مہاتمابدھ ہوتے تو روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ کھڑے ہوتے: دلائی لامہ

میانمار کے حالیہ تشدد کے نتیجے میں تین لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ان پر ہورہے مسلسل مظالم کو دیکھتے ہوئے آخرکارتبتی بدھ بھگشوؤں کے روحانی پیشوادلائی لام نے روہنگیابحران پر بات کرتے ہوئے کہنے پر مجبور ہوئے کہ اگراس وقت بدھاموجودہوتے،تووہ روہنگیامسلمانوں کی مددکررہے ہوتے ۔دلائی لامہ نے مزید کہاکہ تشددکی وجہ سے فرارہونے والے معصوم مسلمان روہنگیاکی مددکرناچاہئے کیونکہ بدھ کی تعلیم یہی ہے۔واضح رہے کہ میانمارمیں جاری تشددمیں شدت پسندبدھ پیش پیش ہیں جوایک طویل عرصے سے وہاں آبادمسلم اقلیت روہنگیاپرمبینہ حملوں میں ملوث رہے ہیں۔روہنگیاجن کی اکثریت کے پاس میانمارکی شہریت تک نہیں ،تشددکے حالیہ واقعات کے بعدبڑی تعدادمیں راکھین سے فرارہوکربنگلہ دیش پہنچ چکی ہے۔نوبل امن انعام یافتگان کی جانب سے میانمارمیں روہنگیامسلمان پرجاری تشددکی مذمت کرنے والوں میں دلائی لامہ ایک اضافہ ہیں۔واضح ہوکہ تشدد کی تازہ لہر کا آغاز 25 اگست کو اس وقت ہوا تھا جب روہنگیا شدت پسندوں نے شمالی رخائن میں پولیس کی چیک پوسٹس کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتجے میں 12 سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔میانمار چھوڑنے والے روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ فوج ان کے خلاف پر تشدد مہم چلا رہی ہے ان کے گاؤں کو آگ لگا رہی ہے اور شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہے تاکہ انھیں وہاں سے نکالا جا سکے۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *