1993 کے فیصلے کا خیر مقدم، 1992 کے انصاف کا انتظار

صحیح یا غلط، عام طور سے یہ بات مشہور ہے کہ تقریباً 25 برس قبل 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد کے انہدام اور ملک کے مختلف حصوں میںہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے ردعمل میں 12 مارچ 1993 کو ممبئی میں سیریل بم بلاسٹ ہوئے 1993 میںممبئی کے اس بم بلاسٹ میں257 معصوم افراد لقمہ اجل بنے تھے اور بڑی تعداد میںلوگ مجروح ہوئے تھے جبکہ قبل الذکر 1992 کے فسادات میں تقریباً دس گنا یعنی ڈھائی ہزار سے زیادہ بے گناہ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ 1992 کے متاثرین کو اب تک انتظار ہے انصاف کا۔ شری کرشنا کمیشن رپورٹ آئی مگر وہ سرد خانے میںڈال دی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اب تک اس معاملے میں ملزمین کو سزا نہیں ملی ہے اور عدالت سے انصاف نہیںمل پایا ہے۔ خیر یہ غنیمت ہے کہ 1993 کے متاثرین کو انصاف دو قسطوں میںملا اور تیسری قسط کا اب سب کو انتظار ہے۔ یہ نہیںمعلوم کہ اس کی باری کب آئے گی اور اس کے باقی ملزمان کو کیفرکردار پر کب چڑھایا جائے گا؟
انصاف پرور لوگوںکے نزدیک 6 دسمبر 1992 کے بعد فسادات اور 12 مارچ 1993 کے بم بلاسٹ، دونوں غلط تھے۔ ان دونوںمیں بے گناہ اور معصوم افراد کی جانیں گئیں۔ لہٰذا انصاف کا تقاضہ ہے کہ دونوں واقعات / سانحات کے تعلق سے اس کے قصورواروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے تاکہ ہندوستان جیسے قانون کی حکمرانی والے ملک میںانصاف کا بول بالا ہو۔
یہ فطری تقاضہ تھا کہ جو واقعہ / سانحہ پہلے ہوا ، پہلے اس کے ملزمان کو سزا ملنی چاہئے تھی لیکن ایسا اب تک ممکن نہیںہوسکا ہے، جس پر ملک کے انصاف پرور عوام سوال بھی کھڑے کررہے ہیں۔ یہ سوال اس لیے بھی کھڑا کیا جارہا ہے کہ ممبئی بم بلاسٹ سے قبل 6 دسمبر 1992 کو جس طرح سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اس وقت کے سینئر لیڈروں کی قیادت میں کار سیوکوں نے قانون کو اپنے ہاتھ میںلے کر تاریخی بابری مسجد کو منہدم کرکے نیست و نابود کردیا تھا اور عدالت کے فیصلوں کی دھجیاں اڑا دی تھیں، اسے ساری دنیا نے ویڈیوز میںدیکھا اور سنا تھا اور بعد ازاں ملک کے مختلف حصوں میںفرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ اس کا بھی نظارہ میڈیا کی سرخیاں بنا تھا او ربڑے شرمناک مناظر بشمول خواتین کے ریپ کی تصاویر ملک میں پھیلائی گئی تھیں۔ اس کے بعد اس تعلق سے کوئی سنجیدگی نہیںدکھائی گئی۔ اس دوران مہاراشٹر کی کسی بھی حکومت کو توفیق نہیں ہوئی کہ شری کرشنا کمیشن کی سفارشات کی روشنی میںکچھ سنجیدہ اقدامات اٹھائے جاتے۔
ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ شری کرشنا کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں ڈھائی ہزار بے گناہ او رمعصوم افراد کے قاتلوں کی نشاندہی کرکے اسپیڈی ٹرائل کے ذریعہ ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں سزائیں دلوانی چاہئے تھیں کیونکہ ان ہی لوگوںکی وجہ سے ڈھائی ہزار افراد کی جانیں گئی تھیں۔ ان لوگوں نے منظم طر یقے سے انسانیت کا خون پیا اور پورے ملک میں فرقہ وارانہ ماحول بنا کر تشدد پھیلائے اور امن و امان کے ماحول کو بگاڑا اور خوف و ہراس کی فضا پیدا کی، جس کی وجہ سے ملک میںجہاں جانی نقصان ہوا، وہیں اربوں روپے کے مالی نقصانات بھی ہوئے۔سوال یہ ہے کہ آخر اس کا ذمہ دار کون ہے؟ قانون نافذ کرنے والی مشنریاں اس وقت کہاںتھیں؟ اگر انھوںنے اس وقت لاقانونیت کو کنٹرول میںنہیںکیا تو ان کے خلاف اب تک کوئی کارروائی کیوںنہیںکی گئی؟

 

 

 

 

 

1993 کے ممبئی بم بلاسٹ کے موجودہ فیصلے کا ہر انصاف پرور کے نزدیک خیر مقدم ہے۔ اس معاملے میںمختلف ملزمان کو سزائیںسنائی گئی ہیں، جس کے تحت طاہر مرچنٹ اور فیروز خاں کو پھانسی اور ابو سلیم اور کلیم اللہ کو عمر قیدہونا ہے جبکہ ایک اور ملزم ریاض صدیقی کو دس برس کی قید مشقت سزا سنائی گئی ہے۔توقع یہی ہے کہ جہاں 1993 کے تمام ملزمان کو ان کے قصور کی سزائیں مل رہی ہیں، وہیں 1992 کے بھی قصورواروں کو کیفرکردار تک پہنچایا جاسکے گا۔
جہاںتک شر ی کرشنا کمیشن کا تعلق ہے، یہ بابری مسجد انہدام کے وقت رہے وزیر اعظم پی وی نرسمہاراؤ کی ایماء پر ان دنوں کی مہاراشٹر حکومت کے ذریعے تشکیل دیا گیا تھا تاکہ دسمبر 1992 اور جنوری 1993 میں ممبئی میںہوئے تشدد اور فسادات کی انکوائری کرے۔
شری کرشنا کمیشن کے نزدیک یہ سوال تھا کہ کیا کوئی فرد یا گروپ یا کوئی تنظیم اس طرح کے واقعات کرانے اور حالات پیدا کرنے کا ذمہ دار تھا۔اس کے جواب میںیکم دسمبر 1992 کے حوالے سے شری کرشنا کمیشن کہتا ہے کہ جہاں تک دسمبر 1992 کے فسادات میںمسلمانوں کے کردار کا سوال ہے، ایسا کوئی مواد دستیاب نہیں ہے، جس سے یہ ثابت کیا جاسکے کہ لیڈر لیس اور کمزور مسلم ماب کے اچانک ردعمل سے ہٹ کرکچھ اور تھا۔ مسلمانوں نے محض پُرامن احتجاج کیا تھا مگر اسے فسادات میںبدل دیاگیا۔ ہندوؤں کو اس الزام کو قبول کرنا چاہیے کہ مسلمانوںکو بھڑکایا گیا، ان کے خلاف نعرے لگائے گئے اور اس سلسلے میںراستہ روکو ایجی ٹیشن بھی کیے گئے اور یہ سب زیادہ تر شیو سینکوں اور ایک حد تک بی جے پی کارکنوںکے ذریعے کیے گئے۔
2 جنوری 1993 کے حوالے سے یہ کمیشن کہتا ہے کہ حالانکہ تشدد کے بیشتر واقعات 15 دسمبر سے لے کر 5 جنوری 1993 تک ہوئے ہیں مگر بڑے پیمانے پر فسادات اور تشدد 6 جنوری سے ہندوؤں کے ذریعہ شروع کیے گئے اور اس میںشیو سینا اور اس کے ترجمان ’سامنا‘ نے کلیدی کردارادا کیا۔ کمیشن نے آنجہانی بال ٹھاکرے کو بھی اس سلسلے میںاہم ذمہ دار مانا۔
اس طرح ایسا محسوس ہوتا ہے کہ 1992 میں بابری مسجد انہدام کے بعد ہوئے فسادات نظر انداز اس لیے کردیے گئے کہ اس میں وہ عناصر ملوث تھے، جن کو چھونابھی مشکل تھا۔ مگر جہاںتک انصاف کی بات ہے 1992 کے فسادات کے متاثرین وہی عدل چاہتے ہیں جو کہ 1993 کے بے گناہ متاثرین کو ملا ہے۔ انصاف میںکسی قسم کی تقسیم کی توقع ہرگز نہیںکی جاسکتی ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *