2019 بتائے گا لوگوں کی اصل سوچ

ملک میںبہت ساری چیزیں رونما ہورہی ہیں۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیںسپریم کورٹ کے دو فیصلوں پر۔ پہلا فیصلہ مسلمانوںکے مذہبی معاملات سے متعلق تھا۔ سپریم کورٹ نے ایک بار میںتین طلاق کے نقصاندہ نظام کو غیرآئینی قرار دے دیا ہے۔ بے شک یہ ایک ایسا نظام تھا جو مردوںکے حق میں تھا،جس کا سہار الے کر وہ اپنی بیویوںسے برا سلوک کرسکتے تھے۔ جدید دنیا میںاس کا کوئی مقام نہیںہے۔ دنیا کے زیادہ تر ممالک میںیہ چلن میں نہیںہے۔ ہندوستان ایک قدیم ملک ہے۔ یہاںکی زیادہ تر آبادی گاؤںمیںرہتی ہے۔ مسلم عورتیںاس نظام کو ماننے پر مجبور تھیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آگے کی سمت میں اٹھایا گیا ایک قدم ہے۔ اس پر کتنا عمل ہوتاہے،اسٹیک ہولڈرس کا ردعمل کیا ہوتا ہے؟ اس کے لیے ہمیںانتظار کرنا ہوگا۔
دوسرا فیصلہ پرائیویسی کی بنیاد پر ہے۔یہ بہت ہی مضبوط فیصلہ ہے۔ ۔ نو ججوں کی بینچ نے اتفاق رائے سے فیصلہ سنایا۔ سبھی ججوںنے الگ الگ نقطہ نظر سے اپنے اپنے اسباب بتائے۔ یہ فیصلہ ہے جس کے لیے سپریم کورٹ کو کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ سپریم کورٹ کا ایک پرانا فیصلہ تھا،جس میںکہا گیا تھا کہ املاک کا حق بنیادی حق نہیں ہے۔ وہ الگ الگ وقت تھا۔ ایسا وقت تھا جب سوشل میڈیا نہیںتھا۔ سیل فون نہیںتھا۔ جدید گزٹ نہیں تھے، جن کے ذریعہ سے ڈاٹا آسانی سے لیک ہوسکتے ہیں۔ آدمی کی پرائیویسی خطرے میںپڑگئی ہے اور وہ غیر محفوظ ہوگیاہے۔ دراصل یہ بہت ہی جدید مسئلہ ہے اور کم سے کم میںبہت خوش ہوں کہ سپریم کورٹ نے تمام طرح کی جانکاریوںتک بے روک ٹوک پہنچ کے خطروںکا نوٹس لیا ہے۔
میں خاص طور پر آدھار کی لازمیت کو لے کر فکرمند تھا۔ بے شک آدھار اس فیصلے میںشامل نہیںہے۔ آدھار کا معاملہ سپریم کورٹ میںزیر التوا ہے، جس پر اس کا فیصلہ آنا ہے۔ پرائیویسی کے حق کے فیصلے کو دیکھتے ہوئے یہ امید کرنی چاہیے کہ آدھار کو لازمی نہ بنایا جائے۔ یہ آدمی کے اوپر چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ جنھیںسرکاری فائدہ کی ضرورت ہو، ان کے لیے آدھار کارڈ لازمی ہو، لیکن ہمارے جیسے لوگ جو سبسڈی کا کوئی سرکاری فائدہ نہیںلینا چاہتے ، ان پر آدھار تھوپنے کا کیا جواز ہے؟ اگر بغیر آدھار نمبر کے میری انکم ٹیکس ریٹرن نہیں منظور کی جاتی، تو یہ بہت ہی افسوسناک ہے۔ چونکہ میرے پاس پین کارڈ ہے او رانکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کو اس بات کی جانکاری سالوںسے ہے اور اچانک ایک دیگر نمبرکو انکم ٹیکس داخل کرنے کے لیے لازمی کردیتے ہیں، وہ ٹھیک نہیںہے۔ بہرحال ہمیںانتظار کرنا چاہیے۔ آخر کار سرکار کورٹ میںاپنا موقف رکھے کہ اس کے پاس آدھار کو محفوظ رکھنے کا مناسب سیف گارڈ ہے۔ ہمیںانتظار کرنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے؟

 

 

 

 

اس کے بعد سوال ٹرین حادثوںکا ہے۔ حادثات ہوتے ہیں۔ جب حادثات زیادہ ہونے لگتے ہیں تو تشویش کا موضوع بن جاتے ہیں۔ ہمیںمعلوم نہیںہے کہ سرکار کا نظریہ کیا ہے؟ وہ ریلورے سیکورٹی کو پوری طرح سے درست کرتی ہے یا نہیں کرتی ہے؟ دیکھنا ہے کہ سرکار آگے اسے لے کر کیا کرتی ہے؟ سرکار کو فوراً ریلوے میںسرمایہ کاری کے اقدامات اٹھانے چاہئیں، تاکہ ریلورے کو صحیح طریقے سے چلایا جاسکے۔ آخر کار ریلوے کے بہت سارے پل، بہت سارے انفراسٹرکچر سو سال پرانے ہیں۔ انفراسٹرکچر کی عمر کو دیکھتے ہوئے ریلوے انجینئرس بھی اس بات سے حیران ہیںکہ اب تک کوئی بڑا حادثہ نہیںہوا ہے۔ ہمیشہ کی طرح کچھ ریلوے ملازمین اور جونیئر انجینئرس کے اوپر کارروائی ہو جائے گی۔ حادثہ کے بعد وزیر کے استعفیٰ دینے کی روایت اب ختم ہوگئی ہے۔ سریش پربھو جو میرے اچھے دوست ہیں او رموجودہ کیبنٹ کے ایک بہتر وزیر ہیں، انھوںنے استعفے کی پیش کش کی لیکن وزیر اعظم نے انھیںانتظار کرنے کے لیے کہا ہے۔ افواہ یہ ہے کہ کیبنٹ میںپھیر بدل کے دوران انھیں وزارت دفاع کا چارج دیا جاسکتا ہے۔ ریلوے حادثات کے بعد کیا کارروائی ہوتی ہے، اس کے لیے ہمیںانتظار کرنا ہوگا۔
اس کے بعد ایک مذہبی رہنما کو عورت کے استحصال کے الزام میںپنچکولہ سی بی آئی کورٹ نے قصوروار مانا ہے۔ آشارام کا معاملہ بھی عدالت میں چل رہا ہے۔ گرمیت رام رحیم انساں کو عدالت نے مجرم ٹھہرایا ہے۔ ان مذہبی رہنماؤں کے پیروکاروںکی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اگر وہ کوئی جرم بھی کرتے ہیں،توان کے پیروکار پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں، جیسے جرم کا فیصلہ اکثریت اور اقلیت کے حساب سے ہوگا۔ اس میںکوئی منطق نہیں ہے۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے۔ ان سبھی مذہبی رہنماؤں میںکچھ اچھی خوبیاں بھی ہوتی ہیں ،نہیںتو اتنے سارے لوگ ان کے پیروکار کیسے ہوتے؟ لیکن ان کا ذاتی سلوک ایسا نہیں ہوتاجیسا کہ وہ پیغام دیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ آگے کیا ہوتاہے؟
2019 میںالیکشن ہونے جارہے ہیں۔ سرکار کی پوری مشینری اس کی تیاری میںجٹ گئی ہے۔ اب سرکار کی ترجیح میںکوئی بھی بڑے سدھار کی گنجائش نہیں ہے۔ تین سال میںانھوںنے بہت کچھ نہیںکیا۔ اب دو سال میںوہ کچھ کر نہیںسکتے ہیں۔ برسراقتدار پارٹی کی کوشش ہے کہ وہ کسی بھی طرح الیکشن جیت جائے۔ امت شاہ اسے لے کر کافی سرگرم اور مکھر ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم 50 سال تک حکومت کریںگے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم نے تین سال میں بہت کچھ کیا ہے۔ ظاہر ہے ، وہ اپنی اس بات کو ثابت نہیں کرسکتے ہیں۔ لیکن،ان کی حکومت پچاس سال تک نہیںچل پائے گی۔ اگر آپ پورے عمل کو آلودہ کردیںگے، پریس کو بہت سارا پیسہ دے دیںگے تو ملک میںآزاد میڈیا ہی ختم ہوجائے گا۔ لہٰذا امت شاہ جو بول رہے ہیں،ویسا بولنے کے لیے بہت زیادہ اعتماد ہونا چاہیے۔مجھے ملک کے ووٹروںمیںابھی بھی لامحدود اعتماد ہے۔ ہمیں 1977 کے الیکشن کو یاد کرنا چاہیے جب اندرا گاندھی نے ایمرجنسی ختم کرکے الیکشن کرایاتھا۔ انھوںنے یہ نہیںسوچا تھا کہ وہ اتنی بری طرح سے ہار جائیں گی، زیادہ سے زیادہ انھوںنے یہ سوچا تھا کہ ہمیںاکثریت نہیںملے گی، لیکن ہم سرکار بنا لیںگے۔لیکن لوگوںنے انھیںکرارا جواب دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ لوگوںکی اپنی آزاد سوچ ہوتی ہے۔ 2019 بتائے گا کہ لوگوں کی سوچ کیا ہے؟ مجھے نہیں لگتا کہ لوگ اخبار پڑھ کر ووٹ دیتے ہیں۔ نہیںتو مایاوتی وزیر اعلیٰ بن گئی ہوتیں اور پچھلے الیکشن میں لالو یادو بری طرح سے ہار گئے ہوتے۔ مجھے نہیںلگتا کہ انگریزی اخبار یا جو لوگ انگریزی جانتے ہیں،وہ ووٹروںکو زیادہ متاثر کرتے ہیں۔ دیکھتے ہیں،کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *