ہزار سال پرانی قبر کی دریافت

qabar

قدیم دور میں مصر میں لاشوں کو حنوط کرکے محفوظ رکھنے کا رواج عام تھا ۔یہی وجہ ہے کہ آج ماہرین آثار قدیمہ کو وہاں گاہے بگاہے لاشیں ملتی رہتی ہیں جو صحیح حالت میں ہوتی ہیں۔مصری حکام کے مطابق ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایک شاہی سنار کا مقبرہ دریافت کیا ہے جہاں سے ایک خاتون اور دو نوجوان لڑکوں کی حنوط شدہ لاشیں ملی ہیں۔یہ مقبرہ دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں 400 میل کے فاصلے پر دریائے نیل کے ساحلی شہر الاقصر میں واقع ہے۔ یہ 16ویں سے 11ویں صدی قبل مسیح کی شاہی سلطنت میں بنا تھا۔اس مقبرے سے جو دیگر اشیا ملی ہیں ان میں ایک مجسمہ امینن ہاٹ نامی سنار کا ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا ہے۔ یہ مقبرہ درا ابول ناگہ میں دریافت ہوا ہے جو کہ اس دور کے اعلیٰ حکام کی جائے تدفین تھی۔ابھی یہ واضح نہیں کہ دریافت ہونے والی تینوں حنوط شدہ لاشوں کا امینن ہاٹ سے کوئی تعلق ہے یا نہیں؟

 

 

 

 

 

آثار قدیمہ سے متعلق مصری وزارت کا کہنا ہے کہ مقبرے کے نچلے حصے سے حنوط شدہ لاشیں ملی ہیں جو مرکزی حصے کی جانب جاتا ہے۔ماہرین آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ خاتون کی عمر 50 سال تھی جن کی موت ہڈیوں کی بیماری کی وجہ سے ہوئی ان کے دو بیٹوں کی عمریں 20 اور 30 سال بتائی گئی ہیں اور ان کی لاشیں اب بھی بہتر حالت میں محفوظ ہیں۔بتایا گیا ہے کہ دریافت ہونے والی حنوط شدہ لاشوں میں مردوں کی لاشیں اچھی حالت میں ہیں۔

 

 

 

 

 

حکام کا خیال ہے کہ امینن ہاٹ جو کہ سب سے طاقتور گاڈ امن کے دور میں ان کے سنار تھے کے مقبرے کی دریافت درا ابول ناگہ میں مزید دریافتوں کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جو اس دور کے اعلیٰ حکام کے مقبروں اور قبرستانوں کے حوالے سے معروف ہے۔آثار قدیمہ کے وزیر خالد الانانی کا کہنا ہے کہ ‘ہم نے مقبرے کے اندر اور باہر تدفین سے متعلق بہت سے آلات دیکھے ہیں۔ ہم نے حنوط شدہ لاشوں، مخصوص تابوتوں، مردوں کے لیے کنگھیوں، ماسک، کچھ زیورات اور مجسموں کو دیکھا۔’بظاہر اس میں امینن ہاٹ اور ان کی بیوی کے مجسمے کے درمیان میں ان کے بیٹے کا مجسمہ ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ‘ابھی کام ختم نہیں ہوا۔انانی کا کہنا ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ نے چار نئے نام بھی پڑھے ہیں۔’ان چار نئے ناموں کے بارے میں کیا ہے؟ ان کے مقبرے کیسے ہیں؟ ان کے مقبرے ابھی دریافت نہیں ہوئے مگر میرا خیال ہے کہ یہ انہی کے مقبرے ہیں۔’

 

 

 

 

 

 

رواں برس اس علاقے میں ہونے والی دریافتوں میں یہ دوسری بڑی دریافت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میرا خیال ہے کہ انشا اللہ اگلے سیزن میں ہم کھدائی کریں گے۔ ہم اس علاقے میں کھدائی کریں گے۔ اس لیے مجھے یقین ہے کہ اگر ہم خوش قسمت ہوئے تو ہم ایک، یا دو یا شاید چاروں کو اس علاقے میں تلاش کر لیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *