’چوتھی دنیا ‘کے انکشافات رنگ لائے معین قریشی کی گرفتاری سے سیاسی گلیارے میں بے چینی

کالے دھن کو سفید کرنے والا عالمی دھندے باز معین اختر قریشی آخر کار گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ہوئی پوچھ تاچھ میں قریشی نے وہ سارے حقائق اگل دیئے جو ابھی تک سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی )کی چھان بین کا حصہ تھے۔ ’’چوتھی دنیا ‘‘ کے 31جولائی 2017 کے شمارہ میں منی لانڈرنگ اور حوالہ دھندے کے سرغنہ معین قریشی کی دمکتی طلسمی دنیا کی بخیہ ادھیڑی گئی  تھی جن میں لیڈر، نوکر شاہ، فلم ساز اور قانونی کرسی پر بیٹھنے والے گورنر تک کے نام عوامی سطح پر  پھیل گئے تھے۔ معین قریشی کی گرفتاری کے بعد اب سب لوگ بتانے ، دکھانے اور چھاپنے لگے ہیں کہ حوالہ سرغنہ کو تحفظ دینے اور اس کی مدد سے کالا دھن ہضم کرنے میں مرکز  سے لے کر یو پی تک کے بڑے لیڈر اور سی بی آئی سے لے کر یو پی پولیس تک کے بڑے عہدیدار ملوث رہے ہیں لیکن نام بتانے سے وہ اب بھی پرہیز کرہے ہیں ۔’’ چوتھی دنیا ‘‘ ان سب کے نام دو مہینے پہلے چھاپ چکا ہے۔کالے دھن کو سفید کرنے والا عالمی دھندے باز معین اختر قریشی آخر کار گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے بعد ہوئی پوچھ تاچھ میں قریشی نے وہ سارے حقائق اگل دیئے جو ابھی تک سی بی آئی یا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی )کی چھان بین کا حصہ تھے۔ ’’چوتھی دنیا ‘‘ کے 31جولائی 2017 کے شمارہ میں منی لانڈرنگ اور حوالہ دھندے کے سرغنہ معین قریشی کی دمکتی طلسمی دنیا کی بخیہ ادھیڑی گئی  تھی جن میں لیڈر، نوکر شاہ، فلم ساز اور قانونی کرسی پر بیٹھنے والے گورنر تک کے نام عوامی سطح پر  پھیل گئے تھے۔ معین قریشی کی گرفتاری کے بعد اب سب لوگ بتانے ، دکھانے اور چھاپنے لگے ہیں کہ حوالہ سرغنہ کو تحفظ دینے اور اس کی مدد سے کالا دھن ہضم کرنے میں مرکز  سے لے کر یو پی تک کے بڑے لیڈر اور سی بی آئی سے لے کر یو پی پولیس تک کے بڑے عہدیدار ملوث رہے ہیں لیکن نام بتانے سے وہ اب بھی پرہیز کرہے ہیں ۔’’ چوتھی دنیا ‘‘ ان سب کے نام دو مہینے پہلے چھاپ چکا ہے۔ای ڈی کا شکنجہ میٹ کاروبار کے بہانے حوالہ اور منی لانڈرنگ کا دھندہ دنیا بھر میں پھیلانے والے معین قریشی کو پچھلے دنوں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے گرفتار کیا۔ قریشی نے حوالہ کاروبار کے ذریعہ دنیا کے کئی ملکوں میں بے شمار کالا دھنبھیجے۔یہ پیسہ لیڈروں، نوکر شاہوں اور کاروباری ہستیوں کے تھے۔ اس سے قریشی نے بھی زبردست کمائی کی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 2015 میں ہی قریشی کے خلاف غیر ملکی فارن ایکسچنج مینجمنٹ اسٹیٹس (فیما ) کے تحت جانچ شروع کی تھی۔ انکم ٹیکس محکمہ کے ذریعہ فراہم کرائے گئے دستاویزوں کی بنیاد پر یہ جانچ شروع ہوئی تھی۔ ان دستاویزوں میں قریشی اور اس کی پچاسوں کمپنیوں کے حوالہ کاروبار میں ملوث ہونے اور فیما قانون کی خلاف ورزی کرنے کے ثبوت ملے تھے۔ اس بات کے بھی ثبوت ملے تھے کہ ملک کی مشہور ہستیاں حوالہ سرغنہ معین قریشی کے اشارے پر ناچتی ہیں۔معین قریشی کی گرفتاری کے بعد اب جلدی ہی سی بی آئی کے ایک اور سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے والی  ہے۔

 

 

 

 

 

 

معین قریشی اور رنجیت سنہا کے گہرے تعلقات رہے ہیں۔ اس معاملے میں سی بی آئی کے ایک اور سابق ڈائریکٹر اے پی سنگھ کے خلاف چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے ۔ جانچ کے دائرے میں سی بی آئی کے اس وقت کے جوائنٹ ڈائریکٹر  اور یوپی کیڈر کے سینئر آئی پی ایس آفیسر جاوید احمد، سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں، مشہور فلمساز مظفر علی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ  (ای ڈی ) کے ہی ایک اعلیٰ آفیسر راجیشور سنگھ بھی ہیں جن کے معین قریشی سے جڑے ہونے کا بیک گرائونڈ سامنے آیا ہے۔ معین سے جڑے کانگریسی لیڈروں کی تو لمبی فہرست ہے۔ ان سب کی جانچ ہو رہی ہے۔ قریشی کے منی لانڈرنگ اور حوالہ کے دھندے کے تار اتنے پھیلے ہیں کہ دہلی ،ممبئی ، یوپی کولکاتہ ،کرناٹک، سی بی آئی اور ای ڈی  سے لے کر انٹرپول تک جاکر جڑتے ہیں۔ قریشی کے پاکستان سمیت دنیاکے کئی ملکوں میں گہرے لنک ہیں۔ سی بی آئی کے جوائنٹ ڈائریکٹر (پالیسی ) رہے جاوید احمدبھی  جانچ کے دائرے میں ہیں، کیونکہ ان کے وقت میں ہی معین قریشی کے دھندے کی جانچ کا مسئلہ سی بی آئی کے سامنے آیا تھا اور پہلے جھٹکے  میں ٹال دیا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سی بی آئی میں جاوید کا پروموشن اور ایکسٹنشن وزارت داخلہ کے آبجکشن کی وجہ سے رک گیا تھااور انہیں یو پی کیڈر میں واپس بھیج دیا گیا۔ سی بی آئی کے سابق ڈائریکٹر رنجیت سنہا اور معین قریشی کے تعلق اتنے گہرے رہے ہیں کہ 15 مہینے میں دونوں کی 90 ملاقاتیں سرکاری ریکارڈ  میں درج ہیں۔ سابق ڈائریکٹر اے پی سنگھ سے بھی قریشی کی ایسی ہی اندرونی ملاقاتین سی بی آئی اور ای ڈی کی چھان بین میں درج ہیں۔ سی بی آئی ڈائریکٹر رہتے ہوئے رنجیت سنہا نے سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹوریٹ  ٹیکسیز ( سی بی ڈی ٹی ) پر دبائو ڈال کر معین قریشی کے خلاف ہو رہی چھان بین کا بیورا جاننے اور چھان بین کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ سی بی ڈی ٹی کے پاس رنجیت سنہا کا وہ لیٹر بھی ہے جس کے ذریعہ انہوں  نے چھان بین کا بیورا فراہم کرانے کا سرکاری دبائو ڈالا تھا۔ بعد میں وزیر خزانہ بنے ارون جیٹلی نے سی بی ڈی ٹی کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ اے پی سنگھ اور قریشی کی ہم آہنگی اتنی تھی کہ سنگھ کے گھر کے بیسمنٹ سے قریشی کا ایک دفتر چلتا تھا۔ اے پی سنگھ اور قریشی کے بیچ بلیک بیری میسیج کے تبادلے کی کہانی عوامی ہو چکی ہے۔ سی بی آئی کے دوسرے ڈائریکٹر رنجیت سنہا کے معاملے میں سی بی آئی کے دستاویزبتاتے ہیں کہ معین قریشی اپنی کار (ڈی ایل 12 سی سی (1138)سے کئی بار سی بی آئی ڈائریکٹر رنجیت سنہا سے ملنے ان کے گھر گیا۔ قریشی کی بیوی نسرین قریشی بھی اپنی کار ( ڈی ایل 7 سی جی 3436) سے کم سے کم پانچ بار سنہا سے ملنے گئی۔ قریشی جوڑے کی دونوں کاریں ان کی کمپنی اے ایم کیو فروجین فوڈ پرائیویٹ لمیٹیڈ کے نام اور سی 134 گرائونڈ فلور ، ڈیفنس کالونی ،نئی دہلی کے پتے سے رجسٹرڈ ہیں۔ یہ دونوں  کاریں کئی بار کانگریس صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر بھی جاتی رہی ہیں جن میں معین اپنی بیوی کے ساتھ رہا ہے۔ معین قریشی کی بیٹی پرنیا قریشی کی شادی کانگریس لیڈر جیتن پرساد کے رشتہ دار ارجن پرساد سے ہوئی ہے۔قریشی کے روابط امریکہ کے پنسلوانیا میں اربوں روپے کی جعلسازی کرنے والے جعفر معین صادق کے کولکاتہ کے رویندر سرنی علاقے میں پکڑے جانے کے بعد یہ راز کھلا تھا کہ وہ معین قریشی کا ہی آدمی ہے۔ انٹر پول کی نوٹس پر جعفر نعیم بھی پکڑا گیا تھا۔ بعد میں راز کھلا کہ انٹرو پول کی وانٹیڈ لسٹ اور ریڈ کارنر نوٹس سے جعفر نعیم ،دبئی کے ونود کرنن اور سراج عبد الرزاق کا نام ہٹانے کے لئے قریشی نے انٹرپول کے اس وقت کے چیف رونالڈ کے نوبل سے سفارش کی تھی۔ نوبل نے یہ باضابطہ طور پر قبول کیا تھا کہ اس کے معین قریشی خاندان اور سی بی آئی کے اس وقت کے ڈائریکٹر اے پی سنگھ سے نزدیکی تعلقات رہے ہیں۔قریشی کی سفارش کو مسترد کرنے کا دعویٰ کرنے والے انٹرپول چیف رونالڈ کے نوبل کے بھائی جیمس ایل نوبل جونیئر اور ہندوستان سے فرار سوانامدھنے للت مودی بزنس پارٹنر ہیں۔امریکہ میں دونوںکا مشترکہ دھندہ چلتاہے۔مرکزی خفیہ ایجنسی کالے دھن کی آمدو رفت کاپورا نیٹ ورک جاننے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ معین قریشی سے جڑے ان تمام لوگوں کے لنک کھنگالے جارہے ہیں جن کے کبھی نہ کبھی معین قریشی سے تعلقات رہے ہیں یا معین قریشی کا پیسہ ان کے دھندے میں لگا ہے۔ ان میں لیڈر ،آفیسر، کاروباری اور فلمسازوں سے لے کر مافیا سرغنہ تک شامل ہیں ۔قریشی کے نزدیکی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خاں سے رہے ہیں۔ اعظم خاں کی بنائی محمد علی جوہر یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر معین قریشی چارٹر ہیلی کاپٹر سے رامپور آیا تھا۔ سی بی آئی گلیارے میں چرچا تھی کہ اعظم خاں کی یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورٹی کا درجہ  دلانے میں معین قریشی نے یو پی کے کارگزار گورنر  عزیز قریشی ے سفارش کی تھی۔ فطری بات ہے کہ اس کی سرکاری توثیق چھان بین سے ہی ہوگی۔ لیکن اتنا یاد کرتے چلیں کہ اترپردیش کے دو سبکدوش ہونے والے گورنروں ٹی وی راجیشور اور بی ایل جوشی نے مولانا جوہر علی یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کا درجہ دینے کے بل پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جوشی کے جانے کے بعد اور رام نائک کے گورنر بن کر آنے کے درمیان محض ایک مہینے کے لئے یو پی کے کارگزار گورنر بنائے گئے عزیز قریشی نے آناً فاناً مولانا علی جوہر یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کادرجہ دینے کے بل پر دستخط کر دیئے۔ قریشی 17 جون 2014 کو یو پی آئے، 17جولائی 2017 کو جوہر یونیورسٹی کو اقلیتی یونیورسٹی کے درجے کی منظوری دی اور 21 جولائی 2014 کو واپس دہرادون چلے گئے۔ منی لانڈرنگ سرغنہ معین قریشی نے فلمساز مظفر علی کی فلم ’’جاں نثار‘‘ میں پیسہ لگایا تھا اور اس فلم میں  معین کی بیٹی پرنیا قریشی ہیروین تھی۔ ’’جاں نثار‘‘ فلم کے پروڈیوسر کے بطور میرا علی کا نام دکھایا گیا،لیکن سب جانتے ہیں کہ فلم میں معین قریشی نے پیسہ لگایا تھا ۔معین کے قریبی اور رابطے  کی لسٹ میں ایسے اور کئی نام ہیں۔ کانگریسیوں کے نام تو بھرے پڑے ہیں۔ سونیا گاندھی کا نام ان میں  سب سے اوپر ہے ۔سابق مرکزی وزیر جیتین پرساد تو معین قریشی کے رشتہ دار ہی ہیں۔ سینئر کانگریس لیڈر احمد پٹیل،کمل ناتھ، آر پی این سنگھ، محمد اظہر الدین جیسے کئی لیڈر اس لسٹ میں شامل  ہیں۔ یہ ان لیڈروں کے نام ہیں جو معین قریشی کے گھر پر خوب اٹھنے بیٹھنے والے رہے ہیں۔ سونیا کے گھر پر معین خاندان باضابطہ طور پر اٹھتا بیٹھتا رہا ہے۔ محکمہ انکم ٹیکس کی خفیہ شاخ نے معین قریشی کی مختلف ہستیوں سے ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت ٹیپ کی تھی۔یہ تقریباً ساڑھے پانچ سو گھنٹے کی ریکارڈنگ ہے۔

 

 

 

 

 

ای  ڈی انٹلی جنس کے ذرائع جو بتاتے ہیں ،اس سے لگتا ہے کہ قریشی کا منی لانڈرنگ کا سوتہ سرکاری سسٹم کو اب بھی مسلسل چیلنج دیتا رہا ہے۔ فون ٹیپنگ میں مرکزی سرکار کے کئی وزیر ،یوپی سمیت کئی ریاستی سرکاروں کے وزیر، مختلف سیاسی پارٹیوں  کے قد آور لیڈر، سی بی آئی کے افسران ،بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے علمبردار اور کئی فلمی ہستیاں شامل ہیں۔ ان میں بی جے پی کے بھی کئی لیڈروں کے نام ہیں۔ ایک سینئر بی جے پی لیڈر کی بیٹی کا نام بھی ہے اور اس بی جے پی لیڈر کا بھی نام ہے جو معین قریشی کے بھائی کو رامپور سے ٹکٹ دلانے کی کوشش کر رہا تھا۔باکس  خود کو بچانے کے لئے قریشی کو بچانا ضروری حوالہ سرغنہ معین قریشی کی اونچی پہنچ کا اندازہ اس بات سے ہی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی گرفتاری پر پورا سسٹم انفورسٹمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے پیچھے پڑ گیا۔ کہا جانے لگاکہ قریشی کو غیر قانونی طریقے سے حراست میں رکھا گیا ہے۔ اکانومک جرائم کرنے والے آدمی کے بچائو میں سارے قانونی اختیارات اور حقوق انسانی دھڑا دھڑ سامنے رکھے جانے لگے۔ کہا جانے لگا کہ کسی بھی آدمی کو وجہ بتائے بغیر اور مؤثر قانونی مدد دیئے بغیر حراست میں نہیں لیا جاسکتا ۔ دہلی ہائی کورٹ نے تو قریشی کی گرفتاری پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ سے جواب تک طلب کرلیا۔ یہی تحفظ ملک کے عام شہریوں کو بھی مل پاتا تو ملک کی یہ حالت نہیں ہوتی۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے کہا ہے کہ معین کے لنک کئی بڑے لوگوں اور حوالہ کاروباریوں سے ہیں۔انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذرائع کہتے ہیں کہ معین قریشی کے منی لانڈرنگ اور حوالہ دھندے کی لپیت میں یو پی اے دور حکومت کے دو وزیر سیدھے طور پر پھنس رہے ہیں۔ انکم ٹیکس محکمہ نے ان لیڈروں اور قریشی کے ساتھ بڑی رقم کے لین دین کے لنک پکڑے ہیں۔ ان دونوں وزیروں کے حوالہ ریکٹمیں شامل ہونے کے ثبوت ملے ہیں۔ یو پی اے سرکار کے دور حکومت میں ہوئے 2جی اسکیم میں پھنسی  ایک بڑی کمپنی سے لی گئی 1500 کروڑ روپے کی رشوت کی رقم معین قریشی نے ہی حوالہ کے ذریعہ باہر بھیجی تھی۔ پیسے کا لین دین ہانگ کانگ میںہوا تھا۔ چھان بین میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ معین قریشی نے حوالہ کے کام میں مرکزی خفیہ ایجنسی کے آفیسر کے رشتہ داروں کے ہانگ کانگ کے بینک اکائونٹس کا بھی استعمال کیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمہ ان ٹرانجکشن  کے ٹریل دستیاب ہوچکے ہیں۔ جانچ میں کئی اور سابق وزیروں کے بھی نام سامنے آنے  کی امید ہے۔ معین قریشی پورے اقتدار کے گلیارے میں دلالی کا نیٹ ورک پھیلا کر منی لانڈرنگ اور حوالہ کا کاروبار چمکا رہا تھا۔ سی بی آئی کے ذرائع  کہتے  ہیں کہ معین قریشی کو ملک سے غداری کی سرگرمیوں میں بھی منسلک رہنے کا خدشہ ہے جس کی گہرائی سے چھان بین چل رہی ہے، قریشی کے پاکستان  سے گہرے لنک پائے گئے ہیں، جو خفیہ ایجنسیوں  کی راڈاہیں۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے عدالت سے کہا ہے کہ معین قریشی چھان بین میں تعاون نہیں کررہا ہے ۔ اس کی جو کچھ غیر قانونی جائیدادیں برآمد کی گئی ہیں،وہ اس کی کل جائیداد کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے۔ قریشی کی کئی ملکوں میں عالیشان کوٹھیاں ہیں، معین قریشی کا لندن میں سائوتھ آودلے اسٹریٹ کے چیسٹ فیلڈ ہائوس میں فلیٹ نمبر 4، لندن میں ہی پورٹ میں اسکوائر پر فٹزر ڈنگے ہاوئس میں فلیٹ نمبر 6 ،دبئی میں شیخ زائد روڈ پر پارامائونٹ میں 29 منزل پر پینٹ ہائوس (نمبر 2902) ،دبئی کے مرینہ میں عالیشان فلیٹ اور دبئی کے مشہور برج خلیفہ میں عالیشان  بیش قیمتی فلیٹ، نوریامیں سیکنڈ ایونیو اپارٹمنٹ میں 265 نمبر فلیٹ اور سولو بلڈنگ اپارٹمنٹ میں فلیٹ ، سنگا پور میں بولووارڈ اور سنٹیک ٹاور میں 2 عالیشان فلیٹس  پائے گئے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *