی جوڑے یابہک رہے نوجوانوںکو یہاںپریم لاپ کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک بار تو ایک لڑکی اور دونوجوان قابل اعتراض حالت میںپکڑے بھی گئے تھے۔ لڑکی نے پہلے میاں بیوی بتایا، پھر دیور بھابھی کا رشتہ بتایا۔انھیں احاطے سے نکال دیا گیااور دوبارہ وہ لڑکی دوسرے نوجوان کے ساتھ اسمارک میں پہنچ گئی۔ اتنا ہی نہیں 2004میں اسمارک میں پوسٹیڈایک اہلکار ایک لڑکی کے ساتھ پکڑا گیا تھا، جس نے اپنی غلطی قبول کرتے ہوئے معافی نامہ بھی لکھا تھا۔ان حالات سے تنگ آکر شہر کے کچھ دانشوروں نے گاندھی میوزیم بچاؤ کمیٹی بنائی تھی۔ 4 اپریل 2007 کو گاندھی میوزیم بچاؤ کمیٹی کے صدر بسنت کمار سنگھ، نائب صدر راجیو رنجن سنگھ، جنرل سکریٹری مارتنڈ نارائن سنگھ سمیت آلوک کمار یادو اور پربھات رنجن نے گاندھی میوزیم کی بے ضابطگیوں کو ظاہر کرتے ہوئے ایک خط ضلع افسر شریک چیئرمین، گاندھی میوزیم کو دیا تھا ۔ خط میںگاندھی میوزیم کے عہدیداروں اور ملازمین کی ملی بھگت سے بے ضابطگیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اسمارک غیر سماجی عناصر کا اڈا بن گیا ہے۔ داخلہ فیس کاٹ کر اس کا غبن کرلیا جاتا ہے۔ میوزیم کے ڈیولپمنٹ کے لیے چندہ کاٹا جاتا ہے اور ان سب کا غبن ہورہا ہے۔ بچاؤ کمیٹی نے سبھی حقائق کی جانچ کراکر کارروائی کرنے کی مانگ ڈی ایم سے کی تھی۔ لیکن اس پر بھی کوئی کارروائی نہیںکی گئی اوربدعنوانی کا بول بالا بدستور جاری ہے۔
گاندھی اسمارک بنا سیاسی اڈہ
شروع کے دنوں میں گاندھی اسمارک میںکسی سیاسی پارٹی یا کسی دیگر ممبر کے لیے سبھا کرنے کا پروویژن نہیںتھا۔ صرف کچھ سماجی تنظیموں اور گاندھی درشن سے جڑے لوگوں کو ہی سبھا کرنے کی اجازت دی جاتی تھی۔ لیکن آج روز کسی نہ کسی پارٹی کی میٹنگ ہوتے دیکھی جاسکتی ہے۔اتنا ہی نہیںمیوزیم کے اندر رکھی تاریخی میز پر چائے،ناشتہ پانی اور ٹھنڈا پیش کیا جاتا ہے۔ رات کو وہی میز بستر کا کام کرتی ہے۔ جنوری 2015 سے گاندھی میوزیم میں داخلہ فیس بڑھا کر پانچ روپے اور دوروپے کردی گئی۔ لیکن رقم نہیںبڑھی۔بتاتے ہیںکہ ایک ہی ٹکٹ کا استعمال بار بار کرکے روز سیکڑوں روپے کی بندربانٹ کی جاتی ہے۔ گاندھی میوزیم احاطے میںبنی 24 دکانومیں کئی دکانیںایسی ہیں جن پر کرایہ کے ہزاروںروپے باقی ہیں۔ ان دکانوں کے سبب مین روڈ سے میوزیم دکھائی نہیں دیتاہے۔ اس کے سبب اسے توڑنے کا حکم اس وقت کے ڈی ایم نے دیا تھا۔ لیکن دکاندار ہائی کورٹ میں چلے گئے اور حالت جوںکی توںبنی ہوئی ہے۔ میوزیم کمیٹی نے اس سمت میںکوئی پہل نہیں کی ہے۔ اتناہی نہیں اہلکاروںکی منمانی کا عالم یہ ہے کہ اسے کار پارکنگ کا روپ دے دیا ہے۔ لوگ میوزیم میں گاڑی پارک کرتے ہیں اور اس کے لیے اہلکاروں کی مٹھی گرم کرتے ہیں۔ بتاتے ہیںکہ اہلکار کی ملی بھگت سے یہ غیر اخلاقی حرکتوںکا اڈا بن گیا ہے۔ پچھلے دروازے کو بار بار توڑنے کے پیچھے بھی یہی منشا بتائی جاتی ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ گاندھی اسمارک کمیٹی کے صدراور سکریٹری ساری باتوں کو نظر اندازکرتے آرہے ہیں۔
ضرورت میرا ث کو بچانے کی
چمپارن ستیہ گرہ صدی سال کے موقع پر کچھ لوگوںکی نظر اس پر گئی اور اس وقت کے ڈی ایم انوپم کمار کو زبانی طور پر سارے حالات بتائے گئے اور کمیٹی کا انتخاب کرانے کی مانگ کی گئی تاکہ اس میراث کو بچایا جاسکے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ سرکاری طور پر یا دیگر تنظیموںکے ذریعہ گاندھی میوزیم میں اور باہرپروگرام منعقد کیے جارہے ہیں لیکن گاندھی میوزیم کمیٹی کے ذریعہ کوئی انعقاد نہیں کیا گیا ہے۔
بہرحال اس میراث کو بچانے کی ضرورت ہے۔ آج گاندھی جی اور گاندھی درشن پوری دنیا میںمانیہ اور پوجیہ ہیں لیکن اپنی ہی زمین پر گاندھی جی کی وراثت بے اعتنائی کا شکار ہے۔ اگر اس کو محفوظ اور بہتر کیا جائے تو یہ میوزیم عالمی شہرت یافتہ ہوسکتا ہے۔ پوری دنیا میںآج بھی ہزاروںکی تعداد میںگاندھی جی کے ستیہ گرہ پر ریسرچ ہورہی ہے اور ہندوستان میںستیہ گرہ کی تجربہ گاہ کے روپ میں چمپارن کو مانا جاتا ہے۔ اگر میوزیم کو ڈیولپ کرکے رکھ رکھاؤ کو درست کردیا جائے تو یہ سیاحوںکی کشش کا مرکز بن سکتا ہے۔ احاطے میںبنا ستیہ گرہ استمبھ ہندوستان میںدوسرا ہے۔ ایک اسی فن تعمیر کا استمبھ کرناٹک کے بیلگام میں ہے۔ ضرورت یہ بھی ہے کہ گاندھی میوزیم کو سیاحتی مقامات کی فہرست میںجوڑا جائے۔ ہندوستان کے گاندھی میوزیموں کی کڑی میںموتیہاری گاندھی میوزیم کو جوڑنے کی کوشش ہوتاکہ اسے سرکاری مدد بھی حاصل ہوسکے۔ لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب گاندھی میوزیم کمیٹی کے صدر شریک ضلع افسر کے ذریعہ اس طرف کوشش کی جائے اور کمیٹی کو مضبوط بنانے کی سمت میںبامعنی کوشش کی جائے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *