ڈیمونائیزنگ مسلمزپردہلی میں پرمغزنشست منعقد

popular-front-of-india
مشہور ڈکٹیٹر ہٹلر کا ایک قول بہت مشہور ہے کہ ’’افواہ کو اتنا پھیلاؤ کہ لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگیں اور ان کے دماغ میں وہی افواہ گھومنے لگے ۔لیکن اس افواہ کو اتنا طول نہ دو کہ اس کی سچائی سامنے آنے لگے‘‘۔ آج یہی صورت حال ہندوستان میں ہے۔ مسلمانوں کو بدنام کرنے ، ان کی توہین کرنے کے لئے افواہوں کا بازار منظم طریقے پر گرم کیا جاتا ہے۔لوجہا، گؤ کشی جیسی فرضی باتوں کو پھیلا کر ماب لنچنگ انجام دی جاتی ہے اور پھر کچھ دنوں کے بعد اسے چھوڑ کر کوئی نیا عنوان تلاش کرلیا جاتا ہے۔دوسری طرف مسلمان اس کی زد میں آتا ہے ،کچھ دنوں تک واہ ویلا مچتا ہے اور پھر وہی پہلے جیسی خاموشی ۔
جو حادثات ہوتے ہیں ،ان میں زیادہ تر حادثوں میں ہندوتو سے متعلق افراد کو دیکھا گیا ہے۔اس کا صاف مطلب ہے کہ ان افواہوں کے پیچھے اسی نظریہ کے حاملین کا ہاتھ ہے ۔ دراصل اس کے پیچھے ایک عالمی منصوبہ بندی ہے اور سنگھ پریوار اس منصوبہ بندی کا ایک حصہ ہے ۔اس منصوبہ بندی کو سمجھنے کے لئے مسلمانوں کی موجودہ صورت حال اور تاریخی پس منظر کا معمولی جائزہ لینا ہوگا۔
مسلمانوں نے اس سرزمین پر تقریباً ساڑھے تیرہ سو برسوں تک حکومت کی ہے۔ اس کے بعد زوال آیا اور کئی خطوں کی حکومتیں ان سے چھن گئیں۔لیکن یوروپی طاقتوں کو اب بھی یہ خوف ستا رہا ہے کہ مسلمان پوری دنیا میں منظم ہوجائیں تو اپنی سیاسی طاقت کو دوبارہ پاسکتے ہیں۔اس سے روکنے کا بس ایک ہی طریقہ ہے کہ مسلمانوں کو اس طرح بکھیر دیا جائے کہ یہ کیمپوں کی زندگی جینے پر مجبور ہوجائیں۔ان میں سیاسی شعور، علمی بیداری اور شاختی حوصلہ باقی نہ رہے۔ اسی منصوبہ بندی کے تحت مشرق وسطیٰ سے لے کر افریقہ اور جنوب ایشیا میں کام انتہائی منصوبہ بند طریقے پر چلا یا جارہا ہے ۔چنانچہ ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہاہے یا روہنگیا یا پھردنیا کے کسی بھی حصہ میں مسلم طبقے کے ساتھ جو توہین آمیز رویہ اختیار کیا جارہا ہے،بعض لوگوں کی نظر میں اسی منصوبہ بندی کا حصہ محسوس ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ مسلم مخالف عناصرکو مسلمانوں سے نہیں بلکہ اسلام سے دشمنی ہے۔ اگر کوئی مسلمان نماز اور روزے تک محدود رہتا ہے تو ان عناصر کو ان سے کوئی پریشانی نہیں ہے ۔اگر کوئی تنظیم اپنا دائرہ کار مذہبی تبلیغ تک خود کو محدود رکھتی ہے تو اس سے ان عناصر کو کوئی دشواری نہیں ہوتی ہے لیکن جیسے ہی یہ تنظیمیں اپنا دائرہ بڑھا کر سیاست میں حصہ داری اور علمی بیداری کی طرف قدم بڑھاتی ہیں تو یہ عناصر متحرک ہوجاتے ہیں اور ان کے خلاف الزامات کی بھرمار لگ جاتی ہے۔کبھی سیاسی دباؤ بناکرکبھی افواہ پھیلا کر تو کبھی غلط الزامات عائد کرکے عدالت کے چکر لگانے میں پھنسا دیا جاتاہے اور وہ تنظیم یا فرد اسی میں الجھ کر رہ جاتا ہے ۔
لیکن ان سب کے باوجود اہم بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں یا کسی بھی جگہ پر مسلمانوں کو تشدد کا جواب تشدد سے نہیں دینا چاہئے۔ کیونکہ مسلم مخالف عناصر یہی چاہتے ہیں کہ مسلمان تشدد پر اتر آئیں اور اس تشدد کی آڑ میں انہیں بدنام کردیا جائے کہ دنیا انہیں کیمپوں میں زندگی گزارنے کی کوشش میں شامل ہوجائے ۔ ہمارے سامنے میانمار کی مثال موجود ہے۔ جہاں بتایا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے ایک گروپ نے 12 بدھسٹوں لوگوں کو مار دیا۔ ان بارہ افراد کے بدلے میں چار سو سے زیادہ روہنگیائی مسلمانوں کو مار دیا گیا اور چار لاکھ سے زائدافراد کو بنگلہ دیش اور دیگر ملکوں کی طرف بھاگنے پر مجبور کیا گیا جو کہ آج کیمپوں میں بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے وجود کی بقاء کے متمنی ہیں۔
ان عناصر کا بہترین ہتھیار میڈیا ہے۔ وہ افواہوں کو پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کرتے ہیں اور پھر اس کا فالو اپ الکٹرانگ میڈیا سے کیا جاتا ہے ۔پرنٹ میڈیا اسی سائڈ کو مشتہر کرتا ہے جس سائڈ کو مشہور کرنا یہ عناصر چاہتے ہیں اور مسلمانوں کے سائد کو کمزور کرکے بتاتا ہے جس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روہنگیائی مسلمان جن کو دنیا کی سب سے مظلوم ترین اقلیتبتایا گیا ہے، کے بارے میں میانمار حکومت نے یہ مشتہر کردیا کہ وہاں کی فوج شدت پسند تنظیموں کو مار رہی ہے اور سویلین پر حملہ نہیں کررہی ہے اور دنیا ان کی باتوں پر بھروسہ کررہی ہے کیونکہ میڈیا ان کے ساتھ ہے۔
سوال یہ ہے کہ اس کا حل کیا ہو۔اس کا جواب تلاش کرنے کے لئے پاپولر فرنٹ نے گزشتہ دنوں ریور ویوز ہوٹل ابوالفضل اوکھلانئی دہلی میں ایک نشست منعقد کی ۔اس کانفرنس میں اردو میڈیا کو مدعو کیاگیا۔ یہاں کچھ تنظیموں کے سربراہان بھی شامل ہوئے۔ دہلی مائنارٹی کمیشن کے چیئر مین ظفرالاسلام اورویلفیئر پارٹی کے تسلیم رحمانی اور بھی موجود تھے۔ شرکاء نے اجمالی طور پر وہی باتیں کی جو اوپر لکھی گئی ہیں اور پھر اس کے حل پر غورہوا تو یہ بات سامنے آئی کہ افواہوں کے پھیلانے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جاتا ہے۔ زیادہ تر میڈیا حقائق کو سامنے لانے میں مخلص نہیں ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کا اپنا الکٹرانک میڈیا ہونا چاہئے جو صورت حال کے حقائق کو دنیا کے سامنے لائے اور ان افواہوں کی حقیقت کو اجاگرکرے۔اس موقع پر’’ چوتھی دنیا‘‘ کے نمائندہ نے یہ بات بھی رکھی کہ عام طورپر ہم انگریزی میڈیا کی طرف دیکھتے ہیں اور الکٹرانک میڈیا کی شکایت کرتے ہیں مگر ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ اردو پرنٹ میڈیا نے ایک اسلامی اسکالر پر لگے الزامات کو محض اس وجہ سے صحیح ٹھہرانے کی کوشش کی کہ اس اسکالر کامسلکی موقف اس اخبار کے ایڈیٹر کے مسلکی موقف سے الگ تھلگ تھا۔ جب تک ہم آپ میں نظریاتی تنازع سے اوپر اٹھ کر سوچنے کی عادت نہیں ڈالیں گے، تب تک اتحاد کی باتیں کرنا ناکارہ ثابت ہوگا۔
مگر سوال اب بھی اپنی جگہ برقرارہے کہ مشوروں پر عمل کیسے ہو؟ کون قدم بڑھائے ،کب عملدرآمد ہو، یہ سب باتیں زیر بحث نہیں آئیں ۔جہاں تک سیکولر الکٹرانک میڈیا کی بات ہے تو پہلے بھی بارہا اس پر باتیں ہوتی رہی ہیں اور رہنمائے ملت کی توجہ اس طرف دلاتی جاتی رہی ہے مگر اب تک اس کا خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آسکا ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ پاپولر فرنٹ کی یہ کوشش کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *