جب تین طلاق نے مینا کماری کی زندگی کو اجیرن بنایا

ان دنوں تین طلاق کا مسئلہ ہرجگہ موضوع بحث بنا ہوا ہے۔مسلمانوں کی صحت پر بھلے ہی اس کا کوئی اثرپڑے یا نہپڑے لیکن تین طلاق غیر مسلم لوگوں کی صحت پر کافی برا اثر ڈال رہا ہے۔ توجہ دینے والی بات یہ ہے کہ تین طلا ق کا مدعاشرعی مسئلہ نہ ہوکر اب ایک سیاسی مدعا بن گیا ہے۔ اترپردیش میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں تین طلاق کا مدعا جال پھیلائے کھڑا رہا۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ تین طلاق سے مودی سرکار چھٹکارہ دلائے گی، اس لیے مسلم عورتوںنے بھارتیہ جنتاپارٹی کو خوب ووٹ دیا ۔ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی تین طلاق کی شکار عورتوں کے دکھ سے بہت دکھی نظرآتے ہیں ۔ اپنے اس دکھ کا اظہار وہ یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ کی فصیل سے بھی کر چکے ہیں۔بہرحال سپریم کورٹ نے تین طلاق کے تعلق سے اپنا فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے اکثریتی فیصلہ میں تین طلاق کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے سرکار کو ہدایت دی ہے کہ وہ تین طلاق پر چھ مہینے کے اندر پارلیمنٹ میںقانون بنائے۔
یہاں ہم ایک ایسی فلم اداکارہ کی کہانی لکھ رہے ہیں جوماضی میں تین طلاق کاشکار ہونے کے ساتھ ساتھ حلالہ کے مرحلے سے بھی گزری۔ یہ فلم اداکارہ سنجیدہ اداکاری کرنے والی’ ٹریجڈی کوئین‘اور’ ملکہ جذبات‘ کے نام سے فلمی دنیا میںمشہور کوئی اور نہیں ، خود مینا کماری عرف مہ جبیں بانو تھیں۔
مینا کماری یکم اگست 1932 کو ممبئی میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد علی بخش اور ماں پربھاوتی دیوی (بعد میںاقبال بانو)ایک مشہور رقاصہ اور اداکارہ تھیں۔ بڑی بہن خورشید بانوبھی فلم اداکارہ تھیں، جوآزادی کے بعد پاکستان چلی گئی تھیں۔ بتایا جاتا ہے کہ علی بخش مفلسی سے تنگ آکر مینا کماری کو پیدا ہوتے ہی یتیم خانہ چھوڑ آئے تھے کیونکہ وہ ڈاکٹر کی فیس اداکرنے کی پوزیشن میں نہیںتھے۔ بہرحال یتیم خانہ میںننھی میناکو یتیم خانہ میںرکھ کر جب وہ گھر کے لیے پلٹے تو ایک اچٹتی نگاہ اپنے جگر کے ٹکڑے پر ڈالی تو کلیجہ منہ کو آگیا۔ ننھی مینا کے جسم پر چیونٹیاں رینگ رہی تھیں اور اسے بری طرح کاٹ رہی تھیں۔ نوزائیدہ بچی مینا بری طرح رو رہی تھی۔ یہ منظر ایک مفلس ونادار باپ سے نہ دیکھا گیااور اس نے لپک کر ننھی مینا کو اپنی گود میںاٹھالیا اور گھر لے آیا۔

 

 

 

مینا کماری 1939 میں فلم ’فرزند وطن‘ میں ایک بچی کے کردار میں بے بی مہ جبیںکے روپ میں نظرآئیں۔ 1940 میں فلم ڈائریکٹر وجے بھٹ نے ان کا نام بے بی مہ جبیںسے بے بی مینا رکھ دیا اور 1946 میں فلم ’بچوںکا کھیل‘ میں وہ بے بی مینا سے مینا کماری بن گئیں۔ 21 مئی 1951 میں ایک سڑک حادثہ میں ان کے ایک ہاتھ کی انگلی ہمیشہ کے لیے مڑگئی۔1951 میں ہی فلم ’تماشہ‘ کے سیٹ پر ان کی ملاقات مشہور فلم ڈائریکٹر و پروڈیوسر کمال امروہی سے ہوئی، جو اپنی فلم ’محل‘ کی کامیابی کے بعد اپنی اگلی فلم’انارکلی‘ کی ہیروئن کی تلاش میں تھے۔ یہ فلم بھلے ہی نہیں بنی لیکن کمال امروہی اور مینا کماری کے درمیان پیار کی کونپلیں پھوٹنے لگیں۔
اس وقت مینا کماری 19 سال کی تھیں اور کمال امروہی 34 سالہ شادی شدہ شخص تھے۔ بہرحال پیار ذات پات اور عمر کی بندش سے آزاد ہوتاہے۔دونوںکے درمیان قربتیںبڑھنے لگیں اور بات شادی تک جاپہنچی۔ کمال مینا کماری سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ ا س کے لیے انھوں نے اپنے دوست کے ذریعہ مینا کے پاس شادی کے لیے پیغام بھیجالیکن مینا کماری نے شادی سے انکار کردیا۔ بہرحال 14 فروری 1952 کو دونوںکی شادی ہوگئی۔ دن ہنسی خوشی سے گزرتے رہے۔ ایک بار کسی بات پر کمال امروہی کو غصہ آگیا اور انھوں نے اسی غصے میں مینا کماری کو تین بار طلاق کہہ دیا۔ جب دماغ کچھ ٹھنڈا ہوا تو انھیں اندازہ ہو ا کہ اس غصے نے ان کی زندگی میں کتنا بڑا طوفان کھڑا کردیا ہے۔ چنانچہ مسئلے کو سلجھانے کے لیے انھوں نے مذہبی رہنما ؤں سے رابطہ قائم کیا۔ سب نے کہا کہ طلاق ہوچکی ہے۔
اس صورت حال سے کمال امروہی بہت پریشان ہوئے۔ وہ مینا کماری کو پھرسے اپنی زندگی میںلانا چاہتے تھے۔ اپنے غصے پر وہ بہت پشیمان تھے۔ بہرحال مینا کماری کو پھر سے اپنی زندگی میں لانے کے لیے یہ راستہ نکالاگیا کہ امان اللہ خان(زینت امان کے والد) جو کہ کمال امروہی کے دوست تھے، ان سے مینا کماری کی شادی کردی جائے اور اس کے بعد طلاق لے کر کمال امروہی سے ان کی پھر سے شادی ہو جائے۔الغرض میناکماری کی شادی امان اللہ خان سے ہوئی اور پھر اپنے نئے شوہر سے طلاق لے کر عدت کا وقت گزار نے کے بعد ان کی شادی کمال امروہی سیہو گئی۔
اس طلاق،شادی پھر طلاق اور پھر دوبارہ شادی سے مینا کماری بری طرح ٹوٹ گئیں۔ انھوںنے اس واقعہ کے تعلق سے لکھا تھا کہ جب مجھے مذہب کے نام پر اپنے جسم کو کسی دوسرے مرد کو سونپنا پڑا تو پھر مجھ میں اور طوائف میںکیا فرق رہا؟ مینا کماری اس واقعہ سے اتنی دلبرداشتہ ہوئیں کہ انھوںنے اپنا غم غلط کرنے کے لیے شراب کو اپنا ساتھی بنالیااور اسی سبب 1972 میںفلم پاکیزہ بننے کے بعد 31 مارچ 1972کو ان کی موت بھی واقع ہوگئی۔ان کی آخری فلم ’پاکیزہ‘تھی، جس کے مکمل ہونے میں 14 سال لگ گئے تھے۔ حالانکہ ان دنوں کمال امروہی اور مینا کماری میں ان بن تھی، لیکن اس کے باوجود مینا کماری نے فلم کی شوٹنگ جاری رکھی۔
مینا کماری نے اپنی زندگی میںبڑے بڑے اسٹار وں کے ساتھ کام کیا۔ ان کی زندگی کی تلخیوں نے انھیں ٹریجڈی کوئین اور ملکہ جذبات بنادیا۔ اپنے دل کے کرب کو وہ شاعری کے راستے قرطاس ابیض پر بھی اتارتی تھیں ۔ وہ ’ناز‘ تخلص کے ساتھ شاعری کرتی تھیں۔ انھوںنے اپنی زندگی میں چار فلم فیئر ایوارڈ حاصل کیے۔ فلم ’بیجو باورہ کے لیے 1954میں، فلم ’پرینیتا‘ کے لیے 1955 میں، فلم ’صاحب بی بی اور غلام‘ کے لیے 1963 میں اور فلم ’کاجل ‘ کے لیے 1966 میں انھیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازاگیا۔
بہرحال اپنی مختصرسی زندگی میں مینا کماری کو محرومی ،تشنگی، رشتوں کی بے وفائی یہاں تک کہ طلاق اور حلالہ جیسی ناپسندیدہ راہ سے گزرنا پڑا۔
مینا کماری کی فلمیں
دنیا ایک سرائے، صنم، تماشہ، بیجوباورہ، پرینیتا، بادباں، بندش، آزاد، شطرنج، ایک ہی راستہ، میم صاحب، شاردا، مس میری، سویرا، یہودی، فرشتہ، سہارا، چار دل چار راہیں، اردھانگنی، دل اپنا اور پریت پرائی، کوہ نور، بھابھی کی چوڑیاں، پیار کا ساگر، آرتی، میںچپ رہوںگی، صاحب بی بی اور غلام، کنارے کنارے، اکیلی مت جائیو، دل ایک مندر، چترلیکھا، بے نظیر، غزل، بھیگی رات، کاجل، پھول اور پتھر، بہو بیگم، چندن پالنا، نورجہاں، منجھلی دیدی،جواب، آنندی دیوی، دشمن اور پاکیزہ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *