بیک ورڈ کلاس کمیشن کا مقصد ہم آہنگی یا مزید تقسیم ؟

ایک بار پھر سے’’ بیک ورڈ کلاس کمیشن‘‘ بنانے کا فیصلہ ہوا ہے ۔ منڈل کمیشن جب بنا تھا ،اس وقت پسماندہ طبقہ کی شناخت کے لئے سارے ملک میں کافی ہلچل ہوئی تھی ۔ سماج کے لگ بھگ ہر ان حصوں کی پہچان کی گئی تھی جنہیں پچھڑوں کی تشریح میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ منڈل کمیشن بن تو گیا لیکن کوئی بھی سرکار اسے لاگو کرنے کی ہمت نہیں کر پائی۔ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے اسے لاگو کیا اور لاگو کرنے کے پیچھے اس وقت کی صورت حال یہ تھی کہ زیادہ تر پسماندہ طبقہ کے لوگ اپنے کواقتصادی اور سماجی طور سے الگ تھلگ پا رہے تھے۔ وہ اقتدار میں حصہ داری چاہتے تھے۔ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ کی سوچ یہ تھی کہ اگر پچھڑوں کو اقتدار میں حصہ داری ملے گی تو یہ لوگ اپنے طبقہ کے سبھی حصوں کا ڈیولپمنٹ کرسکیں ۔ سیاسی ،سماجی ،تعلیمی اور معاشی طورپر بھی ملک کی مین اسٹریم میںشامل ہوںگے۔ منڈل کمیشن کی اعلیٰ طبقہ نے بہت زیادہ مخالفت کی ۔ انھوں نے یہ کہا کہ اقتصادی بنیاد پر طبقات کی پہچان ہونی چاہئے ،نہ کہ ذات برادری کی بنیاد پر۔ وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے جب منڈل کمیشن لاگو کیا تو انہوں نے اقتصادی طور سے پسماندہ اعلیٰ ذات کے لئے بھی 10 فیصد ریزرویشن کی تجویز رکھی تھی ۔وہ اس کا ایک بل لانے والے تھے لیکن بی جے پی نے حمایت واپس لے لی اور وہ بل فائلوں کی زینت بن کر رہ گیا۔
وشو ناتھ پرتاپ سنگھ نے یہ بھی سوچا تھا کہ منڈل کمیشن کے لاگو ہونے کے بعد کاسٹ سسٹم کمزور ہوگا اور پچھڑے طبقوں میںسیاسی انتظامی اور اقتصادی طور پر معاشی اعتبار سے خوشحالی آئے گی۔ تب سماج کی تبدیلی کا سلسلہ شروع ہوگا۔ لیکن اپنے آخر دنوں میں انہیں اس بات کا بہت افسوس تھا کہ جس منڈل کمیشن کو انہوں نے یہ سوچ کر لاگو کیا تھا کہ کاسٹ سسٹم ڈھیلا ہوگا، اس منڈل کمیشن نے کاسٹ سسٹم کو اور مضبوط کر دیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ منڈل کمیشن کے لاگو ہونے سے ملک میں پسماندہ طبقے کے نئے لیڈر پیدا ہوئے جنہوں نے کامیابی کے ساتھ اعلیٰ ذات کے سیاستدانوںکا مقام لیااور اور اپنے اپنے سماج کے لیڈر بن گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان میں سے زیادہ تر آج بدعنوانی کا الزام جھیل رہے ہیں۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اگر سماج میں بدلائو کا نقطہ نظر ہمہ گیر نہ ہو تو یہ اپنے سماج کے اندر بھی ایک نیا حاکمیت والا طبقہ پیدا کر دیتا ہے ۔

 

 

 

 

اب بی جے پی کی سرکار نے قومی سطح پر ایک نیا بیک ورڈ کلاس کمیشن بنانے کا فیصلہ لیا ہے۔ سرکار کا یہ ماننا ہے اوروہ اس میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا سہارا لے رہی ہے کہ معاشی طور سے پچھڑے طبقوں میں بھی ایک کریمی لیئر پیدا ہو گئی ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں کی پہچان ضروری ہے جنہیں اب تک ریزرویشن کا فائدہ نہیںملا ہے ۔ اسے انھوں نے پچھڑے اور انتہائی پچھڑوں میں بانٹا ہے۔ پہلی نظر میں یہ فیصلہ بہت اچھا دکھائی دیتا ہے لیکن اگر اس کا سیاسی تجزیہ کریں تو ہم پائیں گے کہ پچھڑوں کی متحدہ طاقت کو توڑنے کے لئے اس فیصلے کا استعمال ہو سکتا ہے۔ پچھڑے اور انتہائی پچھڑے میںپورے پچھڑے طبقہ کو بانٹا جاسکتا ہے۔ اس میں وہ ساری برادریاں متاثر ہوںگی جنہیں اب تک ریزرویشن کاپورا فائدہ ملتا رہا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں نے ریزرویشن کی بنیاد پر اب تک پورے عہدے بھرے ہی نہیںہیں۔ پچھڑے طبقہ کے لیڈروں کا یہ کہنا ہے کہ جس دن سارے پوسٹ بھر جائیں ،اس دن آپ پچھڑے اور انتہائی پچھڑے کا سوال اٹھائیے، لیکن 2019 کا الیکشن سامنے ہے۔ بہار میں نتیش کمار نے دلت اور مہا دلت نام کی تقسیم کامیابی کے ساتھ دلت سماج میں کر دی تھی۔ دلتوں کو ریزرویشن ملا ہوا ہے۔ انہوں نے مہا دلتوں کے نام پر ریزرویشن کیا اور انہیں سہولیات بھی دیں جس کا فائدہ انہیں انتخاب میں ملا۔ اب مرکزی سرکار اس نئے کمیشن کے ذریعہ ان طبقات کی پہچان کرے گی جو طبقہ بہت پچھڑے یا انتہائی پچھڑے کے درجے میں آتے ہیں، لفظ کا انتخاب تو کمیشن کرے گا ۔
خلاصہ یہی ہے کہ پچھڑوں کی وہ بڑی ذات، انھیں ریزرویشن سے دور رکھا جائے اوربہت پچھڑے اور انتہائی پچھڑوں کو اس میں شامل کیا جائے جنہیں اب تک ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملا ہے۔ اس طرح سے پچھڑوں کی ایک بڑی سیاسی طاقت کو کمزور کیا جاسکتا ہے اور پچھڑوں کا بڑا حصہ 2019 کے انتخابات میں اپنا ووٹ بی جے پی کو دے سکتا ہے۔
حالانکہ سیاسی طور سے یہ بھی سچ ہے کہ لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات میں بھی وزیر اعظم نریندر مودی نے خود کو کامیابی کے ساتھ پچھڑوں کے لیڈر کے طور پر متعارف کیا اور امیت شاہ نے بھی خود کو پچھڑوں کے لیڈر کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لوک سبھا میں اس کا فائدہ انہیں بڑے پیمانے پر ہوا، لیکن بہار میں اس کا فائدہ انہیں نہیں مل پایا۔ اتر پردیش کے انتخابات میں 100فیصد اس کا فائدہ ملا۔ کیونکہ اکھلیش یادو اور مایاوتی دونوں پچھڑوں کے تمام طبقات کو اپنے ساتھ بنائے رکھنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ ان دونوں کے کام کرنے کے طریقے نے انتہائی پچھڑوں کو بی جے پی کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جوڑ دیا۔ اب یہ طبقے بی جے پی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں،ایسا ماناجاسکتا ہے۔
کیا یہ ’’ بیک ورڈ کلاس کمیشن ‘‘منڈل پارٹ 2 کی شکل میں جانا جائے گا؟کیا پچھڑا ورگ نیا پچھڑا ورگ آیوگ ملک میں کامیابی کے ساتھ پچھڑوں کے ایسے طبقات کی پہچان کر پائے گا جنہیں اب تک ریزرویشن کا فائدہ نہیں ملا ہے یا اس میں بھی اسے کوئی پریشانی آئے گی؟ابھی تک پچھڑوں کے بڑے لیڈر جن میں ملائم سنگھ یادو، لالو یادو، نتیش کمار جیسے لوگ ہیں،انھوں نے ابھی اس کے اوپر سنجیدہ ردعمل نہیںدیا ہے۔ ان کے اس کے اوپر کبھی بھی رد عمل آسکتے ہیں۔ دیکھنا پڑے گا کہ نیا بیک ورڈ کلاس کمیشن کتنی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے یا کتنی تقسیم پیداکرتا ہے؟ویسے ہمارا سماج ابھی تقسیم کے مسلسل رد عمل سے گزر رہا ہے جہاں ہر آدمی بٹنے کے لئے تیار ہے، ہر طبقہ بٹنے کے لئے تیار ہے۔ شاید سب کا ساتھ ،سب کا وکاس جیسا نعرہ اور اس کا نتیجہ ملک کے ان طبقوں تک نہیں پہنچ پا رہا ہے،نہ مستقبل قریب میں پہنچ پائے گا، جنہیں ہم محروم ،دلت ،پچھڑا اور اب مہا دلت یا مہا پچھڑا کہتے ہیں۔ دیکھنا ہے کہ مستقبل میں کیا ہوگا؟

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *