عراق میں داعش کے خلاف جنگ آخری مرحلے میں:سنتوش بھارتیہ

اس وقت دنیا میں صرف عراق میں جنگ چل رہی ہے۔عراق میں داعش نے ایک علاقے پر قبضہ جما رکھا ہے۔ پہلے انہوں نے بڑے علاقے پر قبضہ جمایا تھا۔ وہ پورے عراق کے اوپر قبضہ کرنا چاہتے تھے لیکن دھیرے دھیرے انہیں عراقی فوجوں نے پیچھے دھکیل دیا۔ اب وہ تلعفر کے باہری علاقے میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔ عراق کی اس جنگ میں امریکہ سمیت مغربی ممالک، داعش کے خلاف عراق کے لوگوں کی مددکررہے ہیں،یہ خبر بھی ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ۔ چوتھی دنیاکے چیف ایڈیٹرسنتوش بھارتیہ اسی جنگ کو محسوس کرنے اور جو لوگ عراق میں سیدھے لڑائی میں شامل ہیں، ان لوگوں سے بات کرنے گزشتہ دنوں عراق گئے اوروہاں کے لوگوں کی حال جاننے کی کوشش کی ،زمینی سطح پرعراق کے حالات کوجانا۔ 54ڈگری سے زیادہ کی بھیانک گرمی ، ریگستان ،پانی کی کمی، آمنے سامنے کی لڑائی کا سامنا کررہے لوگوں سے جب ان کا سامنا ہوا ،تب ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ پبلک موبلائزیشن جسے عراق میں پی ایم کہا جاتاہے اور جس کا عربی نام حشد الشعبی ہے، ان کے دو کمانڈروں سے ملا۔ان کے نام ہیں سید محمد الطلع غنی اور سید احمد مساوی۔میں ان لوگوں سے ملا جو حشد الشعبی کے ممبر ہیں اور جنہوں نے داعش کو موصل سے نکال کر ایک چھوٹے قصبے میں گھیر رکھا ہے۔ داعش کے جدید اسلحات ،ان کی ظالمانہ حکمت عملی ،ان کے غیرانسانی کام کے خلاف کیسے چھوٹے ہتھیاروں سے نوجوانوں نے لڑائی لڑی اور اپنی شہادت دی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *