کون کرے گا روہنگیائیوں کی مسیحائی ؟

میانمار کابحران ایک بار پھر بڑھتا جارہا ہے۔ ایک طرف جہاں میانمار سے راہِ فرار اختیار کرنے والے روہنگیا ئی مسلمانوں کے لیے ہندوستان نے اپنے دروازے بند کر رکھے ہیں اور جو 40 ہزار روہنگیائی پناہ گزیں پہلے سے یہاں موجود ہیں، ان کو واپس بھیجنے پر ہندوستان کے سپریم کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے ۔ ہندوستان کے شدت پسند عناصر انہیں کسی بھی صورت میں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیںجبکہ اقوام متحدہ کہتا ہے کہ کسی بھی مہاجر کوامن قائم ہونے تک اس کے ملک واپس نہیں بھیجا جاسکتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی میانمار گئے ۔وہاں کے لیڈروں سے ملاقاتیں اور باہمی ایشوز پر بات چیت بھی ہوئی مگر دس لاکھ روہنگیائیوں کے مستقبل پر کوئی بات نہیں ہوئی جبکہ ان مصیبت زدہ انسانوں میں مسلمانوں کے علاوہ بہت سے ہندو بھی شامل ہیں۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ امن نوبل انعام پانے والی سوچی جن کی پارٹی کی ہی میانمار میں حکومت ہے، اس مسئلے پر کوئی مثبت قدم نہیں اٹھا پارہی ہیں۔آج صورت حال یہ ہے کہ میانمار کے بنیاد پرست بودھ راہب اشین وراتھ کھلے عام روہنگیا کے خلاف زہر اگل رہے ہیں اور انہیں ملک بدر کرنے کا مطالبہ کررہا ہے مگر کوئی نہیں جو اس پر لگام کسے۔
روہنگیا ئیوں کے لئے امن کہیں نہیں
دہلی سمیت ملک میں تقریباً 40 ہزار روہنگیائی پناہ گزیں ہیں۔چونکہ یہ مسلمان ہیں اسی لئے انہیں اپنے ملک میانمار میں تشدد جھیلنا پڑا اور جب پناہ لینے کے لئے ہندوستان کی زمین میں پناہ لی تو یہاں بھی انہیں ذہنی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا ہے۔ جے پور، دہلی اور جموں کے خیموں میں انہیں مقامی لوگوں کے غصے کا سامنا کرنا پڑ تا ہے ، انہیں داعش، لشکر،بوکوحرام سے جڑے ہونے کا طعنہ دیا جاتاہے جبکہ آپ ان سے بات کرکے دیکھئے، شاید ان میں سے کوئی ایسا مل جائے جو لشکر طیبہ ، داعش، بوکو حرام، القاعدہ، الشباب یا حزب المجاہدین کا نام بھی نہیں جانتا ہو۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ ہندوستانی نسل کے نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کو پناہ دینا ہندوستان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ ذرا ان سے کوئی پوچھے کہ امریکہ میں رہنے والے افغان یا ناروے میں رہنے والے سری لنکائی کس نسل کے ہیں؟۔

 

 

 

 

ان روہنگیائیوں کے لیے دنیا کو امن، عدم تشدد اور ہمدردی کا پیغام دینے والے بدھ-گاندھی کے ہندوستان میں ان کے لیے کوئی جگہ ہے۔ جبکہ عالمی طاقت کا ہدف رکھنے والا ہندوستان اچھی طرح جانتا ہے کہ دنیا میں ایسا کوئی طاقتور، بااثر اور عزت دار ملک نہیں ہے اور ان میں خود ہندوستان بھی شامل ہے ، جس نے پناہ گزینوں کو جگہ نہ دی ہو پھر بھی ان پناہ گزینوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔
معاملہ سپریم کورٹ میں
واپسی کے مطالبات کو لے کرہندوستانی حکومت غیر رجسٹرڈ روہنگیا مسلم پناہ گزینوں کو ان کے ملک میانمار بھیجنے کا منصوبہ تیار کررہی ہے جبکہ روہنگیائیوں کا کہنا ہے کہ اگر انہیں ان کے ملک واپس بھیجا گیا تو وہ لوگ انہیں مار دیں گے لہٰذا انہیں موت کے منہ میں نہ ڈالا جائے۔اس سلسلے میں دو روہنگیائی مسلمان محمد سلیم اللہ اور محمد شاکر نے سپریم کورٹ میں معروف وکیل پرشانت بھوشن کے ذریعے عرضی داخل کررکھیہے، جس میں کہا گیاہے کہ روہنگیائی پناہ گزینوں کو واپس میانمار بھیجنے کی تجویز دے کر حکومت ان کے تحفط دینے اور اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہی ہے۔ عرضی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ زندگی خطرے میں ہونے کی وجہ سے بہت سے روہنگیائی مسلمان میانمار سے یہاں ہندوستان آگئے ہیں۔اگر انہیں واپس بھیجا گیا تو اس کے سنگین نتائج ہوںگے اور انہیں جان سے مار دیا جائے گا۔اس عرضی پر اپنی دلیل میں ایڈووکیٹ پرشانت بھوشن کا کہنا ہے کہ روہنگیائی مسلمان دنیا میںسب سے زیادہ مشکلات کاسامنا کررہے ہیں۔ لہٰذا ان کو واپس بھیجنا انسانی حقوق کے خلاف ہے۔غور طلب ہے کہ جموںو کشمیر میں مقیم 6 ہزار روہنگیائی مسلمانوں کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ کولین گوجاویلز نے بھی ایک دیگر عرضی داخلکررکھی ہے۔اب سپریم کورٹ نے ان 40 ہزار روہنگیا مسلمانوں کو ملک سے نکالنے کے منصوبہ پر مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جواب ملنے کے بعد سپریم کورٹ ان دونوں عرضیوں پر سماعت کرے گا۔
اس سلسلہ میں ملک میں سیاسی و سماجی طور پر یہ مطالبہ ہورہا ہے کہ ان روہنگیائیوںکو ملک میں پناہ دیا جائے۔ سماج وادی پارٹی کے صدر ابو عاصم اعظمی نے مرکزی وزار ت داخلہ کے اس سرکولر کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے جس کے تحت ریاستی حکومتوں کو ملک میں پناہ گزیں روہنگیا مسلمانوں کی شناخت کرکے ملک بدر کرنے کا حکم دیاہے۔ ساتھ ہی مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں موجود تمام روہنگیا مسلمانوں کو یورینورسل ڈکلیئریشن آف ہیومن رائٹس 1948 کے آرٹیکل( 14) اور اقوام متحدہ کے رفیوجی کنونشن 1951 کے تحت رجیوجی قرار دیا جائے اور ان کی مدد کی جائے۔سابق کانگریس کارپوریٹر منا پانڈے ، ویلفیئر پارٹی آف انڈیا کے ذمہ دار یاسر دانش شیخ،سابق کار پوریٹر افتخار احمد نے بھی کہا ہے کہ میانمار میں حقوق انسانی کی بڑے پیمانے پر پامالی ہورہی ہے، اسے فوراً روکا جائے نیز نقل مکانی پر مجبور ہزاروںمسلمانوں کے لئے رفیوجی کیمپ کا انتظام بھی کیا جائے۔
وزیر اعظم کا دورہ میانمار
وزیر اعظم مودی برکس کا 9واں جو کہ چین کے صوبہ فوجیان میں ہوا میں شرکت کے بعد میانمار میانمار گئے۔بڑی توقع تھی کہ وہاں دس لاکھ روہنگیائی مسلمانوںپر ہونے والے مظالم پر بات چیت ہوگی ۔کیونکہ تاریخ کے صفحات دونوں ملکوں کے درمیان قدیم روابط کے گواہ ہیں۔ایسے میں وزیر اعظم مودی اپنے اثرو رسوخ کا استعمال کرکے ان بے سہاروں کے آنسو پونچھنے میں معاون ہوسکتے تھے۔مگر انہوں نے وہاں کی سربراہ مملکت آنگ سان سوچی سے ملاقات کی اور کئی اہم معاہدوں پر دستخط بھی کئے لیکن دنیا کے سب سے حساس موضوع روہنگیائی مسلمانوں کے مسائل سے مکمل چشم پوشی کرلی۔انہوں نے روہنگیا کے مسلمانوں کے مسائل پر کوئی گفتگو نہیں کی لیکن رخائن میں انتہا پسندی پر ضرور تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک نے اہم قدم اٹھاتے ہوئے 11 معاہدوں پر دستخط کئے جن میں بحری وساحلی سلامتی اور پولیس کی تربیت میں تعاون کے چار معاہدے شامل ہیں ۔دیگر معاہدوں میںپریس کونسل، ثقافت، الیکشن کمیشن ،ہیلتھ اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ سے متعلق ہیں۔
وزیراعظم مودی کے دورہ میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں کے ایشو پر وہاں کے رہنمائوں سے بات چیت نہ کرنے پر ہندوستان میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اس سلسلہ میں کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی کو اس مسئلہ پر وہاںکی حکومت سے بات کرنی چاہئے اور دیگر مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کو روکنے کا مطالبہ کرنا چاہئے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ روہنگیائی مسلمانوں کا اصل مقام میانمار ہے، انہیں کسی دوسرے ملک میں پناہ لینے پر مجبور کرنے کے بجائے میانمار میں ہی رہنے کی اجازت دی جانی چاہئے۔
بہر حال یہ دنیا کی سیاست میں ٹرمپ کا دور ہے، جس میں کمزوروں کے خلاف آگ اگلنے کو مردانگی سمجھا جانے لگا ہے۔اب تو ٹرمپ نے نوجوان غیر قانونی تارکینِ وطن کو تحفظ دینے کے پروگرام ’’ڈریمر‘‘ کو بھی منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے جس کے بعد ملک بھر میں اس فیصلے کی شدید مذمت کیجارہی ہے اور فیصلے کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں۔ڈریمر پروگرام سابق امریکی صدر براک اوباما نے متعارف کروایا تھا۔اس پروگرام کی منسوخی کے بعد کوئی بھی پناہ گزیں امریکہ کے کسی بھی صوبہ میں پناہ کے لئے درخواست نہیں دے سکے گا۔
ایسے ماحول میں جب اقوام متحدہ روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی بدحال ترین برادری کہہ رہا ہے تو ان کو پناہ دینے کی بات تو دور، ان کے درد اور مصیبت کے بارے میں بات کرنے والے کہیں نظر نہیں آتے ہیں۔امریکی اور یوروپی میڈیا میں رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں کہ کیسے میانمار میں ہزاروں روہنگیا کھانے اور پانی کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ میانمار کے فوجی معصوم، بے سہار افراد کی لاشوں کو ٹھکانے لگانے میں مصروف ہیں۔برما انھیں اپنا شہری ماننے کو تیار نہیں ہے مگر کوئی ان کے لئے بولنے کو تیار نہیں ۔امن نوبل انعام پانے والی آنگ سانگ سوچی کی ناک کے عین نیچے روہنگیا ئی مسلمان جل رہے ہیں، مر رہے ہیں، بین الاقوامی میڈیا کو وہاں جانے کی اجازت نہیں اور محترمہ سوچی خاموش تماشائی بنی رہیں۔جب ان کی خاموشی پر ہر طرف تنقید ہونے لگی تو انہوں نے اپنی خاموشی توڑی اور کہا کہ حکومت رخائن صوبے میں ہر کسی کو تحفظ فراہم کر رہی ہے جبکہ واقعہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔

 

 

 

 

ایک نوبل انعام یافتہ کا مطالبہ
ایک طرف امن نوبل انعام یافتہ سوچی تو ان بے بس روہنگیائیوں پر کچھ نہیںبول رہی ہیںمگر ایک دوسری 20 سالہ امن نوبل انعام یافتہ طالبہ ملالہ یوسف زئی نے اس مسئلے پر میانمار کی نوبل انعام یافتہ آن سان سوکی کو نشانہ بناتے ہوئے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینے کی بات کہی ہے۔ملالہ نے کہا کہ میں گزشتہ کئی سالوں سے مسلسل میانمار میں ہورہے خون خرابے کی مذمت کرتی رہی ہوں اور ابھی تک میں اپنے نوبل انعام یافتہ ساتھی آن سان سوکی کی خاموشی سے تکلیف محسوس کر رہی ہوں۔ملالہ نے کہاکہ روہنگیا میں ہورہے اس باعث شرم واقعہ پر سوچی کی خاموشی اپنے آپ میں کئی سوالات پیدا کررہی ہے ۔ملالہ نے کہا پوری دنیا اور روہنگیا کے مسلمانوں کو آن سان سوچی کی بات کا انتظار ہے اور کب ان کی خاموشی ٹوٹے گی، لوگ یہ دیکھ رہے ہیں
عالمی سطح پر اٹھتی آواز
گزشتہ کچھ دنوں سے روہنگیائی مسلمانوں پر بڑھتی بربریت کے خلاف عالمی سطح پر آواز اٹھنے لگی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے بنگلہ دیش سے روہنگیائی مسلمانوں کی امداد کرنے کی بات کہیہے ۔قابل ذکر ہے کہ جون 2015 میں بھی جب روہنگیا مسلمانوں کے پْرتشدد کارروائیوں کا آغاز ہوا تھا تب بھی ان کی مدد کرنے میں ترکی صف اوّل میں تھا اور ہزاروں پناہ گزینوں کواپنے ملک میں جگہ دی۔ ان پناہ گزینوں کا استقبال ترکی کے صدر طیب اردگان اور ترکی کی خاتون اوّل نے خود کیا تھا اور جب خاتون اوّل کی نظر مظلوم اور بے بس برما کے مسلمانوں پر پڑی تو ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو چھلک پڑے اور وہ برمی مسلمان خواتین کو گلے لگا کراْن کے آنسو پونجھتی رہیں۔ترکی کے علاوہ کسی بھی اسلامی ملک کو ابھی تک یہ توفیق حاصل نہیں ہوئی کہ وہ روہنگیائی مسلمانوں کی مشکلات کو کم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مشن نے مملکت کی جانب سے میانمار کی مسلمان روہنگیا اقلیت پر کئے جانے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔یو این سعودی مشن نے ایک ٹویٹ پیغام میں کہا ہے کہ اسلامی امت کے رہنما کے طور پر سعودی عرب نے عالمی ادارے میں قرارداد لانے کا مطالبہ کیا ہے جس میں میانمار کی روہنگیا مسلمان اقلیت پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی جائے۔اس مقصد کے لئے سعودی عرب نے سیکورٹی کونسل کے ارکان سے رابطہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا اقلیت کے خلاف روا رکھے جانے والے وحشیانہ مظالم کا نوٹس لے اور اسے اپنے ایجنڈے پر لے کر آئے۔ سعودی عرب نے عالمی ادارے کے سربراہ کے نام پیغام میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی ہلاکتوں اور پرتشدد کارروائیوں پر پاکستان کی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ میانمار حکومت مسلمانوں کے حقوق کے لئے اقدامات کرے اور بے گناہ افراد کے قتل اور نقل مکانی کے معاملے کی تحقیقات کرائے اور ذمہ داروں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے۔حکومت مالدیپ نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کی روک تھام نہیں روک لیتی، اس وقت تک تمام تجارتی تعلقات منقطع رہیں گے۔مالدیپ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم اور ان کے حق تلفی کا نوٹس لے۔ایران کے وزیر خارجہ محمد جاوید ظریف کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے تجویزپیش کی ہے کہ روہنگیائی مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کے لئے عالم اسلام متحد ہو اور روہنگیامسلمانوں کی حمایت میں عملی اقدام کرے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسلامی ممالک متحد ہو کر اس نسل کشی کا مقابلے میں اٹھ کھڑے ہوں تو اس نسل کشی اور قتل عام کے بانی عناصر اپنے اقدامات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ملیشیا کی وزیر خارجہ عنیفہ امن نے سوال کیا ہے کہ آخر امن کے لیے نوبل انعام پانے والی سوچی اس اہم مسئلے پر خاموش قدم نہیں اٹھا رہی ہیں۔ان کی خاموشی کی وجہ سے پیس پرائز کو واپس لینے تک کی باتیں ہونے لگی ہیں جو کہ ان کے لئے افسوسناک ہے ۔انہیں اس مسئلے پر بولنا چاہئے۔چیچنیا کے لیڈر رمضان کیدروف نے روہنگیا کے مسئلے پر برما حکومت کی سخت مذمت کی ہے ۔یہاں عوامی سطح پر بھی مظاہرے ہوئے۔اسی طرح ماسکوک میں برما سفارت خانے کے سامنے احتجاج کے علاوہ داغستان میں بھی مظاہرے ہوئے اور جگارتہ میں برما سفارت خانے کے سامنے احتجاج میں ہلکی سی جھڑپ بھی ہوئی۔ہندوستان میں مختلف سیاسی اور سماجی دانشوروں نے میانمار کے اس رویے پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔
تصادم کا آغاز
یاد رہے کہ روہنگیا اقلیت کے خلاف حالیہ تصادم 25 اگست کو اْس وقت شروع ہوا جب کچھ روہنگیا جنگجوؤں نے مبینہ طور پر پولیس چوکیوں کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں فوجی کارروائی کی گئی اور روہنگیا کے عام شہری کو گھر بار چھوڑ کر بنگلہ دیش کی جانب بھاگنا پڑا۔الزام یہ لگایا گیا کہ روہنگیا کی مبینہ ’’حرکۃ الیقین‘‘ نے برما کی فوج پہ حملے کیے اور اس ابھرتی ہوئی مسلح مزاحمت کو دبانے کے لیے، میانمار کی فوج طاقت کا استعمال کر رہی ہے۔اس الزام کے پاداش میںمیانمار کی فوج نے 2600 سے زیادہ گھر جلا دیے ۔اس فوجی آپریشن کے نتیجے تقریباً 73 ہزار روہنگیائی مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ان میں سے بیشتر نے بنگلہ دیش کا رخ کیا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہورہا ہے اور وہاں کی حکومت اس معاملے کو ایک داخلی معاملہ قرار دے کر، کسی بھی طرح کی رپورٹنگ تک نہیں کرنے دے رہی ہے۔ جو اطلاعات موصول ہوئیں ان کے مطابق، روہنگیا خواتین کی گینگ ریپ، عورتوں بچوں اور مردوں کو قتل کرنا، مساجد، سکول اور گھروں کو جلانا، فوج اور فوج کی سر پرستی میں جاری ہے۔ اور شاید اس وقت تک جاری رہے گا جب سارے روہنگیا، یا تو مر نہیں جاتے یا کسی اور ملک فرار نہیں ہو جاتے۔
بہادر شاہ ظفر کی باقیات پر کوئی بات نہیں
وزیر اعظم مودی پانچ روزہ غیر ملکی دورے کے دوران میانمار گئے ۔میانمار کے رنگون شہر میں ہندوستان کے آخری مغل فرمانروا اور بغاوت 1857 کے سپہ سالار بہادر شاہ ظفر کا مزار ہے۔وزیر اعظم ان کے مزار پر گئے۔ توقع کی جاتی ہے کہ وزیر اعظم آخری تاجدار کی باقیات کو ہندوستان لانے کا خواب پورا کرنے میں کوئی پیش رفت کریں گے۔ اس سے پہلے سابق مرحوم صدر جمہوریہ اے پی جے عبد الکلام، سابق نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری ، سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ سمیت سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ ، سلمان خورشید وغیرہ بہادر شاہ ظفر کے مزار کی زیارت کرچکے ہیں۔ ان کا یہ مزار ہندو اور برما کے سفارتی تعلقات کا اہم نکتہ بھی ہے ۔ واضح ہو کہ بہادر شاہ ظفر مرحوم کی باقیات ہندوستان واپس لانے کے لئے سلسلے میں گزشتہ کئی برسوں سے کوشش ہورہی ہے۔ دو سال قبل جسٹس راجندر سچر (ریٹائرڈ )، مشہور صحافی سعید نقوی اور کلدیپ نیر نے سابق صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی سے ملاقات کی تھی ۔یہ تینوں افراد ان کی آخری خواہش کے احترام کے عنوان پر صدر جمہوریہ سے ملاقات کرنے گئے تھے جس میں صدر جمہوریہ نے باقیات واپس لانے کے لئے کوشش کرنے کا وعدہ بھی کیا تھا۔ 2013 میں موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے بھی باقیات واپس لانے کی وکالت کی تھی۔قابل ذکر ہے کہ ان کی باقیات کو وطن واپس لانے کی بات کرنے والے سب سے پہلے شخص اٹل بہاری واجپئی ہیں جنہوں نے 1977 میں مرارجی دیسائی کی حکومت میں وزیر خارجہ کے طور پر ان کے مزار پر کھڑے ہو کر عہد کیا تھا کہ وہ ہندوستان کی جنگ آزادی کے اول ہیرو کی اس خواہش کو پورا کرکے رہیں گے۔کتنا اچھا ہوتا کہ پی ایم مودی واجپئی کے اس عہد کو پورا کرکے بہادر شاہ ظفر کی روح کو سکون پہنچاتے۔دراصل ان کی باقیات کو ہندوستان لانے کے پیچھے کی کہانی یہ ہے کہ وہ خود بھی دہلی میں ہی دفن ہونے کی خواہش رکھتے تھے اور اس کے لئے انہوں نے اپنے پیش رو بادشاہوں کی طرح دہلی میںمہرولی میں قطب مینار کے نزدیک ظفر محل میں اپنی قبر کی جگہ متعین کرلی تھی ،وہ جگہ دو قبروں کے درمیان آج بھی خالی پڑی ہے۔ظفر محل اکبرشاہ ثانی نے تعمیر کرایا تھا، لیکن ان کے پوتے بہادر شاہ ظفر نے اس محل میں ایک بڑے گیٹ کا اضافہ کیا۔ اس بلند دروازے پر’ باب ظفر‘ لکھا ہوا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *