سپریم کورٹ کا تین طلاق پر روک مسلم خواتین کا ردعمل

ڈاکٹر صبا یونس
صحافی گلناز رشید کہتی ہیںکہ طلاق بری بات ہے۔ اللہ اور اس کے نبیﷺ کو سخت ناپسند ہے۔ ایک ساتھ تین طلاق تو اسلام میںہے ہی نہیں۔ سپریم کورٹ زندہ باد۔درخشاں بانو انگلش کی پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ ان کا کہنا ہے ،اسلام میںعورتوں کوتمام حقوق مہیا ہیں۔ قرآن پاک عورتوں کو عزت سے رکھنے کی تاکید کرتا ہے۔ بیوی کو شوہر کا ہمراہ مانا جاتا ہے۔ طلاق کا یہ غلط رواج عورت کو حقارت دیتا تھا،جو کہ اسلام میںنہیںہے۔ اچھا ہوا ایک غلط رواج ختم ہوا۔
خاتون خانہ شاہین خاتون کہتی ہیں، ٹرپل طلاق کو اسلام میںسب سے زیادہ ناپسندکہا گیا ہے۔ پھر اتنا ہنگامہ کیوں؟ تاریخ کی استاد حنا جعفری کہتی ہیں، اس غلط رواج کے نام پر جو مرد حلالہ جیسے غلیظ رواج کا فائدہ اٹھا رہے تھے،وہ سب اب بند ہوجائے گا۔عدالت کا یہ فیصلہ قابل ستائش ہے۔ اس سے عورتوںکی حالت سدھرے گی اور مرد منمانی نہیںکر پائیںگے۔ اردو کی طالبہ حسن زینب کہتی ہیں، اس فیصلے سے عورتوں کو شوہر بے وجہ طلاق دے کرچھوڑ نہیںپائیںگے، ان پر اب قانون کی لگام ہوگی۔
عام مسلم عورتوں کے ساتھ جموں و کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا یہ بیان بھی اس فیصلے کی موزونیت پر مہر لگاتا ہے۔ محبوبہ مفتی کہتی ہیں، جموںو کشمیر میں بھی 3 طلاق کا قانون نافذ ہو۔یہاں تک کہ سمجھدار مسلم مرد بھی اس فیصلے کی ستائش کررہے ہیں۔
تاجر طلحہ عابد کہتے ہیں، ٹرپل طلاق پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے۔ امید ہے اب مسلم عورتوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ وہیں،مسلم کمیونٹی کا ایک طبقہ ، جو اس رواج کے نام پر عورتوں کے استحصال پر رضامندی کی مہر لگائے ہوئے تھا، وہ خاصا تلملایا ہوا نظر آیا۔

 

 

 

اس میں سے کچھ تو ایسے بھی ہیں جو یہ جانتے تک نہیںتھے کہ جھٹکے سے تین طلاق کا غلط رواج اصل میں اسلام کا حصہ ہے ہی نہیں۔ ایسا کوئی بھی طلاق کا انسٹنٹ طریقہ قرآن میںدرج نہیںہے، بلکہ یہ کچھ موقع پرست اور مہلک مذہبی ٹھیکیداروںکی عورتوں کے خلاف پھیلائی گئی سازش ہے۔ اسے ایک رواج کا جامہ پہناکر ناسمجھ اور جاہل طبقے کو بہکانے کے لیے استعمال میںلایا جارہا ہے۔ یہ اس طرح ہے ،جس طرح ستی کا رواج، بچوںکی شادی، بیوہ کی دوبارہ شادی نہ ہونا وغیرہ رواج عورت مخالف تھے۔ مذہب کی آڑ لے کرصدیوں تک یہ رواج چلتے رہے، لیکن ایک دور میںگڑھے میں دھکیل دیے گئے اور غیرقانونی ڈکلیئر کردیے گئے۔ اسی طرح جھٹکے سے تین طلاق والا یہ رواج بھی ختم ہوگیا، جو صرف عورتوںکو ہراساں کرنے اور ان سے لطف اندوز ہونے کو دھیان میںرکھ کر انسانوں کے ذریعہ چلن میں لایا گیا تھا۔ یہ رواج صرف خواتین کو ہراساں کرنے کو فروغ دیتا تھا۔
آج اگر عدالتی نظام کے ذریعہ یہ غیر آئینی ڈکلیئر کردیا جاتا ہے تو یہ انتہائی خوشی کی بات ہے۔ اسے پورے مسلم طبقے کو بھی بخوشی قبول کرنا چاہیے،جو مسلم کمیونٹی کا سمجھدار طبقہ کر بھی رہا ہے۔ کچھ جاہل ،غیر تعلیم یافتہ، شدت پسندو مرد غلبے کے بھوکے مسلم طبقے کے مرد اس تبدیلی کو ہضم کرنے میںخود کو ناکام پارہے ہیں، وہ من گھڑت دلیلوں کے ساتھ اس کی سنگین مذمت کررہے ہیں کہ یہ ان کے مذہب پر جھٹکا ہے، جبکہ اصل میںاس رواج کا مذہبی کتاب میںکہیں بیان ہی نہیں ہے۔
اگر مسلم کمیونٹی کو ترقی کرنا ہے تو غلط رواجوںکوختم کرنا ہی ہوگا۔ قرآن بھی عورتوں کے استحصال کو غلط ٹھہراتا ہے۔ عورتوںکے حق اور حقوق کی بات قرآن بھی کرتا ہے۔ حضرت محمدؐ کی پوری زندگی اٹھا کرپڑھئے تو معلوم ہوگا کہ عورتوں کو کتنی عزت اور کتنی اہمیت دیے جانے کی بات کی گئی ہے۔ حضرت خدیجہ ، جو حضرت محمد ؐ کی بیوی تھیں، وہ عمر بھر ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں۔
اسلام میںکہیںبھی ، کبھی بھی عورتوںکو کم تر نہیںبتایا گیا۔ نہ اہی ان کے استحصال کو جائز ٹھہراتی ہوئی کوئی آیت قرآن پاک میںموجود ہے۔ یہاںتک کہ عورتوں کے حق کو دھیان میںرکھتے ہوئے طلاق کا اصلی عمل بہت لمبا اور پیچیدہ بنایا گیا ہے، جس کا بیان قرآن پاک کی سورۃ طلاق میںملتا ہے۔

 

 

 

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ پھر یہ جھٹکے سے تین طلاق کہاںسے چلن میں آئی؟ جو بات جو طریقہ کہیں اللہ کی کتاب یا اللہ کے رسول کی زندگی میںبھی نہیں دکھائی دے رہی ہو، وہ کیسے اسلام کا حصہ بن گئی؟ اس کا جواب صرف ان شدت پسند مردپرست، موقع پرست مذہب کے ٹھیکیداروں کے پاس ملے گا، جو اسلام کی خود ناپسندیدہ تعریف بنا کر مسلم کمیونٹی کے جاہل طبقے کو ورغلاتے ہیں۔ اگر مسلمانوں کو ترقی کرنی ہے تو ان کو خود قرآن بامعنی پڑھنا پڑے گا۔ خود اسلام کو سمجھنا پڑے گا نہ کہ کسی مہلک مذہبی رہنما کی بنائی ہوئی تعریف کی بنیاد پر جکڑن بھری ذہنیت لیے اندھے رواجوں کی بلی چڑھتے رہنا ہوگا۔اسلام اور خدا بھی چاہتا ہے کہ اس کے ماننے والے خود پڑھیں،خود جانیں،خود سمجھیں۔ اسی لیے قرآن پاک کی پہلی آیت جو رسول پاک پر نازل ہوئی،اس کے معنی تھے، پڑھو،اپنے خدا کے نام پر پڑھو۔ (سورہ اقراء )
ارے میرے مسلمان بھائیو،ابھی بھی وقت ہے پڑھ لو، تبھی دماغ کھلے گا،تبھی اس شدت پسندی سے تم آزاد ہوگے،تبھی اپنی ترقی پر دھیان دے پاؤگے۔ تب کوئی تم پر بیجا کے رواج نہیںلاد پائے گا،تب کوئی تمہارا استحصال نہیںکرپائے گا، تب کوئی اپنے سیاسی فائدے کے لیے تمہاری قربانی بھی نہیںچڑھا پائے گا۔ پڑھو، میرے بھائی میری بہنو پڑھو۔
(مصنفہ سماجی کارکن ہیں اور عالمی مذاہب پر بین الاقوامی کانفرنس میںکئی لیکچر دے چکی ہیں)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *