تباہ کن ہیں یہ باندھ

جے پرکاش پانڈے
ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ملٹی پرپز ریورویلی پروجیکٹس کو ’’ جدید ہندوستان کا مندر ‘‘ کہا تھا۔ تب شاید حال فی الحال آزاد ہوئے ملک میں ’’ ہرت کرانتی ‘ کا نعرہ دینے والے ہندوستانیوں کے لئے ایسا کہنا ضروری تھا۔ اس کی وجہ بھی تھی،وہ یہ کہ تب بڑے باندھوں کی کئی سطحوں پر مخالفت ہورہی تھی۔ ملک کے دیہی علاقہ کے لوگ اور کسان سارے سرکاری وعدوں کے باوجود بڑے باندھوں کے خلاف تھے ۔ دیہی لوگ اور کسان ترائی میں جارہی اپنی زرعی زمین اور گائوں کو لے کر فکر مند تھے۔ پھر بھی یہ باندھ بنے۔ نیشن میکروں کی دلیل تھی کہ ملٹی پرپز ریور ویلی پروجیکٹس کا مقصد مختلف الجہات ہے اور اس سے نہ صرف دیہی علاقے بلکہ پورے ملک کی ترقی ہوگی۔ کسان کے لئے سینچائی کا انتظام، پن بجلی کی پیداوار سے صنعت کی ترقی، شہروںکو بجلی ، سیلاب پر کنٹرول، ماحولیات کا تحفظ اور زمینی نقل و حمل کی سہولت ،زمین کا تحفظ اور مچھلی پالنے میں فروغ اور ان سے جڑے بے شمار لوگوں کو روزگار ملے گا۔
باندھوں کے تحفظ کی اندیکھی
بات شاید صحیح تھی لیکن ان باندھوں کے تحفظ کی اندیکھی نے آج پورے ملک کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیاہے۔ ترقی کے نام پر بنے باندھ آج سیکورٹی وجوہات سے ملک کے لئے فکر مندی کا سبب بنتے جارہے ہیں۔کمال یہ ہے کہ ان باندھوں کی تعمیر کے وقت بھی ایسی تشویشات کا اظہار کیا گیا تھا لیکن سرکار ترقی کے نام پر تباہی کی عبارت لکھنے میں اس طرح مشغول تھی کہ تب سے لے کر اب تک اس کے کان پر کوئی جوں نہیں رینگی ۔22 ستمبر 1954 کی بات ہے، بہار اسمبلی میں چل رہی چرچا میں حصہ لیتے ہوئے ریاست کے وزیر خزانہ انوگرہ نارائن سنگھ نے کوسی باندھ پروجیکٹ پر کہا تھاکہ ’’ پچھلے 2-3 سالوں سے ہم اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ کوسی ندی پر ایک باندھ باندھا جائے جو کہ 700فٹ اونچا ہو،لیکن بعد میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اگر وہ 700 فٹ کا باندھ کسی وجہ سے ٹوٹ گیا تو اس میں جمع پانی سے سارا بہار اور بنگال بہہ جائے گا۔ سارا علاقہ تباہ اور برباد ہو جائے گا ۔کیا ہم اس کے لئے تیار ہیں؟
کوسی سیلابی ایریا ڈیم پروجیکٹ سے جڑے این بی گاڈگل نے 11ستمبر 1954 کو لوک سبھا کو بتایا تھا کہ ’’ ایک وقت مجھے بھی کوسی پروجیکٹ کا کام دیکھناپڑا تھا۔ وہاں جب زمین کے اندر سوراخ کرنے کا تجربہ کیا گیا تب پتہ چلا کہ وہ پورا کا پورا علاقہ ایسا ہے جس پر زلزلے کے جھٹکے لگتے ہیں، تب ہم لوگوں کو سوچنا پڑا کہ وہاں آبی ذخیرہ بنے یا کوئی دوسرا بندوبست کیا جائے یا پھر جیسا کہ پچھلے ہفتہ الجیرس میں ہوا ،ویسا دوبارہ بھی ہوگا؟ وہاں زلزلہ کی وجہ سے یا تو باندھوں میں درار پڑ گئی یا وہ منہدم ہو گئے اور کئی باندھوں کا تو نام و نشان ہی مٹ گیا۔
پچھلے 65سالوں میں ملک میں تقریباً 50 باندھ ٹوٹ چکے ہیں جس میں موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ریاست گجرات کا مچھو ڈیم شامل ہے، جس کے ٹوٹنے سے خطرناک تباہی مچی ۔ اس کے علاوہ لگ بھگ ہر سال ہی بڑے باندھوں سے اچانک پانی چھوڑنے کی وجہ سے جو زبردست سیلاب آتا ہے ، اس کی تباہ کاری الگ ہے۔ کچھ باندھوں کے بننے کے بعد آس پاس کے علاقے کے زلزلے میں اضافہ ہوگیا ہے،یہ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ حالانکہ ہمارے یہاں یا تو ان باتوں کو جانچا نہیں گیا یا پھر جانچا گیا تو عوام کے سامنے لایا نہیں گیا۔ چین کے تھری گارجیس باندھ کے تجزیہ سے یہ چونکانے والا سچ سامنے آیا کہ باندھ کو آبی ذخیرہ بھرنے کے بعد جانچا گیا تو اس علاقے کے زلزلے 30گنا زیادہ پائے گئے۔ وہاں اب تک چھوٹے بڑے لگ بھگ 3ہزار زلزلے درج ہوئے ہیں۔
اس کے باوجود پرانے باندھوں کی مرمت پر دھیان دیناتو دور، ہمارے یہاں نئے باندھ بننا تک رکا نہیں ہے۔ مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے وقت تک ہند- نیپال جوائنٹ ریور کمیشن کی میٹنگ میں کوسی ندی پر سیلابی علاقے میں ہائی ڈیم بنانے کے لئے براڈ پروجیکٹ رپورٹ پر کئی بار چرچا ہوئی ہے۔ کہتے ہیں کہ اس باندھ کی بنیادی تجویز تو 68سال پرانی ہے ۔ اس پروجیکٹ کے تحت چِترا گھاٹی میں سیلابی علاقہ (نیپال ) کے پاس 229 میٹر اونچا کنکریٹ باندھ بنانے اور اس کے ساتھ 1200 میگا واٹ صلاحیت کی پن بجلی گھر بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ دھیان دینے کی بات یہ ہے کہ تب بھی اس پروجیکٹ کے ٹلنے کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ سیلابی علاقہ سخت زلزلہ کے امکان والے علاقے میں آتا ہے۔ سال 1934 میں یہاں 8.3 اسکیل کا سخت زلزلہ آچکا تھا اور آگے بھی اس کے آنے کے خدشہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا تھا۔

 

 

 

 

ٹِہری پروجیکٹ کے مضمرات
وزارت ماحولیات کی ندی گھاٹی پروجیکٹوں سے متعلق ماہرین کی ایک کمیٹی نے ٹِہری باندھ کے معاملے میں بھی کہا تھاکہ اس پروجیکٹ کی سیکورٹی سے متعلق بے حسی حد سے بھی زیادہ ہے اور انہیں دھیان میں رکھتے ہوئے اس پروجیکٹ کو چھوڑ دینا چاہئے۔ اتنی واضح منفی منظوری کے باوجود بھی ٹہری پروجیکٹ کے کام کو تیزی سے آگے بڑھایا گیا۔ آج پروجیکٹ کے مکمل ہونے کے بعد یہ صاف ہے کہ اس کے بڑے خطرے ہمارے سامنے آتے جارہے ہیں جبکہ اس سے حاصل ہورہے فائدے اس کے پہلے کی بہ نسبت فائدے سے کہیں کم ہیں۔
یاد رہے کہ سال 1977-78 میں ٹہری پروجیکٹ کے خلاف جب آندولن ہوا، تب وزیراعظم اندرا گاندھی نے 1980 میں اس پروجیکٹ کی جانچ کے حکم دیئے تھے۔ تب مرکزی وزارت ماحولیات کے ذریعہ تشکیل شدہ بھومبلا کمیٹی نے اس پروجیکٹ کو رد کر دیاتھا۔ عالمی معیار کے مطابق جہاں بھی چٹان پر مبنی باندھ بنتے ہیں، وہ انتہائی محفوظ علاقے میں بننے چاہئے۔ ماہرین نے تب یہ بھی کہا تھاکہ ہمالیہ کا پہاری علاقہ کافی کچا ہے۔ اس لئے گنگا میں بہنے والے پانی میں مٹی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ۔ ملک کی سبھی ندیوں سے زیادہ مٹی گنگا کے پانی میں رہتی ہے۔ ایسے میں جب گنگا کے پانی کو ذخیرہ کرکے روکا جائے گا تو اس میں گاد بھرنے کا اوسط ملک کے کسی بھی دیگر باندھ میں گاد بھرنے کے اوسط سے زیادہ ہوگا۔ گاد بھرنے کے اوسط کے اندازے کے مطابق ٹہری باندھ کی زیادہ سے زیادہ عمر 40سال ہی ہوسکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ 40 سالوں کے معمولی فائدے کے لئے کروڑوں لوگوں کے سر پر موت کی تلوار لٹکائے رکھنا ،لاکھوں لوگوں کا نقل مکانی کرنا کتنا مناسب ہوگا؟
کچھ سال پہلے اگست 2011 میں پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے پارلیمنٹ کو پیش اپنی رپورٹ میں سرکار کی اس بات کے لئے تیکھی تنقید کی تھی کہ باندھ سیکورٹی بل کی تجویز آنے کے بعد اس سے متعلق بل کو تیار کرنے میں سرکار نے 25 سال کا وقت لیا۔ ساتھ ہی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اتنی تاخیر کے بعد جو بل تیار کیا گیا ہے، وہ بے حد کمزور اور غیر موثر ہے۔ اس میں باندھ کے ناکام ہونے یا سیکورٹی کی تجاویز کو نظر انداز کی صورت میں مکمل جرمانے کی توضیح نہیں ہے۔بل میں ناقابل یقین طور پر متاثر یا نقصان پہنچے لوگوں کے معاوضے کی تجویز نہیں ہے ۔کسی آزاد تنظیم کا بندوبست بھی بل میں نہیں ہے۔ باندھ سیکورٹی کو نظر انداز کیا جانا مختلف پروجیکٹوں سے متعلق فیصلوں اور تعمیر ی سرگرمیوں میں بھی نظر آتا ہے۔
کیرل اور تمل ناڈو میں تنازع
کیرل اور تمل ناڈو میں تنازع پیدا کرنے والے ملا پیریار باندھ کا ایشو بھی دراصل دو ریاستوں کے تنازع کا ایشو نہیں ہے، کیونکہ کیرل نے صاف کہہ دیا ہے کہ کسی متبادل طور طریقے سے وہ تمل ناڈو کو اس کے مقرر حصے کا پانی فراہم کروانے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ لیکن 116 سال پہلے بنا ، حال میں آئے زلزلوں سے نقصان ہوچکا یہ باندھ اب اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ کوئی ایک ریاست اپنے اوپر ذمہ د اری بھلے لے لے لیکن اپنے لوگوں کو بچائے کیسے۔ ماہرین کی رائے ہے کہ اس علاقے میں ممکنہ 6.5 ریکٹر کے پیمانے کے زلزلے کو یہ باندھ اب قطعی برداشت نہیں کر سکے گا۔ اگر یہ باندھ ٹوٹ گیا تو اس باندھ اور پیریار ندی گھاٹی میں اس کے اور اگلے باندھ ایڈوکی کے درمیان رہنے والے 75 ہزار لوگ شدید بحران میں آجائیں گے۔اگر بڑی مصیبت کے وقت ایڈوکی باندھ بھی ٹوٹ گیا تو تقریباً 30 لاکھ لوگوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ سرکاری سطح پر باندھ سیکورٹی کا ایشو کتنا نظر انداز کیا جاتا رہاہے ،اسے راجستھان کی مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وہاں جولائی 2007 میں جسونت ساگر باندھ پر جب بڑے باندھ سیکورٹی پروجیکٹ کے تحت سیکورٹی کا تجزیہ چل رہا تھا ،تبھی ریاست کا گراردا باندھ پہلی بار ہی پانی بھرنے پر ٹوٹ گیا جس سے درجن بھر گائوں میں پانی بھر گیا۔ چنبل ندی کی ایک معاون ندی گراردا پر بنے اس باندھ کے منہدم ہونے کی جانچ کی گئی تو بدعنوانی اور لاپرواہی کی وجہ سے گھٹیا تعمیر اس کی بنیادی وجہ کی شکل میں سامنے آئی۔ آندھرا پردیش میں حال کے برسوں میں کئی باندھ ٹوٹے ہیں۔ ان میں مشرقی گوداوری میںسوباریا ساگر، کھمام میں پال موگو باندھ اور وارنگل ضلع میں گوڈلا وگو باندھ شامل ہیں۔
آج ملک میں چھوٹے بڑے تقریبا پانچ ہزار باندھ ہیںجن میںسے زیادہ تر پرانے اور کمزور ہو چکے ہیں ۔یعنی ندیوں پر یہ بنے ہیں۔ ان سے لگے علاقے سیلاب اور خشک سالی سے الگ بے حال ہیں ۔پھر پانی کو لے کر دو ریاستوں کے درمیان جھگڑا الگ سے ہے۔ سرکار کے لئے یہ ضروری ہے کہ باندھوں کے تحفظ پر توجہ دی جائے اور اس کے لئے باندھ سیکورٹی قانون میں ضروری سدھار کئے جائیں۔ باندھ سیکورٹی کے سبھی پہلوئوں میں شفافیت لائی جائے اور اس میں سرکاری سسٹم سے الگ آزاد ماہرین اور متاثر لوگوں کے مواقف کی سنوائی کا مکمل بندوبست ہو۔ نئے باندھ پروجیکٹوں میں سیکورٹی کے پہلو کو مکمل اہمیت دی جائے اور یہ تعمیری عمل مفاد پرستی کے اثر سے پاک ہو۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *