کشمیر کی تاریخ پر نئی کتاب کلہن بنام خالد بشیر احمد

سابق نوکر شاہ خالد بشیر احمد کی کتاب ’’ کشمیر:ایکسپوزنگ دی متھ بیہائنڈ نیریٹیو ‘‘ بلا شبہ اپنی طرح کی پہلی کتاب ہے۔ اسے پہلے کسی بھی مسلم دانشور نے تاریخ لکھنے کو ان کی طرح سے نہیں دیکھا ہے۔ اس کتاب کے 387صفحات تاریخ کے اس نیریٹیو کو خارج کرتے ہیں جس کا سایہ ایک لمبے وقت تک کشمیر پر چھایا رہا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اگست مہینے کے وسط میں اس کتاب کا اجرا کیا گیا تو قارئین نے اس کے صرف ایک چیپٹر کی بنیاد پر اپنا ردعمل دیا۔نتیجتاً کتاب کا اصل مقصد پس منظر میں چلا گیا۔
1148 عیسوی میں کلہن کے ذریعہ تاریخ پر مشتمل کتاب ’’راج ترنگینی ‘‘ پر احمد کے چیلنج نے ہنگامہ کھڑا کردیا۔ دراصل احمد کی کتاب اسی چینلج کی وجہ سے اہم ہے۔ کلہن کی تاریخی تحریر (ہِسٹوریوگرافی) کے طریقہ کو اجاگر کرنے کے لئے احمد نے ہمت دکھاتے ہوئے کلہن کے ایک سورس نیلا ماتاپوران کا ناقدانہ تبصرہ کیا ہے ۔مثال کے طور پر احمد نے افسانوی کہانیوں پر کلہن کے انحصار کوسوالوں کے گھیرے میں لیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ کلہن نے 3000 سال کی تاریخ لکھنے کے لئے افسانوی کہانیوں کا سہارا لیا ہے جبکہ انکے لئے کچھ سو سالوں کی حقیقی تاریخ لکھ پانا ہی ممکن تھا۔ لہٰذا اس تجزیہ کا عنوان ’’ مائنڈس آئی ‘‘ رکھا گیا ہے جو کلہن کی تاریخی تحریر کے طریقہ سے میل کھاتا ہے۔ مقامی زبان کے تئیں کلہن کا بھید بھائو اور ثقافت (جسے وہ پیار کرتے تھے ) کے ذرائع پر انحصار بھی ویسے ہی سوال کھڑے کرتے ہیں۔
احمد نے لکھا ہے کہ جیسا کہ نیلا ماتا اور دیگر ثقافتی کاموں کو بگاڑ کر کے متاثر کیا گیا تھا،راج ترنگینی بھی ان لوگوں کی مداخلت سے نہیں بچ سکی جو اس کی تشریح کرتے ہیں یا اسے بنیادی سورس میڑیل مانتے ہیں۔احمد اپنی اس دلیل کے باوجود کہ راج ترنگینی کا صرف ایک حصہ تاریخ کی شکل میں لیا جاسکتاہے، وہ اسے اس بات کا سہریٰ دیتے ہیں کہ کشمیر کی تاریخ لکھ کر کشمیر کو پہچان دینے کا کام اس نے کیا ہے۔ جائزہ در جائزہ سے یہ صاف ہوجاتاہے کہ کشمیری پنڈتوں نے ایک کہانی گڑھی ہے جس نے اس حقیقت کو نظر انداز کر دیا ہے کہ گھاٹی مسلم اکثریتی خطہ ہے۔ کشمیری مسلمانوں کو اس حقیقت کے باوجود متاثر ین کی شکل میں دکھایا گیا ہے کہ 1947 کے بعد ان کے نمائندوں کو اقتدار ملا۔ احمد نے واضح طور سے کشمیری پنڈتوں کے ذریعہ رچی گئی کچھ سازش کی جانچ کی جس کے تحت مسلمانوں کو سزا دینے کی کچھ ایسی پالیساں تیار کی گئیں۔ اس سے کشمیر ی پنڈتوں کے نقطہ نظر کا پتہ چلتا ہے جو حقائق کو قبول نہیں کرتے اور ایک نظریہ قائم کرتے ہیں کہ مسلمان شدت پسند ہیں اور ان کا حصہ ہڑپنے والے ہیں۔ ’’ ملائس ‘‘ عنوان والے چیپٹرمیں مصنف نے سلطان سکندر (1389-1413ئ)کا بچائو کیا ہے۔ سکندر شاہ میر شاہی نسل کے چھٹے حکمراں تھے، جنہیں اس بات کے لئے بدنام کردیا گیا کہ وہ مندروں کو تباہ کرتے تھے اور عوام کو ہراساں کرتے تھے۔ لیکن مصنف ثابت کرتے ہیں کہ مسلم سلطنت کے قیام سے لگ بھگ تین صدی پہلے ہندوئوں کو اسلام میں بدلنے کا عمل شروع ہوا تھا اور 15ویں صدی کے آخر تک انتہا پر پہنچ گیا تھا۔احمد بہارستان شاہی ایک نامعلوم کرونیکل کی تنقید کرتے ہیں جس کی تحریر سکندر کو بریشکل میں پیش کرتاہے۔ کشمیر پنڈت مصنف آج بھی اس کا ذکر کرتے ہیں۔احمد نے لکھاہے کہ راجہ ،جس پر بہارستان شاہی نے مورتیوں کو توڑنے کا الزام لگایا،حقیقت میںاس نے شاردا اسکرپت میں 18 لائن والی پتھروں کی کاپی رائٹ قائم کی جس میں ہندو بھگوان گنیش کے شلوک ہیں۔ اس نے مندر کی تعمیر کے علاوہ پرانے مندروں کی مرمت کروائی۔

 

 

 

 

 

وہ کئی مثال دے رہے ہیں کہ کشمیر میں کیسے آج بھی قدیم مندر موجود ہیں۔ مصنف یہ سوال بھی پوچھتے ہیں کہ مصنفین نے اس بات پر خاموشی کیوں اختیار کررکھی ہے کہ کشمیر میں مِہیر کولا ، جو 530عیسوی پہلے کشمیر آیا، کی وجہ سے بودھ مذہب کا صفایا ہوا تھا۔ ’’ پاور ‘‘ ایک اہم چیپٹر ہے جو کتاب کے سُر کو قائم کرتا ہے، کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ کیسے کشمیری پنڈت اقتدار کی سیاست میں اہم کھلاڑیوں کی شکل میں ابھرے ،جو آج بھی بدلی نہیں ہے۔ ایک راز یہ ہے کہ مغل دور حکومت کے دوران، کشمیری پنڈتوں نے اپنا ٹائٹل بدل لیاکیونکہ ہندوستان کے دیگر برہمنوں کے مقابلے میں انہیں لالچ ہوتا تھا۔ احمد لکھتے ہیں کہ اسی طرح کا ایک آدمی مغل سامراج کے آخری راجہ محمد شاہ کے پاس گیا تھا، جس کا نام تھا جے رام بھان، جو اس کا درباری تھا۔ بھان نے محمد شاہ کو کشمیری برہمنوں کو کشمیری پندتوں کی شکل میں منظوری دینے کے لئے شاہی ڈگری جاری کرنے کے لئے راضی کیا، تاکہ کشمیری برہمنوں اور ہندوستان کے دیگر برہمنوں کے بیچ فرق بن سکے۔
کشمیری پنڈتوں نے 1990 میں گھاٹی چھوڑ دیا۔پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں کشمیر ی ہندو کہا جانا چاہئے، اس سے وہ ہم مذہبوں کی ہمدردی متوجہ کرنا چاہتے تھے۔ پنڈت اتنے ماہر تھے کہ انہوں نے مغل اور افغان دور تک حکومت کی۔ پنڈت نند رام ٹیکو کابل کے وزیر اعظم بنے تھے۔ وہ اتنے اثر دار تھے کہ وہ 1765 عیسوی میں کشمیر سے گورنر نصیر الدین خاں کو ہٹانے میں کامیاب ہوئے۔
جب عطا محمد خان نے افغان حکومت کے خلاف بغاوت کیا اور انتظامیہ نے مسلمانوں کی حصہ داری طے کی تو کشمیری پنڈت کابل گئے اور فوج کے ذریعہ اسے اقتدار سے بے دخل کر دیا۔ یہ سکھ حکومت اور ڈوگرا حکومت کے دوران جاری رہا اور حقیقت میں یہ بیر بل دھر تھا، جس نے 1819 عیسوی میں رنجیت سنگھ کو کشمیر پر فتح حاصل کرنے کے لئے مدعو کیا تھا۔ حالانکہ رنجیت سنگھ اس کے لئے ناپسندیدہ تھے۔یہ کتاب ان واقعات کو بھی چھوتی ہے جنہیں صرف ایک نقطہ نظر سے دیکھا گیا ہے۔ مثال کے لئے جب ڈوگرا حکمراں گلاب سنگھ نے 1846 میں امرتسر سنگھی کے تحت اپنے لوگوں کے ساتھ کشمیر خریدا تھا، تب کشمیری پندت ان کے حق میں تھے۔ 13جولائی 1931 کو سینٹرل جیل میں پولیس کی گولہ باری میں جب 23مسلم مارے گئے تھے، تب بھی پنڈت سرکار کے حق میں تھے۔
احمد نے 1990 کے بعد ابھرے نئے نیریٹیو کو بتایا ہے ۔بتاتے ہیں کہ جیل میں ہوئے قتل کے بعد ہندو مارے گئے اور مندر توڑے گئے ۔انہوں نے پنڈت مصنفین کو یہ بتانے کے لئے الگ کیا کہ کیسے اس یکطرفہ کہانی ،1990 مائیگریشن کے بعد، شائع کیا گیا۔ پنڈت طبقہ کے مصنفین نے 1931 سے 1990 تک لکھی گئی تاریخ میں نام نہاد لوٹ پاٹ اور تباہی کاذکر نہیں کیا ہے۔ کشمیر کے مسلمانوں کے خلاف بھید بھائو واضح تھا۔ احمد بتاتے ہیں کہ کیسے پنڈتوں نے گلینسی کمیشن کی رپورٹ کو مسترد کیا۔
مسلمانوں کی شکایتوں کو دور کرنے کے لئے نومبر 1931 میں مہاراجہ ہری سنگھ نے اس کمیشن کی تشکیل کی تھی۔ احمد نے اعدادو شمار کے ساتھ دلیل دی ہے کہ مسلمان 95 فیصد کے ساتھ اکثریت میں تھے تو انتظامیہ پر پنڈتوں کا اثر کیسے ہو سکتاتھا۔ کتاب میں 1967 کے پنڈت آندولن پر بہت زیادہ دھیان دیا گیاہے۔یہ آندولن اس وجہ سے ہوا تھا کہ ایک کشمیری پنڈت لڑکی پرمیشوری نے ایک کشمیری مسلم غلام رسول سے شادی کیا تھا۔ آر ایس ایس کی سرپرستی میں آندولن کافی سنگین ہو گیا تھا۔ اکثریتی طبقہپر تنقید کرنے کے لئے اس آندولن کا استعمال کیا گیا۔
احمد کشمیر پنڈتوں کے نقل مکانی کے بارے میںبھی لکھتے ہیں ۔وہ بتاتے ہیں کہ نقل مکانی کے لئے اکثریتی طبقہ کے لوگ ذمہ دار نہیں ہیں، لیکن گورنر جگموہن نے ضرور اس میں ایک کردار ادا کیا۔ انہوں نے ان حادثات کا ذکر کیا ہے جس نے اس حادثے کو جنم دیا۔ کئی ذمہ د ار کشمیری پنڈتوں کا حوالہ دیتے ہوئے ،وہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے انہیں اس نقل مکانی سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ کیسے سرکاری اعدادو شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔
کتاب میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کیسے ایک الگ ہوم لینڈ کی شکل میںکشمیر کی مانگ کشمیر کو پھر سے جیتنے کے لئے رائٹس ونگ ہندو تنظیموں کے بڑے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ یہ بھی پڑھنا ضروری ہے کہ کسیے کشمیر پنڈتوں کو لمبے وقت تک میڈیا میں اہم جگہ دیا گیا اور انہوں نے جموں و کشمیر میں منتخب سرکاروںکو الگ تھلگ کرنے میں فعال طریقے سے حصہ لیا۔ احمد یہ بتاتے ہیں کہ کشمیر کاعدم استحکام دہلی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہے اور اس میں کشمیری پنڈتوں کے اِنپوٹ کا بڑا حصہ ہے، جن کی دہلی کے اقتدار کے گلیاروں میں اچھی خاصی پیٹھ ہے۔
احمد نے ایک اہم دلیل دی ہے کہ اگر کشمیری پنڈتوں کا دعویٰ ہے کہ کشمیر ان کا ہے تو کشمیر مسلمانوں کا بھی ے جو یہاں کے بنیادی باشندے ہیں۔اجداد کے مذہب بدلنے سے صورت حال نہیں بدلتی۔ مصنف کے مطابق اکلوتی دلیل جسے دی جاسکتی ہے ،وہ یہ ہے کہ چونکہ انہوں نے اپنے مذہب کو بدل یا ،اس لئے زمین پر انہوں نے اپنا حق کھو دیا۔یہ دلیل صحیح نہیں ہے۔ احمد اپنے ریسرچ کے بھروسے لمبے وقت سے مانے جارہے سچ کو چیلنج دیتے ہیں لیکن یہ بھی دلچسپ ہوگا کہ کیا ریسرچ کے ماڈرن سائنسی آلات 5000 سال پہلے لکھی گئی تاریخ کو ختم کرسکتے ہیں۔ احمد نے جو لکھا ہے ، اس پر بحث کی ضرورت ہے۔ اور زمینی سیاست میں اتنے بدلائو کے باوجود ایک طبقہ کا دوسرے کے تئیں جانبدار رویے میں کیوں بدلائو نہیں آیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *