ہندو نیپال کو کور کرتا مجوزہ پنچیشور باندھ عملی شکل لینے میں 65 برس لگ گئے

جواہر لعل نہرو نے سب سے پہلے 1954 میں پنچیشور باندھ کی با ت کی تھی۔ تب سے کئی دہائیاں بیت گئیں لیکن باندھ کی تعمیر پر کوئی کام شروع نہیں ہوا۔ حال میں اترا کھنڈ اسمبلی انتخابات کے دوران ایک انتخابی ریلی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی پنچیشور باندھ کا ذکر کیا تھا۔ 2018 سے پنچیشور باندھ کی تعمیر کا کام شروع ہوگاجو 2026 میںمکمل ہوگا۔ اس کے بعد 2028 تک باندھ میں پانی بھرنے کا کام پورا ہوگا۔ یہ پروجیکٹ دو مرحلوں میںشروع ہوگا۔ پنچیشور میںمہا کالی اور سریو ندی کے سنگم پر پہلے 315 میٹر اونچے باندھ کی تعمیر ہوگی۔ اس کے بعد شاردا ندی پر 145 میٹر اونچا روپالی گاڑ بنے گا۔ اندازہ ہے کہ اس پروجیکٹ سے ہندوستان اور نیپال کا تقریباً 134 اسکوائر کلو میٹر علاقہ ڈوب علاقے میں آجائے گا۔ اس میں اتراکھنڈ کا 120 اسکوائر کلو میٹر اور نیپال کا 14 اسکوائر کلو میٹر ڈوب علاقہ ہوگا۔ اندازہ ہے کہ اس پروجیکٹ سے 115 مواضعات کے 11000 سے زیادہ لوگ پوری طرح سے متاثر ہوں گے۔
یہ علاقہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ ماہرین کے مطابق وسط ہمالیہ کے سسمک 4- زون میں گزشتہ 15 سال میں5 نمبر کے تیزی سے زیادہ کے 10زلزلے آئے ہیں۔ ان میں سے 5 زلزلوںکا مرکز پنچیشور ندی کے آس پاس کا علاقہ ہی ہا ہے۔ اگر پنچیشور باندھ میں ندیوںکا پانی رک جاتا ہے تو اس سے 90 کروڑ کیوبک لیٹر پانی کا دباؤ ایک چھوٹے سے علاقہ پر پڑے گا۔ پہاڑوں پر واقع چٹانیں اس دباؤ کو جھیلنے میں قاصر ہیں۔ چٹانوں کے دھنسنے سے اس علاقے میں زلزلے کا اندیشہ برابر بنا رہے گا۔ یہاںکی چٹانیں پانی کاکتنا دباؤ جھیل پائیںگی، اسے لے کر 2016 میںراک ٹوسٹنگ کے لیے سرنگیں کھودی گئی تھیں۔ بتایا گیا تھا کہ راک ٹوسٹنگ کی پازیٹو رپورٹ آنے کے بعد ہی باندھ کی تعمیر شروع ہوگی۔ اس سے پہلے راک ٹیسٹنگ کے لیے 20 سے زیادہ سرنگیںکھودی گئی تھیں،جن کی رپورٹ پازیٹو نہیں آئی تھی۔
کھدائی کرنے والی کمپنی واف کورس کے سپروائزر کل بھوشن نے بتایا کہ ہمارا مقصد راک ٹیسٹنگ کے ساتھ پانی کو جمع کرنے کے لیے مٹی کی صلاحیت کا بھی اندازہ لگانا ہے۔ اس کے بعد ہی باندھ کی تعمیر شروع ہوگی۔ لیکن ماہرین اور مقامی لوگوں کی مخالفت کو نظر انداز کرکے سرکار اس پروجیکٹ کو جلد شروع کرنا چاہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اس پروجیکٹ کو شروع کرنے کے لیے اتنی جلدبازی میںکیوںہے؟ سرکار کا ماننا ہے کہ بڑے باندھوںسے ہی پہاڑی علاقوں میںترقی کا راستہ کھلے گا۔ پھر عام جنتا سرکار کی اس دلیل کو کیوں ان سنا کررہی ہے؟

 

 

 

 

ٹہری ، نرمدا اور دیگر چھوٹے سیکڑوں باندھوں کے ڈسپلیس منٹ کا درد جھیل چکے عوام کو سرکار کے وعدوں پر بھروسہ نہیںہے۔ انھیںپتہ ہے کہ سرکار جسے ترقی کاراستہ بتا رہی ہے،وہ ان کے لیے تباہی کے دروازے کھولے گا۔انھیںپتہ ہے کہ یہ ترقی نہیں، بلکہ کچھ افسروں ، لیڈروں،باندھ بنانے والوں اور ٹھیکے داروں کے لیے موٹی کمائی کا ذریعہ ثابت ہوگا۔پنچیشور باندھ کی تعمیر میں40 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جانے ہیں۔ ہندوستان اور نیپال دونوں ملکوں کے لیڈر اور نوکر شاہ اس پروجیکٹ سے بہت زیادہ پرجوش ہیں۔ بڑے بڑے ٹھیکے دار، باندھ بنانے والی کمپنیوں اور کنسٹرکشن کمپنیوں کی مربوط دلچسپی سرکار کے ذریعہ ترقی کی گاڑھی تعریف پر کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ سرمایہ کے اس وسیع کھیل میںعوام ، سماجی کارکنوں اور ماہر ماحولیات کی مخالفت سرکار کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔
ایک نوجوان پہاڑ اپنی ترقی کے دور میںآس پاس کے ماحول میں تیزی سے تبدیلی لاتا ہے۔ ہمالیہ جیسے ابھر رہے پہاڑ پر کئی مصنوعی رکاوٹیںکھڑی کی گئی ہیں۔ اتراکھنڈ میںچھوٹے بڑے سیکڑوں باندھوںکی موجودگی نے ہمالیہ کے ایکولوجیکل سسٹم کو تہس نہس کردیا ہے۔ ان باندھوںکے سبب بادل پھٹنے، بجلی گرنے،لینڈ سلائڈ اور سیلاب جیسی آفتیں اب تباہ کن ثابت ہونے لگی ہیں۔ ماہرین ماحولیات بھی مانتے ہیںکہ نچلے حصے میں گاد جمع ہونے سے ٹہری جھیل لگاتار پھیل رہی ہے، جس سے لینڈ سلائڈ جیسے حادثات بڑھے ہیں۔
ٹہری ، نرمدا اور اب پنچیشور جیسے بڑے باندھوںکی تعمیر کو لے کر مقامی لوگوںکا غصہ ابال پر ہے۔ مقامی لوگ کہہ رہے ہیں ، یہاںسے تیار بجلی کی سپلائی پورے ملک میںہوگی، جبکہ زلزلہ، لینڈ سلائڈ، پتھر اور آسمانی بجلی گرنے و بادل پھٹنے جیسی قدرتی آفات اور نقل مکانی کا شکار انھیںہونا پڑے گا۔ پہاڑ پر ندیوں کے پانی کو روک کر باندھ بنایا جاتا ہے اور اس کا فائدہ میدانی علاقوںکے لوگ اٹھاتے ہیں۔ ٹہری اور نرمدا سے نقل مکانی کا شکار لوگوں نے کسی طرح جینا شروع کیا تھا، اب ایک اور نقل مکانی کا بوجھ ان کی ریڑھ توڑ کر رکھ دے گا۔
اب عوامی سماعت کی حقیقت بھی جان لیں۔ پتھورا گڑھ، چمپاوت اور الموڑہ میں پنچیشور باندھ کو لے کر عوامی سماعت چل رہی ہے۔ اس میںمقامی لوگوں کی جگہ زیادہ تر بی جے پی کے مقامی لیڈر اور کارکن ہی موجود ہیں۔ گیٹ کے باہر کچھ لوگ باندھ نہیں، وکاس دو ، جن سنوائی دھوکا ہے، کے نعر ے لگا رہے ہیں۔ڈی ایم صاحب عوامی سماعت چھوڑ کر لوگوں کو خاموش کرنے میںلگے ہیں، تاکہ سرکاری خانہ پری میںخلل نہ پڑے۔ عوامی سماعت میںپہنچے لوگ بتاتے ہیںکہ عوامی سماعت کا وقت ہی غلط ہے۔ اس موسم میںکئی مواضعات کا سڑک سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ضلع ہیڈ کوارٹر تک آنے میں تین چار دن لگ جاتے ہیں۔ دیہی سطح پر عوامی سماعت ہونی چاہیے تھی، تاکہ اس میںعام لوگوں کی بھی حصہ داری ہوسکے۔ ایک دیہی باشندہ کہتا ہے ، ہمیں آپ کی ڈی پی آر ڈٹیل پروجیکٹ کی زبان ہی سمجھ میں نہیں آتی۔ کیا ملک میںباندھ بنانے کی ذمہ داری صرف اترا کھنڈ کی ہے۔ ہمیںبس یہ بتا دیجئے کہ کتنا معاوضہ ملے گا؟ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر عوامی سماعت میں ہماری رائے نہیںلی گئی تو ہم اسے کسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریںگے۔ سرکار کا دعویٰ تھا کہ ٹہری باندھ سے 2400 میگا واٹ بجلی پیدا ہوگی، لیکن یہاں سے محض 1000 میگاواٹ تک ہی بجلی کی پیداوار ہورہی ہے ۔ ٹہری سے تین گنا بڑے پنچیشور باندھ کے لیے بھی سرکار دلیل دے رہی ہے کہ اس سے تقریباً 6480 میگا واٹ بجلی کی پیداوار ہوگی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ پنچیشور باندھ سے کتنی بجلی پیدا ہوتی ہے؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا یہ نقل مکانی کی قیمت پر مناسب ہوگا جبکہ اس کا چھوٹا سا حصہ تقریباً 13 فیصد بجلی ہی اتراکھنڈ کو ملے گی۔
بڑے باندھوںکی عمر لمبی نہیں ہوتی
باندھ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے باندھ مضبوط و پائیدار ہوتے ہیں جبکہ بڑے باندھوںکی لمبی عمر نہیںہوتی ہے۔ جہاںچھوٹے باندھ کم خرچ کے باوجود بہتر نتیجہ دیتے ہیں، وہیںبڑے باندھ بہت زیادہ سرمایہ کے باوجود طے شدہ معیاروں پر کھرے نہیں اترتے۔ اس کے علاوہ بڑے باندھ مقامی ایکولوجی کو بھی تہس نہس کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک اب ماحولیات و مقامی ایکولوجی پر برے اثرات دیکھ کر بڑے باندھوں سے دوری بنانے لگے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، کچھ ملکوںمیں تو بڑے باندھوں کو توڑا بھی جا رہا ہے۔ پروجیکٹ ڈٹیل رپورٹ میںپنچیشور باند ھ کی عمر 100 سال بتائی گئی ہے۔ باندھ کے ماہرین اس سے اتفاق نہیںکرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ندی سے بہہ کر آنے والی گاد کے سبب 25-30 سال بعد یہ باندھ بیکار ہوجائے گا۔ ایسے میںایک قلیل مدت پروجیکٹ پر ہزاروں کروڑ روپے خرچ کرنا کہاں تک مناسب ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *