راحت پہنچانے والے باندھ بھی بن جاتے ہیں تباہ کن

معروف صحافی جے پرکاش پانڈے نے ’چوتھی دنیا‘میں حال میں چھپے ایک مضمون میں یہ انکشاف کیاہے جوباندھ مخصوص علاقے میں راحت پہنچانے کیلئے بنائے جاتے ہیں وہ کبھی کبھی پوری آبادی کیلئے بڑاخطرہ بن جاتے ہیں اورایسااسلئے ہوجاتاہے کہ ان باندھوں کے تحفظ کی اندیکھی ہوتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان باندھوں کے تحفظ کی اندیکھی نے آج پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے۔ ترقی کے نام پر بنے باندھ آج سیکورٹی وجوہات سے ملک کے لئے فکر مندی کا سبب بنتے جارہے ہیں۔کمال یہ ہے کہ ان باندھوں کی تعمیر کے وقت بھی ایسی تشویشات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن سرکار ترقی کے نام پر تباہی کی عبارت لکھنے میں اس طرح مشغول تھی کہ تب سے لے کر اب تک اس کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگی ۔22 ستمبر 1954 کی بات ہے، بہار اسمبلی میں چل رہی چرچا میں حصہ لیتے ہوئے ریاست کے وزیر خزانہ انوگرہ نارائن سنگھ نے کوسی باندھ پروجیکٹ پر کہا تھاکہ ’’ پچھلے 2-3 سالوں سے ہم اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ کوسی ندی پر ایک باندھ باندھا جائے جو کہ 700فٹ اونچا ہو،لیکن بعد میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اگر وہ 700 فٹ کا باندھ کسی وجہ سے ٹوٹ گیا تو اس میں جمع پانی سے سارا بہار اور بنگال بہہ جائے گا۔ سارا علاقہ تباہ اور برباد ہو جائے گا ۔کیا ہم اس کے لئے تیار ہیں؟
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *