جمعیۃ علماء کا جنترمنترپراحتجاجی مظاہرہ

Maulana-Mahmood-Madani
آل انڈیامسلم مجلس مشاورت بشمول جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند،آل انڈیاملی کونسل ودیگرکے بعد جمعیۃ علماء ہند(محمود)بھی روہنگیائیوں کے تعلق سے احتجاج کرنے میں میدان میں آگئی ہے۔میانمار میں روہنگیا اقلیت کے خلاف جاری نسل کشی اور قتل عام کے خلاف 21ستمبر2017کو جنتر منتر نئی دہلی میں منعقد ایک مظاہرے میں تقریبا دس ہزار افراد نے شرکت کی جنھوں نے مظلوموں کی حمایت میں مختلف قسم کے بینر اٹھا رکھے تھے۔ جمعےۃ علماء ہند صوبہ دہلی کے زیر اہتمام اس مظاہرے میں مختلف ملی تنظیموں کے نمائند ے نے وہاں کے حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے یواین سکریٹری جنرل ،وزیر داخلہ حکومت ہند اورمیانمار کے سفیر نئی دہلی کو ایک میمورنڈم بھی سونپا گیا۔جنتر منتر پر اپنے خطاب میں جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے عالمی طاقتوں بالخصوص یو این سے مطالبہ کیا کہ وہ تجاویز منظورکرنے کے بجائے عملی اقدامات کریں اور شمالی کوریا کی طرح میانمار پر بھی اقتصادی پابندی عائد کی جائے۔مولانا مدنی نے اس موقع پر روہنگیا پناہ گزیں سے متعلق حکومت ہند کے موقف پر سخت تنقید کی۔مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے ملک کی یہ پہچان ہے کہ مظلوم چاہے دنیا کے کسی خطے سے تعلق رکھتے ہوں، ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں چئیرمین اقلیتی کمیشن حکومت دہلی ، مولانا نیاز احمد فاروقی رکن مجلس عاملہ جمعےۃ علماء ہند، مولانا عابد قاسمی صدر جمعےۃ علماء صوبہ دہلی ،نوید حامد صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، شیعہ عالم دین مولانا حسن علی گجراتی،مولانا رئیس خان نوری صدر غازی فاؤنڈیشن، حازق خاں دیوبند، فیروز احمد بخت وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *