پھر بڑھ رہی ہے کشمیر اور دہلی میں خلیج

ہارون ریشی
قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے ) پچھلے تین ماہ سے کشمیرمیں ’’ٹرر فنڈنگ‘‘ یعنی دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات پر مبنی کیس کی تحقیق کررہی ہے۔ حریت کے7 لیڈروں کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ان سے عدالتی ریمانڈ پر پوچھ تاچھ کی گئی ۔ یہ سارے حریت لیڈر فی الوقت تہاڑ جیل میں ہیں۔ اسکے علاوہ این آئی اے نے درجنوں دیگر لوگوں سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ گیلانی کے دو بیٹوں نسیم گیلانی اور نعیم گیلانی کو بھی پوچھ تاچھ کے لئے دو بار دہلی طلب کیا گیا۔وادی کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے ۔ کئی تاجروں کے کاروبار سے متعلق ریکارڈ ضبط کیا گیا۔ کئی نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا۔لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس ساری کارروائی کے باوجود این آئی اے ابھی تک کوئی بھی ٹھوس ثبوت یا شہادت سامنے لانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے جس سے ’’ ٹرر فنڈنگ‘‘ کا الزام ثابت کیا جاسکتا تھا۔
این آئی اے اگر اب تک کچھ سامنے لاچکی ہے تو یہ کہ بعض حریت لیڈروں کے پاس ان کی آمد نی سے زیادہ جائدادیں ہیں۔ اگر یہ سچ بھی ہو اور ثابت بھی ہوجائے کہ ان کے پاس ایسی جائدادیں ہیں جن کے بارے میں وہ یہ بتانے سے قاصر ہوں کہ یہ جائدادیں کہاں سے آئی ہیں تو یہ محض کرپشن کا کیس ہوسکتا ہے، ٹیکس چور ی کا معاملہ ہوسکتا ہے لیکن این آئی اے نے تو ’’ دہشت گردی کی فنڈنگ‘‘ اور ’’ ملک کے ساتھ غداری ‘‘ کے کیس درج کئے ہیں۔ یہ خطرناک الزامات کیسے ثابت ہوسکتے ہیں۔ تین ماہ سے این آئی اے کے درجنوں افسران سرینگر میں ڈیرہ جمائے ہوئے ہیں۔ آئے دن چھاپے مارے جارہے ہیں۔ گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں لیکن تین ماہ گزرنے کے باوجود این آئی اے نہ ہی کسی عدالت میں کوئی چالان پیش کرسکی ہے اور نہ ہی کوئی ایسا ثبوت سا منے لا سکی ہے ، جس سے کم از کم یہ اندازہ تو لگتا کہ واقعی اس کیس کی کچھ بنیاد ہے۔ بہر حال معاملہ ابھی زیر تحقیق ہی ہے، اس لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ تحقیق مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے۔
لیکن اس بیچ حیران کن بات یہ دیکھنے کو مل رہی ہے کہ قومی ٹیلی ویژن چینلیں کشمیر میں این آئی اے کے چھاپوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیس کرتی نظر آتی ہیں، جیسے کہ کشمیر میں جو کچھ بھی ہورہا ہے اس کی ساری تاریں ’’ ٹرر فنڈنگ‘‘ کیس سے جاملتی ہیں۔ ان ٹی وی چینلوں میں کوئی یہ نہیں کہتا ہے کہ یہاں واقعی ایک ایجی ٹیشن یا تحریک چل رہی ہے، جسے عوامی سپورٹ حاصل ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کبھی بھی یہاں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں کو تذکرہ نہیں کرتا اور نہ ہی کشمیر کے بارے میں مرکزی سرکاروں کی غلط پالیسیوں کی کبھی نشاندہی کرتا ہے ۔ سارا فوکس’’ ٹرر فنڈنگ‘‘ کے کیس پر ہے۔ پورے ہندوستان میں یہ تاثر پھیلادیا گیا ہے کہ کشمیر میں پیسہ دیکر پتھر پھنکوائے جاتے ہیں، گولیاں چلائی جاتی ہیں اور احتجاج کروایا جاتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہندوستان کی کئی اہم شخصیتوں نے کشمیر کا دورہ کرکے یہاں کے زمینی حالات کا جائزہ لیا اور پھر دو ٹوک لفظوں میں بتادیا کہ کشمیری عوام حکومت ہند سے ناراض ہے اور یہاں واقعی عوام کے ساتھ زیادتیاں ہورہی ہیں۔جولائی 2016میں جب وادی کے حالات انتہائی خراب ہوئے اور یہاں ایک احتجاجی لہر چھڑ گئی تو اُس وقت تین سرکردہ صحافی سنتوش بھارتیہ ، اشوک وانکھڑے اور ابھے کمار دوبے پہلے تین اشخاص تھے ، جو اپنی جاں جوکھم میں ڈال کر یہاں کے زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لئے پہنچے۔انہوں نے یہاں جو کچھ محسوس کیا وہ عوام تک پہنچادیا ۔ سنتوش بھارتیہ نے تو وزیر اعظم کے نام ایک کھلا خط لکھ کر ان غلطیوں کی نشاندہی کی جن کا ارتکاب حکومت کشمیر میں کرتی رہی ہے ۔

 

 

 

 

 

اس کے بعد کئی دیگر شخصیات نے بھی وادی کا دورہ کرکے یہاں کے زمینی حالات پر اپنی رپورٹیں عوام کے سامنے رکھیں ۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا کی قیادت میں’’ کنسرنڈ سٹیزنز گروپ‘‘ یا ’’متفکر شہریوں کا گروپ‘‘ کے نام سے پہچانے جانے والی ٹیم نے اب تک تین بار کشمیر کے دورے کئے۔ اپنے حالیہ دورے کے بعد نئی دہلی میں ایک رپورٹ بھی منظر عام پر لائی ۔ حالانکہ اپنے پہلے دورے کے بعد بھی اس ٹیم نے ایک رپورٹ مرتب کرکے مرکزی وزارت داخلہ کو پیش کی تھی ۔ اپنی حالیہ رپورٹ میں بھی یشونت سنہا کی قیادت والی ٹیم نے کشمیر کے حالات کی بھر پور عکاسی کی ۔اس رپورٹ میں ٹیم نے صاف کہا کہ پچھلے دوروں کے برعکس اب کی بار انہوں نے محسوس کیا ہے کہ کشمیری عوام اور یہاں کے سیاسی لیڈروں میں مایوسی اور افسردگی بڑھ گئی ہے۔ اس کی کئی وجوہات بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیریوں کے ساتھ بات چیت نہ کیا جانا اور یہاں کے ٹورازم اور دیگر تجارت پر منفی اثرات مرتب ہونے کی وجہ سے مایوسی بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر اور نئی دلی کے درمیان خلیج مزید بڑھ گئی ہے۔ جو لوگ پہلے مناسب طریقے سے بات کرتے تھے ، انہوں نے بھی اب ملی ٹینٹوں اور علاحدگی پسندوں کا لب و لہجہ اختیار کرلیا ہے۔لوگ شکایت کررہے ہیں کہ فوجی اپروچ اختیار کیا جارہا ہے بلکہ آئین ہند کی دفعہ 35A، جس کی وجہ سے کشمیر میں باشندگی کے قانون کو تحفظ حاصل ہے کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس طرح سے کشمیر عوام کے خلاف قانونی اور آئینی محاذ بھی کھول دیا گیا ہے۔این آئی اے کے چھاپوں کے بارے میں یشونت سنہا کی ٹیم کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہاں لوگوں میں یہ تاثر ہے کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کشمیر کی بدامنی محض پاکستان کی فنڈنگ کی وجہ سے ہوئی ، جو کہ بالکل غلط ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ کشمیر کے حالات و واقعات کے بارے میں یہ کوئی پہلی غیر جانبدارانہ رپورٹ ہے۔سیاسی ، صحافتی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے وابستہ شخصیات بارہا کشمیر کے زمینی حالات کی عکاسی کرتی رہی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران رام جیٹھ ملانی، کے سی پنت، این این ووہرا ، وجاہت حبیب اللہ،اور دیگر کئی اہم شخصیات سے لیکر حکومت کی جانب سے قائم کئے گئے ورکنگ گروپس اور مذاکرات کاروں کی ٹیموں نے کشمیر کے حالات و واقعات کے بارے میں سفارشات سمیت اپنی رپورٹیں مرکزی حکومت کو پیش کی ہیں۔ لیکن ان ساری رپورٹوں کو مرکزی سرکار نے ہمیشہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔
اس وقت سارا مرکزی حکومت اور بعض نیوز چینلز کا سارا فوکس کشمیر میں این آئی اے کی تحقیق پر ہے۔ یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہاں جو کچھ بھی ہوریا ہے ، وہ محض فنڈنگ کا معاملہ ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ این آئی اے کی تحقیق کے ساتھ ساتھ کشمیر کے سیاسی مسئلے کو دائمی طور حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں بھی ہوتیں لیکن مرکزی سرکار یہ تاثر دے رہی ہے کہ یہاں کوئی مسئلہ ہی نہیںہے۔ مسئلہ صرف اتنا ہے کہ کہیں سے پیسہ آتا ہے اور اس کی بنا پر کشمیر میں حالات خراب کئے جاتے ہیں۔ ایک بار یہ پیسے کا کھیل بند ہو تو کشمیر کا مسئلہ خود بخود حل ہوجائے گا۔ مرکزی سرکار کے اس غیر حقیقت پسندانہ رویے کی وجہ سے ہی کشمیر میں مایوسی اور نااُمیدی بڑھ رہی ہے۔ اسکے نتیجے میں ہر گزرنے والے دن کے ساتھ کشمیری عوام اور نئی دہلی کے درمیان خلیج بڑھتی جارہی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *