نوٹ بندی نے کوئی مثبت مقصد پورا نہیں کیاہے

کل ملاکر ملک کا اقتصادی انڈیکس بہت حوصلہ افزا نہیںہے۔ تھوک قیمتیںپچھلے سال کے مقابلے بہت اوپر چڑھ گئی ہیں۔ مہنگائی کی شرح میںبھی وہ گراوٹ نظر نہیںآرہی، جو ہونی چاہیے تھی۔ صنعتی انڈیکس میںبھی تیزی سے گراوٹ درج کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے جی ڈی پی کھسک کر 5.7 کی سطح پر آگئی ہے۔ غور طلب ہے کہ جی ڈی پی کا یہ حساب نئی سیریز کے لحاظ سے کیا گیا ہے، پرانے حساب سے اسے 4 سے بھی کم ہونا چاہیے تھا۔ دراصل یہ تشویش کا موضوع ہے۔ وزیر مالیات نے بھی یہ مانا کہ جی ڈی پی میںگراوٹ تشویش کی بات ہے۔ سیاست میںبرسر اقتدار پارٹی ،اس کے ترجمان اور حامی کہہ سکتے ہیں کہ ہم بہت اچھا کررہے ہیں، لیکن وہ ہمیںکہیں نہیںلے جاتا۔ نوکریاںنہیںآ رہی ہیں۔ اب یہ صاف ہوگیا ہے کہ (اور اگر نرم الفاظ میںبھی کہیں تو) نوٹ بندی نے کوئی مثبت مقصد پورا نہیں کیا ہے۔ اس نے کتنا نقصان پہنچایا ہے،اس پر بحث ہو سکتی ہے۔ اس میںکچھ مثبت نہیں، سوائے یہ کہنے کے کہ آنے والے وقت میں لوگ لیس کیش کے عادی ہوجائیں گے جو میںسمجھتا ہوں ، ہندوستان جیسے ملک کے لیے بہت ہی مبہم خیال ہے۔ خاص طور پر ایک ایسا ملک،جہاںزیادہ تر لین دین کیش میںہوتا ہے، جہاںلوگ کیش کے عادی ہیں اور کیش کا یہ مطلب کالا دھن نہیںہوتا ہے۔ کیش کا مطلب کالا دھن ہوتا ہے یا سارا کالا دھن کیش میں ہے، کا تصور اس غلط فیصلے کا سبب بنا۔ اب اس پر بار بار بات کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہیے کہ نارمل حالت جتنی جلد ہو، بحال ہوگی۔ کم سے کم نومبر تک تو بحال ہو ہی جانی چاہیے، جب نوٹ بندی کا ایک سال پورا ہوجائے گا۔
جی ایس ٹی کسی بھی ملک کے لیے ایک مشکل عمل ہے۔ یوروپ میںاسے لاگو کیا گیا کیونکہ وہاںکے زیادہ تر ملک یونٹری ہیں۔ امریکہ میںاس لیے لاگو نہیںہو سکا کیونکہ وہاں فیڈرل سسٹم ہے اور یہاں 52 ریاستیں ہیں۔ ہندوستان کے لیے ایک جرأت مندانہ فیصلہ تھا۔ وزیر مالیات نے اس بارے میںریاستوںکو منانے کی کافی کوشش کی، اس کے باوجود پیٹرول او رشراب اس کے دائرے سے باہر رہے۔ ا س کا مطلب یہ ہوا کہ صرف 60 فیصد ریونیو کو ہی جی ایس ٹی کے تحت کور کیا گیا۔ اس لیے ان دو چیزوں کے لیے اعلیٰ شرح رکھی گئی ہے،جو 12-28 فیصد کے بیچ ہے۔ اگر آپ نے ایک بار جی ایس ٹی لاگو کرنے کا من بنا لیا تو ایسے مسائل آئیں گے ہی۔ جی ایس ٹی کی دو یا تین شرحیں قائم کرنے میںدو تین تماہیوں یا ایک دو سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ اگر ایک شرح قائم ہوجائے تو زیادہ بہتر ہے۔ دراصل کسی بھی ملک میںجی ایس ٹی کامیاب نہیں ہوا ہے، جہاںاوسط شرح 12-14 فیصد سے زیادہ نہ ہو، لیکن 12-14 فیصد کی سطح تک آنے کے لیے بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ حالانکہ یہ سرکار بہت جلد بازی میںہے، لیکن سبھی ریاستوں کو ساتھ لے کر 1 اپریل 2018 سے جی ایس ٹی کو لاگو کرنا چاہیے تھا۔ بہرحال یہ بھی بیتے دنوں کی بات ہوچکی، ہمیںاس کا عادی ہوجانا چاہیے۔ کاغذی کارروائی بڑھ گئی ہے اور اب 37 ریٹرن داخل کرنی ہوں گی۔ کارپوریٹ سیکٹر اور بڑی کمپنیوں کو کوئی خاص پریشانی نہیںہوگی، لیکن چھوٹے تاجروںکی مشکلیں بڑھ گئی ہیں۔

 

 

 

 

 

میں حال میں راجستھان کے اپنے آبائی شہر گیا تھا۔ وہاںتاجروںنے مجھ سے شکایت کی کہ انھیںایک کمپیوٹر آپریٹر رکھنے کے لیے 15-20 ہزار روپے اضافی خرچ کرنے پڑیں گے، جس کا بوجھ وہ برداشت نہیںکرسکتے۔ میںنے ان سے کہا کہ اب وقت کو موڑا نہیںجاسکتا ہے۔ ان چیزوں کو وقت پر کرنے کے طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔ ریٹرن داخل کرنے کے لیے سرکار نے دوسری بار ایک ماہ کا اضافی وقت دیا ہے۔ میںسمجھتا ہوںکہ جی ایس ٹی کے معاملے میںکسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل اسے آزمانے کے لیے 1-2 سال کاموقع دیا جانا چاہیے۔
ڈیزل اورپیٹرول کی شرحوںمیںاچھال کی تنقید کی جارہی ہے۔ یہ کہنے میںکچھ نہیں جاتا کہ آئل کمپنیوں کو کھلی چھوٹ دے دیجئے کہ وہ اپنی قیمتیںخود طے کریں لیکن ایک عام آدمی کی اس پر نظر رہتی ہے۔ پیٹرول کا استعمال عام طور پر کار رکھنے والے لوگ کرتے ہیں لیکن اس کا اثر ٹیکسی اور بس کے کرایوںپر بھی پڑے گا اور ڈیزل کی بڑھی قیمتوں سے عام آدمی سیدھے طور پر متاثر ہوگا۔ پیٹرولیم وزیر نے اہنکار بھرے لہجے میںکہاکہ اس پالیسی پر نظر ثانی کرنے کا کوئی سوال ہی نہیںپیدا ہوتا ہے۔ ایسے بیان جمہوریت میںبہت عقل مندی کے نہیںکہے جاسکتے ہیں۔ آپ کہہ سکتے تھے کہ ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں،اگر ضرورت پڑی تو ہم بدلاؤ کریںگے۔ پیٹرول اور ڈیزل کے داموںکا مہنگائی کی شرح پر اثر پڑے گا۔ بہرحال سرکار، متعلقہ محکمہ، چیف اقتصادی صلاح کاراور وزیر مالیات ضرور ہی اس پر نظر رکھے ہوں گے۔ اس سلسلے میںایک ہی تجویز دی جاسکتی ہے کہ ایسے بدلاؤکیجئے جس سے عام آدمی کی پریشانیاںختم ہوں،نہیںتو ایک دو سال میںملک مصیبت میں ہوگا۔
انتخابات آنے والے ہیں۔ سرکار کے پاس بہت زیادہ متبادل نہیںہے۔ فی الحال سرکار کچھ فیصلے لے سکتی ہے۔ ایک سال بعد انتخابی دور شروع ہو جائے گا،تب سرکار کے لیے کوئی فیصلہ لینا مشکل ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سارے مدعے وزیر اعظم کے نوٹس میںہوںگے۔ چھوٹے او رعام کاروباریوں و درمیانی طبقے کو راحت پہنچانے کے لیے کیبنٹ سکریٹری اور سکریٹریوں کی کمیٹی کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ دیکھتے ہیں، کیا ہوتا ہے؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *