عراق میں اب داعش کا کھیل ختم

اس وقت دنیا میں صرف عراق میں جنگ چل رہی ہے۔عراق میں داعش نے ایک علاقے پر قبضہ جما رکھا ہے۔ پہلے انہوں نے بڑے علاقے پر قبضہ جمایا تھا۔ وہ پورے عراق کے اوپر قبضہ کرنا چاہتے تھے لیکن دھیرے دھیرے انہیں عراقی فوجوں نے پیچھے دھکیل دیا۔ اب وہ تلعفر کے باہری علاقے میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ عراق کی اس جنگ میں امریکہ سمیت مغربی ممالک، داعش کے خلاف عراق کے لوگوں کی مددکررہے ہیں،یہ خبر بھی ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔میں اسی جنگ کو محسوس کرنے اور جو لوگ عراق میں سیدھے لڑائی میں شامل ہیں، ان لوگوں سے بات کرنے عراق گیا۔ 54ڈگری سے زیادہ کی بھیانک گرمی ، ریگستان ،پانی کی کمی، آمنے سامنے کی لڑائی کا سامنا کررہے لوگوں سے جب میرا سامنا ہوا ،تب میر ی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ عراقی فوج کی حقیقت، امریکہ اور مغربی ملکوں کی سچائی اور داعش سے کون لوگ لڑ رہے ہیں،یہ جان کر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ میں پبلک موبلائزیشن جسے عراق میں پی ایم کہا جاتاہے اور جس کا عربی نام حشد الشعبی ہے، ان کے دو کمانڈروں سے ملا۔ان کے نام ہیںسید محمد الطلع غنی اور سید احمد مساوی۔میں ان لوگوں سے ملا جو حشد الشعبی کے ممبر ہیں اور جنہوں نے داعش کو موصل سے نکال کر ایک چھوٹے قصبے میں گھیر رکھا ہے۔ داعش کے جدید اسلحات ،ان کی ظالمانہ حکمت عملی ،ان کے غیرانسانی کام کے خلاف کیسے چھوٹے ہتھیاروں سے نوجوانوں نے لڑائی لڑی اور اپنی شہادت دی،یہ جان کر میرا سر جنگ میں شہید ہوئے نوجوانوں کے تئیں عقیدت سے جھک گیا۔ میں آپ کو اپنی اس رپورٹ میں سمجھانے کی کوشش کروںگا کہ دراصل داعش کے خلاف چل رہی جنگ کی سچائی کیا ہے؟اس میں جو لوگ شامل ہوئے، ان کی نفسیات کیا تھی اور اس وقت جنگ کی حالت کیا ہے؟یہ رپورٹ سیدھے عراق کے میدان جنگ سے میں نے بھیجی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ عالم اسلام اورخصوصاً عرب ممالک ہمیشہ سے عسکریت پسندی اور خارجی دخل اندازیوں کا سامنا کرتا رہا ہے ، جس نے پورے عالم عرب کے تحفظ اور امن کو ہلا کر رکھ دیا اور جابر حکمرانوں کو تسلط کا موقع فراہم کیا۔ ان خارجی طاقتوں کا مقصد یہ رہا ہے کہ عالم عرب کو برباد کردیا جائے۔ ان عرب ممالک میں عراق سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ عالم عرب عسکریت پسندی کا سامنا ماضی میں ظالم حکمرانوں کی وجہ سے کرتا رہا ہے اور عراق اس کی واضح مثال ہے۔چنانچہ حز ب البعث اس سرزمین پر 35 سال تک قابض رہا۔اس پارٹی کے بانی غیر مسلم اور غیر عرب لوگ تھے جوکہ مخصوص فکر کے ساتھ عرب میں داخل ہوئے ۔
بقول کمانڈر حشد الشعبی، البعث پارٹی صلیبی فکر کے ساتھ اقتدار میں آئی جس کا عراق کے اتحاد و وقار سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔صدام حسین تانا شاہی کے ذریعہ عراق میں داخل ہوا ۔البعث پارٹی کے اختتام یعنی صدام حسین کی حکومت کے زوال کے بعد عراق کا نظام ایک جابر،شخصی مملکت سے جمہوری مملکت کی طر ف منتقل ہوا اور عراق کے عوام خوف کے ماحول سے باہر نکلے۔حالانکہ صدام حسین کے دور میں بھی یہاں جمہوریت تھی مگر ایسی جمہوریت تھی جس میں اقتدار بہر صورت ان کی پارٹی کے حصہ میں ہی آتا تھا ۔ظاہر ہے اس کو صحیح جمہوریت کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔اسی لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ صدام کے بعد عراق کے عوام نے اپنے مسائل کے حل کا تصور جابرانہ طریقے سے کئے جانے کے بجائے جمہوری طریقے پر کرنے کی لذت محسوس کی۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ اس کے بعد ہی عراقیوں نے ایک نئی دنیا کا سفر کیا اور وہ سفر تھاڈیموکریٹک ڈکٹیٹر شپ سے حقیقی جمہوری دنیا کی طرف کا سفر۔ لیکن اس ماحول میں عراق کے سامنے بہت سے طبقاتی اور علاقائی مسائل تھے اور ان مسائل کا حل کرنا ملک کے سامنے ایک چیلنج کی شکل میں تھا۔ کچھ شرپسندوں نے شیعہ و سنی طبقاتی حملے اور خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرکے عراق کی شبیہ کو خراب کرنے کی بہت کوشش کی۔ لیکن ان عناصر کو اپنے مقصد میں کامیابی نہیں ملی، تو انہوں نے عراق کو تباہ کرنے کے لئے ایک دوسرا طریقہ اختیار کیا۔انہوں نے عراق کے مغربی حصہ میں جاکر جہاں مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کی آبادی ہے، شیعہ اور سنیوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی سازش رچی۔انہوں نے سنیوںمیں یہ تصور پیدا کرنے کی کوشش کی کہ عراق میں شیعہ فوج ہے جو سنیوں پر اپنی حکمرانی قائم کرنا چاہتی ہے۔ان کی کوششیں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئیںاور عراق میں کئی طرح کے مسائل کھڑے ہوئے۔ان طاقتوںنے اس خطہ میں عراق کی جمہوریت کو چوٹ پہنچائی اوراس تصور کو جنم دیا کہ عراق میں شیعائوں کا تسلط ہے۔اس تصور کی وجہ سے سنی طبقہ میں بے چینی اور الجھن محسوس کی گئی۔

 

 

 

 

اب یہاں سے ان شر پسند طاقتوں کو قوت ملی ۔چونکہ مغربی خطہ میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ رہتے ہیں اور ان میں کسی حد تک نظریاتی دور ی پائی جاتی تھی۔لہٰذا الحادی طاقتوں نے اس دوری کا فائدہ اٹھانے کا منصوبہ بنایا اور القاعدہ جس کی الحادی فکر مشہور ہے، نے اپنی سرگرمی تیز کردی لیکن عراقی عوام نے جلد ہی اس سازش کو محسوس کیا اور اس کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔ اس کے بعد یہی الحادی فکر امریکہ اور اسرائیل کی مدد سے داعش کی شکل میں سامنے آئی۔انہوں نے متنازعہ جگہوں پر جاکرناتجربہ کار جوانوں میں فتنے کی آبیاری کی اور ان کے ذہن میں وہی زہر گھو لا جس کا وہ افغانستان میں تجربہ کرچکے تھے۔ پھر انہوں نے ان لوگوںکا قتل کرنا شروع کردیا جو شیعہ نظریہ پر کاربند تھے۔
یہاں سے پریشانیوںکا آغاز ہوا۔ اس خطہ میں شیعہ اکثریت والا لشکر موجود تھا۔ ایسی صورت میں امریکہ جو کہ الحادی تنظیم کی پشت پناہی کررہا تھا، کے لئے یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ اس خطہ میں سنیوں کی کوئی فوج تیار کرے، لہٰذا اس الحادیتنظیم کے ذریعہ القاعدہ کا جال بچھایا گیا۔ اس نے شیعائوں کے تئیں پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا ۔اس تمام عمل میں امریکی حمایت حاصل تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس علاقے میں فوجی چھائونی کی صورت حال نے جنم لیا۔ان تمام سرگرمیوں کا مقصد نفسیاتی جنگ کا ماحول تیار کرنا تھا۔شرپسند عناصر ملک شام سے تلعفر کے ذریعہ عراق کے مختلف خطوں میں پہنچ گئے۔ ان عناصر کو تقویت دینے میں سعودی شیوخ اور قطر کا تعاون حاصل تھا۔ قطر اور سعودی عرب کی ان حمایتوں نے انہیں پنپنے کا پورا موقع دیا۔ ان عناصر کو عراق کے شیعہ اور سنیوں کے بیچ تفریق پیدا کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ اس نے وہابی خیال کے نوجوانوں میں یہ سوچ پیدا کی کہ اگر عراق میں شیعہ حکومت مستحکم ہوئی تو ایران کے ساتھ مل کر وہ سعودی عرب اور عالم اسلام کے لئے تباہ کن ثابت ہوگی ۔لہٰذا وہ عالمی امن قائم کرنے اور اسلام کی بنیاد مضبوط کرنے کے لئے عراقی حکومت کے خاتمے کے لئے جدو جہد کریں۔ اس عمل نے داعش کو طاقت پہنچائی اور پورا خطہ جس میں عراق ، شام اور ترکی شامل ہیں ، کا ماحول انتہائی خراب ہوا۔ اب سوال یہ پیداہوتا ہے کہ آخرآج اردن ،ترکی، شام اور سعود ی عرب جو خطہ کے قیمتی ممالک تھے ، میں داعش کا اثر کیسے پہنچا؟ شام تو عراق کی طرح ہی دہشت گردی کا شکارہوا۔دراصل اس کے پیچھے یہی وہ کوشش ہے جس نے نوجوانوں کی غلط ذہن سازی کرکے داعش کو مضبوط ہونے کا موقع فراہم کیا ۔
داعش کے جنگجوئوں میں مختلف خطے کے لوگ مسخ شدہ اسلام کے نام پر جمع ہوئے۔ان کا کوئی اپنا وطن اور مخصوس ٹھکانا نہیں تھا۔یہ مختلف ملکوں سے جمع ہونے والے لوگ تھے۔ ان میںچیچنیا، افغانستان ، امریکہ اور یوروپ کے نوجوان شامل تھے۔ان کی اصل اور بنیاد عراق سے نہیں ہے۔ انہوں نے اسلام کی شبیہ بدل کر پیش کی اور نوجوانوں کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ کر لیا۔
بہر کیف داعش عراق میں داخل ہوا۔وہ اپنی قیادت اور قواعد کے ساتھ یہاں آئے۔ انہوں نے یہاں امریکی اور صہیونی فکر کو فروغ دینے کی بات کی۔ اسلام کی شبیہ بگاڑ کر پیش کی۔ان کے سربراہ نے ایسی اسلامی مملکت کے قیام کی بات کہی جو کہ سراسر اسلامی مزاج سے میل نہیں کھاتا ہے۔چنانچہ ہیلری کلنٹن نے امریکی کانگریس میںیہ بات کہی کہ’ داعش کو ہماری کوتاہیوں کی وجہ سے مضبوطی اور فروغ ملا ہے اور اس سے عرب کا اتحادچر مرایا ہے اور ہماری ان کوتاہیوں کی وجہ سے عراق میں خانہ جنگی اور انقلاب کی صورت حال پیدا ہوئی ہے ‘۔
بہاریہ عرب کے طوفان میں دیگر ملکوں میں جس طرح سے انقلاب آیا اور وہاں امریکہ نے اپنی مرضی کے ادارے قائم کئے،اپنی مرضی کی حکومت اور وزراء متعین کئے، اسی طرح عراق میں بھی انقلاب لاکر اس جمہوری ملک کو اسلامی ملک کا نام دینے کی کوشش کی گئی، لیکن عراقی عوام نے اپنی کوششوں سے ایسا نہیں ہونے دیا تو یہاں داعش کو لایا گیا جس نے عراق کی اقتصادیات ومعاشیات اور سماجی ڈھانچے کو زبردست نقصان پہنچایا۔
جہاں تک یہ سوال کہ داعش کوکس نے حمایت دی؟تو اس سلسلے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس میں امریکہ سرفہرست ہے اور اسے مالی تعاون سعودی عرب اور قطر سے مل رہا تھا۔ ظاہر ہے یہ سب اعلانیہ طور پر نہیں ہورہا تھا بلکہ خفیہ اور پس پردہ یہ تمام کھیل کھیلے جارہے تھے۔ یہ بات اس لئے کہی جاسکتی ہے کہ داعش کے جنگی علاقوں میں بہت سی گاڑیوں پر سعودی عرب اور قطر کی نمبر پلیٹ پائی گئی ۔اس کے علاوہ بہت سے جنگجوئوں کے پاس سعودی عرب اور قطر کے شناختی کارڈ کے علاوہ اسلحات کے سعودی عرب سے آنے کے بھی شواہد ملے ۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان عناصر کو کون حمایت دے رہا ہے ؟ ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ جب وہ عناصر مغربی خطے پر قابض ہو جائیںتو عراق کو دو حصوں میں بانٹ دیں۔ نصف عراقیوں کے لئے اور نصف ان کے لئے ۔ اس طرح دیکھا جائے تو ان کا بنیادی مقصد عراقی عوام کو شیعہ اور سنی دو طبقوں میں بانٹنا نہیں بلکہ عراق کے دو حصے کرکے ایک حصہ پر قابض ہونا تھا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس میں سعودی عرب کا کیا مفاد تھا؟ دراصل سعودی عرب ایک ایسا ملک ہے جو وہابی نظریہ رکھتا ہے جبکہ عراق میں جمہوری نظریہ ہے جو کہ کلی طور پر وہابی نظریہ کے برعکس ہے۔ عراق کے بعد ایران بھی ان ملکوں میں سے ہے جو وہابیت کو قطعی طور پر قبول نہیں کرتا ہے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ سعودی عرب کے اس وہابی نظریہ کے خلاف عراق اور ایران ایک پلیٹ فارم پر متحد ہیں۔ویسے خطہ میں عراق تنہا ایسا ملک ہے جہاں جمہوری طریقے پر ووٹنگ ہوکر حکومت کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب پورے عراق کو اپنے نظریہ میں لپیٹنا چاہتا ہے اور اسی مقصد کو لے کر اس نے اپنے نوجوانوں کو تیار کیا اور موصل ، بغداد اور سمارہ جہاں سنی رہتے ہیں،ان راستوں سے اپنے نوجوانوں کو عراق کے خلاف بھیجا۔ یہ سب محض اس وجہ سے کہ سعودی عرب کو اپنے ملک میں قائم شاہی حکومت پر خطرہ نظر آرہا تھا۔وہ عراق کی تکنیک اور جمہوری طاقت سے خوفزدہ تھا۔یہ باتیں ویسے ہی نہیں کہی جارہی ہیں بلکہ اس پر جیل میں بند گرفتار شدہ افراد سے یہ شواہد ملے ہیں۔
یہ مغربی خطہ کا موصل ہے ۔یہاں شیعہ کی اکثریت ہے ۔یہاں سنیوں کی بھی آبادی ہے۔یہاں داعش پہنچ گئے اور بغداد کے قرب و جوار میں ان کی آہٹ سنائی دینے لگی اور یہ خوف ہونے لگا کہ وہ بغداد میں داخل ہوجائیں گے۔ ان کو روکنے میں حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا جارہا تھا ۔ اگر وہ بغداد میں داخل ہوجاتے تو عراقیوں خاص طور پر شیعائوں کا قتل عام ہوجاتا اور چونکہ بغداد عراق کی راجدھانی ہے ،لہٰذا بغداد پر داعش کے قابض ہوتے ہی پوری دنیا میں یہ پیغام جاتا کہ عراق پر داعش کی حکومت ہے ،اس لئے داعش کے قدم کو روکنا انتہائی لازمی تھا۔ لیکن اس کا حل کیسے ہو؟ جب حکومت کی طرف سے مایوسی نظر آنے لگی تب شیعہ کے رہنما مرجعی کوعراق کے عوام کو متحد ہونے کے لئے بیان دینا پڑا۔ یہاں پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ امام جعفر جو کہ 12 ائمہ میں سے آخری امام ہیں اور وہ باحیات ہیں لیکن ہماری نظروں سے روپوش ہیں۔وہ اپنا پیغام ان آیت اللہ کے ذریعہ بھیجتے ہیں۔آیت اللہ اپنی مرضی سے کچھ نہیں کہتے بلکہ امام جعفر کی ہدایت کے مطابق ہی بیان یا فتویٰ دیتے ہیں۔ مرجعی اسی فتویٰ کی بنیاد پر حکم صادر کرتے ہیں جس کی اتباع کرنا ہر فرد پر ضروری ہوتا ہے۔ شیعہ مکتبہ فکر کے لوگ ان کی باتوں کا سو فیصد اتباع کرتے ہیں ۔اگر وہ کچھ کرنے کا حکم دیں تووہ کرتے ہیں ،نہ کرنے کو کہیں تو نہیں کرتے ہیں۔ان کا بیان قرآن کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ مرجعی کا یہ بیان قرآن کے حوالے سے تمام عراقیوں سے اپیل کے طور پر ہوتا ہے جس کی تعمیل ہر مکتبہ فکر کے عراقی پر لازمی ہوتا ہے۔خواہ وہ سنی ہوں، شیعہ ہوں یا غیر مسلم ہوں۔مرجعی کے اس بیان کو تمام نجف اور جنوبی خطے کے لوگوں نے جس رات بیان آیا، سب نے اس کو مانا اور عراق کے تحفظ کے لئے ایک ساتھ ہوگئے۔ دراصل حشد الشعبی کے لئے بھی احکام مرجعی کی طرف سے آتے تھے۔ مرجعی کا حکم تھا کہ ادھر ادھر کی باتوں پر دھیان نہیں دینا ہے ۔ ان سے خوفزدہ نہیں ہونا ہے۔ کربلا میں جمعہ کے نماز کے خطبے میں آیت اللہ کی طرف سے پبلک موبلائزیشن (حشد الشعبی ) کے لئے 14 مشورے دیئے گئے کہ کیسے حکم لینے ہیں۔کیسے لوگوں کو بچاناہے وغیرہ ۔ ہر جمعہ کو نماز کے ساتھ ساتھ لوگوںکے لئے مشورے دیئے جاتے تھے۔غرضیکہ اس وقت اسلام کی صحیح تصویر نظر آرہی تھی۔

 

 

 

صحیح اسلام یہی ہے کہ شیعہ ، غیر مسلم ، سنی کسی میں تفریق نہ ہو۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے عراقیوں نے اپنے اہل و عیال گھر بار کو چھوڑا ا اور لڑائی کی ۔ان کی یہ لڑائی داعش کے جدید ترین ہتھیاروں کے مقابلے میںپستول اور چھوٹے ہتھیار سے لڑی جارہی تھی ۔ اس قربانی کے بدلے میں وہ کوئی ذاتی صلہ کے خواہش مند نہیں تھے، وہ صرف یہ صلہ چاہتے تھے کہ اپنے ملک اور شہر کو ان سے بچائیں۔یہی خواہش ہر نوجوان میں تھی اور اسی خواہش کو لے کر وہ آگے بڑھے، اس یقین کے ساتھ کہ ان کوفتح حاصل ہوگی۔ ان کا یہ عقیدہ پختہ اور راست تھا کہ امام حسین علیہ السلام نے چار ہزار دشمنوں کا مقابلہ محض 72 افراد کے ساتھ مل کر کیا تھا۔ آج وہ طویل عرصے کے بعد اسی آئیڈیالوجی کو اپنانے جارہے تھے۔ نیز حشد الشعبی کے نمائندہ نے بات چیت کے دوران کہا کہ انہوں نے اس سے بھی سبق لیا جو کہ مہاتما گاندھی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’ہمت و حوصلہ سے کیسے جنگ جیتنا ہے، حضرت حسین سے سیکھنا چاہئے‘‘۔حالانکہ حشد الشعبی کے لوگ یہ بھی مانتے ہیں کہ مہاتما گاندھی مسلمان نہیں تھے مگر ان کا یقین تھا کہ امام حسین کے طرز پر چل کر کامیابی پائی جاسکتی ہے۔ ان عظیم شخصیتوں کے فکر و نظر نے ان کے اندر حوصلہ پیدا کیااورانہوں نے باطل کے سامنے ڈٹ کر کا مقابلہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ داعش کے قدم آگے بڑھنے سے رک گئے۔اس تعلق سے عوامی اور سرکاری اور عراقی فوج کی طرف سے مکمل حمایت حاصل رہی اور بیرونی ملکوں جیسے ایران اور ترکی سے بھی حوصلہ افزائی ملی اور اس طرح سے لشکر ’’ حشد الشعبی ‘‘ وجود میں آیا ۔
حشد الشعبی انتہائی طاقتور تھا جو کہ داعش کا مقابلہ کرنے کی اپنے اندر پوری صلاحیت کاحامل تھا۔ اس لشکر نے داعش سے لڑنے کی حکمت و تدبیر پر غور کیا کہ کیسے اس سے لڑا جائے۔ پھر اس نے داعش کے ساتھ لڑائی شروع کی۔یہ لڑائی ہر سطح پر ہوئی، عوام نے لڑی، عراق کی پولیس نے لڑی اور حشد الشعبی کے نوجوانوں نے لڑی۔ حشد الشعبی کی اس طاقت نے پوری دنیا کو حیران کردیا کہ کیسے اس نے اپنے اندر اتنی طاقت جمع کرلی کہ وہ داعش کا ہر محاذ پر بڑے حوصلے اور قوت کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے۔حشد الشعبی کا مقصد صرف یہ تھا کہ مرجعی کے ہدف کو پورا کرتے ہوئے اس طاقت کا استعمال صحیح ڈھنگ سے ہو اور خارجی اثرات کو ختم کیا جائے۔چنانچہ کربلا میں جمعہ کی نماز کے موقع پر مرجعی کے حکم کو پڑھ کر سنایا گیا اور بتایا گیا کہ کیسے ملک کی حفاظت کے لئے آیت اللہ یعنی مرجعی کے فرمان کو نافذ کرنا ہے۔اس موقع پر شیعہ شہدا ء جنہوں نے وطن کی راہ میں قربانی دی تھی، ان کے حوالے سے بھی باتیں کہی گئیں۔
اس کے بعد مغربی خطے کے لوگوں نے شیعہ کے مقاصد اور ان کی قربانیوںکو محسوس کیااور یہ سمجھا کہ شیعہ کے ان کی خطہ پر تسلط قائم کرنے کی باتیں محض پروپیگنڈہ ہیں؟اس موقع پر امریکہ نے قبائلیوں میں حشد الشعبی کے بارے میں پروپیگنڈہ پھیلایا اور کچھ سنی سیاست دانوںنے اس کی حمایت کی مگر یہ مخالفت زیادہ لمبی نہیں کھینچ سکی کیونکہ انہوں نے دیکھا کہ شام کے کچھ علاقے اور موصل میں سنی بھی بڑی تعداد میں داعش کے ظلم کا شکار ہورہے ہیں۔لہٰذا سب نے حشد الشعبی کا ساتھ دے کربغداد کی طرف ان کی پیش رفت کو روکا۔اس سلسلہ میں حاجی سعید اپنا آنکھوں دیکھا حال بیان کرتے ہیں کہ جب حشد الشعبی اس خطہ میں داخل ہوا تو سنیوں نے ان کا استقبال کیا اور کندھے سے کندھا ملا کر داعش کو بھگانے کی لڑائی میں ان کا ساتھ دیا۔غور طلب ہے کہ اب تک امریکہ کی طرف سے یا عالمی سطح پر داعش کو روکنے کے لئے کوئی مدد نہیں ہورہی تھی۔ حشد الشعبی کو ٹریننگ دینے کے لئے ایران کے ماہرین نے قدم بڑھایا اور عراق کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے اور حشد الشعبی کو تمام مورچوںپر پیش رفت کرنے کی تدبیر بتائی۔یہاں پر یہ بھی بتاتا چلوں کہ انٹرنیشنل الائنس میں امریکی فائٹرس کی طرف سے حشد الشعبی کو کوئی مدد نہیں مل پارہی تھی۔جب حشد الشعبی نے مورچہ سبنھالا تو اس وقت امریکہ نے پھر ایک گیم کیا اور کہا کہ انٹرنیشنل الائنس حشد الشعبی کی مدد کرنا چاہتا ہے اور ہر محاذ پر اس کے ساتھ رہنا چاہتاہے مگر حشد الشعبی یہ لڑائی بغیر کسی پر بھروسہ کئے ، اپنے طور پر لڑنے کی خواہش رکھتا تھا۔
حشد الشعبی کو ٹریننگ دینے میں کئی مراحل تھے۔پہلا مرحلہ تھا لشکر کو ٹریننگ دینا۔ دوسرا مرحلہ داعش پر حملہ کرنے کے طریقے پر غور کرنا اور حکمت عملی تیار کرنا۔ یعنی پیادہ اور فضائیہ حملے کو منظم کرنا ۔اس کے علاوہ داعش کی رسد کو بند کرنا بھی ایک اہم مرحلہ تھا۔لیکن اس سلسلے میں عراقی وزارت سے اس بات کی تصدیق ہوچکی ہے کہ داعش کو رسدو سامان پہنچانے میں امریکی امداد دی جارہی تھی۔داعش پر فضائیہ حملہ کرنے سے امریکی انتظامیہ نے منع کردیا۔حشد الشعبی نے سنی خطہ میں بھی اپنی اسٹراٹیجی تیار کرنی شروع کردی تاکہ داعش ان کے علاقے میں اپنا قدم نہ جما سکیں۔ حشد الشعبی نے منصوبہ بندی شروع کی اورداعش کے علاقے پر حملہ کرکے ان کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا شروع کردیا ،یہاں تک کہ انہیں بالکل پیچھے دھکیل دیا۔
تلعفر میں داعش کو شام اور ترکی کے راستے سے امداد پہنچائی جارہی تھی۔ حشد الشعبی کے لئے یہ ایک پریشان کن مرحلہ تھا ۔اس کی شکایت وزیراعظم سے کی گئی کہ شام کے راستے پر تلعفرسے بشمرگہ تک داعش اپنا مضبوط ٹھکانا بنائے ہوئے ہے۔جب حشد الشعبی انہیں توڑنا چاہتا ہے تو مزاحمت کا شدید سامناکرنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ تلعفر سے شام تک جہاں عوامی نقل و حرکت بالکل مفلوج تھی اور داعش کا مکمل کنٹرول تھا،فوجی اسٹراٹیجی تیار کی گئی ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حشد الشعبی نے اپنی مخصوص اسٹراٹیجی کے ذریعہ تین سے چار دنوں کے اندر کی کارروائی میں اس خطے سے داعش کا دبدبہ ختم کردیا جبکہ اندازہ کے مطابق فوجی کارروائی کرکے اس کو آزاد کرانے میں9 سے 10ماہ لگ سکتے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ آخر اس کارروائی میں داعش کو شام منتقل ہونے سے کیسے روکا گیا ؟تو اس سلسلے میں حشد الشعبی نے تمام رسدگاہوں اور راستوں کو کور کیا تھا،جس سے ان کی نقل و حرکت رک گئی۔ اس سلسلے میں ایک بات یہ بھی ہے کہ شام کے راستے پر اسماعیلیہ کے قریب امریکی فضائیہ نے حشد الشعبی پر حملہ کردیاجس میں تقریبا پچاس لوگوںکی جانیں گئیں اور جب اس کی شکایت کی گئی تو یہ کہا گیا کہ نشانہ لگانے میں دھوکہ ہوا ہے۔ بہر کیف گزشتہ دنوںتلعفر کو داعش سے آزاد کرانے کی مہم چلی ۔یہ وزیر اعظیم عبادی اور حشد الشعبی کے باہمی معاہدے کے تحت شروع ہوئی اور اس معاہدے کے تحت تمام ممالک کی افواج شامل ہوئیں۔ کوششیں بارآور ہوئیں اور تلعفر داعش کے پنجے سے آزاد ہوگیا۔امید ہے کہ اب عنقریب عراق سے داعش کا کلی خاتمہ ہوجائے گا۔ ممکن ہے کہ کچھ داعش رمادی،فلوجہ،مغربی خطے وغیرہ میں اِدھر اُدھر روپوش ہوں اور ہوسکتا ہے کہ یہ مستقبل میںکچھ مسائل پیدا کریں۔لیکن موجودہ صورت حال یہ ہے کہ امریکہ نے اب یہ سوچنا شروع کردیاہے کہ ظواہری ،زرقاوی، القاعدہ اور داعش کے بعد اب اس کی منصوبہ بندی کیا ہوگی؟ لیکن موجودہ صورت حال میں سعودی عرب اور امارات میںانتقامی جذبہ پیدا ہوا ہے۔ لہٰذا وہ ان کے تو سط سے عراق میں پھر شرانگیزی کر سکتے ہیں۔لیکن حشد الشعبی کی اس کامیابی کے بعد بھروسہ کیا جاسکتا ہے کہ عراق کے پاس بڑی عسکری طاقت ہے اور وہ کسی بھی فتنے کو کچلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔بہر کیف اس عمل پر عراق کے وزیر اعظم ،حکومت اوروہ تمام لوگ جنہوں نے الشعبی کو تعاون دیا ، قابل ستائش ہیں کہ انہوں نے بلند حوصلہ کا ثبوت دیا اور ان کے تعاون نے حشد الشعبی کو ایک بڑی طاقت بنا دیا ہے۔یہ جاننا بھی بہت اہم ہے کہ داعش سے پہلے القاعدہ کی شکل میں یہودیوں نے موصل کے قبائلیوں میں اور ان کے تاجروں نے تلعفر کے مختلف علاقوں میں اپنی جڑیںمضبوط کیں اور فلسطین کی طرح یہاںبھی خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش میں لگے رہے ۔یہ لوگ عراق کے اصلی باشندے نہیں ہیں بلکہ 1973 کی جنگ میں یہ یہاں آکر بس گئے تھے اورتب سے یہاں ہیں اور تجارت کرتے ہیں۔ موصل میں بھی یہودی رہتے ہیں۔لیکن یہ تمام یہودی اصلاً اس ملک کے نہیں ہیں جس طرح کہ ہندوستان میں ہندو -مسلمان یہاں کے اصلی باشندے ہیں وہ اس طرح کے اصلی باشندے نہیں ہیں۔بہر کیف حشد الشعبی میں اتنی طاقت موجود ہے کہ اب جو بھی شر پسند عناصر سر اٹھائے گا،وہ اس کو کچل سکتا ہے۔
آخر میں ہم توقع کرتے ہیں کہ عراق کے عوام اپنے ملک کی عزت و وقار کو بلند کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ہماری تمنا ہے کہ عراق ایک مستقل اور مستحکم مملکت بن کر سدا بہار رہے اور دنیا بھر کے تمام ملکوںمیںاس کا وقار بحال رہے اور مرجعی اور اسلامی احکام کی پابندی ہو۔جہاں تک حشد الشعبی کی بات ہے تو حشد الشعبی کے کمانڈر کے بقول حالات نارمل ہوجانے کے بعد یہ گروپ فوجی لباس اتار کر سماجی خول میں منتقل ہوجا ئے گا۔
یہ سچائی جو ابھی آپ نے پڑھی، دنیا میں لوگوںکو نہیں معلوم ہے، دنیا کو معلوم بھی نہیں ہوگی،کیونکہ تشہیر کا نظام اتنا بڑا بھرم پیدا کرتا ہے ،جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ میں بھی یہاں یہ سوچ کر آیا تھا کہ عراقی فوج نے داعش کو پیچھے دھکیلا ہے لیکن یہ دیکھ کرمیرا اعتماد عوام کے تئیں اور مضبوط ہوا کہ اگر عوام چاہیں تو کسی بھی حالت کا سامنا کر سکتے ہیں۔ آمنے سامنے کی ہتھیار بند جنگ میں، شاید چین اور ویتنام کے بعد،یہ پہلی مثال ہے ،جہاں عراق کے عوام نے فوج کی کاہلی کے خلاف ،فوج کے ہتھیار ڈال دینے کی بزدلانہ ذہنیت کے خلاف کھڑے ہوکر، شیعہ اور سنی کی تفریق مٹاکر، مسلم اور غیر مسلم کی تفریق مٹاکر،اپنے ہاتھ میں چھوٹے چھوٹے ہتھیار لئے لڑائی کی اور اپنی شہادت دی۔ داعش کو ہر جگہ گھیر کر رکھا اورانہیں کامیابی کے ساتھ پیچھے دھکیل دیا۔ عوام کے ذریعہ جنگ لڑنے اور عوام کے ذریعہ جنگ جیتنے کی یہ حیرت انگیز مثال ہے ۔میں رپورٹ کے آخر میں عراق کے عوام کو،وہاں کے نوجوانوں کو، حشد الشعبی کے تمام سپاہیوں کو سیلوٹ کرتا ہوں، جنہوں نے بغیر کسی ملک کی مدد کے، بغیر بڑے

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *