لنچنگ سے متاثر ہوتا ہے فرقہ وارانہ واقعات میں کمی کا مقصد

ایک ایسے وقت جب مرکزی حکومت، وزارت داخلہ اور قومی اقلیتی کمیشن کے ذریعہ فراہم کردہ ڈاٹا کی بنیاد پر دعویٰ کر رہی ہے کہ بی جے پی قیادت والے این ڈی اے کے اقتدار میںآنے کے بعدمجموعی طور پر فرقہ وارانہ واقعات میں کمی آئی ہے،ملک کی سب سے بڑی عدالت کی بابائے قوم مہاتما گاندھی کے پڑپوتے توشار گاندھی کی ماب لنچنگ کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کی غرض سے دائر کی گئی عرضی پر ہو رہی سماعت کے دوران خود ساختہ گئو رکشکوں کو لگام لگانے کے تعلق سے آئی سخت ہدایات فرقہ وارانہ صورت حال کے بارے میںقطعی برعکس تاثر پیدا کرتی ہیں۔سچ بھی یہی ہے کہ ماب لنچنگ سے فرقہ وارانہ واقعات میںکمی کا مقصد متاثر ہوتا ہے۔
جہاںتک حکومت کے اعداد وشمار کا تعلق ہے، اس سے تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پی ایم مودی کی حکومت میںفرقہ وارانہ واقعات کے رونما ہونے میںکمی آئی ہے۔ خاص طور سے اس وقت جب ایک شخص یہ دیکھتا ہے کہ ملک کی 29 ریاستوں اور 7 یونین ٹیری ٹوریز میں2013 میں823 کے بالمقابل 2014 میںیعنی مودی کے پی ایم بننے کے بعد یہ تعداد کم ہوکر 644 ہوگئی، پھر 2015میں یہ 751 اور 2016 میں703 یعنی مودی سے قبل کی تعداد 823 سے نیچے ہی رہی۔ ان فرقہ وارانہ واقعات کے دوران ہلاکتوں کی تعداد بھی کم و بیش یہی تاثر دیتی ہے۔ ویسے یہی ڈاٹا مجروحین کی تعداد میںبتدریج اضافہ بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ 2014 میں1921، 2015 میں 2264 اور 2016 میں2321 افراد فرقہ وارانہ واقعات میں زخمی ہوئے۔ اسی طرح کی صورت حال کا اندازہ اس دوران قومی اقلیتی کمیشن کے پاس مجموعی طور پر اقلیتوں کی جانب سے رجسٹر کی گئی فرقہ وارانہ شکایات کی تعداد کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ پارسی اور جینی اقلیتی کمیونٹیوں کو چھوڑ کر مسلم، عیسائی،سکھ اور بدھسٹ کمیونٹیوں کے ذریعہ فرقہ وارانہ نوعیت کی شکایات میںکمی واقع ہوئی ہے۔ ویسے اس کمی کا سبب کیا ہے،یہ تو نہیںمعلوم مگر یہ سوال یقیناً اٹھتا ہے کہ کیا یہ کمی واقعی اس لیے ہے کہ اب فرقہ وارانہ واقعات کم ہو رہے ہیں یا اس لیے کہ ان واقعات کو قومی اقلیتی کمیشن یا حکومت کے علم میںلانے سے کوئی فائدہ نہیں ہے،لہٰذا لوگوںکی اس تعلق سے دلچسپی کم ہورہی ہے۔

 

 

 

 

سپریم کورٹ کے ذریعہ 6 ستمبر کو لنچنگ کو لے کر حکومت کو جو پھٹکار سنائی گئی ہے،وہ اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کو گئو رکشا کے نام پر کچھ لوگوںکے ذریعہ لاء اینڈ آرڈر کو اپنے ہاتھوں میںلینے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے پر سخت تشویش اور فکر ہے اور اسی لیے اس نے برسر اقتدار گروپ سے واضح طور پر کہا کہ جب گئو رکشک گائے کے تحفظ کے نام پر قانون کو اپنے ہاتھوں میںلے لیںگے تو وہ خاموش نہیںرہ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تعلق سے سخت پیغام دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ اب گئو رکشکوں کی سرگرمیوںپر فل اسٹاپ لگانے کا وقت آچکا ہے،اس لیے ریاستیں اور یونین ٹیری ٹوریز اس طرح کی بھیڑ پر کریک ڈاؤن کے لیے ہر ضلع میںنوڈل آفیسر بحال کرے۔ یہ حکم اس وقت دیا گیا جب ہریانہ ، گجرات ، مہاراشٹر اورراجستھان کی کونسل نے گئو رکشکوں کو روکنے اور جہاںکہیںبھی اس طرح کے واقعات ہوں،ا ن کے خلاف ایکشن لینے کی غرض سے ضلعی نوڈل آفیسروں کو بحال کرنے کا آفر دیا۔
عیاںرہے کہ اس طرح کے واقعات گزشتہ دو برسوں با الخصوص دادری کے اخلاق کے سانحہ کے بعد سے ہو رہے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے گزشتہ اپریل میںمرکزی اور کچھ ریاستی حکومت کو ایک رٹ پٹیشن کی سماعت کرتے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا کہ اس طرح کے واقعات کو فوراً چیک کیا جائے مگر اس کے باوجود یہ سلسلہ کم وبیش جاری رہا۔ قابل ذکر ہے کہ ایک سے زیادہ ریاست میں گئو رکشکوں کو قانونی طور پر یہ حیثیت حاصل ہے کیونکہ مقامی قوانین اچھی نیت اور ارادے سے یہ کام کرنے کی صورت میںانھیںاستثنیٰ بنادیتے ہیں۔ توقع ہے کہ قوانین میں اس طرح کے پروویژنوں کی وقعت کا مقصد جانوروں کو مارنے سے روکنا یا ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے اور گائے کا تحفظ ان عدالتی کارروائیوں کے دوران طے کیا جا سکے گا۔
علاوہ ازیں یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ گئو رکشکوںکو روکنے کے لیے ان واقعات میں پولیس کے اپروچ میںبھی تبدیلی کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ بہت سے معاملوں میںپولیس جانور کی چوری یا اس کو مارنے کے لیے خود متاثرین کو ہی قصوروار مان کر ان کے خلاف مقدمہ کردیتی ہے۔ عجب بات تو یہ ہے کہ ایسے میں انتظامیہ اس بات کو طے کرنے میںاس طرح بے چین نظر آتا ہے کہ مانو گائے کو مارنے یا بیف یا جانور کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے میںیہی متاثرین ذمہ دار ہیں اور ایسا کرتے وقت وہ یہ بھول جاتے ہیںکہ قتل او ر تشدد میںملوث قصورواروں کو گرفتار کریں۔ پہلو خاں کیس یا چند دوسرے معاملوں میں بھی ایسا ہی ہوا۔ بعد میںپہلو خاں کی موت کے بعد پولیس کا رخ کچھ بدلا ۔ مگر اس کے بعد ایف آئی آر میں درج 6 افراد کو 5ما ہ کے بعد بھی پولیس اب تک گرفتار نہیں کرسکی ہے۔
اسی سے متعلق ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا مرکزی حکومت آئین ہند کی دفعہ 256 کے مطابق آگے بڑھنا چاہتی ہے جو کہ اسے ریاستوں کو ہدایات جاری کرنے کا اختیار دیتی ہے تاکہ یہ گئو رکشکوں کی سرگرمیوں پر فل اسٹاپ لگا سکے اور صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہ ہو جائے کہ یہ ریاستوں کے ذریعہ ڈیل کیا جانے والا لاء اینڈ آرڈر کا ایشو ہے۔ ویسے جب پی ایم مودی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ لوگوں کا گائے کی پوجا کے نام پر قتل ناقابل قبول ہے، تب ان کی حکومت کی مجموعی طور پر یہ ذمہ داری اور بھی ہوجاتی ہے کہ ان کے اس اعلان کا بھرم ہر حال میں رکھا جائے۔
المختصر جو بات فرقہ وارانہ معاملے میں غور رکرتے وقت سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ یہ اچھی بات ہے کہ فرقہ وارانہ واقعات اور اس دوران ہلاک شدگان کی تعداد میںبحیثیت مجموعی کمی واقع ہوئی ہے مگر اس کمی کا اس وقت کوئی مطلب سمجھ میںنہیں آتا ہے جب سماج میں فرقہ وارانہ ایشوز کو ابھار کر لنچنگ جیسے غیر انسانی اور وحشی واقعات رونما ہوتے ہیں اور پھر سماج کا ماحول خراب ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مرکزی اور ریاستی سبھی حکومتیںان رجحانات اور واقعات کو ختم کرنے میں سنجیدہ اور یکسو ہوں۔ اسی میںملک اور اس میںرہ رہی تما م کمیونٹیوں کی خیر ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *