75سالہ عظیم فٹ بالر ایس ایس حکیم پھر ہوئے فعال

75 سالہ عظیم فٹ بالر سید شاہد حکیم فٹ بال کی دنیا میں محتاج تعارف نہیںہیں۔ انھوںنے1960 کے اولمپکس میں ہندوستان کی نمائندگی کی تھی اور پھر بعد میںفیڈریشن انٹر نیشنل ڈی فٹ بال ایسوسی ایشن (فیفا) کے ریفری کی خدما ت بھی انجام دی تھیں۔ دنیائے فٹ بال میںان کی حیثیت ایک ہیرو جیسی ہے۔ یہ بڑے باپ کے بڑے بیٹے اس اعتبار سے ہیں کہ ان کی والد سید عبد الرحیم بھی بہت مشہور فٹ بالر تھے۔ اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ فٹ بال کی مہارت انھیںوراثت میں ملی۔ ان کے والد ایس اے رحیم جب تک زندہ رہے، فٹ بال کے کھیل پر چھائے رہے۔ یہ 1951 سے 1962 تک ہندوستان کے کوچ رہے ۔ 1951 اور 1962 میںانھوںنے ایشیائی گیمز میںگولڈ میڈل جیتا۔ 1956 کے اولمپکس میں ہندوستان نے چوتھی اور 1960 میںچھٹی پوزیشن حاصل کی۔
ایس ایس حکیم پر لمبی عمر کا کوئی اثر نہیںہوا ہے۔ وہ عمر کے اس مرحلے میں بھی بے چین ہیںکہ کس طرح نئی نسل کے اندر وہی مہارت جو کہ ان کے والد اور خود ان میںرہی ہے، منتقل کردیں۔ حال ہی میںجب ان کی ملاقا ت 14 سالہ مڈفیلڈر آیوش تیاگی سے ہوئی تو وہ خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ انھوںنے فٹ بال کے ایک اور پروموٹر وسیم علوی کے ساتھ مل کر آیوش تیاگی کو خوب گُر بتائے۔
واضح رہے کہ گرو اسکول کے نویںکلاس کے طالب علم آیوش تیاگی کو حال ہی میںپولینڈ بھیجا گیا تھا جہاںوہ مشہور و معروف ورسوویا کلب گئے اور دو ماہ کی تربیت لی۔ علاوہ ازیں تیاگی نے برطانیہ،اسکاٹ لینڈ، بینکاک او رجنوبی افریقہ میںبھی تربیت حاصل کی۔
ایس ایس حکیم کی جہاںیہ دلچسپی ہے کہ نئی نسل کے ذہین بچوں کو مستبقل کا’پیلے‘یا ’ایس اے رحیم‘ بنادیں، وہیںان کو اس بات کی بھی فکر ہے کہ ماضی کے عظیم ترین فٹ بالروں سے نئی نسل کو متعارف کرائیں۔اسی خیال سے وہ فٹ بال پروموٹر وسیم علوی کے اشتراک سے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں11 تا 15 ستمبر 1948تا 1982 فٹ بالر کی عظیم شخصیات کی نمائش کا اہتمام کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان ہی عظیم فٹ بالروں کی شاندار کارکردگی کے سبب ہندوستان 1956میںمیلبورن اولمپکس میںچوتھے نمبر پر آیا اور 1951 میں دہلی اور جکارتہ میںایشیائی کھیل میںگولڈ میڈل جیتا اور پوری دنیا میںنام کمایا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیںکہ اپنے انفراسٹرکچر میںترقی کے باوجود ماضی کا وہ ریکارڈ ہندوستان حال قریب میںنہیںبنا پایا ہے جو کہ بڑے افسوس کی بات ہے۔
ایس ایس حکیم کا واضح طور پر کہنا ہے کہ آج کسی ٹریننگ کی باضابطہ با ت نہیںہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہماری بین الاقوامی طور پر کوئی نمایاں شرکت نہیں ہوتی ہے جو کہ افسوسناک ہے۔ ایس ایس حکیم چاہتے ہیںکہ ’ہال آف فیم‘ نام کی ا س نمائش کو نئی نسل کے درمیان اس انداز سے پیش کیا جائے کہ وہ اپنے ملک کی ایک زمانہ میںشان سمجھنے جانے والے فٹ بال کے عظیم کھلاڑیوںکو اپنا ماڈل بنائیں اور ان کے فن سے اپنے آپ کو مزین کریں اور خود کو آگے بڑھا کر ملک کا نام پوری دنیا میںایک بار پھر روشن کریں۔

 

 

 

 

یہ صحیح ہے کہ ہمارے ملک میںبرازیل کے پیلے کی سطح کے عظیم کھلاڑی بھی ہوئے ہیں مگر ہم نے انھیںبھلا دیا ہے جس کے سبب ان کے شاندار کارنامے ہماری نئی نسل کی نظروں سے اوجھل ہیں اور وہ ان سے فائدہ نہیںاٹھاپاتے ہیں۔ توقع ہے کہ اس طرح کی نمائش سے یہ مقصد یقینا حاصل ہوگا۔
جہاں تک ہندوستان کے عظیم اور ماہر فٹ بال کھلاڑیوں کا سوال ہے،ان میںگوستھا پال کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ 1896 میںپیدا ہوئے گوستھا نے 1912 سے 1936 تک موہن بگان کے لیے کھیلا،1921سے 1936 تک ٹیم کی کپتانی بھی کی۔ 1924 میںہندوستان کے کپتان قرار دیے گئے اور اوورسیز میچ میںہندوستان کی قیادت کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے۔ 1962 میںپدم شری پانے والے یہ پہلے فٹ با لر بنے۔ کولکاتا کے ایڈن گارڈن کے سامنے لگا ان کا مجسمہ ان کی عظمت کا اعتراف کرتا ہے۔ 19 اپریل 1976 کو ان کی وفات ہوگئی۔
دیگر بڑے مشہور فٹ بال کھلاڑیوں میںپیٹر تھنگراج، جرنیل سنگھ دھیلن، سوبیمل چونی گوسوامی، سنیل چھیتری،شیلندر ناتھ منا، آئی ایم وجین، پی کے بنرجی، بھائی چنگ بھوٹیا اور کلائمکس لارینس کے نام لیے جاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان میںفٹ بال کی تاریخ ایس اے رحیم اور ایس ایس حکیم کے ساتھ ان مذکورہ بالا لوگوں کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *