گورکھپور سانحہ پر کی جارہی ہے سیاست

گورکھپور کے بابا راگھو داس (بی آر ڈی) میڈیکل کالج اسپتال میںآکسیجن کی کمی سے پانچ درجن سے زیادہ بچوںکی موت کے معاملے میںمیڈیکل کالج کے معطل پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشر،ان کی اہلیہ پورنیما شکلا اور بی آر ڈی میڈیکل کالج کے انسیفلائٹس محکمہ کے چیف نوڈل افسر اور پرچیز کمیٹی کے ممبر رہے ڈاکٹر کفیل احمد خاں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ملزمان اور ہیں، لہٰذا گرفتاریاں ابھی اور ہوں گی۔ لیکن ان گرفتاریوں سے معصوم بچوں کی موت کا سلسلہ نہیںرک رہا ہے۔ گورکھپور میںبچوں کا مرنا لگاتار جاری ہے۔ اب تو فرخ آباد میںبھی 49 بچوں کے مرنے کی خبر سامنے آگئی، جس سڑے ہوئے سسٹم کے سبب ایسے غیر انسانی حادثات رونما ہو رہے ہیں،اس سسٹم کو درست کرنے میں بی جے پی سرکار کوئی دلچسپی نہیں لے رہی ہے۔ جس سسٹم کو سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی کی سرکاروں نے سڑایا، بی جے پی سرکار اسے ہی پال پوس رہی ہے۔ اعلانانات، جانچیں، کارروائیاں اور گرفتاریاںسب حکومت کی نوٹنکیاں ہیں۔
’چوتھی دنیا‘ نے گزشتہ شمارے میں بھی آپ کو بتایا تھا کہ اکھلیش سرکار نے گورکھپور کے بی آر ڈی اسپتال سمیت دیگر کئی اسپتالوں میں آکسیجن کی سپلائی کا ٹھیکہ کس طرح رشوت اور احسان کے اثر میںدیا تھااور کس طرح ایس پی سرکار نے نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کا یوپی میںکباڑا نکالا۔ پوروانچل کے جن اضلاع میںمبینہ جاپانی انسیفلائٹس یا ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم بیماری پھیلی ہے،وہاں وینٹیلیٹر کی سہولت کا قیام کرنے اور چلانے کے لیے بجٹ مہیا کرانے اوران کی دیکھ بھال کی ذمہ داری این ایچ ایم پر ہی ہے۔ گورکھپور حادثے کے نظریے سے دیکھیں تو این ایچ ایم ساری گڑبڑیوں کا ذریعہ ہے، لیکن اس پر لوگوںکی توجہ نہیں ہے۔’کمائی کا ذریعہ‘ ہونے کے وجہ سے سرکار بھی اس طرف سے آنکھ بند کئے ہوئے ہے۔ اوپر اوپر کارروائیاں جاری ہیں اور اندر اندر کرتوتیںجاری ہیں۔
مسئلے کا حل
بی آر ڈی میڈیکل کالج کے اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشر، ان کی بیوی ڈاکٹر پورنیما شکلا اور ڈاکٹر کفیل خاں کی گرفتاری اور دیگرچھ لوگوںکی ممکنہ گرفتاریاں کیا بچوں کی موتوںکا سلسلہ رکنے کی گارنٹی ہے؟ اس کا جواب سب جانتے ہیں۔ یوگی سرکار پیڑ کی سڑی ہوئی جڑ میںدوا ڈالنے کے بجائے پیڑ کے کچھ خراب پتوں کا ٹریٹمنٹ کرنے کا دکھاوا کررہی ہے۔جن بنیادی وجوہات سے ایسے واقعات ہو رہے ہیں، وہ وجوہات اب بھی جوںکی توں ہیں۔ این ایچ ایم بدعنوانی کی کبڈی کا میدان بنا ہوا ہے۔ سرکار اب بھی وہی کر رہی ہے جو ایس پی چاہ رہی ہے یا اکھلیش کے سرپرست رام گوپال یادو چاہ رہے ہیں۔ اس کا ہم آگے تفصیل سے خلاصہ کریںگے۔
فی الحال یہ بتاتے چلیں کہ گورکھپور تر سانحہ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں آکسیجن سپلائر فرم پشپا سیلز کے منتطم ، پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشر اور ان کی اہلیہ پورنیما شکلا سمیت نو لوگ نامزد ملزم ہیں۔ گورکھپور حادثہ کے بعد وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے چیف سکریٹری راجیو کمار کی صدارت میں جانچ کمیٹی کی تشکیل کی تھی۔ ’چوتھی دنیا‘ نے تبھی بتایا تھا کہ جانچ کمیٹی میںوہ افسر بھی شریک ہے، جس نے سپائی سرکار کے تحفظ میں نیشنل ہیلتھ مشن کو بدعنوانی اور سیاست کا اڈا بناکر رکھ دیا۔ ایسے ہی لوگوں کی کرتوتوں کی وجہ سے گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج جیسا حادثہ ہوا۔ این ایچ ایم کے مشن ڈائریکٹر آلوک کمار بھی جانچ کمیٹی میںشریک تھے۔ سماجوادی پارٹی کی سرکار میں چیف سکریٹری آلوک رنجن کے اسٹاف افسر رہے آلو ک کمار کو این ایچ ایم کا مشن ڈائریکٹر اسی لیے بنایا گیا تھا تاکہ ایس پی لیڈروں کا کھیل بے روک ٹوک چلتا رہے۔ایسی ہی متنازع اعلیٰ سطحی جانچ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر طبی تعلیم ایڈیشنل چیف سکریٹری انتیا بھٹناگر جین ہٹائی گئیں اور دیگر لوگوں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ جانچ کمیٹی نے این ایچ کے مشن ڈاائریکٹر (اب سابق) آلوک کمار و دیگرمشتبہ افسروں کے کردار کی طرف دھیان نہیںدیا گیا۔
ایس پی کا اثر
اب دیکھئے بھاجپائی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکار پر سپائی اثر کس طرح سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کی سرکار کو رام گوپال یادو ہی چلاتے رہے اور اب یوگی سرکار میںبھی رام گوپال کا اثر کم نہیںہوا ہے۔ رام گوپال یادو نے اپنے آئی اے ایس افسر ہیرا لال کی گائینوکو لوجسٹ ڈاکٹر بیوی اوشا گنگوار کو این ایچ ایم میںلیول 2- کا ہونے کے باوجود اوپر کی سیڑھی پر پہنچوادیا تھا۔ آج ڈاکٹر اوشا گنگوار نیشنل اربن ہیلتھ مشن میںجنرل منیجر کے عہدے پر ہیں۔ یوگی سرکار نے ابھی حال میںفرمان جاری کیا تھا کہ ایک ہی ضلع میںلمبے عرصہ سے قابض ماہر میڈیکل افسروں کو دیگر ضلعوں میںٹرانسفر کیا جائے لیکن رام گوپال کے اثر کی وجہ سے یوگی سرکار کا فرمان ان پر نافذ ہوا۔ عجیب لیکن سچ یہ ہے کہ ڈاکٹر اوشا گنگوار کے ڈیپوٹیشن کے زیادہ سے زیادہ پانچ سال بھی پورے ہو چکے ہیں لیکن رام گوپال یادو کے اثر کی وجہ سے یوگی سرکار ان کا تبادلہ نہیںکررہی ہے۔
اب دیکھئے، یوگی سرکار پر رام گوپال کے اثر کی دوسری مثال۔ متھرا کے جواہر باغ کیس کے خلاف تب بھاجپائیوںنے خوب آگ اگلی تھی۔ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اس حادثے کے خلاف جم کر برسے تھے۔ لیکن اقتدار میںآتے ہی یوگی کا برسنا سوکھ گیا۔ متھرا کے جواہر باغ کیس کے ذمہ دار ضلع افسر راجیش کمار کو ایس پی سرکار نے اترپردیش نیشنل ہیلتھ مشن کا ڈائریکٹر آف ایڈیشنل مشن بنا دیا تھا۔ راجیش کمار ایس پی لیڈر پروفیسر رام گوپال یادو کے خاص آدمی ہیں۔ یوگی سرکار نے جواہر باغ کیس کے اسی ہیرو کو تحفظ دیا اور اسے مودی سرکار کی فلیگ شپ اسکیموں میںسے ایک اسکل ڈیولپمنٹ مشن کا ڈائریکٹر بنا کر بٹھا دیا۔ راجیش کمار اسکل ڈیولپمنٹ مشن کے ذریعہ رام گوپال کے حامیوں کی رضاکار تنظیموں (این جی او) کی ترقی کرنے کے مشن میں مگن ہیں۔
یوگی سرکار پر سپائی اثر کا سلسلہ یہیںنہیں رکا۔ بات ابھی گورکھپور حادثے کے سیاق و سباق میںہو رہی ہے۔ گورکھپور حادثے کے بعد بنی اعلیٰ سطحی کمیٹی میںاین ایچ ایم کے مشن ڈائریکٹر آلوک کمار شامل رہے۔ جب بات کھلے گی اور حادثے کے چھینٹے آلوک کمار پر بھی آنے لگے تب سرکار نے آناً فاناً آلو ک کمار کو ہٹاکر پنکج کمار یادو کو این ایچ ایم کا مشن ڈائریکٹر بنا دیا۔ ایس پی سرکا رکے خاص رہے آلو ک کمار ہٹے تو اس عہدے پر سیدھے سیدھے رام گوپال یادو کے خاص پنکج یادو کو مامور کردیا گیا۔ پنکج یادو اسپیشل سکریٹری سطح کے آئی اے ایس ہیں، جبکہ این ایچ ایم ڈائریکٹر کا عہدہ سکریٹری سطح کے سینئر افسر کے لیے مقرر ہے۔ سپائی اثر کے سبب یوگی سرکار نے وہ مریادہ بھی طاق پر رکھ دی۔ رام گوپال یادو کی خاص مہربانی سے 2002 بیچ کے آئی اے ایس افسر پنکج یادو سماجوادی پارٹی سرکار کی مدت کار میںمین پوری، بلیا، بستی، دیوریا، آگرہ ، متھرا اور میرٹھ کے ڈسٹرک مجسٹریٹ تھے۔ پنکج کمار بے شمار دولت کے ذریعہ والے این ایچ ایم میں کیا کرنے آئے ہیں، یہ جگ ظاہر ہے۔ باندہ ضلع کے آبائی باشندے پنکج کمار یادو کے والد مول چندیادو بھی پروموٹیڈ آئی اے ایس رہے ہیں، جنھیںآئی اے ایس کیڈر ملتے ہی رام گوپال کی سفارش پر سیدھے ڈویژنل کمشنر بنا دیا گیاتھا، جبکہ سروس رول کے مطابق کمشنر بننے سے قبل کچھ سالوںتک ڈی ایم بننا ضروری ہوتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

سرکار کھلے عام کر رہی ہے دھوکہ دھڑی
آپ کو اوپر بتایا کہ گورکھپور حادثے کو لے کر ہوئے اعلانات ، کارروائیاں اور گرفتاریاں سب عوام کے ساتھ دھوکا ہے۔ جس جڑ پر پرہار ہونا چاہیے، وہاں اور کھاد پانی پہنچایاجارہا ہے۔ جہاں اہم ذریعہ میں دیمک لگی ہوئی ہے، وہاں زہر ڈالنے کے بجائے یوگی سرکار اور مٹھاس ڈال رہی ہے۔ اسی سیاق و سباق میں یوگی سرکار نوکر شاہوں کی ایک اور نایاب دھوکہ دھڑی کا ہم نوٹس لیتے چلیں۔ آپ جانتے ہیں کہ نیشنل ہیلتھ مشن کی اسٹیٹ پروگرام مینجمنٹ یونٹ میں ایڈیشنل مشن ڈائریکٹر کا ایک عہدہ منظور ہے، جسے ڈیپوٹیشن کی بنیاد پر بھرے جانے کا پروویژن ہے۔ ایڈیشنل مشن ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات کئے جانے والے شخص کواسپیشل سکریٹری سطح کا آئی اے ایس افسر ہونا چاہیے۔ گورکھپور حادثے کے بعد تک مشن ڈائریکٹر رہے آلوک کمار نے رٹائرڈ آئی اے ایس افسر کو ڈائریکٹر آف ایڈیشنل مشن کے عہدے پر تقرر کرنے کا ایک اشتہار 12 جولائی کو جاری کیا تھا۔ اشتہار کے مطابق درخواست دینے کی آخری تاریخ 27 جولائی طے تھی۔ شائع ہوئے اشتہار میںشرط یہ تھی کہ درخواست گزار ایسا سابق آئی اے ایس ہو جو کبھی ضلع افسر کے طور پرڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا صدر رہا ہو یا شعبہ صحت میںاس کا اہم کردار رہا ہو۔ لیکن سرکار نے ایسے شخص کو ڈائریکٹر آف ایڈیشنل مشن مقرر کردیا جو 31 جولائی کو رٹائر ہی ہوا تھا جبکہ اشتہار میںشرط یہ تھی کہ رٹائرمنٹ 27 جولائی سے پہلے کی تاریخ میں ہو۔ سرکار کو اپنا ہی ضابطہ توڑنے میںکوئی جھجک نہیں ہوئی اور پروموٹی آئی اے ایس نکھل چندر شکل این ایچ ایم کے ڈائریکٹر آف ایڈیشنل مشن بنا دیے گئے۔
دلچسپ بات تو یہ ہے کہ شکل رٹائر منٹ سے قبل بھی نیشنل ہیلتھ مشن کی اسٹیٹ پروگرام مینجمنٹ یونٹ میںڈائریکٹر آف ایڈیشنل کے عہدے پر کام کررہے تھے اور ان کے ریٹائرہوتے ہی سرکار نے فرضی واڑہ کرکے ان کی اسی جگہ بحالی کردی۔ شائع ہوئے اشتہار کی آخری تاریخ 27 جولائی سے پہلے داخل درخواست میںانھوں نے اپنے رٹائرمنٹ کی تاریخ کیا لکھی تھی؟ اپنی تقرری کے دوران نئے عہدے کے لیے نئی درخواست داخل کرنے کے لیے کیا انھوں نے سرکار سے رسمی طور پر اجازت لی تھی؟ اس فرضی واڑے کے بارے میںکوئی کیا پوچھتا، سب اس میں برابر کے ملوث تھے۔ اگر انھوںنے رٹائر ہونے کے بعد درخواست داخل کی تو اسے حکومت میںبیٹھے نوکر شاہوں نے کیسے منظور کرلیا؟ یہ ایسے سوال ہیں، جن کا واجب جواب سرکار نہیں دے سکتی۔ یہ تو کچھ مثالیں ہیں، جنھیں آپ کے سامنے رکھا گیا۔ اگرپچھلے تین سال میںریاست میں نیشنل ہیلتھ مشن میںکنٹریکٹ کے عہدوں پر کی گئی بھرتیوں کی غیر جانبداری سے جانچ ہو تو چونکانے والے حقائق سامنے آئیں گے۔ بدعنوانی کی رفتار تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے، جبکہ گھوٹالوں کی سی بی آئی جانچ کی وجہ سے مشن کی کافی بدنامی پہلے ہی ہوچکی ہے۔
پہلے سے طے ہو رہا تھاگورکھپور حادثے کا اسٹیج
گورکھپو کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ایک ساتھ 60 سے زیادہ بچوں کی موت تکلیف دہ حادثہ رہا۔ اس کے لیے اصل میں قصوروار سماجوادی پارٹی کی اس وقت کی سرکار ہے۔ یوگی سرکار کا قصور یہ ہے کہ وہ عام لوگوں کے سروکاروں کے تئیںقطعی سنجیدہ نہیں ہے۔ سال 2013 میں سماجوادی سرکار کے وزیر احمد حسن کے چہیتے طبی صحت اور خاندانی بہبود کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورہ نے جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سے متاثرہ ضلعوں میں انسیفلائٹس ٹریٹمنٹ سینٹر کی تعمیر کے لیے نیشنل ہیلتھ مشن (این ایچ ایم) کو تجویز بھیجی تھی اور ٹرن کی پروسیس پر احمد حسن کی چہیتی کمپنی ’پشپا سیلز‘ کو کام دے دیا تھا۔
بجاج اسکوٹر بیچنے والی اس کمپنی کو صحت سے متعلق کروڑوں کا کام دینے کی تب مخالفت بھی ہوئی تھی لیکن احمد حسن اور داکٹر بلجیت سنگھ ارورہ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس کمپنی کو گورکھپور میں واقع بی آر ڈی کالج میںسو وینٹی لیٹر لگانے اور مریضوں کے علاج میں سہولت دینے کے لیے ٹیکنیشین مہیا کرانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ سال 2014 میںنیشنل ہیلتھ مشن کے اس وقت کے ڈائریکٹر امت کمار گھوش نے ’پشپا سیلز‘ کے کام کا جائزہ لیا تھا اور ’پشپا سیلز‘ کی خراب سروس کو سرکاری طور پر اجاگر کیاتھا۔ سینٹرل آکسیجن یونٹ کو بجلی کی ہائی ٹینشن لائن کے نیچے قائم کرنے اور پرانی پائپ لائن سے آکسیجن سپلائی کرنے کا معاملہ بھی حکومت کے سامنے لایا گیا تھا۔ لیکن ایس پی سرکار پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا، الٹا وزیر احمد حسن کے خاص ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی نیشنل ہیلتھ مشن کا اعلیٰ صلاح کار بنادیا گیا۔ ارورہ نے ’پشپا سیلز‘ پر کوئی کارروائی نہیں ہونے دی۔ ’پشپا سیلز‘ کمپنی نے جیسے تیسے منمانے طریقے سے انسیفلاٹس ٹریٹمنٹ سینٹرز قائم کیے اورنا اہل ملازمین کو بھر کر جان لیوا طریقے سے پیڈیاٹرک انسینٹو کیئر یونٹ چلائی۔ کمپنی جو بھی بل بھیجتی ڈائریکٹوریٹ جنرل کے ذریعہ این ایچ ایم آنکھ بند کرکے اس کی ادائیگی کرتا جاتا۔
احمد حسن نے اپنی سرکار کے آخری مہینوں میںڈاکٹر وجے لکشمی کو طب و صحت او ر خاندانی بہبود محکمے کا ڈائریکٹر جنرل بنا دیا تھا اور ایس پی سرکار کے آخری وقت تک لوٹ پاٹ والا نظم جاری رہا۔ ہائی کورٹ نے اس درمیان ڈینگو، ملیریا، جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سے بے تحاشہ ہو رہی اموات پر ریاستی سرکار کوسختی کے ساتھ تنبیہ دی تھی۔ جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سمیت سبھی متعدی امراض کے پروگرام کو چلانے اور انتظام کی ذمہ داری نیشنل ہیلتھ مشن کے قومی پروگرام سیکشن کے پاس ہی ہے۔ این ایچ ایم کے اس وقت کے ڈائریکٹر امت کمار گھوش نے ڈاکٹر وجے لکشمی کے دبا ؤ میںاین ایچ ایم کے قومی پروگرام کے جنرل منیجر ڈاکٹر انل کمار مشر کو ہٹاکرڈاکٹر منی رام گوتم کو جنرل منیجر بنا دیا تھا۔ دسمبر 2015 میںڈاکٹر وجے لکشمی بھی ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورہ کی طرح ہی این ایچ ایم میں اونچی تنخواہ پر چور راستے سے مشن ڈائریکٹر کے سینئر صلاح کار کے غیر تخلیقی عہدے پر قابض ہوگئیں ۔ انھیںاین ایچ ایم میں قومی پروگرام سمیت کئی اہم سیکشنوں کا نوڈل افسر بنا دیا گیا تھا۔
سماجوادی پارٹی سرکار میںچیف سکریٹری آلو ک رنجن کے اسٹاف افسر رہے آلوک کمار کو اپریل 2016 میں این ایچ ایم کا مشن ڈائریکٹر بنایا گیا۔ ان کے آنے کے بعد ڈاکٹر بلجیت سنگھ ارورہ اور ڈاکٹر وجے لکشمی کی اور طوطی بولنے لگی۔ سال 2016 کے جولائی مہینے میں ڈاکٹر منی رام گوتم کے رٹائر ہونے کے بعد داکٹر وجے لکشمی نے اپنے دوسرے خاس شخص ہڈی کی بیماری کے سرجن اور متعدی امراض کے موجودہ جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر اے کے پانڈے کو این ایچ ایم میںقومی پروگرام کا جنرل منیجر بنوادیا۔ ڈاکٹر پانڈے کو ہفتے کے تین دن این ایچ ایم اور دو دن ڈائریکٹوریٹ جنرل میںکام کرنے کا عجیب و غریب حکم جاری کرانے میں ڈاکٹر وجے لکشمی کا خاص ہاتھ تھا۔
دوسری طرف ریٹائر ڈاکٹر منی رام گوتم کو انھوںنے انسیفلائٹس کے خاتمے میںتعاون دینے کے لیے غیر سرکار تنظیم ’پاتھ‘ میں ماہر کے طور پر سلیکٹ کرادیا۔ مشن ڈائریکٹوریٹ آلو ک کمار نے اس انتہائی اہم سیکشن کو بے حد ہلکے سے لیا۔ حد تو یہ ہے کہ این ایچ ایم کے مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن ڈپارٹمنٹ نے ڈاکٹر اے کے پانڈے کو ہی گورکھپور منڈل کا انچارج بھی بنایا۔ ڈاکٹر پانڈے نے گورکھپور منڈل کے ضلعوں میں جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم سے بچاؤ کے لیے کیا کیا قدم اٹھائے؟ پانڈے کی صلاح پر نوڈل افسر ڈاکٹر وجے لکشمی نے کیا کارروائی کی؟ ان سے سرکار نے ان سوالوں کا جواب کبھی نہیںمانگا۔ این ایچ ایم کے مشن ڈائریکٹر آلو ک کمار نے پالی ٹیکنک سے کمپیوٹر تعلیم حاصل کرنے والے سفسا کے ملازم بی کے جین کو مانیٹرنگ اینڈ ایویلوایشن کا ڈائریکٹر جنرل بنا کر اتنے ڈھیر سارے بچوں کی تکلیف دہ موت کا پس منظر رچ دیا تھا۔ اس کے باوجود یوگی سرکار نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی اور انھیں ہی جانچ کمیٹی کا ممبر بھی بنا دیا تھا۔ حادثے کے لیے جولوگ قصوروار ہیں، وہی جانچ کریں گے تو پکڑا کون جائے گا؟ ان فطری سوالوں سے ریاستی سرکار کوکوئی واسطہ نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

 

بچوں کی موت پر صرف سیاست
پوروانچل میں ہر سال ہورہی سیکڑوں بچوں کی موت پر صرف سیاست ہی ہوتی رہی۔ اسے دور کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تلاش کیا گیا۔ یوگی نے اپوزیشن میں رہتے ہوئے اس پر خوب سیاست کی لیکن آج جب وہ خود وزیر اعلیٰ ہیں تو ان کے وزیر ان اموات پر غیر انسانی بہانے گھڑتے ہیں۔ گورکھپور بی آر ڈی میڈیکل کالج میں ہوئے حادثے پر وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے سرکاری لاپرواہی پر پردہ ڈالنے کے لیے بڑے ہی غیر انسانی لہجے میںکہا تھا کہ اس موسم میں تو بچے انسیفلائٹس سے مرتے ہی رہتے ہیں۔ یہ ایک وزیر کا کتنا بے جا بیان ہے۔ یہ بچوں کے لیے نہیں، بلکہ سرکار کے مردہ ہونے کا اعلان ہے۔ بچوںکی موت پراس طرح کا بہانا سرکاروں کی بیماری میں مبتلا ہونے کی سند ہے۔ پوروانچل میںکئی دہائیوں سے بچوںکی جان جا رہی ہے اور سرکار بے شرمی سے کہتی ہے کہ اس موسم میں بچے مرتے ہی ہیں۔
سرکاری اعداد وشمار ہیںکہ بارش کے موسم میں اکیلے گورکھپور بی آر ڈی اسپتال میں دو ہزار سے ڈھائی ہزار بچے بھرتی ہوتے ہیں او رتقریباً پانچ سو بچے مر جاتے ہیں۔ یو پی کے گورکھپور سمیت مشرق کے 12 ضلعوں میں ایک لاکھ سے زیادہ بچوں کی پچھلی کچھ دہائیوں میںموت واقع ہوچکی ہے۔ سال 2016 میں انسیفلائٹس سے ہونے والی اموات کی تعداد 15 فیصد بڑھ کر 514 ہوگئی۔ یہ اعداد و شمار صرف گورکھپور میڈیکل کالج کے ہیں۔ بچے مر رہے ہیںلیکن اس سے بچاؤ کی تدابیر نہیںکی جارہی ہیں۔ سرکاریں اسے جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیسفلائٹس سنڈروم کا نام دیتی رہیں لیکن بے شرم سرکاروں کو اس بات پر ذرا بھی جھینپ نہیں آئی کہ جاپان نے اس بیماری پر 1958 میںہی کارگر طریقے سے قابو پالیا تھا۔ لیکن ہم اب بھی لاچار ہیں۔
پوروانچل میں پچھلی چار دہائیوںسے جاپانی انسیفلائٹس سے بچے لگاتار مررہے ہیں۔ مشرقی اضلاع کے زیادہ تر مریض بچے گورکھپور کے بی آر ڈی کالج اسپتال میںہی بھرتی ہوتے ہیں۔ اس اسپتال میںنہ صرف مشرقی اترپردیش کے مختلف اضلاع سے بلکہ مغربی بہار اور نیپال کے مریض بھی بھرتی ہوتے ہیں۔ بہت زیادہ دباؤ کے سبب میڈیکل کالج کو دوائیوں، ڈاکٹروں ، پیرا میڈیکل اسٹاف، وینٹی لیٹر، آکسیجن اور دیگر ضرورتوں کے لیے کافی جدو جہد کرنی پڑتی ہے۔ انسیفلائٹس کی دواؤں ، ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف، آلات کی خرید، مرمت اور ان کے رکھ رکھاؤ کے لیے الگ سے کوئی بجٹ کا انتظام نہیں ہے۔
گورکھپور میڈیکل کالج اسپتال میں سو بیڈ کا انسیفلائٹس وارڈ بن جانے کے باوجود مریضوں کے لیے بیڈ و دیگر وسائل کی بھاری کمی ہے۔ میڈیکل کالج میںعلاج کے لیے آنے والے انسیفلائٹس مریضوں میںآدھے سے زیادہ نیم بے ہوشی کے شکار ہوتے ہیں اور انھیں فوری طور پر وینٹی لیٹر فراہم کرانے کی ضرورت رہتی ہے۔ اس اسپتال میں پیڈیاٹریک (بچوں کی بیماری) آئی سی یو میں 50 بیڈ دستیاب ہیں۔ وارڈ نمبر 12 میںکچھ وینٹی لیٹر ہیں۔ بچوں کی موت پر مرثیہ پڑھنے والی ریاست کے وزیر اعلیٰ سے لے کر مرکزی وزیر تک گورکھپور میڈیکل کالج اسپتال میںمریضوں کے علاج کے لیے پیسے کی کمی نہیں ہونے دینے کی بات کرتے ہیں لیکن اصلیت یہی ہے کہ بی آر ڈی میڈیکل کالج کی طرف سے پچھلے چار پانچ سال کے دوران مرکز ی اور ریاستی سرکار کو جو بھی تجاویز بھیجی گئیں ، وہ منظور نہیں ہوئیں۔ ان تجاویز میںیہ بھی شامل تھا کہ انسیفلائٹس کے مریضوں کے علاج میں لگے ڈاکٹروں، نرس، وارڈ بوائے اور دیگر ملازمین کی تنخواہ ، مریضوں کی دوائیاں اور ان کے علاج کے کام آنے والے آلات کی مرمت کے لیے ایک مشت بجٹ مختص کیا جائے۔ یہ بجٹ 40 کروڑ روپے سالانہ ہوتا ہے لیکن اس تجویز کو نہ اس وقت کی اکھلیش سرکار نے سنا اور نہ ہی مرکزی سرکار نے۔ یہ سرکاری حقیقت ہے کہ 14 فروری 2016کو گورکھپور میڈیکل کالج انتظامیہ نے ڈائریکٹر جنرل آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سروسز سے انسیفلائٹس کے علاج کی مد میں 37.99 کروڑ مانگے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل نے اس خط کو نیشنل ہیلتھ مشن کے ڈائریکٹرکو بھیج کر اپنی ڈیوٹی نبھالی اور این ایچ ایم کو بدعنوانی سے فرصت نہیںملی۔
افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ جاپانی انسیفلائٹس سے جو بچے ابھر جاتے ہیں ، ان میںسے بھی زیادہ تر بچے معذور ہوکر ہی واپس لوٹتے ہیں۔ غیر سرکاری رپورٹ یہ ہے کہ مشرقی اترپردیش کے دس ضلعوں میںجاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم کی بیماری کے سبب ذہنی اور جسمانی طور پر معذور ہوئے بچوں کی تعداد پچاس ہزار سے کم نہیں ہے۔ جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم بیماری میںایک تہائی بچے ذہنی طور پر اور جسمانی طور پر شکار ہوجاتے ہیں۔ بال آیوگ نے کئی بار ریاستی سرکار کو ہدایت دی کہ جاپانی انسیفلائٹس اور ایکیوٹ انسیفلائٹس سنڈروم بیماری سے معذور ہوئے بچوں کی حقیقی تعداد کا پتہ لگانے کے لیے سروے کرائے اور ان کے علاج ، تعلیم اور بحالی کے لیے ٹھوس کام ہولیکن یہ کام سرکاروں کی دلچسپی کے دائرے میں نہیں آتے کیونکہ معذور بچوں سے نیتاؤں کو ووٹ نہیںملتا۔ سروے کا کام سرکار نہیںکرا پائی اور غیر سرکاری اداروں نے بھی اس سروے کے کام میںدلچسپی نہیں لی ۔ المیہ یہ ہے کہ گورکھپور کے بی آرڈی میڈیکل کالج اسپتال میں اس سال مرنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 15 سو پار کرچکی ہے۔ جنوری سے لے کر ستمبر تک ہر مہینے سو ڈیڑھ سو بچوں کی موت کا اوسط بنا ہوا تھا۔ اگست مہینے میں تو ساڑھے تین سو بچوں کی موت ہوگی۔
جانچ کمیٹی نے انھیں پایا مجرم، باقی کلین
وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم پر چیف سکریٹری راجیو کمار کی صدارت میں تشکیل جانچ کمیٹی حادثے کی تہہ میں جاتی تو دیگر افسروں کا گہرا کردار اجاگر ہوپاتا لیکن کمیٹی نے این ایچ ایم کے علمبرداروں کے مشکوک کردار کو اپنی جانچ کے دائرے میں رکھا ہی نہیں۔ جانچ کمیٹی کی رپورٹ کی بنیا د پر بی آرڈی میڈیکل کالج کے پرنسپل رہے راجیو مشر، ہومیوپیتھک کی طبی افسر ڈاکٹر پورنیما شکلا، بال روگ شعبے کے اہم ڈاکٹر کفیل خان، خریداری اور انیستھیسیا شعبے کے اہم ڈاکٹر ستیش پانڈے، میڈیکل کالج کے چیف فارماسسٹ گجانن جیسوال، آکسیجن سپلائر فرم پشپا سیلز کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) منیش بھنڈاری کے ساتھ ساتھ اکاؤنٹ کلرک اودے پرتاپ شرما، اسسٹنٹ کلرک سنجے کمار ترپاٹھی اور سدھیر کمار پانڈے کے خلاف دفعہ409(لوک سیوا کے ذریعہ مجر مانہ فعل میںشامل ہونے)، 308(غیر ارادی قتل) ، 120 بی (مجرمانہ سازش کرنے) کے علاوہ بدعنوانی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔
جانچ رپورٹ میں پشپا سیلز کے ایم ڈی منیش بھنڈاری کو لیکوڈ آکسیجن کی سپلائی کی ذ مہ داری پوری نہیںکرنے، اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشر کو رشوت کے لالچ میں2016-17 کا ڈھائی کروڑ روپے لیپس کرانے اور رشوت کے لیے ادائیگی روکنے اور آکسیجن کی کمی ہونے پر بغیر کسی کو اطلاع دیے غائب ہونے، انیستھیسیاشعبے کے اہم ڈاکٹر ستیش پانڈے کو آکسیجن میںرکاوٹ ہونے پر بچوں کی جان بچانے کے بجائے محکمے اور ہیڈکوارٹر کو چھوڑ کر چلے جانے، بال روگ شعبے کے اہم ڈاکٹر کفیل خان کو اپنی بیوی کے غیر قانونی نرسنگ ہوم کو نامناسب منافع پہنچانے، پرائیویٹ پریکٹس کرنے اور بی آر ڈی کے آکسیجن سلنڈروں کو اپنے نرسنگ ہوم میںاستعمال کرنے، ڈاکٹر پورنیما شکلا کو اپنے شوہر راجیو مشر کے بدعنوانی کے سلوک میںتعاون کرنے اور اکاؤنٹنگ ڈپارٹمنٹ سے کمیشن وصول کرنے ، اکاؤنٹ کلرک اودے پرتاپ شرما، اسسٹنٹ کلرک سنجے ترپاٹھی اور سدھیر پانڈے کو پرنسپل راجیو مشر کے غلط کاموں میںملوث رہنے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔
فرخ آباد میں49 بچوں کی موت پر سرکار بول رہی ہے جھوٹ پر جھوٹ
گورکھپور میںبچوںکی دھڑادھڑ ہورہی موت پر ریاست صدمے میںہے ، ایسے ہی وقت میںفرخ آباد میںبھی 49 بچوں کی موت کی خبر سے سنسنی پھیل گئی۔ فرخ آباد کے ضلع افسر رویندر کمار نے ابتدائی جانچ میں پایا کہ رام منوہر لوہیا ضلع اسپتال میں آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے بچوںکی موت ہوئی۔ ڈی ایم نے فوراً ضلع کے سی ایم او ڈاکٹر اوما کانت اور سی ایم ایس ڈاکٹر اکھلیش اگروال کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی اور کارروائی شروع کردی۔ ڈی ایم کے فوری ایکشن سے یوگی سرکار کو غصہ آگیا۔ سرکارنے ضلع افسر کا فوری تبادلہ کردیا اور عوام کے سامنے جھوٹ پروسنے لگ گئی ۔ سرکار نے سی ایم او اور سی ایم ایس کے خلاف درج کرائی گئی ایف آئی آر پر کارروائی بھی روک دی۔ گھسا پٹا سرکاری ڈائیلاگ سامنے آیا کہ بچوںکی موت آکسیجن کی کمی کے سبب نہیںہوئی۔ سرکار نے اپنے ہی افسر کو بے ساختہ جھوٹا قرار دیا اور خودکو سچائی کی علامت ماننے کی خوش فہمی پال لی۔
حقیقت یہ ہے کہ فرخ آباد کے رام منوہر لوہیا ضلع اسپتال میں 20 جولائی سے 21 اگست کے بیچ 49 بچوںکی موت ہوئی۔ ناراض ڈی ایم رویندر کمار نے اس پر مجسٹریٹ سے جانچ کا حکم دے دیا۔ ضلع کے سی ایم او اور سی ایم ایس نے ضلع اسپتال میںمرنے والے بچوں کے بارے میںغلط اور گمراہ کن حقیقت ضلع افسر کے سامنے پیش کی جبکہ مرنے والے بچوں کی ماں اور رشتہ داروں نے بتایا کہ ڈاکٹروں نے ضرورت پڑنے پر بچوں کو آکسیجن کے پائپ نہیںلگائے اور کوئی دوا نہیں دی۔ صاف ہے کہ بچوںکی موت آکسیجن نہیںملنے کی وجہ سے ہوئی۔ آکسیجن کی کمی کے بارے میںضلع افسروں کو بھی اندھیرے میںرکھا گیا۔ حقیقی صورت حال کا پتہ لگتے ہی ضلع افسر نے سی ایم او، سی ایم ایس اور اسپتال میں نوزائیدہ بچوںکی دیکھ بھال کی یونٹ کے انچارج ڈاکٹر کیلاش کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے ضروری کارروائی کرنے کا حکم جاری کردیا۔
یوگی سرکار نے فوری ایکشن لینے والے ضلع افسر کی تعریف کرنے کی اخلاقی ذمہ داری نبھانے کے بجائے ڈی ایم کو جھوٹا ثابت کرنے کی حرکتیں شروع کردیں۔ سرکار کا سینگ اس میںپھنسا کہ ڈی ایم نے خود کیسے مان لیا کہ بچوںکی موت آکسیجن کی کمی سے ہوئی۔ بوکھلائی سرکار نے ڈی ایم کو جھوٹا ٹھہرایا اور اپنا منظم جھوٹ پروسنے کے لیے دو سینئر آئی اے ایس افسروں کو لگایا۔ انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری اویناش اوستھی اور شعبہ صحت کے پرنسپل سکریٹری پرشانت ترویدی نے باقاعدہ پریس کانفرنس بلاکر سرکاری جھوٹ نشر کیا۔ اس جھوٹ میںضلع افسر پر یہ بھی کیچڑ اچھالی گئی کہ ڈی ایم کی سی ایم او سے نہیںپٹتی تھی، اس لیے بدلہ لینے کے لیے ایسا کیا گیا۔ سرکار ایسی گھٹیا سطح پر اتر آئی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *