حجاب کی توہین پر طلباء چراغ پا

Students-protest
25 سال تک مسلسل خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہنے والے لبنان میں اس وقت بھی 18 مختلف نسلوں اور طبقات کے لوگ آباد ہیں۔ حال ہی میں بیروت میں قائم امریکن یونیورسٹی کی ایک 18 سالہ طالبہ مریم دجانی نے سوشل سائنسز کے لیکچر کے دوران ان سے ایک جملے کو دہرانے کی درخواست کی جس پر پروفیسر سمیر خلف بہت بگڑے۔ مریم چونکہ ایک با حجاب طالبہ ہیں۔ اس لیے پروفیسر صاحب کے غصے کا ایک بڑا سبب اس کے حجاب کو بھی قرار دیا جاتا ہے۔مسلمان خواتین کے حجاب اور نقاب پرمغربی دنیا میں منفی طرز عمل اور بحث کوئی نئی بات نہیں مگر حال میں لبنان جیسے کثٰیر القومی ملک میں ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے حجاب کی توہین پر مبنی ایسے الفاظ استعمال کیے جس کے نتیجے میں اس کی نسل پرستی تو سامنے آئی مگر طلباء اور سوشل میڈیا پر شہریوں کو سخت مشتعل بھی کر دیا۔
جب مریم دجانی نے استاد محترم سے اپنا ایک جملہ دہرانے کی بات کی تو پروفیسر سمیر خلف نے طیش میں آ کر مریم سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا ساتھ ہی اس کے حجاب پر بھی بحث چھیڑ دی۔ سمیر الخلف نے مریم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جو تم نے اپنے سر اور کانوں کو ایک بے وقوفانہ انداز میں ڈھانپ رکھا رہے۔ اسے اتاریں تاکہ آپ کے کانوں تک آواز اچھی طرح پہنچ سکے‘۔بھرے کمرہ جماعت میں ایک طالبہ کے حجاب کی یوں توہین کی تو مریم سے یک صدمہ برداشت نہ ہوسکا۔ اس نے اس کی شکایت یونیورسٹی کی انتظامیہ تک پہنچائی۔ انتظامیہ کی طرف سے بھی کہا گیا کہ یہ پروفیسر صاحب کی ذاتی رائے ہے، نیزاس سے مراد تمام با حجاب خواتین کو تنقید کا نشانہ بنانا ہرگز نہیں۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *