ملک ایک المناک دور سے گزر رہا ہے

یہ بہت افسوسناک خبرہے کہ صحافی گوری لنکیش کو ان کے بنگلورو میں واقع مکان میں ہلاک کردیا گیا۔ ان کے والد پی لنکیش نے ’’لنکیش پتریکا‘‘ کی شروعات کی تھی۔ مجھے اچھی طرح سے یاد ہے کہ 1980 کی دہائی میںبھی’ لنکیش پتریکا ‘ بہت مشہور میگزین نہ ہو لیکن اس کی غیر جانب داری کے لیے اسے ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ 1980 کی دہائی میں جب کرناٹک میں رام کرشن ہیگڑے کی قیادت میں جنتا پارٹی کی سرکار بنی تھی، پی لنکیش سوشلسٹ آئیڈیا لوجی سے جڑے ہوئے تھے۔ تب بھی سرکار کو یہ فکر رہتی تھی کہ لنکیش اپنی میگزین میں کیا لکھ رہے ہیں؟ یہ بہت پُروقار اخبار تھا۔ ان کا خاندان بھی بہت معزز خاندان ہے۔ گوری نے اپنے طریقے سے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ انھوںنے ایک الگ میگزین نکالی۔ اگر ہم ان کے خیالات کی بات کریں تو ہر لحاظ سے آئین کے مطابق تھے۔ موضوع چاہے سیاسی ہو، سماجی ہو، قانون اور انصاف ہو، ان کے قلم کو کسی طرح سے بھی سخت نہیںکہا جاسکتاہے۔ بہرحال آج وقت اور ماحول کچھ ایسا ہے کہ غیر جانب دار منطقی لوگ بھی برداشت سے باہر ہیں۔ حالانکہ یہ پولیس جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گاکہ اصل مجرم کون ہیں لیکن عام خیال یہ ہے کہ رائٹ ونگر آئیڈیا لوجی کے لوگوں نے ان کا قتل کیا ہے۔
دراصل وہ فی الحال وزیر اعلیٰ سدارمیا کے خلاف بدعنوانی کے معاملے کی جانچ کر رہی تھیں۔ یہاں تک کہ کرناٹک میںبرسر اقتدار پارٹی ان سے ہموار نہیں تھی۔ ہمیںجانچ ایک نتیجے میں آنے تک انتظار کرنا پڑے گا کہ اس گھناؤنے کام کو کس نے انجام دیا؟ لیکن ایک جامع تصویر یہ ہے کہ ملک ایک المناک دور سے گزر رہا ہے۔ ہماری عدم رواداری اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہم جن خیالات سے متفق نہیں ہوتے، انھیں برداشت نہیںکرسکتے۔ چاہے جو سرکار اقتدار میںہو،آج بی جے پی ہے کل کوئی اور پارٹی ہو سکتی ہے۔ یہ ہم سبھی کے مفاد میںہے کہ ان رجحانات پر قابو پایا جائے۔ اگر انھیں بے لگام چھوڑ دیاگیا تو یہ سبھی پارٹیوںکو نقصان پہنچائیں گے اور پورے نظام کو نقصان پہنچائیںگے۔ مجھے یقین ہے کہ عدالتوں سے بھی اس پر کچھ تبصرے آئیںگے۔
حالیہ دنوںمیں سپریم کورٹ نے دو موضوع پر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ پہلا گائے، بیف سے متعلق مار پیٹ اور ہلاکت کا ہے۔ دیر سے ہی سہی، لیکن سپریم کورٹ نے ریاستوں کے چیف سکریٹریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک ایسا اسپیشل میکینزم بنائے جس سے کہ ایسے واقعات ختم ہو سکیں۔ دراصل، آر ایس ایس، وی ایچ پی اور ان سے متعلق تنظیموں کو خود ہی یہ سمجھنا چاہیے کہ ایک عام ہندو ایسی چیزیں نہیں چاہتا۔ لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ گائے کے معاملے میں سنگھ سے جڑے مٹھی بھر لوگ، لوگوںکی پٹائی کریں۔ ایک عام ہندو اس کے خلاف ہی جائے گا۔ اگر ان لوگوں کو ملک میں زیادہ وقت تک حکومت کرنا ہے تو انھیں ہوشیار رہنا پڑے گا اور ان مٹھی بھر ہندوستانی غیر سماجی عناصر کو قابو میں رکھنا ہوگا۔

 

 

 

 

 

سپریم کورٹ نے ایک اور بات کہی ہے کہ سیاستدانوں کی جائیداد پانچ سال میں کیسے 500 فیصد بڑھ جاتی ہے؟ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ الیکشن میں نامنیشن کے دوران جس فارمیٹ میںلیڈر اپنی جائیداد کا اعلان کرتے ہیں، وہ فارمیٹ ہی ناقص ہے۔ اس میں مارکیٹ ویلیو کے حساب سے جائیداد کاتخمینہ لگایا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص نے 30 سال قبل زمین کا کوئی پلاٹ خریدا ہے تو آج اس کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔ ہر2 ،3یا 5 سال میں اس پلاٹ کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ جائیداد میں اس طرح کے اضافے کا ان کے لیڈر ہونے سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ لیڈر بننے کے بعد کمائے گئے پیسے اور اس سے پہلے کی جائیداد کی قیمت میں ہوئے اضافے میں فرق کرنا ہوگا۔ لیکن نہ سے ہاں بھلا۔ سپریم کورٹ نے اس کانوٹس لیا ہے۔ سرکار کو اس پر دماغ لگانا ہوگا۔ اگر ہلکے الفاظ میںکہیں تو ہندوستان کے سیاسی گروپ نے گزشتہ 20-25 سال میں اپنی معتبریت کو بہت حد تک کھو دیا ہے۔ اگر اس کو یوںہی چلنے دیا گیا تو یہ جمہوری نظام کے لیے کسی بھی طرح سے اچھا نہیں ہوگا۔ افریقی ممالک اور یہاںتک کہ اپنے پڑوسی ممالک میںبھی فوج اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ہمیشہ بیتاب رہتی ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ عوام جن لوگوں کو چنتے ہیں،ان میںان کا اعتماد کم ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس طرح سے فوج وہاں اقتدار پر قابض ہوجاتی ہے۔
نریندر مودی ترقی کے بارے میںبہت کچھ بولتے ہیں۔ اگر وہ طویل وقت تک ملک پر حکومت کرنا چاہتے ہیں تو انھیں اپنے لوگوں کو قابو میں رکھنا ہوگا۔ انھیں کچھ عملی پالیسیاں بنانی چاہئیںجو سب کے لیے مفید ہوں۔ چھوٹے تاجر اور چھوٹی و منجھلی صنعت والے ان کے خاص حامی گروپ تھے۔آج یہ سبھی پریشان ہیں، پہلے نوٹ بندی کی وجہ سے اور اب جی ایس ٹی کی وجہ سے ۔ میںان لوگوں میںسے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیںکہ جی ایس ٹی خراب ہے۔ میںبالکل ایسا نہیں مانتا، لیکن جس طریقے سے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کو ایک کے بعد ایک لایا گیا، جس کی وجہ سے چھوٹے تاجر، چھوٹے صنعت کار سنگین دباؤ اور پریشانی میںآگئے ہیں۔ میںایک مثال دیتا ہوں۔ پچھلے دنوں میں سانگانیر ، جو جے پور کے نزدیک ہے، میںتھا۔ سانگانیر میںایک لاکھ لوگ بلاک پینٹنگ وغیرہ سے جڑے ہوئے تھے۔ اب ان کی تعداد دس ہزار سے بھی کم ہوگئی ہے۔ کیونکہ اس کاروبار کا زیادہ تر حصہ کیش سے ہوتا تھا۔ یہ کیش کالا تھا یا سفید ، مدعا یہ نہیںہے۔ نوٹ بندی نے اس کاروبار پر براہ راست اپنا اثر ڈالا ہے۔ یہ تو ایک جگہ کی بات ہے، ہر شہر کی تقریباً یہی کہانی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ لمبے وقت سے چلے آرہے سسٹم کو اچانک نہیںبدل سکتے۔ کیش سے کیش لیس یا لیس کیش کی طرف جانا جملہ ہے، جو سننے میںاچھا لگتا ہے اور وہ جملہ گھڑنے میںماہر ہیں۔ لیکن انھیں اس کا حل تلاش کرنا پڑے گا کیونکہ اب ان کے پاس تقریباً دو سال کا وقت بچا ہوا ہے۔ جلد ہی ملک انتخابی موڈ میںآجائے گا۔ جتنی جلدی سرکار ان چیزوں کو بہتر کرلے،اتنا ہی اس کے لیے اچھا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *