وائس چانسلر عالیہ یونیورسٹی کولکتا ابو طالب سے خصوصی انٹرویو

سچر کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعداقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے قائم ہونے والی ’عالیہ یونیورسٹی‘اس وقت خود کسمپرسی کے دور سے گزررہی ہے، تعلیمی نظام ٹھپ ہے، بیورو کریٹ یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کو ختم کرنے کیلئے سازشیں کررہے ہیں۔تقریباً دو ماہ سے طلباء ہڑتال پر ہیں ، اساتذہ کا ایک بڑا گروپ طلباء کی پشت پناہی کررہا ہے ،وائس چانسلر اس تعطل کو ختم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں ،خارجی عناصر جس میں ملی وسیاسی قائدین بھی شامل ہیں یونیورسٹی کے معاملات میں حاوی ہونا چاہتے ہیں ۔ایسے میں کوئی بھی یونیورسٹی اپنی خود مختاری کے ساتھ اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکتی ہے۔عالیہ یونیورسٹی کے موجودہ حالات اور وقتا ًفوقتاً ہونے والے ہڑتال اور احتجاج کو قریب سے دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کے دوران جو بات سمجھ میں آتی ہے، وہ یہ ہے کہ عالیہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے 95فیصد طلباء اساتذہ اور عملہ کی اکثریت کا تعلق بھی مسلم طبقے سے ہے مگر اس کے باوجود یونیورسٹی کا کوئی بھی عناصر عالیہ یونیورسٹی کو معیاری یونیورسٹی بنانے کیلئے مخلص نظر نہیں آتا ہے۔ہر ایک کے اپنے ایجنڈے ہیں اور وہ غیر مرئی قوت کے مہرہ بنے ہوئے ہیں ۔وائس چانسلر ابو طالب ایسے میںمجبور محض نظر آتے ہیں۔افسوس ناک بات تویہ ہے کہ کولکتا شہر میں ہی جادو پور یونیورسٹی، کلکتہ یونیورسٹی، پریڈنسی یونیورسٹی جیسے ادارے ہیں جو ملک گیر شہرت کے حامل ہیں اس سے بھی سبق نہیں لیتے ہیں کہ کس طرح یونیورسٹی کے وائس چانسلر اپنے طلباء کے تئیں مخلص ہیں ۔ان یونیورسٹیوں میں بھی ہڑتال ہوتی ہے مگر طلباء اخلاقی حدود کو پار نہیں کرتے ہیں ۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ میں بنگالی مسلمانوں کی حالت کودلتوں سے بھی بدتر بتایا گیا تھا۔بایاں محاذ گزشتہ تین دہائیوں سے مسلمانوں کے ووٹ کی بدولت ہی بنگال میں حکومت کررہی تھی۔سچر رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد مسلمانوں کی ناراضگی اور ووٹ بینک کھسکنے کے آثار کو دیکھتے ہوئے بائیں محاذ حکومت نے 2007میں عالیہ مدرسہ جو 1780میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے گورنر ہسٹنگ نے قائم کیا تھا کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا فیصلہ کیاتاکہ مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ ہو۔اس یونیورسٹی کو وزارت تعلیم کے تحت قائم کرنے کے بجائے بائیں محاذ حکومت نے وزارت اقلیتی امور و مدرسہ تعلیم کے تحت کیا تاکہ مستقبل میں اقلیتی کردار کا مسئلہ کھڑا نہ ہو۔سچر کمیٹی کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بایاں محاذنے کئی اقدامات کیے جس میں سرکاری ملازمت میں مسلمانوں کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ ، جسٹس رنگا ناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کو نافذ اور عالیہ یونیورسٹی قائم کرنے کا فیصلہ شامل تھا۔ان تینوںفیصلے سے مسلمانان بنگال کے مستقبل کے امکانات پر بہت ہی زیادہ اثرات پڑنے والے تھے۔مگر بایاں محاذ کے طویل اقتدار سے عوام اکتاچکی تھی، اس لیے یہ اقدامات بھی بایاں محاذ کو مسلمانوں کا ووٹ نہیں دلا سکے اور 2011میں بایاں محاذ حکومت کا 34سالہ دور اقتدار ختم ہوگیااور ممتا بنرجی اقتدار میں آگئیں ۔ 2011میں عالیہ یونیورسٹی ابتدائی مراحل میں تھی ۔پارک سرکس کیمپس اور راجر ہاٹ کیمپس کیلئے حکومت نے زمین الاٹ کردی تھی اور تعمیری کام بھی شروع ہوگئے تھے۔ممتا بنرجی کے اقتدار میں آنے کے بعدعالیہ یونیورسٹی میں تعمیراتی کاموں میں تیزی آئی اور انفراسٹکچر بہترہوئے ۔اور اب یونیورسٹی تین کیمپسوں میں چل رہی ہے ۔

 

 

 

یونیورسٹی کے قیام کو ایک دہائی مکمل ہونے کوہے ، وزیرا علیٰ کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے انفراسٹکچر معیاری کلاس روم اور دیگر سہولیتوں سے یونیورسٹی لیس ہوچکی ہے مگر اب تک تعلیمی معیار قائم نہیں ہوسکاہے۔طلباء کی ہڑتال یونیورسٹی کیلئے ایک معمول بن چکی ہے ۔ہر سال کئی مہینوں کیلئے ہڑتال ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے تعلیمی نظام ٹھپ ہوجاتے ہیں ۔2016میں بھی انجینئرنگ فیکلٹی کے طلباء نے کئی مہینوں تک ہڑتال کی اور کوئی نتیجہ نکلے بغیر ہڑتال ختم بھی کردی اور اب 8جولائی سے شعبہ تھیالوجی اور انجینئرنگ کے طلباء ہڑتال پر ہیں ۔ان طلباء کے مطالبات کی فہرست بہت طویل ہے ۔کئی ایسے مطالبات ہیں جن پر یونیورسٹی انتظامیہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے مگر اس میں ایسا کوئی مطالبہ نہیں ہے جس کو بنیاد بناکر مہینوں تعلیمی نظام کو ٹھپ کردیا جائے۔دوسری بات یہ کہ اب جب کہ وائس چانسلر کی مدت کار 30ستمبر کو مکمل ہورہی ہے اور حکومت نئے وائس چانسلر کی تقرری یا پھر موجودہ چانسلر کی مدر کار میں اضافہ کرسکتی ہے، ایسے میں طلباء کا اچانک ہڑتال پر چلا جانا بھی کئی سوالات کھڑے کرتے ہیں ۔وہ موجودہ وائس چانسلر کی مدت کار میں اضافہ کے خلاف ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب ان کاایک نکاتی ایجنڈا ہے وائس چانسلر ابوطالب خان کی رخصتی کو یقینی بنانا اور اس کیلئے حکومت پر دبائو قائم کرنا ۔ایسے میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ کیا یونیورسٹی کے تمام مسائل کیلئے صرف وائس چانسلر ذمہ دار ہیں ؟کیا نئے وائس چانسلر کی آمد کے بعد طلبا ء کے تمام مطالبات پورے ہوجائیں گے؟ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوسکتا ہے کیوں کہ کئی ایسے مطالبات ہیں جس پر کوئی بھی غور نہیں کرسکتا ہے ۔دوسرے یہ کہ عالیہ یونیورسٹی میں طلبا ء کی قیادت ان طلباء کے ہاتھوں میں ہیں جن کا تعلیمی ریکارڈ بہت ہی زیادہ خراب ہے ۔ایسے میں یہ طلباء نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اس دعویٰ کے ساتھ کہ اپنی وائس چانسلری کی چار سالہ مدت کے دوران یونیورسٹی کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے ساتھ انفراسٹکچر کو بہتر کرنے پر بہت ہی زیادہ توجہ دی گئی ہے اور آج یہ کہا جاسکتا ہے کہ عالیہ یونیورسٹی میں انفراسٹکچرکی کوئی کمی نہیں ہے ، وائس چانسلر ابوطالب خان نے خصوصی ملاقات میں کہا کہ موجودہ حالات میں ایسا لگ رہا ہے کہ چند طلباء کا گروپ جس کی پشت پناہی خارجی عناصر کررہے ہیں وہ یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کو ٹھپ کرکے اپنے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا چاہتے ہیں ۔چناں چہ وہ اپنے مسائل کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کے بجائے ہنگامہ آرائی اور تعلیمی نظام کو ٹھپ کرنے پر بضد ہے ۔
ایک سوال کے جواب میںوائس چانسلر نے کہا کہ وہ دوسری مدت کیلئے کوئی لابنگ اور سفارش بھی نہیں کرائیں گے۔البتہ اگر حکومت انہیں دوسری مدت کیلئے بھی وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے منتخب کرتی ہے تو وہ اس عہدہ پر کام کرنے کو تیار ہیںکیوں کہ چار سال قبل جب انہیں گوہاٹی آئی آئی ٹی سے وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے طلب کیا گیا تھا تو اس وقت انہوں نے یہ عزم کیا تھا کہ عالیہ یونیورسٹی کو معیاری یونیورسٹی بنایا جائے گا اور اس کیلئے درکار انفراسٹکچر کو بہتر کیا جائے گا ۔ بلاشبہ ممتا بنرجی کی حکومت نے عالیہ یونیورسٹی کیلئے فنڈ کی کمی نہیں ہونے دی ہے اور اس کا نتیجہ ہے کہ پارک سرکس اور راجرہاٹ کیمپس اور دونوں میں ہاسٹل تعمیر ہوچکے ہیں اور کلاس روم عالمی معیار کے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان دونوں کیمپس میں کلاس روم، لیبارٹری، لائبریری اور آڈیٹوریم میں تمام سہولیات دستیاب ہیں اوراگر کچھ کمیاں رہ بھی گئی ہیں تواسے بھی جلد سے جلد ختم کردیا جائے گا۔
تعلیمی معیار بہتر نہیں ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ چار سال قبل جب وہ یہاں آئے تھے تو یونیورسٹی میں کئی شعبے قائم نہیں ہوئے تھے اور فیکلٹی ممبران کی کمی تھی ۔ان چار سالوں میںبیشتر شعبوںمیں اساتذہ کی بحالی ہوئی اوراب تقریباً بیشتر شعبوں میں اساتذہ بحال ہوچکے ہیں اور جہاں کمی ہے وہاں آئندہ چند سالوں میں اسے مکمل کرلیا جائے گا۔ تعلیمی معیار میں گراوٹ کیلئے مکمل طور پر انہیں ذمہ دار ٹھہرانا مناسب نہیں ہے کیوں کہ کہ کوئی بھی ادارہ صرف وائس چانسلر کی وجہ سے نہیں چلتا ہے بلکہ تمام عملے کی مشترکہ جہدو جہد سے کسی بھی ادارے کو نیک نامی حاصل ہوتی ہے۔مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ یہاں شروع سے ڈسپلن کی کمی رہی ہے اور کچھ خارجی عناصر جو یونیورسٹی کو اپنے اشاروں پر چلانا چاہتے ہیں ،وہ یونیورسٹی کے طلباء کا استعمال کرہے ہیںاور معمولی معمولی باتوں پر ہڑتال اور ہنگامہ آرائی کو معمول بنادیا گیا ہے ۔جمہوریت میں طلبا ء کو احتجاج کا حق ہے ۔ریاست کی دیگر یونیورسٹیوں میں بھی ہڑتالیں اور ہنگامہ آرائی ہوتی ہیں مگر اس طریقے سے نہیں ہوتا ہے جو یہاں ہورہا ہے ۔ مہینوں کلاس نہیں ہونے دینا اور یونیورسٹی کی جائداد کو نقصان پہنچاناکسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہوسکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میڈیا سے دوری کا جو ان پر الزام ہے وہ سچ ہے کیونکہ وہ نمائش پر یقین نہیں رکھتے ہیں۔ مگر جہاں تک سوالات کا سامنا کرنے کی بات ہے تو وہ ہمہ وقت اس کیلئے تیار ہیں کہ کوئی بھی میڈیا ہائوس یا اہلکار ان کے کام سے متعلق سوال کرسکتا ہے اوروہ جواب ضرور دیں گے۔
اس سوا ل پر کہ عالیہ یونیورسٹی میں ہڑتال اور احتجاج معمول کا حصہ کیوں بن گیاہے ؟ وائس چانسلر نے کہا کہ 2013میںیکم اکتوبر کو انہوں نے عالیہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالا تھا۔اس کے اگلے دن گاندھی جینتی کی وجہ سے تعطیل تھی اور جب وہ اگلے دن یونیورسٹی پہنچے تو 3اکتوبر کویونیورسٹی میں طلباء ہڑتال پر تھے اور وہ وائس چانسلر سے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے تھے ؟ انہوں نے سوال کیا کہ ایک ایسا شخص جس نے ابھی یونیورسٹی میں عہدہ ٹھیک سے سنبھالا بھی نہیں ہے، اس کے خلاف احتجاج کا کیا معنی ٰ ۔انہوں نے کہا کہ در اصل عالیہ یونیورسٹی میں معمولی معمولی باتوں پر ہڑتال اور احتجاج کی روایت یونیورسٹی کے قیام کے اول دن سے ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ 20سالوں تک آئی آئی ٹی جیسے اداروں میں پڑھایا ہے،نیز گوہاٹی اور پٹنہ آئی آئی ٹی کی تعمیر میں ان کا رول رہا ہے مگر جس طریقے سے یہاں کے طلباء نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کی ہے اس سے وہ بہت ہی زیادہ دکھی ہیں ۔مگر اس کے باوجود وہ طلباء سے بات چیت کیلئے تیار ہیں اور ان کا دفتر طلباء کیلئے ہمہ وقت کھلا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج پر بیٹھے طلباء کے بہت سے ناجائز مطالبات ہیں ۔اگراس کو تسلیم کرلیا گیا تو اس سے یونیورسٹی کا معیار ختم ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ میں بی ٹیک طلباء کا مطالبہ ہے کہ داخلہ امتحان میں فیل طلباء کو بھی ایم ٹیک میں داخلہ لیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ یہ آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے اصول و ضوابط کے خلاف ہے ۔انہوں نے کہا کہ اے آئی سی ٹی ای نے عالیہ یونیورسٹی کیلئے کل 90سیٹیں سینکشن کیا ہے جس میں عالیہ یونیورسٹی کے طلباء کیلئے 54سیٹیں مختص ہیں اور 34دوسری یونیورسٹیوں کے طلباء کیلئے ہیں۔مگر ایم ٹیک کے ٹیسٹ میں عالیہ یونیورسٹی کے 4طلباء نے کوالیفائی کیا ہے ۔ظاہر ہے کہ ہم ان ہی چار طلباء کا داخلہ لے سکتے ہیں ۔مگر طلباء مطالبہ کررہے ہیں کہ جو کوالیفائڈ نہیں ہے اس کا بھی داخلہ لیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ یہی صورت حال شعبہ تھیالوجی کی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ شعبہ تھیالوجی کے ایم اے میں کل 440سیٹیں ہیں۔مگر یہاں مطالبہ کیا جارہا ہے کہ بی اے آنرس میں پاس تمام طلباء کو ایم اے میں داخلہ لیا جائے ۔انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عالیہ یونیورسٹی کے 182طلباء نے ایم اے کے داخلہ امتحان میں شرکت کی جس میں کل 128طلباء نے 20نمبر سے بھی کم نمبرات حاصل کیے جبکہ سب سے زیادہ نمبر 51.5فیصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم غیر کوالیفا ئڈ طلباء کو ایم اے میں داخلہ نہیں لے سکتے ہیں۔ عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ تھیالوجی میں اساتذہ کی بحالی کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہاں زیادہ تر طلباء بنگلہ میڈیم سے آتے ہیں اور انہیں دوسری زبانیں سمجھ میں نہیں آتی ہے۔جب کہ ملک بھر میں صرف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہی شعبہ تھیالوجی ہے جہاں زیادہ تر بہار اور یوپی کے طلباء ہیں ۔اس کے باوجود ہم نے اس سال شعبہ تھیالوجی میں دو اسسٹنٹ ٹیچر کی بحالی کی ہے جس میں سے ایک کا تعلق بنگال اور دوسرے کا تعلق بنگال کے باہر سے ہے۔اس سوا ل پرکہ کل چار سیٹوں کیلئے بحالی ہونی تھی مگر صرف دواساتذہ کی تقرریاں کیوں ہوئیں ، انہوں نے کہا کہ چوں کہ شعبہ تھیالوجی میں نیٹ نہیں ہے، اس لیے پی ایچ ڈی کا ہونا لازمی ہے اور اس کے ساتھ ہی کورس ورک بھی ہونا چاہیے۔انٹرویو کیلئے جو امیدوار آئے تھے، اس میں سے زیادہ تر امیدواروںنے کورس ورک نہیں کیا تھا۔

 

 

 

عالیہ یونیورسٹی کے قدیم کیمپس میں تعمیری کام میں تاخیر کے سوال پر وائس چانسلر نے کہا کہ انہوں نے اس سے متعلق حکومت کو خط لکھا ہے کہ کام میں تیزی لائی ہے جائے اور قدیم عمارت کی تجدید کاری کا جہاں تک سوال ہے۔ وہ عمارت ہیرٹیج عمارت ہے ۔اس کیلئے حکومت کے قوانین ہیں جس کی پاسداری کرنا لازمی ہوتا ہے، اس لیے تاخیر ہورہی ہے مگر جلد ہی یہ کام مکمل ہوجائے گا۔
ان پر لگے بدعنوانی کے الزامات کے سوال پر وائس چانسلر نے کہاکہ انہوں نے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ ایگزیکٹیو کونسل کو پیش کردی ہے ۔اس رپورٹ میں ان کے خلاف کوئی بھی الزام نہیں ہے ۔مگر پروپیگنڈہ کیاجارہا ہے انہوں نے گھپلہ کیاہے۔انہوں نے کہا کہ پٹنہ آئی آئی ٹی کی تعمیر میں انہوں نے اہم رول ادا کیا ہ ہے جس میں اس وقت ان پر کوئی بدعنوانی کا الزام نہیں لگا مگر اب کیوں ؟ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں میں عالیہ یونیورسٹی میںکئی عمارتوں کا اضافہ ہوا ہے ۔پارک سرکس اور راجر ہاٹ کیمپس کیلئے ہاسٹل تیار ہوچکے ہیں اور جلد ہی طلباء کوفراہم کردیا جائے گا۔انہوں کہا کہ ہاسٹل تمام تر سہولیات سے لیس ہے ۔
شعبہ تھیالوجی سے ہی یونیورسٹی کی شناخت ہے اور اس کی بدولت ہی یونیورسٹی کا درجہ حاصل ہوا ہے ۔اس لیے شعبہ تھیالوجی کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جائے گا بلکہ انہوں نے اس شعبہ کو توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے مزید 13مدرسوں کو منظوری دی گئی ہے جہاں بی اے کی تعلیم ہوگی اور اس کیلئے عالیہ سے ایم اے پاس کرچکے طلباء کو بحال کیا جائے گا اور انہیں اسسٹنٹ پروفیسر کے گریڈ کی تنخواہ دی جائے گی۔ضرورت پڑتی ہے تو بعد میں ان مدرسوں کا جائزہ لینے کے بعد کچھ مدرسوں میں ایم اے فاضل تک کی تعلیم کردی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *