دنیا کی مظلوم ترین اقلیت روہنگیائی مسلمان

ہر ریاست کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر بسنے والے تمام افراد اور گروہوں کی یکساں طور پر نگہداشت کرے اور رنگ، نسل، جنس اور مذہب سمیت کسی بھی بنیاد پر شہریوں میں تفریق نہ کرے، لیکن انسانیت کا المیہ ہے کہ آج کے مہذب دور میں بھی ایسے ملک موجود ہیں جہاں شہریوں کا ایک بڑا طبقہ تعصب اور ظلم کا شکار ہے۔ برما، جس کا نام اب میانمار ہوچکا ہے، بھی ایک ایسا ہی ملک ہے۔ برما کے مسلمان، جن کی ایک بڑی پہچان روہنگیا ہے، ایک مدت سے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ان کے خلاف ہونے والے مظالم اس قدر خوف ناک ہیں کہ انھیں دنیا کی مظلوم ترین اقلیت قرار دیا گیا ہے۔
برما حکومت اور وہاں کے کچھ بدھسٹ انتہا پسندوں کے انسانیت سوز مظالم کے نتیجے میں لاکھوں لٹے پٹے روہنگیا ئی مسلمان ملک چھوڑنے پر مجبور ہیں۔ ان کی اکثریت نے بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ ہجرت کی لیکن بڑے دکھ کی بات ہے کہ کوئی بھی ملک انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں۔ بنگلہ دیش سے نکالے جانے والے کچھ لوگوں نے ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پناہ لی ۔
اب ہندوستان نے اپنی ریاستی حکومتوں سے کہا ہے کہ ان روہنگیائی مہاجروں کی شناخت کرکے انہیں ملک سے نکال دیا جائے جس پر احتجاج کرتے ہوئے ہندوستان میں انسانی حقوق کے قومی کمیشن نے حکومت کو نوٹس بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس انسانی مسئلے کے ہر پہلو کو مدنظر ضرور رکھے ۔ اقوام متحدہ کے ترجمان کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ایک بار مہاجرین جہاں رجسٹرڈ ہو جائیں ،وہاں سے انہیں ان ممالک میں واپس نہیں بھیجا جا سکتا جہاں انہیں جان و مال کا خطرہ ہو۔ روہنگیا ئی مسلمانوں کا تعلق برما کے صوبہ اراکان سے ہے جو ملک کے جنوبی حصے میں شمالاً جنوباً پھیلا ہوا خلیج بنگال کے مشرقی ساحل پر واقع ہے ۔یہ لوگ محنت مزدوری کرتے ہیں۔ زیادہ تر کا پیشہ ماہی گیری ہے۔سن 1400 میں محنت مزدوری کیلئے وہ مغربی بنگال سے برما کے علاقے اراکان میں آباد ہوئے تھے۔ 1785 میں جنوبی حصے سے تعلق رکھنے والے بودھوں نے صوبہ اراکان کو فتح کیا تو وہاں سے روہنگیا ئی مسلمانوں کو نکال دیا۔ 1826 میں جب انگریزوں نے برما کا کنٹرول سنبھالا تو اپنے کام کاج کرانے اور محنت مزدوری کیلئے انہیں واپس بلا لیا۔ یہ سلسلہ انگریزوں کے قیام تک جاری رہا۔ 2012 کے بعد سے برما میں روہنگیا مسلمانوں پر بودھوں نے پھر ظلم ڈھانا شروع کر دیئے ۔اب تک ہزاروں افراد کوقتل کیا جا چکا ہے، ان کا مستقبل اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے لئے ایک سوالیہ نشان بنا ہوا ہے ۔یہ لوگ نہ برما میں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی برما سے باہر۔ عالمی برادری کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے محفوظ مستقبل کا فیصلہ کرنا چاہئے۔
ادھر بنگلہ دیش میں ان روہنگیائی مہاجرین کے بارے میں کچھ عرصہ قبل منظر عام پر آنے والی امریکی امدادی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق میانمار کی اس نسلی اقلیت کے مہاجرین کو بنگلہ دیش میں فاقہ کشی اور مختلف بیماریوں کا سامنا اس لیے ہے کہ ڈھاکہ حکومت نے ان مہاجرین کی مدد سے انکار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جن طبی ماہرین نے حال ہی میں روہنگیائی مہاجرین کے ایک کیمپ کا دورہ کیا، انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ وہاں 5 سال تک کی عمر کے 18 فیصد بچے خوراک کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ اس دوران کئی مہاجرین نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے دو دن سے کھانا نہیں کھایا تھا۔

 

 

 

کیمپ میں کسمپرسی
ہیومن رائٹس فار فیزیشئنز کے ڈائریکٹر رچرڈ سولم کے مطابق خوراک کی کمی کے شدید تر ہو جانے کے علاوہ روہنگیا مہاجرین کے کیمپوں میں بیماریوں اور ہلاکتوں کا راستہ روکنے کے لئے بھی فوری اقدام کیا جانا چاہئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیمپ میں صحت کی سہولتوں کے فقدان کی وجہ سے وہاں رہنے والے بچوں میں سے نصف سے زائد ہیضے کا شکار ہوئے۔
یہ روہنگیا ئی باشندے، جو میانمار میں مسلمان اقلیتی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں 1991 میں اپنے ہی وطن میں ایذارسانی، قتل، آبروریزی، گرفتاریوں، تشدد اور جبری مشقت سے تنگ آ کر بنگلہ دیش میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے وطن میں حالات ابھی بھی ایسے نہیں کہ وہ واپس جا سکیں۔ لیکن ڈھاکہ حکومت مسلسل ان سے واپسی کے مطالبے کرتی رہتی ہے۔
ہجرت کیوں ہوئی؟
میانمار کے شمال مغربی صوبہ راخین میں گزشتہ پانچ برسوں میں سخت ترین لڑائی چھڑ گئی، جہاں گزشتہ چند دنوں میں ہی 104 افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ہزاروں خوفزدہ شہریوں کو لڑائی سے فرار ہونے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ راخین میں روہنگیا باغی گروپوں نیز 30 پولیس پوسٹوں اور ایک فوجی کیمپ پر حملے کئے تھے، جس کے بعد وسیع پیمانے پر پرتشدد جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں، جس سے خوفزدہ شہریوں کو علاقے سے فرار ہونا پڑر ہا ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر سے میانمار کے شمال مغربی صوبہ راخین میں فوج کی وحشیانہ کارروائی کے بعد سے کشیدگی بنی ہوئی ہے، جس میں اچانک اضافہ ہوگیا۔
بدھسٹوں کی اکثریت والے ملک میانمار کے شمال مغربی صوبہ راخین میں گیارہ لاکھ روہنگیائی مسلمانوں کے مسئلے سے نمٹنا ملک کی نوبل امن انعام یافتہ لیڈر اینگ سان سوکی کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے، جنہوں نے روہنگیا باغیوں کے حملے کی مذمت کی ہے اور سلامتی دستہ کی کارروائی کی ستائش کی ہے۔ مغربی ناقدین کی طرف سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ طویل عرصہ سے ظلم و تشدد کے شکار روہنگیائی مسلمانوں کے مسئلے پر کھل کر نہیں بول رہی ہیں اور وہ صرف فوج کے جوابی تشدد کا دفاع کررہی ہیں۔

 

 

 

 

مہاجر کون ہیں؟
روہنگیا آبادی کے ہزار وں افراد کو جن میں بیشتر خواتین اور بچے ہیں، بنگلہ دیش اور میانمار کو الگ کرنے والی ندی کو پار کرتے ہوئے اور زمینی راستہ سے فرار ہوتے دیکھا گیا ہے، جو تشدد سے جان بچا کر بنگلہ دیش کی طرف بھاگنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دوسری طرف بنگلہ دیش میں پہلے سے موجود روہنگیائی پناہ گزینوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی پولیس نے انہیں نئے پناہ گزینوں کو کیمپ میں مدد نہیں کرنے کی تنبیہ کی ہے، اگر کسی نے بھی نئے لوگوں کوآنے دیا تو اس کو گرفتار کرکے سرحد پار بھیج دیا جائے گا۔
پناہ گزینوں کے مطابق اس طرح کی وارننگ کے باوجود اب تک سرحد پر تقریباً 2 ہزار لوگ بنگلہ دیش میں داخل ہوچکے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان غیر مقبوضہ علاقے میں درجنوں روہنگیائی خواتین کو بے یارو مدد گار دیکھا گیا ہے، جب میانمار کی جانب سے شدید فائرنگ کی آوازیں سنی گئی تھیں۔
دریں اثناء میانمار میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی امدادی ایجنسیو ں نے اپنے عملہ کو شورش زدہ علاقے سے واپس بلالیا ہے۔راخین صوبہ کے وزیر اعلی نئی پو نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے بیرونی امدادی کارکنوں کوسیکورٹی فراہم کی گئی ہے، لیگن اس طرح کی پرتشدد صورتحال میں کسی مکمل سلامتی کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔ ہماری طرف سے ہر ممکن سکیورٹی فراہم کی جائے گی ، لیکن اگر کوئی علاقے سے باہر نکل جانا چاہتے ہیں، تو ہم ان کی مدد کریں گے۔
باغیوں کے حملے کے پیش نظر شمالی راخین میں غیر مسلم آبادی والے گائوں سے لوگوں کو خالی کرایا جارہا ہے، جہاں مقامی غیر مسلم آبادی کے لوگ اپنی حفاظت کے لئے خود کو تلواروں اور چاقوئوں سے مسلح کررہے ہیں، جنہیں گائوں سے د وسرے بڑے شہروں کی طرف منتقل کیا جارہا ہے۔ باغیوں کی طرف سے ایک بیان میں حکومت کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا ہے۔گزشتہ دنوں جاری ہونے والے بیان میں روہنگیا ئی گروپ نے کہا کہ وہ کسی طرح کے تشدد میں ملوث نہیں ہے ، بلکہ وہ روہنگیا ا ٓبادی کے حقوق کا دفاع کے لئے کارروائی کررہے ہیں۔بہر کیف روہنگیائی مسلمانوں کو اپنے وطن میانمار میں تو پناہ نہیں ملی لیکن وہ دنیا کے جن ملکوں میں جارہے ہیں،وہاں انہیں طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔

 

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *