اصلاح معاشرہ کی ترغیب دیتا ہے تین طلاق کا عدالتی فیصلہ

آج جو سب سے بڑا سوال ملت اسلامی ہند کے سامنے ہے، وہ یہ ہے کہ کیا تین طلاق کے تعلق سے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلہ سے یہ کوئی سبق لے گی؟ملت اسلامیہ ہند میں متعدد سماجی برائیاں گھر کر گئی ہیںخواہ وہ کسی بھی نوعیت کی ہوں۔ جہاں تک آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سوال ہے، اس نے ماضی میں ملت میں متعدد قسم کی سماجی برائیوں کا اعتراف کیا اور اس کے لئے برسوں قبل موالانا ولی رحمانی کی سربراہی میں اصلاح معاشرہ کمیٹی بنائی۔ اس کمیٹی نے کچھ پیش رفت بھی لی مگر اس کی جانب سے ایسا کوئی قابل ذکر کام سامنے نہیں آسکا جس سے معاشرہ اصلاح کی جانب بڑھتا ۔جہاں تک ایک مجلس میں تین طلاق کا معاملہ ہے، اس سلسلے میں نقطہ نظر کا فرق ہوسکتا ہے ،مکتبہ فکر کا فرق ہوسکتا ہے مگر اس بات سے کسی کو بھی انکار نہیں ہوسکتا ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق دینا طلاق بدعت یا طلاق مغلظہ ہے۔ یعنی ناپسندیدہ عمل ہے ۔لہٰذا اس سے جہاں تک ممکن ہوسکے بچنا چاہئے تھا۔ لیکن اس سلسلے میں ایسی کوئی عوامی مہم نہیں دیکھی گئی جس سے عام مسلمانوں میں یہ تعلیم و تربیت ہوتی کہ یہ عمل اچھا نہیں ہے اور اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔
علاوہ ازیں یہ امر بھی اہم ہے کہ جو خواتین ایک مجلس میں تین طلاق کا شکار ہوجاتی ہیں اور پھر ان کی زندگی تنہا ہو یا اولاد کے ساتھ، اجیرن بن جاتی ہے، ان کے بارے میں کبھی کوئی سروے نہیں ہوا، کبھی ان کی حالت جاننے کی کوشش نہیں کی گئی۔لہٰذا ایسا کوئی اعدادو شمار ایک مجلس میںتین طلاق کی متاثرہ خواتین کے سلسلے مستند انداز میں دستیاب نہیں ہے۔کہنے کو تو اسی شمارہ میں بعض افراد نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایک مجلس میں تین طلاق سے متاثر خواتین کی تعداد بے شمار ہے جبکہ دیگر کا دعویٰ ہے کہ ایسی خواتین کی تعدادبہت ہی کم ہے اور انگلیوں پر گننے کے لائق ہے مگر کسی سروے یا اعدادوشمار کی عدم موجودگی میںکسی بھی دعویٰ کو کیسے مانا جاسکتاہے؟

 

 

 

 

معاشرتی برائیوں میں مسئلہ صرف ایک مجلس میں تین طلاق کی متاثر خواتین کا ہی نہیں ہے بلکہ عام مطلقہ اور بیوائوں کی بھی ایسی بڑی تعداد کا ہے جن میں سے بیشتر حالت کسمپرسی میں ہیں۔ ان کی بھی فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان کے سلسلے میں بھی حال کا کوئی تازہ ریکارڈ دیکھنے کو نہیں ملتا ہے۔ ایسی حالت میں اسی شمارہ میں متعدد آراء میںشامل آئی او ایس چیئرمین ڈاکٹر محمد منظور عالم کی رائے بھی ہے جس میں انہوں نے 1986 میں اٹھے شاہ بانو معاملہ سے لے کر اب تک اٹھے مختلف معاملات پر غور وفکر کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔یہ مشورہ اچھا ہے مگر یہاں بھی یہی سوال ہے کہ اس کی طرف توجہ پہلے کیوں نہیں گئی؟آئی او ایس کی جانب سے عمومی طلاق کے ایشو پر خصوصی طور پر بہت ہی تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کچھ کتابیں آئی ہیںمگر انہیں بھی عرصہ ہوگیا ہے۔ویسے دیگر ایشو خصوصاً مسلم امپاورمنٹ اور اقلیتی امور پر اس نے بلا شبہقابل تحسین کام کئے ہیںجنہیں اپڈیٹ کرنے کی شدید ضرورت ہے مگر معاشرتی اصلاح کے لحاظ سے ابھی کام کی بہت کمی محسوس ہوتی ہے۔ توقع ہے کہ اس جانب مزید توجہ دی جائے گی۔
جہاں تک معاشرتی اصلاح کا معاملہ ہے، اس سلسلے میںچند ماہ قبل جماعت اسلامی ہند نے 15روزہ مہم کا اہتمام کیا تھا جس کے تحت مسلم پرسنل لاء کے تعلق سے مسلمانوں میں تعارف اور بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ ملک کی بیشتر ریاستوں کے ضلعی سطحوں پر مختلف قسم کے پروگرام ہوئے اور اس سے آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مسلمانوں کو عمومی طور پر خود اپنے عائلی قوانین کو سمجھنے کا موقع ملا۔ ظاہر سی بات ہے کہ جب مسلمان اپنے عائلی قوانین کو جانیں گے ہی نہیں، اسے سمجھیں گے ہی نہیں ،توان کے اندر بیداری کہاں سے آئے گی اور وہ معاشرتی برائیوں سے کیسے بچیں گے؟ لیکن ضرورت ہے کہ دیگر شعبہ حیات کے ساتھ اصلاح معاشرہ کے مزید کاموں میں اس کی دلچسپی بڑھے۔مسلمانوں کی صورت حال کو مجموعی طور پر سمجھنے کے لئے اس کے لٹریچر میں ایسی کتابیں نہیں پائی جاتی ہیںجو کہ اعدادو شمار، ڈاٹا اور سروے پر مبنی ہوں۔
اسی طرح کا مسئلہ جہیز کا ہے جوکہ بعض معاملوں میں طلاق کا سبب بنتا ہے ۔گزشتہ 23 اگست 2017 کو میرٹھ کے سردھنا میںسراج خاں کا ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کا جو واقعہ ہوا ہے، اس کی وجہ بھی یہی جہیز بتایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں کچھ تحریکیں ماضی میں یقینا چلی ہیں اور ان کااثر بھی مثبت پڑا ہے مگر مطالبہ کی صورت میں یہ برائی ابھی بھی خوب موجود ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ دیگر اسباب کے علاوہ اسی جہیز کے مطالبہ کی وجہ سے مسلم خاندانوں میں بچیوں کی بہت بڑی تعداد کنواری بیٹھی ہوئی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق تیس سے پچاس برس کی عمر میں غیر شادی شدہ لڑکیوں کی تعداد صرف دہلی میں ہزاروں میں ہے۔ ضرورت ہے کہ ان کا جائزہ لیا جائے اور اس مسئلہ کے حل کی جانب توجہ کی جائے۔
ایک مسئلہ اور ہماری توجہ کا طالب ہے ۔ 24 برس قبل راقم الحروف کے پرانی دہلی کے ایک قریبی رفیق کا اسکوٹر حادثہ میں انتقال ہوگیا ۔انہی دنوں زچگی کے دوران ایک اور رفیق کی اہلیہ اوکھلا میںوفات پاگئیں۔ اس زمانے میں ایک ہفتہ وار میں راقم الحروف نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے جب یہ کہا کہ زمانہ دیکھ لے گا کہ جلد ہی مذکورہ رفیق کا نکاح ثانی ہوجائے گا مگر مذکورہ بیوہ کے بارے میں کوئی فکر نہیں کی جائے گی اور پھر ہوا بھی ایسا ہی۔لہٰذا اس طرح کے مسائل پر ان دنوں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقد ہورہے اپنے اجلاس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کیوں کوئی توجہنہیں دیتا؟اس تحریر پر کافی لے دے ہوئی اور کہا گیا کہ ملت کے اندر کی برائیوں کو مشتہر نہیں کرنا چاہئے۔
بہر حال ضرورت اس بات کی ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک مجلس میں تین طلاق والے فیصلہ نے مسلم ملت کو اصلاح کے تعلق سے جو بیدار کیا ہے،اس کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ ہو اور زیادہ منظم انداز میں اصلاح معاشرہ کا سلسلہ شروع ہو۔ اسی میں ملک و ملت اور اس کے افراد کا بھلا ہے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *